گھر والوں کی خواہش پر چلنا دینی مزاج کے خلاف
Al-Risala, November 1978, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
بیہقی نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہوئی اور میں نے ایک درہم کا گوشت خریدا تھا اور اس کو لے کر گھر جا رہا تھا۔ انھوں نے پوچھا یہ کیا ہے۔ میں نے کہا : فرم اهلى فابتعت لهم لحما بدرهم میرے گھر والوں کی بڑھی ہوئی خواہش ہے۔ میں نے ان کے (الترغيب والترهيب جلد ۳) لئے ایک درہم کا گوشت خرید اہے یہ سن کر عمر رض میرے لفظ (قدم اهلى) کو بار بار دہراتے رہے یہاں تک کہ مجھے یہ تمنا ہوئی کہ یہ درہم مجھ سے کہیں گر جاتا، یا عمر رضی اللہ سے میری ملاقات نہ ہوتی۔ بیہقی کی ایک اور روایت میں یہ ہے کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اپنے گھر والوں کے لئے ایک درہم کا گوشت خریدا ہے۔ اس کے کھانے کی انھیں بہت خواہش ہوئی ہے۔ عمر رض نے یہ سن کر فرمایا: کیا جب بھی تم کو کسی چیز کی خواہش ہوتی ہے تو تم اس کو خرید
یہ آیت تم سے کہاں چلی گئی : اذهبتم طيباتكم في حياتكم الدنيا و استمتعتم بها (احقاف) خواہش پر قابورکھنا مسلمان کے لئے ضروری ہے احمد اور عبد الرزاق اور ابن عساکر نے حسن بن علی رض سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ اپنے لڑکے کے عبداللہ رض کے گھر میں داخل ہوئے۔ ان کے یہاں گوشت آیا ہوا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کیسا گوشت ہے۔ صاحبزادہ نے جواب دیا: آج مجھ کو اس کے کھانے کی خواہش ہوئی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
وكلما اشتهيت شيئا اكلته، كفى بالمريء سرفا ان جب بھی تم کو کسی چیز کی خواہش ہوتی ہے تو تم اس کو کھاتے ہو۔ يأكل كل ما اشتهاه ( منتخب الكنز جلد ۳) آدمی کے اسراف کے لئے یہ بات کافی ہے کہ جس چیز کی خواہش پیدا ہو اس کو کھائے ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان سے قطع تعلق اس کو قتل کرنے کے برابر ہے عن ابی خراش اسلمی رضی اللہ عنہ انه سمع النبي صلى الله نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی سے ایک سال علیہ وسلم يقول: من هجر اخاه سنة فهو كسفك دمه تک جدائی رکھی تو یہ اس کا خون بہانے کی مانند ہے۔