Al-Risala · November 1978

مسلمان کو لعنت کرنا بہت بڑا گناہ ہے

Al-Risala, November 1978, pp. 32–33

By Maulana Wahiduddin Khan

طبرانی نے سلمہ بن اکوع رضی سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب ہم کسی کو دیکھتے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی پر لعنت بھیج رہا ہے تو ہم سمجھتے تھے کہ وہ بڑے گناہوں کے دروازہ میں سے ایک دروازہ میں داخل ہو گیا ہے (كنا اذا رأينا الرجل يلعن اخاه رأينا ان قد اتي بابا من ابواب الكبائر) مومن کو حقیر سمجھنا بے دینی تک لے جا سکتا ہے عروہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک حج میں تھے۔ آپ نے عرفات سے کوچ کرنے میں اسامہ بن زید رض کی وجہ سے دیر کر دی۔ آپ ان کا انتظار کر رہے تھے کہ ایک لڑکا آیا جو کالے رنگ اور چپٹی ناک والا تھا۔ اہل یمن جو آپ کے ساتھ تھے، یہ دیکھ کر بولے :

انما حبسنا من اجل هذا (ابن سعد جلد م ) اس کی وجہ سے ہم روکے گئے تھے عروہ رض کہتے ہیں کہ اہل یمن اپنے اسی قول کی وجہ سے کافر ہوئے۔ ابن سعد کہتے ہیں کہ میں نے زید بن ہارون سے پوچھا عروہ رض کے اس قول کا کیا مطلب تھا۔ انھوں نے جواب دیا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اہل یمن کا مرتد ہونا۔ اولاد کسی آدمی کی سب سے بڑی کمزوری ہے ہزار نے اسود بن خلف رض سے روایت کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن بن علی رض کو اٹھایا اور ان کا پھر صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا :

ان الولد مبخلة مجهلة مجبنة لڑکا آدمی کو بخیل بناتا ہے، نادانی کے کام کراتا ہے ، (ہیثمی جلد (۵) بزدل بنا دیتا ہے۔

طبرانی نے عبد اللہ بن عمر سے ایک روایت نقل کی ہے۔ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں : قاتل الله الشيطان ان الولد فتنة اللہ شیطان کو ہلاک کرے، بے شک اولاد آدمی کیلئے فتنہ ہے۔ گھریلو معاملات میں گھر کے بڑے کا کردار بیہقی نے حسن بن علی رض سے روایت کیا ہے۔ عمر بن خطاب رض اللہ عنہ نے حضرت علی رض کی صاحبزادی ام کلثوم

سے نکاح کا پیغام دیا جو آپ سے عمر میں بہت چھوٹی تھیں۔ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹوں حسن اور حسین سے کہا کہ اپنے چچا کے ساتھ اپنی بہن کی شادی کا انتظام کر دو، دونوں نے کہا:

وہ عورتوں میں سے ایک عورت ہے۔ اس کو اپنی ذات کے بارے میں اختیار ہے ۔

کہ کس کی طرف نفسہا (کنز العمال جلد ۸)

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سن کر غصہ ہو گئے اور اٹھ کر جانے لگے۔ حسن رضی اللہ عنہ نے آپ کا کپڑا پکڑ لیا اور کہا: "اے باپ ! آپ کی جدائی کو میں برداشت نہیں کر سکتا۔ " پھر دونوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے اپنی بہن کا نکاح کر دیا۔ کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو حقیر نہ سمجھے حسن بن ابی طالب کہتے ہیں۔ مسلمانوں کی ایک جماعت ابو موسی اشعری کے پاس آئی جو خلافت فاروقی میں گورنر کے عہدہ پر تھے۔ ابو موسی اشعری نے عربوں کو عطیے دیئے اور ان کے ساتھ جو عجمی تھے ان کو چھوڑ دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ابو موسی اشعری کو لکھا :

بحسب امری من الشر تم نے دونوں کے درمیان بربری کیوں نہ کی۔ آدمی کے برپا ان يحقر اخاه المسلم (کنز العمال جلد ۲) ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ مسلمان بھائی کو گھبراہٹ میں ڈالنا جائز نہیں طبرانی نے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی آیا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ اس کے پاس ایک سینگ تھی ۔ کچھ لوگوں نے اس کی سینگ لے کر چھپا دی ۔ نماز ختم ہوئی تو اعرابی سینگ نہ پا کر گھبرا گیا۔ اس نے کہا : میری سینگ کیا ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يرو عن جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ ہرگز مسلما (ہیثمی جلد ۷) کسی مسلمان کو نہ ڈرائے۔

Printed page