Al-Risala · November 1978

JAMA MASJID, DELHI.6

Al-Risala, November 1978, pp. 10–15

By Maulana Wahiduddin Khan

مورطانيامیں انقلاب !

یہ انقلاب !

ہمارے تمام لیڈر سیاسی انقلابات لانے میں مشغول ہیں وقوم کے اندر فکری اور عملی انقلاب لانے سے کسی کو دل چسپی نہیں موریتانیہ، افریقہ کے شمال مغربی ساحل پر ایک صحرائی ملک ہے۔ اس کا رقبہ گیارہ لاکھ مربع کلومیٹر ہے، فرانس اور اسپین کے مجموعی رقبہ کے برابر۔ صرف پندرہ لاکھ ہے۔ زیادہ تر باشندے مسلمان ہیں۔ ۱۹۶۰ میں یہ ملک فرانس کے قبضہ سے آزاد ہوا۔ وقت سے یہاں صدر مختار ولد دادا (۵۵) کی حکومت ۱۰ جولائی کو فوجی انقلاب ہوا اور کرنل مصطفے ولد سالک (43) نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ موریتانیہ کی فوج کے سربراہ اعلیٰ تھے۔

موریتانیہ کی اقتصادیات کا انحصار زیادہ تر لوہے کی کانوں پر ہے جو یہاں بڑی مقدار میں پائی جاتی ان کانوں کا سارا انتظام فرانسیسی کمپنی کے ہاتھ میں یہ کمپنی خام لوہا نکال کر اس کو نہایت سستی قیمت پر حکومت موریتانیہ سے خریدتی ہے اور اس کو مہنگی قیمت پر با فروخت کرتی ہے۔ فرانس کے کارخانوں میں پہنچ کر جب یہ خام لوہا مشینوں اور سامانوں کی صورت اختیار کرتا ہے تو اس کی قیمت، ابتدائی قیمت کے مقابلہ میں کئی سوگنا بڑھ جاتی ہے۔

آزادی کے بعد ہی سے موریتانیہ میں صدر مختار کے خلاف سیاسی تحریک چل رہی تھی جو بالآخر فوجیوں کے کے ہاتھوں اٹھارہ برس بعد کامیاب ہوئی۔ مگر اس مدت میں سارے موریتانیہ میں کوئی ایسا رہنما نہ تھا جو موریتانیہ کے باشندوں کو تعلیم و تربیت کے ذریعہ اس قابل بنانے کی کوشش کرتا کہ وہ اپنی لوہے کی دولت کو فرانسیسیوں سے "چھین" سکیں ۔ اپنی قومی حکومت سے سیاسی اقتدار چھیننے میں انھوں نے تیزی دکھائی۔ سے اقتصادی اقتدار چھیننے کا کوئی منصوبہ وہ نہ بنا سکے۔ یہی تقریباً تمام مسلم ملکوں کا حال ہے ۔ سیاسی کارروائیوں میں دل چسپی دکھا رہا ہے ۔ قوم کی تعمیر و استحکام کے منصوبوں سے ان کو دل چسپی نہیں۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ سیاسی کاررزرائی کے لئے شور و شر کے سوا کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ۔ جب کہ قومی تعمیر کے لئے خاموش محنت کی ہر ضرورت ہے ۔ پہلی صورت میں فی الفور آدمی کی اپنی شخصیت چمکتی ہے جب کہ دوسری صورت میں آدمی کو اپنے آپ کو گم نامی میں دفن کرنا پڑتا ہے۔ ذاتی نقصان کا اندیشہ ہو تو آدمی فوراً حقیقت پسندانہ انداز میں سوچنے لگتا ہے ۔ معاملات میں دلائل کا انبار بھی کسی کو حقیقت پسند بنانے کے لئے کافی نہیں ۔

اسلامی نصب العین کا ماخذ : آیت عبادت یا آیت خلافت سوال: آج کل مسلمانوں میں دو قسم کے مذہبی فکر چل رہے ہیں۔ ایک گروہ حکومت پر زور دیتا ہے، دوسرا گروہ اس سلسلے میں آپ کا خیال کیا ہے۔

جواب: ہمارا خیال ہے کہ دونوں قسم کے گروہوں میں جو فرق ہے وہ دین اور بے دینی کا فرق نہیں ہے۔ دین یا تعبیر دین کا فرق ہے۔ وہ فرق ایک لفظ میں یہ ہے کہ ایک گروہ اپنے نصب العین کا تصور آیت خلافت سے اخذ کرتا ہے اور دوسرا گروہ آیت عبادت سے۔ ایک کے نزدیک اِنّی جاعل في الأرض خليفة (اللہ نے کہا کہ میں ذہن میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں) وہ قرآنی آیت ہے جس سے اسلام کا نصب العین معلوم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس دوسرے کے نزدیک جس آیت سے اسلامی نصب العین اخذ ہوتا ہے وہ یہ آیت ہے:

وما خلقت الجن والإنس إلا ليعبدون میں نے جن و انس کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں خلافتى فکر کے مطابق زمین خدا کی سلطنت کا ایک حصہ ہے اور اس حصہ پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنا نائب سلطنت مقرر کیا ہے تاکہ وہ اس کے اوپر خدا کے قوانین کا نفاذ کرے ۔ دوسری طرف عبادتی فکر کے سوچنے کا انداز یہ ہوتا ہے کہ انسان خدا کا عبد (بندہ) ہے۔ اس کے لئے اپنے رب کی رضامندی حاصل کرنے کا راستہ یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کرے، وہ اس کے آگے اپنے آپ کو جھکادے۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ خلافتى فکر رکھنے والے عبادت کو نہیں مانتے ۔ یا عبادتی فکر رکھنے والوں کے یہاں خلافت کا کوئی مقام نہیں ہے۔ یہ فرق صرف اس معنی میں ہے کہ کوئی گروہ دینی تعلیمات کے مجموعہ کو کس رخ سے دیکھتا ہے۔ کو اگر کوئی شخص آیات قتال کے ذریعہ سمجھنا چاہے تو قرآن اس کو کتاب جنگ نظر آ سکتا ہے۔ اس کے برعکس قرآن کو جو شخص آیات خشیت کی روشنی میں دیکھے، اس کو قرآن کتاب تقویٰ نظر آئے گا۔ ایسا ہی کچھ فرق مذکورہ دونوں گروہوں میں پایا جاتا ہے۔ خلافتى گروہ خلافت سے چل کر عبادت کو لیتا ہے۔ وہ عبادت کی معنویت کو اسی وقت سمجھ پاتا ہے جب کہ وہ اس کو حکومت و سیاست کے خانہ میں بٹھالے۔ اس کے برعکس دوسرا گروہ عبادت کی نگاہ سے خلافت کو سمجھنا چاہتا ہے۔ اس کے نزدیک عبادت بجاے خود مقصود ہے اور بقیہ تمام چیزیں اسی وقت با معنی ہیں جبکہ وہ عبادت کے سرچشمہ سے نکلی ہوں ۔ اس فرق کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ خود خلافت و عبادت کے تصور میں دونوں گروہوں کے درمیان فرق ہو جاتا ہے۔ کے نزدیک حکومت اسلامی کا قیام دین کا مکمل ظہور ہے اور عبادت کی حیثیت یہ ہے کہ وہ حکومت اسلامی کے داعیوں یا کارکنوں کی تربیت و اصلاح کا ذریعہ ہے۔ جب کہ عبادتی گروہ کا زمین یہ ہے کہ اللہ کا حقیقی عبادت گزار بننا ہی مکمل مسلمان اور مکمل دین دار بننا ہے۔ جہاں تک خلافت یا حکومت کا تعلق ہے، اس کی حیثیت ایک دنیوی ذمہ داری کی ہے جو خاص حالات میں مسلمانوں سے مطلوب ہوتی ہے۔ نیز یہ ذمہ داری بھی، بہت سی دوسری شرعی ذمہ داریوں کی طرح، مشروط ذمہ داری ہے اور کبھی عائد ہوتی ہے اور کبھی عائد نہیں ہوتی۔

ایک شخص بے معنی شور و غل کر رہا تھا دوسرا شخص آہستہ سے بولا: میرے بھائی چپ رہو۔

پہلے شخص نے کہا: مجھ سے چپ ہونے کو کہتے ہو اور تم خود چیخ رہے ہو۔ سڑک پر ایک راہ گیر صحیح سمت میں چلا جا رہا تھا۔ پیچھے سے ایک نوجوان تیزی سے سائیکل دوڑاتا ہوا آیا اور راہ گیر سے ٹکرا گیا راہ گیر نے سائیکل والے سے کہا "گھنٹی کیوں نہیں بجائی" سائیکل والا غصہ سے بولا: گھنٹی نہ ہو تو۔ ”پھر بریک کیوں نہیں دیا“ راہ گیر نے دوبارہ کہا ”بریک نہ ہو تو“، سائیکل والے نے کہا اور راہ گیر کو تیز نظروں سے دیکھتا ہوا آگے روانہ ہو گیا۔ ایک شخص قبر پر سجدہ کر رہا تھا دوسرا شخص بولا : ”میرے بھائی خدا کو سجدہ کرو۔ قبر کو سجدہ کرنا جائز نہیں“ پہلا شخص ڈنڈا لے کر دوسرے کے اوپر پل پڑا ”میرے بھائی آخر مجھ کو مارتے کیوں ہو“، دوسرے شخص نے کہا پہلا شخص بولا : اور تم کیا میرے اوپر پھول برسا رہے تھے ۔ ایک شخص ایک ادارہ میں رہائشی ملازم تھا ادارہ کے انچارج نے اچانک ایک روز اس سے کہا: کل سے آپ اپنا کمرہ خالی کر دیں ملازم نے کہا: میرا کمرہ ہی تو میرا دفتر بھی ہے۔ اگر میں کمرہ چھوڑ دوں تو کام کہاں کروں ”میں آپ سے کہتا ہوں کہ آپ کمرہ خالی کر دیں اور آپ مجھ سے بحث کر رہے ہیں“، انچارج نے جواب دیا۔ ”یہ کون سا اسلام ہے کہ سینما ہاؤس میں آگ لگا کر چار مسلمانوں کو جلا دیا جائے“، ایک شخص نے ایرانی لیڈر سے کہا ” ہم نے کب آگ لگائی ہے۔ یہ تو شاہ کے ایجنٹوں نے ہماری تحریک کو بدنام کرنے کے لئے کیا ہے“

لوگ انسانی عدالت کے بارے میں سنجیدہ ہیں مگر خدا کی عدالت کے بارے میں نہیں ایک صاحب وکیل تھے اور اسی کے ساتھ شاعر بھی۔ وہ دیوانی میں وکالت کرتے تھے۔ ایک مقدمہ میں ان کے فریق مخالف کا نام عبدالباقی تھا۔ بحث کے دوران انھوں نے جج سے کہا: "حضور! ان کا نام عبدالباقی ہے۔ سے یہ ثابت ہے کہ ان کے ذمہ ہمارا باقی ہے"۔ جج نے کہا: "مسٹر وکیل! یہ عدالت کا کمرہ ہے۔ یہ کوئی مصرعہ طرح کا مشاعرہ نہیں ہے"۔ یہ سنتے ہی وکیل صاحب فوراً سنجیدہ ہوگئے اور قانونی انداز میں گفتگو شروع کر دی۔ اس کی وجہ کیا تھی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وکیل صاحب کو معلوم تھا کہ فیصلہ کا اختیار ان کو نہیں ہے بلکہ عدالت کو ہے اور عدالت جو فیصلہ کرے گی، قانون کی بنیاد پر کرے گی نہ کہ ادبی نکتوں کی بنیاد پر۔

اسی قسم کے واقعات دین کے معاملہ میں بھی پیش آتے ہیں۔ آدمی بطور خود ایک نظریہ گھڑتا ہے یا ایک دینی عقیدہ بناتا ہے اور کہتا ہے کہ یہی اللہ اور رسول کا دین ہے۔ اس کے سامنے قرآن وحدیث کے حقائق لائے جاتے ہیں جو صریح طور پر ثابت کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی بتائی ہوئی صراط مستقیم سے ہٹا ہوا ہے۔ مگر وہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ بے بنیاد بحث کو بدستور جاری رکھتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کو یقین نہیں کہ فیصلہ" دوسری عدالت ، میں ہونا ہے نہ کہ اس کی اپنی عدالت میں۔ اگر وہ اللہ کی عدالت کو اسی طرح دیکھنے لگے جس طرح مذکورہ وکیل کو انسانی عدالت کھلی آنکھوں سے دکھائی دے رہی تھی تو وہ فوراً سنجیدہ ہو جائے وہ بحث و جدال میں پڑنے کے بجائے خدائی کتاب اور رسول کی سنت میں غور کرنے لگے اور بالآخر اس حقیقت کو مان لے جس کو موت کے بعد ہر ایک ماننے پر مجبور ہوگا۔ ایسے زندہ انسان ہمارے اندر کیوں نہیں تک اس کے استحکام کا مزید انتظام نہ کر لیا جائے ۔ روسی انجینئر کو اس سے اختلاف تھا ۔ ہندوستانی انجینئر غیر ضروری تعمیرات اور غیر ضروری خیال تھا کہ ڈرلنگ مشین کو ہم پل پر لے جاسکتے ہیں اور ڈرائیانون پر کروڑوں روپیہ ضائع کرتے ہیں، اس کی مثال اس سے پل کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ بحث بڑھی یہاں تک کہ دیتے ہوئے مسٹر کے۔ مالویہ (سابق وزیر پٹرولیم) نے مسئلہ متعلقہ وزیر تک پہنچا۔ روسی انجینئر نے اپنے نقطہ نظر بتایا کہ مشرقی ہندوستان میں ایک پل پر کام ہو رہا تھا۔ اس کی وکالت کرتے ہوئے وزیر سے کہا: "روس میں میری بیوی دوپرھان ڈرنگ مشین کو پل پر لے جانے کی ضرورت ہوئی ۔ اور بچے ہیں، اور میں ان سے محبت کرتا ہوں۔ مگر میں اس کے اس وقت موقع پر دو انجینئر تھے۔ ایک روسی اور دوسرا لئے تیار ہوں کہ پل کے نیچے کھڑا ہو جاؤں جب کہ مشین پل ہندوستانی انجینئر نے کہا کہ ڈرل کرنے کی بھاریہ الا پر چڑھائی جائے "۔ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے روسی مشین پل کے اوپر لے جائی گئی تو پل ٹوٹ کر گر جائے گا۔ انجینئر نے فی الواقع ایسا کیا اور بے ضرر نیچے نکل آیا۔ اس لئے مشین اس وقت تک پل پر نہ چڑھائی جائے جب کے۔ کھنا، مطبوعہ الامریڈ ڈیلی ۲۱ ستمبر ۱۹۷۰ء

جو شخص ہار کو مان لے وہی تیاری کر کے دوبارہ اپنے حریف کے مقابلہ میں کامیاب ہوتا ہے ۱۵ فروری ۱۹۷۸ء کو ساری دنیا نے حیرت کے ساتھ یہ خبرسنی کہ باکسنگ کے مشہور چیمپین محمد علی کو ایک غیر معروف کھلاڑی لیون اسپینکس نے ہرا دیا۔ اب محمد علی کے لئے ایک راستہ وہ تھا جو عام طور پر ہارے ہوئے سیاستداں اختیار کرتے ہیں۔ وہ ایک اخبار نکال کر ججوں کی دھاندلی" کا شور مچاتے۔ اپنے پر جوش حامیوں کو لے کر اسپینکس کے خلاف ایجی ٹیشن چلاتے اور اس کو قتل کرنے یا اس پر مقدمہ چلانے کی کوششیں کرتے۔ خود ساختہ طور پر ایک لقب وضع کر کے اپنے نام کے ساتھ لگا لیتے اور سمجھتے کہ وہ اب بھی کھیل کی دنیا کے "امام" ہیں۔ محمد علی اگر اس قسم کا راستہ اختیار کرتے تو اس کے لئے ان کے پاس پیسہ بھی تھا اور اعوان وانصار بھی۔ مگر اس قسم کے تمام طریقوں کو چھوڑ کر انھوں نے محنت ومشقت اور خاموش تیاری کا طریقہ اختیار کیا۔

ہارنے کے بعد پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت، محمد علی نے فروری ۱۹۷۸ء کے تیسرے ہفتہ میں بنگلہ دیش کا پانچ روزہ دورہ کیا۔ ان کو بنگلہ دیش کی اعزازی شہریت دی گئی اور ان کو امریکہ میں بنگلہ دیش کا اعزازی قونصل جنرل بنانے کا اعلان کیا گیا۔ اس موقع پر ۲۲ فروری کو ڈھاکہ کی ایک پریس کانفرنس میں ایک اخباری نمائندہ نے محمد علی سے پوچھا کہ لیون اسپنکس سے مقابلہ میں بچوں کے فیصلے کو کیا وہ صحیح فیصلہ سمجھتے ہیں۔ محمد علی نے صاف لفظوں میں کہا :

Printed page