دنیا دے کر آخرت کا سودا کر جاری رکھنا
Al-Risala, November 1978, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
صہیب رومی رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں ہیں جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مکہ سے ، ہجرت کی۔ وہ مکہ میں لوہاری کا کام کرتے تھے۔ وہ مکہ سے روانہ ہوئے تو قریش کے کچھ لوگوں نے ان کا پیچھا کیا اور راستہ میں ان کو پکڑلیا۔ انھوں نے کہا : " صہیب ! تم ہمارے یہاں ایسی حالت میں آئے کہ تمھارے پاس کچھ مال نہ تھا۔ اب تم بھی جاؤ گے اور اپنا مال بھی لے جاؤ گے۔ خدا کی قسم ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ، صہیب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : اگر میں اپنا مال تم کو دے دوں تو کیا تم میرا پیچھا چھوڑ دو گے ۔ انھوں نے کہا ہاں ۔ صہیب رضی اللہ عنہ کے پاس چند اوقیہ سونا تھا۔ نے یہ سونا ان کے حوالے کر دیا۔ اس کے بعد وہ ان کو چھوڑ کر چلے گئے ۔ صہیب رومی رض مدینہ پہنچے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ قصہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا :
صہیب کی تجارت کامیاب رہی ، صہیب کی تجارت کامیاب رہی (ربح صہیب ربح صہیب ، تفسیر ابن کثیر جلد اول)