ٹائپ کی چھپائی
Al-Risala, November 1978, pp. 19–23
By Maulana Wahiduddin Khan
اردو، فارسی، عربی، ہندی، انگریزی کی چھپائی عمدہ ٹائپ میں ۔ ہر زبان کی پروف ریڈنگ اور صحت کا خاص اہتمام۔ ٹائپ کے ساتھ بلاک کی چھپائی اور کلر پرنٹنگ کا خاطر خواہ انتظام معلومات کے لئے لکھئے: کوثر پریس ۔ اعظم گڑھ 276305 کر دیا اور خود ملک پر قابض ہو گیا۔
سلطان محمود خلجی کو معلوم تھا کہ سلطان مظفر حلیم اگر چہ اس کا حریف ہے مگر ایک شریف انسان ہے۔ جرات کر کے اس کے پاس پہنچا اور اس سے اپنے وزیر کے خلاف مدد کی درخواست کی۔ سلطان مظفر فوراً اس کی مدد کے لئے تیار ہو گیا اور اپنی فوج لے کر مانڈو پہنچ گیا۔ زبردست مقابلہ کے بعد منڈلی رائے کی فوج نے ہتھیار ڈال دیئے اور گجرات دوبارہ فتح ہو گیا۔ کے فوجی سرداروں نے کہا کہ اس ملک کو ہم نے لڑ کر فتح کیا اب اس کو محمود خلجی کے حوالے کرنا مناسب نہیں ۔ آپ اس کو اپنی قلمرو میں شامل کرنے کا اعلان کر دیں ۔ سلطان مظفر حلیم نے اس کو اپنی حمیت و غیرت کے خلاف سمجھا اور اس مشورہ کو ماننے سے قطعاً انکار کر دیا۔ تاہم اس کو اندیشہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی فاتح فوج کوئی مسئلہ کھڑا کر دے۔ اس نے اپنی فوجوں کو حکم دیا کہ کوئی بھی شخص مفتوحہ شہر میں داخل نہ ہو اور سب کو فوری طور پر اپنے وطن کی طرف واپسی کا حکم دے دیا۔ (آصفی کی عربی تاریخ ”ظفر الواء")
اسلام کے خلاف جدید شبہات کو ہوا دینے والی کتاب “علم جدید کا چیلنج “ مولانا وحیدالدین خاں کی مشہور کتاب ہے۔ جدید چیلنج “ اسی کا نظر ثانی کیا ہوا ایڈیشن ہے۔ یہ کتاب پہلی بار ۱۹۷۶ء میں اردو میں شائع ہوئی تھی۔ اس کے بعد عربی اور ترکی زبانوں میں اس کے درجنوں سے اوپر ایڈیشن شائع ہوئے ۔ تمام عالم اسلام میں اس کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی ہے ۔ ۲۱ فروری ۱۹۸۶ کو مولانا وحید الدین خاں طرابلس میں صدر قذافی سے ملے تو لیبی لیڈر نے فوراً کہا: (لقد قرأت كتابك الاسلام یییتحدیٰٰ ) (میں نے آپ کی کتاب الاسلام تحدی پڑھ لی ہے)۔ الامام الاكبر ڈاکٹر عبد الحليم محمود (جامعہ ازہر قاہرہ) نومبر ۱۹۷۵ میں ہندوستان آئے انھوں نے جامعہ ڈا بھیل سورت میں تقریر کرتے ہوئے علماء سے کہا کہ آپ لوگ الاسلام تحدی کا مطالعہ کیجئے جس میں اسلام کے خلاف جدید شبہات کا کافی و شافی رد موجود ہے۔
قاہرہ کے روزنامہ الاہرام نے اس کتاب کے عربی ایڈیشن پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا : "مصنف کتاب نے اسلام کے مطالعہ کا ایک ایسا علمی انداز اختیار کیا ہے جو بالکل نیا اور انوکھا ہے۔ جدید مادی فکر کے مقابلہ میں دین کو وہ اسی طرزِ استدلال سے ثابت کرتے ہیں جس سے منکرین مذہب اپنے نظریات کو ثابت کرتے ہیں ۔ اسلام کے ظہور سے لے کر اب تک چودہ سو سالوں میں اسلام پر بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں۔ اگر تاریخ کو چھانا جائے اور اللہ کی طرف بلانے والی عمدہ کتابوں کو چھلنی سے چھان کر نکالا جائے تو کتاب الاسلام یتجدید بیلاشک وشبہ ان میں سے ایک ہوگی۔ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ مصنفِ کتاب کے عمل کو قبول فرمائے۔ ان کے دل کو نور سے، ان کی عقل کو معرفت سے اور ان کی روح کو رضا سے بھر دے اور ان کے قلم کو ایسی روشنائی عطا کرے جو لکھنے سے کبھی ختم نہ ہو۔ کر دیں گے قیمت : تیرہ روپے پچاس پیسے مکتبہ الرسالہ جمعیہ بلڈنگ قاسم جان اسٹریٹ دہلی ۶ ، یہ بند ہے تلازمہ قائم ہو رہی ہے ۶
مذہب اور جدید چیلنج پر ایک یادگار تبصره "مذہب اور جدید چیلنج" کا پہلا ایڈیشن جو علم جدید کا چیلنج کے نام سے 1966 ہمیں چھپا تھا، اس پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا محمد عامر عثمانی مرحوم نے اپنے رسالہ تجلی کے "آغاز سخن" میں مفصل نوٹ شائع کیا تھا۔ اس کا ایک جز اں نقل کیا جاتا ہے:
"اس کتاب کا تذکرہ کرنا آج میں ہر دوسرے موضوع سے زیادہ محبوب نظر آرہا ہے۔ خدا مصنف کو بہترین اجر عطا فرمائے۔ ہمارے علم کی حد تک یہ کتاب اپنے موضوع پر دنیا کی واحد کتاب ہے۔ اس کا موضوع فقط یہ نہیں کہ سائنس کے مقابلہ پر مذہب کا اثبات کیا بلکہ اس کے موضوع کا تشخص تقریباً ان الفاظ میں ہو سکتا ہے کہ ملحد سائنس دانوں اور فلسفیوں کا ردِ ٹھیک اسی علمِ کلام کے ذریعہ جسے یہ لوگ مذہب کی تردید میں استعمال کرتے ہیں۔
اس کتاب کی تعریف کا حق محض یہ کہہ کر ادا نہیں ہو سکتا کہ یہ ٹھوس ہے، مفید ہے، قیمتی ہے۔ طرح کی باتیں تو اس سے کمتر کتابوں کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہیں۔ ہمیں کہنا چاہئے، اور یہ ہمارے دل کی آواز ہے کہ یہ کتاب وہ فرض کفایہ ہے جسے مصنف کی سعادت مندی اور توفیق اور خدا داد صلاحیت نے پوری امت کی طرف سے ادا کیا ہے ۔
یہ بھی ہم نے غلط کہا۔ فرض کفایہ فرائض کی بہت ہلکی قسم ہے۔ یہ فکرِ نو کے مذہب و شمع اور قدر نا پیرار طوفان کے آگے فولادی دلائل کا بند باندھنا ، ملحد مفکرین کے تباہ کن علم کلام کا توڑ مہیا کرنا اور مذہبی عقائد اقدار کو خیرہ کن سفسطوں کی یلغار سے بچانا آج اتنا بڑا فریضہ ہے جسے فرض الفرائض بھی کہہ دیں تو مبالغہ
مصنف نے اگر ڈیوٹی انجام دی ہے تو ملت کے دیگر اہل افراد کے ذمے سے یہ ڈیوٹی ساقط نہیں ہو جاتی۔ اگر ہمیں حقیقت اور واقعات کا احساس و ادراک ہوتا تو جس طرح ہم مدرسے اور مکتب چلانے کے لئے قوم سے چندہ لیتے اور بڑے بڑے خرچ پرچے کرتے ہیں ، اسی طرح اس کتاب کو اردو ، ہندی، انگریزی اور دنیا کی تمام قابل ذکر زبانوں میں بھاری تعداد میں چھاپتے ، پھیلاتے ، مفت پہنچاتے۔
مصنف نے اپنی کتاب میں جوابی بحث کے ذیل میں جو سائنسی معلومات جمع کی ہیں وہ بجائے خود اس کتاب کو بہت قیمتی بنا دیتی ہیں۔ اللہ اکبر ، کیا کیا ایمان تازہ ہوتا ہے ان جدید تر سائنسی اکتشافات کو دیکھ کر جن سے یہ کتاب روشناس کراتی ہے۔ کتنی قطعیت کے ساتھ ہر تازہ سے تازہ تر انکشاف گواہی دے رہا ہے کہ مذہب اٹل ہے ، مذہب برحق ہے، مذہب سے بے تعلق ہو کر انسانی معاشرہ نہ پہلے کبھی فلاح کو پہنچا نہ آج پہنچ
مصنف کی کتاب پڑھ کر ہم ایسی کیفیت محسوس کر رہے ہیں کہ اگر وہ ہمارے سامنے ہوں تو ہم والہانہ انداز میں ان انگلیوں کو چوم لیں جن کی جنبش اس کتاب کو ظہور دینے کا ذریعہ بنی ہے۔
(ماہنامہ تعلیمی دیوبند۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں ایک مقدمہ پیش ہوا۔ ایک شخص نے ناجائز طور پر دوسرے کی زمین پر قبضہ کر لیا تھا، مگر اس کی قانونی خانہ پُری “ اتنی مکمل تھی کہ ظاہری طور پر اس کے خلاف فیصلہ دینا بھی مشکل تھا۔ آپ نے فرمایا ’’تمہاری ہوشیاری کی بنا پر اگر عدالت نے تمہاری موافقت میں فیصلہ دے دیا تو سمجھو کہ اس نے تم کو آگ کا ایک ٹکڑا دیا ہے۔ اس آدمی کے عمل کا نتیجہ دنیوی اعتبار سے تو زمین کا ایک محبوب ٹکڑا تھا۔ مگر آخرت کے اعتبار سے وہ بھڑکتی ہوئی آگ کا ایک شعلہ تھا۔ وہ اپنے عمل سے پیچھے کی دنیا میں زمین چھوڑ رہا تھا اور آگے آخرت کی دنیا میں آگ بھیج رہا تھا۔ اسی طرح نیک اعمال کا معاملہ بھی ہے۔ امام احمد نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ قول غصہ کے بارے میں نقل کیا ہے : ما تجرع عبد جرعة من لبن او عسل خیر من کسی بندہ نے غصہ کے گھونٹ سے بہتر دودھ یا شہد جرعة غیظ کا گھونٹ نہیں پیا۔
غصہ کو پی جانا دنیا کے اعتبار سے انتہائی کڑوا گھونٹ ہے۔ مگر اس عمل کا جو اخروی ثمنی ہے، وہ دودھ اور شہد سے بھی زیادہ میٹھا اور لذیذ ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ گرمی کی شدت جہنم کی سانس کی وجہ سے ہوتی ہے (إن شدة الحر من فیح جهنم) اسی طرح حدیث معراج میں ہے کہ آپ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے تو وہاں آپ نے چار نہریں دیکھیں۔ دو نہریں اندر بہتی تھیں اور دو جبریل نے بتایا کہ اندر اندر بہنے والی نہریں تو بہشت کے دریا ہیں اور اوپر اوپر بہنے والے نیل اور فرات۔ دنیا اور آخرت کی دنیا ایک ہی واقعہ کے دو پہلو ہیں۔ دنیوی پہلو حقیر اور عارضی ہے۔ اخروی پہلو بہتر اور مستقل۔ ہم دنیوی پہلو سے دو چار ہیں۔ موت کے بعد ہم اخروی پہلو سے دوچار ہوں گے۔
انسانی عمل کے اس دو گونہ پہلو کو حدیث معراج میں مختلف تمثیلات کے ذریعہ بتایا گیا ہے۔
انسانوں کی ایک قسم یہ بھی ہے عمر بن ربیعہ (۹۳ - ۳۲ ھ) ایک شاعر تھا جو زیادہ تر عشقیہ مضامین نظم کرتا تھا۔ حتی کہ شریف خاندان کی عورتوں کا نام لے کر ان کے بارے میں عوریاں اشعار کہنے لگا۔ اس کے خلاف شکایات حکومت تک پہنچیں۔ چنانچہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس کو دھلک میں جلا وطن کر دیا جو یمن اور حبشہ کے درمیان بحر احمر کا ایک جزیرہ تھا۔ وہ عین اس رات کو پیدا ہوا جس رات کو حضرت عمر فاروق نے انتقال فرمایا۔ لوگ اس کے بارے میں کہا کرتے تھے: کتنا بڑا حق اٹھ گیا اور کیسا باطل اس کی جگہ عمر بن ربیعہ کا ایک شعر یہ ہے :
الا لیت ام الفضل کانت تري نتی هنا او هنا في جنة او جهنم کاش ام الفضل کسی صورت سے بھی میری رفیقہ بن جائے، یہاں یا وہاں۔ جنت میں یا جہنم میں۔
الرسالة کے پیغام کو پھیلانے کی سب سے آسان صورت یہ ہے کہ آپ الرسالة کی ایجنسی قائم کریں اعظم گڑھ (یوپی) میں ابیک ڈگری کالج ہے جس کا نام شبلی نیشنل کالج ہے۔ ملک زادہ منظور احمد یہاں انگریزی زبان کے شعبہ میں لیکچر رہتے تھے۔ سے 1964 تک یہاں استاد رہے۔ وہ کمیونسٹ تھے دن کو وہ کالج میں انگریزی کی کلاس لیتے اور شام کے وقت شہر کے چوراہہ پر کھڑے ہو کر پارٹی کا اخبار سڑک پر ہاتھ میں اخباروں کا بنڈل لئے ہوئے جب وہ کہتے کہ " وہ پارٹی کیوں نہ کامیاب ہوگی جس میں میرے جیسا آدمی اخبار بیچے" تو سننے والوں پر عجیب تاثر ہوتا ۔
اب ایک اور مثال لیجئے۔ چند ماہ پہلے ایک مسلم نوجوان مجھ سے ملے۔ انھوں نے ایک اسلامی اخبار نکالنا شروع کیا تھا۔ اخبار کی پہلی اشاعت پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا: "میری جوتوں کی دکان ہے اور اللہ کے فضل سے کامیاب بھی۔ مگر مجھ کو پسند نہیں آیا کہ میں زندگی بھر چمن سیوک بنا رہوں۔ آدمی کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ سوسائٹی میں معزز مقام حاصل کرے "
موجودہ زمانہ میں مسلم قوم کے المیہ کی، کم از کم ایک بڑی وجہ وہی ہے جو مذکورہ واقعہ میں نظر آتی ہے۔ ہمارا ہر آدمی "لیڈر" کی سطح پر قوم کی خدمت کرنا چاہتا ’’ہاکر‘‘ کی سطح پر قوم کی خدمت کرنے سے کسی کو دل چسپی نہیں۔ مذکورہ مسلم نوجوان نے سادگی میں اپنے دل کی بات کہہ دی۔ مگر یہی سارے لوگوں کا حال ہے۔ الرسالہ جس تعمیری اور اصلاحی مقصد کے تحت نکالا گیا ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کی اشاعت زیادہ سے زیادہ بڑھائی جائے۔ اس سلسلہ میں ہم اپنے مسلم بھائیوں سے مذکورہ کمیونسٹ جیسے تعاون کی امید تو نہیں کر سکتے۔ تاہم اس سے کم تر درجہ کے ایک تعاون کی ہم ان سے اپیل کر رہے ہیں۔ وہ یہ کہ ہر شخص جو ہم سے ہمدردی یا اتفاق رکھتا ہے، وہ اپنے مقام پر رسالہ کی ایجنسی قائم کرے۔
تجربہ یہ ہے کہ یک وقت سال بھر کا چندہ دینا لوگوں کو مشکل ہوتا ہے۔ مگر پرچہ سامنے ہو تو ایک پرچہ کی قیمت دے کر وہ با آسانی اسے لے لیتے ہیں۔ حال میں الرسالہ کی تعمیری اور اصلاحی آواز کو پھیلانے کی بہترین صورت یہ ہے کہ ہر ہر جگہ اس کی ایجنسی قائم کی یہ کم سے کم تعاون ہے جو الرسالہ کے ہمدرد الرسالہ کے خیالات کو عام کرنے کے لئے دے سکتے ہیں۔ ایجنسی لینے والے کے لئے اس کام میں کسی نقصان کا سوال نہیں ہے۔ کیوں کہ شرائط ایجنسی کے مطابق غیر فروخت شدہ پرچے واپس لے لئے جاتے ہیں۔ عملی صورت یہ ہے کہ کم تعداد سے ایجنسی شروع کی جائے ابتداءََ پانچ یا دس پرچے منگائے جائیں اور پھر حالات کے مطابق بڑھایا جاتا رہے۔ تعاون کی یہ صورت ہلکی بھی ہے اور بے خطر بھی۔ اگر ہمارے ہمدرد اس پر عمل کریں تو چند سال میں اس کے عظیم نتائج نکل سکتے ہیں۔