Al-Risala · November 1978

بہتر اخلاق یہ ہے کہ غصہ نہ کرے

Al-Risala, November 1978, pp. 29–30

By Maulana Wahiduddin Khan

ابو العلا ء وبن الشخیر نے روایت کیا ہے۔ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سامنے سے آیا اور کہا: اے خدا کے رسول ! کون سا عمل افضل ہے ۔ آپ نے فرمایا اچھا اخلاق ۔ پھر وہ دائیں سے آیا اور پوچھا: اے خدا کے رسول ! کون سا عمل افضل ہے ۔ آپ نے فرمایا اچھا اخلاق۔ پھر وہ بائیں سے آیا اور پوچھا اے خدا کے رسول ! کون سا عمل افضل ہے ۔ آپ نے فرمایا اچھا اخلاق۔ پھر وہ پیچھے سے آیا اور پوچھا اے خدا کے رسول ! کون سا عمل افضل ہے ۔ آپ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:

مالک لا تفقه حسن الخلق - هو ان لا تغضب تم کو کیا ہو گیا کہ تم اچھے اخلاق کو نہیں سمجھتے۔ وہ یہ ہے کہ ان استطعت (حمد بن نصر المروزی ، کتاب الصلاة) اگر تم سے ہو سکے تو تم غصہ نہ کرو جنت میں پہنچانے والے اعمال طبرانی نے حمید طویل سے روایت کی ہے کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے۔ کچھ لوگ ان کی عیادت کے آپ نے اپنی خادمہ سے فرمایا : ہمارے ساتھیوں کے لئے کچھ لاؤ۔ اگرچہ روٹی کا ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے :

مكارم الاخلاق من اعمال الجنة (الترغيب والترہیب جلد ) اچھے اخلاق جنت کے اعمال میں سے ہیں۔ سب کے ساتھ رحم کا برتاؤ سہیل بن گا‘‘۔ عمرووو کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مقام سے گزرے تو آپ نے ایک اونٹ کو دیکھا جس کا پیٹ اس کی پیٹھ سے لگ رہا تھا۔ آپ نے فرمایا۔

اتقوا الله في هذه البهائم المعجمة - فار كبوها ان بے زبان چوپایوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ صالحہ وکلواها صالحة (ابو داؤد) صالح طریقہ سے سواری کرو اور ان کو صالح طریقہ سے کھلاؤ۔ داعی کا اخلاق کیسا ہوتا ہے عمر بن المرہ الجہنی نے سُنا کہ مکہ میں ایک نبی کا ظہور ہوا ہے۔ وہ اپنی سواری پر بیٹھ کر مکہ پہنچے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی۔ آپ نے فرمایا : ”اے عمر بن مرہ ! میں خدا کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں تمام انسانوں کی طرف ۔ ان کو اسلام کی طرف بلاتا ہوں۔ ان کو یہ تعلیم دیتا ہوں کہ خون نہ بہاؤ، رشتہ داروں کے حقوق ادا کرو۔ ایک اللہ کی عبادت کرو، بتوں کو چھوڑ دو، بیت اللہ کا حج کرو، رمضان کے مہینے کے روزے رکھو۔ جس نے ان باتوں کو مان لیا اس کے لئے جنت ہے اور جس نے نہ مانا اس کے لئے آگ کا عذاب ہے۔ اے عمر ! ایمان لاؤ، اللہ تم کو جہنم کی ہولنا کیوں سے بچائے گا“ عمر بن مرہ پہلی ہی ملاقات میں متاثر ہو گئے اور کہا: اشهد ان لا اله الا الله و انك رسول الله آمنت بكل ما جئت به من حلال و حرام وان رغم ذلك كثير من الاقوام میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ میں ہر اس حلال و حرام پر ایمان لایا جس کو آپ لے کر آئے ہیں۔ خواہ بہت سے لوگوں کو یہ بات

رہی گے) پھر انہوں نے ا: اے خدا کے رسول ! مجھ کو میری قوم کی طرف بھیج دیجئے۔ شاید اللہ میرے ذریعہ سے ان پر احسان کرے جس طرح اس نے آپ کے ذریعہ میرے اوپر احسان کیا ہے۔ آپ نے ان الفاظ میں نصیحت کرتے ہوئے ان کو روانہ کیا کہ : عليك بالرفق والقول السديد ولا تكن فظا ہمیشہ نرمی اختیار کرنا، سیدھی بات کہنا، تند خو مت بننا، ولا متكبرا ولا حسودا (کنز العمال) تکبر اور حسد نہ کرنا۔

Printed page