Al-Risala · November 1978

نکاح ۔ دعوت ناموں کی تقسیم کے بغیر

Al-Risala, November 1978, pp. 33–34

By Maulana Wahiduddin Khan

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ عبد الرحمن بن عوف ہجرت کر کے مدینہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مواخات سعد بن ربیع انصاری سے کرائی۔ سعد نے عبد الرحمن بن عوف سے کہا: اے میرے بھائی ! مدینہ میں سب سے زیادہ مال دار ہوں۔ میرے مال کو دیکھ کر تم اس میں سے آدھا مال لے لو۔ میری دو بیویاں ہیں۔ میں سے جو تم کو پسند ہو اس کو میں طلاق دے دوں اور تم اس سے نکاح کر لو۔ عبد الرحمن بن عوف نے کہا: اللہ تمہارے اہل اور مال میں برکت دے۔ مجھے تم بازار کا راستہ بتا دو۔ انھوں نے تجارت شروع کر دی اور بہت نفع کمایا۔ کچھ دنوں بعد ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ ان کے کپڑے پر زعفران کا اثر تھا۔ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیباکی زبان میں فرمایا مہیم یہ کیا) انھوں نے کہا: میں نے ایک عورت سے نکاح کر لیا ہے۔ آپ نے فرمایا، کتنا مہر مقرر کیا۔ انھوں نے کہا، ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونا۔ آپ نے فرمایا :

اولہ ولو بشاة (احمد) ولیمہ کرو اگر چہ ایک بکری ہے۔

گھر کی ذمہ داریوں کو ادا کرنا جہاد فی سبیل اللہ سے کم نہیں طبرانی اور بزار نے عبداللہ بن عباس سے نقل کیا ہے۔ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے خدا کے رسول ! میں عورتوں کی طرف سے قاصد بن کر آپ کے پاس آئی ہوں۔ ان عورتوں میں سے ہر عورت، خواہ آپ اس کو جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں، آپ کے پاس آکر یہ سوال پوچھنا چاہتی ہے۔ اللہ مردوں کا رب ہے اور عورتوں کا بھی۔ وہ دونوں کا الہ ہے۔ آپ مردوں کے بھی رسول ہیں اور عورتوں کے بھی۔ اللہ نے مردوں کے لئے جہاد رکھا ہے۔ اگر وہ اس میں کامیاب ہوتے ہیں تو اجر پاتے ہیں۔ اور اگر مارے جاتے ہیں تو اللہ کے یہاں زندہ ہو کر رزق حاصل کرتے ہیں۔ پھر ہم عورتوں کے لئے کیا ہے؟ آپ نے فرمایا :

ان طاعة الززوج واعترافا بحقه يعدل ذلك، شوہر کی فرماں برداری اور اس کے حقوق کا پہچاننا و قليل منك من يفعله (الترغيب والترہیب) تمھارے لئے جہاد کے برابر ہے۔ اگرچہ عورتوں میں بہت کم ہیں جو ایسا کرتی ہوں۔

Printed page