Al-Risala · November 1978

معاملات میں حکمت کا طریقہ اختیار کرنا

Al-Risala, November 1978, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

فتح مکہ کے موقع پر انصار کے دستہ کے سردار سعد بن عبادہ رض تھے۔ جب وہ مکہ میں داخل ہوئے تو انھوں نے بلند آواز سے کہا: آج گھمسان کا دن ہے۔ آج حرمت حلال کی جائے گی۔ آج اللہ نے قریش کو نیچا کر دیا۔ “ ابوسفیان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ سعد بن عبادہ اس قسم کی باتیں کر رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سن کر فرمایا: نہیں، آج کا دن رحمت کا دن ہے۔ آج اللہ قریش کو عزت دے گا۔ آج اللہ کعبہ کو عظمت دے گا۔ بل اليوم يوم المرحمة، اليوم يعز الله قريشاً ويعظم الله الكعبة، (فتح الباری، جلد ۸، صفحہ ۷) اس کے بعد آپ نے سعد بن عبادہ سے انصار کے دستہ کا جھنڈا لے لیا اور اس کو ان کے بیٹے قیس کو دے دیا۔ جوزی لکھتے ہیں کہ سعد بن عبادہ کو کوئی احساس نہیں ہوا ۔ کیوں کہ انھوں نے دیکھا کہ جھنڈا اب بھی انھیں کے لڑکے کے ہاتھ میں ہے (ور أی ان اللواء لم يخرج عن سعد اذ صار الى ابنه زاد المعاد)

Printed page