ادارہ الرسالہ
Al-Risala, November 1978, pp. 24–27
By Maulana Wahiduddin Khan
جمعیۃ بلڈنگ قاسم جان اسٹریٹ دہلی ۶ اسلامی تعلیمات کو عصرِ حاضر کے اسلوب میں بیان کرنا مسلمانوں کے اندر حقیقی دینی روح زندہ کرنا ملی مسائل کے حل کیلئے مثبت اور تعمیری ذہن پیدا کرنا تمام بندگانِ خدا تک اسلام کا پیغام پہنچانا اسلام کو وقت کا غالب فکر بنانے کی کوشش کرنا مسلمانوں میں باہمی اتحاد اور خیر خواہی کا جذبہ ابھارنا اردو اور دوسری زبانوں میں اسلامی لٹریچر شائع کرنا مسلمانوں کو آخرت پسندانہ زندگی گزارنے کی تلقین کرنا رسمی دینداری کے بجائے حقیقی دینداری پیدا کرنا جدید تقاضوں کے مطابق اسلامی تعلیم کا انتظام کرنا ادارہ الرسالة کے ساتھ تعاون آپ کے وقت اور سرمایہ کا بہترین مصرف ہے وحید الدین خاں صدر اسلامی مرکز سر پرست ادارهٔ الرساله
علمی جہاد ــــ انفاق فی سبیل اللہ کا بہترین مصرف ہم سے پوچھا گیا ہے کہ کیا زکوٰۃ کی مدد سے ادارۂ الرسالہ کی اعانت کی جاسکتی ہے ۔ جواب ہے کہ یقیناً کی جاسکتی ہے اور یہ اعانت بلاشبہ زکوٰۃ کا اہم ترین
قرآن میں زکوٰۃ کے جو مصارف بتائے گئے ہیں، ان میں سے ایک فی سبیل اللہ (توبہ: ۶۰) ہے۔ یعنی اللہ کے راستہ میں دینا۔ اس سلسلے میں فی سبیل اللہ کا مفہوم متعین کرنے کے لئے بہت سی علمی بحثیں کی گئی ہیں ۔ شیخ یوسف القرضاوی (قطر) نے اس موضوع پر اپنی تحقیقی کتاب ” فقہ الزکوٰۃ “ میں مفصل اور مدلل گفتگو کی ہے اور آخر میں یہ فیصلہ دیا ہے کہ فی سبیل اللہ سے مراد صرف قتال نہیں ہے، نہ شخصی تملیک اس کے لئے ضروری ہے، بلکہ عمومی نوعیت کا تربیتی اور علمی جہاد بھی اس میں دخل ہے۔ اور شاید آج مسلمان اس کے سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں، ذیل میں شیخ یوسف القرضاوی کی بحث کا ایک حصہ نقل کیا جاتا ہے۔ شیخ موصوف لکھتے ہیں:
موجودہ حالات میں فی سبیل اللہ سے جو اولین اور اہم ترین چیز مراد لی جائے گی وہ ہے صحیح اسلامی زندگی کے احیاء کا وہ پروگرام جو اسلام کے جملہ احکام، عقائد، تصورات، شعائر، شرعی قوانین اور اخلاق و آداب کو بروئے کار لانے کے لئے ہو۔
یہ کام اس قدر اہم اور ضروری ہے کہ سلام کے غیرت مندوں کو اپنی زکوٰۃ کا مال اور اپنی اعانتیں اس پر صرف کرنی چاہئیں۔
ہماری رائے یہ ہے کہ بحالات موجودہ زکوٰۃ کے اس مصرف کو ثقافتی، تربیتی اور علمی جہاد کے لئے استعمال کرنا بہتر ہوگا۔ بشرطیکہ وہ خالص اور صحیح اسلامی جہاد ہو۔ عصر حاضر میں اسلام کے پیغام کو عام کرنے کے لئے جن سرگرمیوں کی ضرورت ہے۔ اس کی چند مثالیں ہم ذیل میں پیش کرتے ہیں۔ ان کا شمار بجاطور پر فی سبیل اللہ میں کیا جاسکتا ہے۔
صحیح اسلام کو پیش کرنے کے لئے دعوتی مراکز قائم کرنا جن کے ذریعہ دنیا کے گوشہ گوشہ میں ادیان و مذاہب کی کش مکش کے درمیان غیر مسلمین تک اسلام کا پیغام پہنچایا سورہ توبہ (آیت : ۶۰) میں صدقات کے آٹھ مصارف بیان کئے گئے ہیں، جن میں سے پہلے چار مصارف (فقراء ، مساکین ، عاملین ، مولفۃ القلوب) کے لئے حرف لام استعمال ہوا ہے۔ یعنی یہ کہا گیا کہ صدقات " ان کے لئے “، ہیں۔ مگر بعد کے چار مصارف (غلام، قرضدار، سبیل اللہ ، مسافر) کے لئے حرف فی استعمال کیاگیا یعنی یہ کہا گیا کہ صدقات ان کی مد میں صرف کرنے کے لئے ہیں۔ پہلے چار مستحقین کے لئے لام ہے جو تملیک کا معنی دیتا ہے۔ بقیہ چار مستحقین کے لئے فی ہے جو عربی زبان میں ظرفیت کے لئے آتا ہے۔ الفاظ میں اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ پہلی چار اصناف کو زکوٰۃ اس طور پر ملتی ہے کہ وہ اس کی مالک ہوجاتی ہیں جبکہ بقیہ چار اصناف کی حیثیت چار مدات کی ہے (فقہ الزکوٰۃ از شیخ یوسف القرضاوی )
جس کے یقینا جہاد فی سبیل اللہ ہے۔
اسلامی ممالک کے اندر ایسے اسلامی مراکز قائم کرنا بھی جہاد فی سبیل اللہ میں شامل ہے جو مسلم نوجوانوں کی صحیح تربیت کریں۔ اسلام کے اعتدال پسندانہ نقطہ نظر کے مطابق ان کی رہنمائی کریں، الحاد، فکری انحراف اور عملی بے راہ روی سے انھیں بچائیں اور انھیں اسلام کی حمایت و نصرت اور اس کے دشمنوں سے نبرد آزمائی کے لئے تیار کریں۔
اسی طرح خالص اسلامی پرچہ کا اجراء جو گمراہ صحافت کے درمیان اللہ کا کلمہ بلند کرنے حق بات کا اظہار کرنے، اسلام پر عائد کئے جانے والے جھوٹے الزامات کی تردید کرنے، شبہات کا ازالہ کرنے، اور اسلام کو ہر قسم کی حاشیہ آرائی اور شائبوں سے پاک کرکے صحیح شکل میں پیش کرنے کی خدمت انجام دے۔ بلا شبہ جہاد فی سبیل اللہ ہے ایسی دینی کتاب کی وسیع پیمانہ پر اشاعت جو بنیادی اہمیت کی حامل ہو اور جو اسلام کو یا اس کے کسی پہلو کو اس خوبی کے ساتھ پیش کرے کہ اس کے پوشیدہ جواہر پر سے پردہ اٹھ جائے۔ اس کی تعلیمات کی خوبیاں نمایاں ہوں اور اس کے حقائق بے نقاب ہوں جہاد فی سبیل اللہ کے مترادف ہے۔
پختہ کار، امانت دار اور مخلص افراد کو فارغ کرنا تاکہ وہ دین کی خدمت کریں، اس کی روشنی چار دانگ عالم میں پھیلائیں، اس کے دشمنوں کی چالوں کو بے اثر کرکے رکھ دیں۔ فرزندانِ اسلام میں بیداری پیدا کریں اور عیسائی مشن، الحاد اور اباحیت کے طوفان کا مقابلہ کریں من جملہ جہاد فی سبیل اللہ کے ہے اور دینِ حق کے داعیوں کی معاونت کرنا جن پرخارج سے اسلام دشمن طاقتیں داخلی عناصر مرتد اور سرکش افراد۔ کی مدد سے مسلط ہو جاتی ہیں اور انہیں طرح طرح کی اذیتیں اور تکلیفیں دینے لگتی ہیں۔ ان کی معاونت کرنا تاکہ وہ کفر اور سرکشی کے مقابلہ میں ثابت قدم رہیں سراسر جہاد فی سبیل اللہ ہے۔
مسلمانوں کو چاہئے کہ زکوٰۃ کے صرف میں ایسے کاموں کو اولین اہمیت دیں کیوں کہ اسلام کے مددگار اللہ کے بعد فرزندانِ اسلام ہی ہیں اور خاص طور سے ایسے دور میں جب کہ اسلام غربت سے دوچار ہے۔ فقہ الزکوٰۃ، ترجمہ از مولاناشمس پیرزادہ - ممبئی ☐☐ وہ مسئلہ جو ابھی تک لوگوں کو معلوم نہیں فجر کی نماز سے فارغ ہو کر میں مسجد کی سیڑھیوں سے اتر رہا تھا کہ ایک بزرگ نے کہا "آپ نے دیکھا نہیں اس آدمی کو" اور پھر میرے جواب کا انتظار کئے بغیر بولے "نماز پڑھ رہا تھا اور کہنیاں یہاں تک کھلی ہوئیں۔ بھی خوش، رحمان بھی خوش، اللہ بچائے ایسے نمازیوں سے" وہ کہہ رہے تھے اور نفرت اور حقارت ان کے لفظ لفظ سے ٹپک رہی تھی۔
میں نے سوچا۔ لوگوں کو کہنیاں کھلنے کا "مسئلہ " معلوم ہے۔ مگر یہ مسئلہ معلوم نہیں کہ ایک مسلمان کے لئے حرام ہے کہ وہ دوسرے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے اور اس کا ذکر نفرت کے ساتھ کرے۔
الرساله اگر آپ کو پسند ہے تو آپ پر اس کا پہلا حق ہے کہ آپ فوراً اپنا زر تعاون بھیج کر اس کے معاونین کی برادری میں باقاعدہ شامل ہو جائیں ۔ مکتبہ الرسالہ کی کتابیں دہلی کے کسی بھی مکتبہ سے حاصل کر سکتے ہیں مکتبہ الرسالہ جمعیۃ بلڈنگ قاسم جان اسٹریٹ دہلی ۱۱۰۰۰۶