مولانا اسعد اسرائیلی ۔ سنبھل
Al-Risala, November 1978, pp. 8–9
By Maulana Wahiduddin Khan
جب آدمی انسانیت کی سطح سے گر کر حیوانیت کی سطح پر آجائے حضرت سلیمانؑ کے زمانہ حکومت (۱۰۹۷ - ۱۰۱۳ ق م) میں بحر قلزم کی مشرقی شاخ کے کنارے ایلات (Elath) کے مقام پر یہودیوں کی آبادی تھی۔ انھوں نے قانون سبت کی خلاف ورزی کی ۔ ان کی شریعت میں سبت (سنیچر) کے دن معاشی سرگرمیاں ممنوع تھیں ۔ مگر وہ اس دن مچھلی کا شکار کرنے لگے۔ سنیچر کے دن مچھلیاں کثرت سے دریا میں آتی تھیں اور بقیہ دنوں میں پانی کے نیچے چلی جاتی تھیں۔ یہود نے یہ شرعی تدبیر کی کہ دریا کے کنارے گڑھے بنائے۔ وہ دریا کا پانی کاٹ کر گڑھے میں ملا دیتے ۔ سنیچر کے دن جب مچھلیاں گڑھے میں آجاتیں تو وہ نکلنے کا راستہ بند کر دیتے ۔ اگلے دن اتوار کو ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے ۔ یہ تدبیر وہ اس لئے کرتے تھے تاکہ ان پر یہ بات صادق نہ آئے کہ وہ سبت کے دن شکار کرتے دین کے نام پر یہ بے دینی اللہ کو اتنی زیادہ ناپسند ہوئی کہ ان پر اللہ کی لعنت ہوئی۔ وہ بندر اور سور بنا دئے گئے علانیہ یہی حالت اگرچہ پوری قوم یہود کی تھی۔ تاہم ایک خاص مقام کے یہودیوں کے باطن کو ظاہری طور پر بھی مجسم کر دیا گیا تاکہ دوسروں کے لئے عبرت ہو (بقرہ ۶۶)
بے دینی کو دین کے نام پر کرنا بدترین جرم ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دھیرے دھیرے آدمی کے اندر سے صحیح اور غلط کا فرق مٹ جاتا ہے۔ وہ ایک بے حس انسان بن جاتا ہے۔ دین اور بے دینی دونوں اس کو یکساں دکھائی دینے لگتے ہیں ۔ وہ انسانیت کی سطح سے گر کر حیوانیت کی سطح پر آجاتا ہے حتی کہ وہ نوبت آتی ہے جب کہ اس میں بندر اور سور کی اخلاقیات پیدا ہو جاتی ہیں ۔
بندر کی خصوصیت کیا ہے ۔ فساد اور بے حیائی کسی مکان میں بندر وں کا غول داخل ہو جائے تو وہ فوراً بے معنی اچھل کود اور توڑ پھوڑ شروع کر دے گا ۔ ایسا ہی کچھ حال اس قوم کا ہو جاتا ہے۔ وہ زبان سے خدا کا انکار نہیں تاہم عملاًوہ خدا کی زمین پر اس طرح رہنے لگتی ہے جیسے اس زمین کا کوئی مالک نہیں ہے۔ جیسے نہ کبھی خدا سے اس کا سامنا ہونا ہے اور نہ اپنے کئے کا حساب دینا ہے۔ _________، بدظنی، غیر ذمہ دارانہ زندگی، بے معنی کارروائیاں، آپس کی چھین جھپٹ ، ایک دوسرے پر غرانا ، ہمدردی اور انصاف کے بجائے ظلم و فساد کو اپنا شیوہ بنا لینا، یہ اس کی عام زندگی ہو جاتی ہے ۔ ایسے لوگ بظاہر انسان مگر عملاً بندر صفت ہو جاتے ہیں ۔
سور کی خصوصیت کیا ہے۔ ستھری چیز کو چھوڑ کر گندی چیز کو اپنی خوراک بنانا ، اس کی ایک صورت وہ ہے جو کمائی اور لین دین میں ظاہر ہوتی ہے ۔ آدمی حلال ذرائع پر قانع نہ رہ کر حرام سے اپنا پیٹ بھرنے لگتا ہے (مائدہ - ۶۳)۔ دوسری صورت وہ ہے جس کو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے : اگر وہ ہدایت کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا راستہ نہ بنائیں اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا راستہ بنا لیں (اعراف ۱۳۶) ایسے لوگوں کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ مثبت چیزوں کے بجائے منفی چیزوں کی طرف دوڑنے لگتے ہیں ، ان کو اصلاح کے کاموں کی طرف رغبت نہیں ہوتی۔ البتہ ایسے کاموں کی طرف وہ تیزی سے لپکتے ہیں جن کا نتیجہ نسلوں اور کھیتیوں
کی ہلاکت ہو ان کے سامنے تعمیری کام کے مواقع کھلے ہوتے ہیں۔ مگر وہ ان کی چھوڑ کر تخریب کے راستوں میں تیزی دکھاتے ابناء نوع کے لیے نفع بخش بننے کا شوق ان میں نہیں ابھرتا۔ البتہ ان کو نقصان پہنچانے کے نعرہ بندہ آسانی جمع خاموش خدمت میں ان کے لیے اپیل نہیں ہوتی، البتہ نمائشی ہنگاموں میں وہ خوب دلچسپی رکھتے حقیقی فائدہ کے منصوبوں میں ان کے لیے کوئی کشش نہیں ہوتی۔ البتہ بے فائدہ مشغلوں میں وہ اپنا وقت اور مال خوب خرچ کرتے ہیں۔ حتی کہ نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلائیے تو وہ بلیک کہیں گے البتہ زندہ یا مردہ شخصیتوں کو پوجا کے نام پر جوق در جوق اکٹھا ہو جائیں گے ۔ ستاروں کی دنیا کائنات میں بہت سے کہکشانی مجموعے ہیں۔ کے وقت ہم جن ستاروں کو دیکھتے ہیں وہ ان میں سے ایک کہکشاں کے ستارے ہوتے ہیں۔ کھربوں ستاروں کا یہ مجموعہ ایک پلیٹ کی مانند ہے۔ ہمارے سورج اسی کا ایک نسبتاً چھوٹا ستارہ ہے۔ وہ بڑا صرف اس لئے دکھائی دیتا ہے کہ وہ دوسرے ستاروں میں سب سے زیادہ ہم سے قریب ہے۔ کہکشاں کا پھیلاؤ کتنا زیادہ ہے، اس کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ اس کے مرکز اور ہمارے سورج کے درمیان ۳۰۰۰۰ ٹریلین کلومیٹر کا فاصلہ یہ کہکشانی نظام کائناتی گرد و غبار سے بننے والے بادلوں کے ایک پردہ کے پیچھے ہے، اس لئے ہم براہ راست اس کا مشاہدہ نہیں کر سکتے۔ کہکشاں کے بارے میں ہمارا تصورات تمام تر انفرا رڈ شعاعوں، اکسریز اور ریڈیو ریڈی ایشن کے مطالعہ پر مبنی ہیں جو پردہ کو پار کر کے ہم تک پہنچتی ہیں۔ گویا کہکشاں کا مشاہدہ ہم بالو اسطری کر سکتے ہیں، اس کو براہ راست نہیں دیکھ سکتے۔ فلکیات دانوں کا ایک قیاس یہ ہے کہ کہکشاں کا مرکز غالباً بلیک ہول ہے۔ بلیک ہول ان ستاروں کو کہا جاتا ہے جما اگر چہ ہمارے سورج سے کہیں زیادہ روشن ہے مگر ان کو ہم دیکھ نہیں سکتے۔ ان کا مادہ بے حد کثیف حالت میں ہے۔ ان کے مادہ کی ایک چمچہ بھر مقدار ہزاروں ٹن وزن کے برابر ہے۔ اس بنا پر ان اجسام کی قوت کشش اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ روشنی تک ان سے نکل نہیں سکتی۔ وجہ ہے کہ کہکشاں کا مرکز کسی بھی دوربین سے ہمارے مشاہدہ میں نہیں آتا۔ ہم کسی چیز کو اس سے آنے والی روشنی کی مدد سے دیکھتے ہیں اور کہکشاں کے مرکز سے روشنی آتی ہی نہیں۔ عرب ممالک میں ملازمت عرب ممالک اور ایران میں ملازمت حاصل کرنا بہت ہی آسان ہے۔ آئیڈ گائیڈ تیار ہے جس میں مفید معلومات اور ان کی کمپنیوں کے پانچ سو سے زیادہ پتے ہیں۔ کسی کو رقم نہ دین براہ راست خط و کتابت کر کے اپنی پسند ملازمت ہند یہ نئی سر آرڈر / ۴۹ روپے بھیج کر یہ سائیلو اشامل گائیڈ منگوالیں (پی پی نہیں بھیجا جائیگا) FOREIGN EMPLOYMENT GUIDES 800-CHHATTA SHEIKH MANGLOOD (AR)