Al-Risala · February 1978

کلام نبوت

Al-Risala, February 1978, pp. 7–16

By Maulana Wahiduddin Khan

عَنْ أَبِي مَسْعُوْدِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ ابو مسعود انصاری کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ فرمایا: اگلے کلام نبوت سے جو باتیں لوگوں نے پائیں مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الْأُولَى : إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا ان میں سے یہ ہے: جب تم کو شرم نہ آئے تو جو جی شِئْتَ (رواه البخاري)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَخْرٍ رَضِيَ الله عنه اللہ تمھارے مالوں اور تمھاری صورتوں کو نہیں دیکھتا

قال قال رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إنَّ اللهَ لا يَنظُرُ الى صُوَرِكُم وَامْوالِكُم وَلَكِنْ يَنْظُرُ إلى قُلُوبِكُم وَاعْمَالِكُمْ " رواه مسلم عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصَّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الغَضَبِ متفق عليه عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لا يَرِيبُكَ ؛ فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِينَةٌ وَالكِذِبَ رِيبَةٌ " رَوَاهُ التِّرْمِذِي عَنْ أَبِي ذَرٍّ جُنْدُبِ بْنِ جُنَادَةَ وَأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ ، وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الحَسَنَةَ تَمْحُهَا ، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ " رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ أَبِي يَعْلَى شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ المَوْتِ ، وَالعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا وَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ ! " رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ " رواه الترمذي وغيره عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : « لَتُؤَدُّنَّ الحُقُوقَ إِلَى أَهْلِهَا يَوْمَ القِيَامَةِ حَتَّى يُقَادَ لِلشَّاةِ الجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاةِ القَرْنَاءِ » عن جرير بن عبد الله رضي الله عنه قال قال رسول الله صل الله عليه وسلم مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ لَا يَرْحَمْهُ الله متفق عليه بلکہ وہ تمھارے دلوں اور تمھارے کاموں کو دیکھتا ہے۔ بہادر وہ نہیں ہے جو کسی کو پچھاڑ دے۔ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے جس بات میں شک نظر آئے اس کو چھوڑ دو، اور جس میں شک نہ ہو اس کو اختیار کر لو۔ کیوں کہ سچ، اطمینان ہے، اور جھوٹ، شک ہے۔

تم جہاں بھی ہو، اللہ سے ڈرو۔ برائی کے بعد نیکی کرو، وہ برائی کو مٹا دے گی۔ اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔

عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کو دبائے اور موت کے بعد کے لئے عمل کرے۔ عاجز وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشوں کے پیچھے ڈال دے اور اللہ پر امیدیں باندھے آدمی کے اسلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ اس چیز کو چھوڑ دے جو بے فائدہ ہو۔

قیامت کے دن حق والوں کو حق دلائے جائیں گے۔

یہاں تک کہ بے سینگ کی بکری کو سینگ والی بکری سے حق دلایا جائے گا۔

جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ بھی اس پر رحم

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ » مُتَفَقٌ عَلَيْهِ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: « لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ » مُتَفَقٌ عَلَيْهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: « كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ » مُتَفَقٌ عَلَيْهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: « وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ، وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ ، وَاللَّهِ » قِيلَ: مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: « الَّذِي لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ » مُتَفَقٌ عَلَيْهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « انْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ فَهُوَ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَحْتَقِرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ » مُتَفَقٌ عَلَيْهِ عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُهُ أَحَبَّنِيَ اللَّهُ وَأَحَبَّنِي النَّاسُ ، فَقَالَ: «ازْهَدْ فِي الدُّنْيَا يُحِبَّكَ اللَّهُ، وَ ازْهَدْ فِيمَا عِنْدَ النَّاسِ يُحِبَّكَ النَّاسُ » رواه ابن عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللَّهُ عليه وسلم : " ماذا ثبتان جائَعَانِ أرسلان في غنم مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے لوگ محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو اس کام کو چھوڑ دے جس سے اللہ نے منع کیا ہے۔

تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لئے وہی پسند نہ کرے جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔

تم میں سے ہر شخص چرواہا ہے اور ہر شخص سے اس کے گلے کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے، خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے، خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے جس کی شرارتوں سے اس کا پڑوسی امن میں نہ ہو۔

اپنے سے کم درجہ والوں کو دیکھو۔ اس کو نہ دیکھو جو درجہ میں تم سے اوپر ہے۔ اس طرح تم اللہ کی نعمت کو حقیر نہ سمجھو گے۔

ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا، اے خدا کے رسول مجھے ایسا عمل بتائیے، جب میں اس کو اختیار کرلوں تو اللہ مجھ سے محبت کرے اور لوگ بھی مجھ سے محبت کریں۔ آپ نے فرمایا، دنیا سے بے رغبت ہو جاؤ، اللہ تم سے محبت کرے گا، لوگوں کے پاس جو کچھ ہے، اس سے بے رغبت ہو جاؤ، لوگ تم سے محبت کریں گے۔

دو بھوکے بھیڑیئے بکریوں کے گلے میں چھوڑ دئے جائیں تو وہ گلے کو اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتے جتنا کسی آدمی

بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِيْنِهِ رواه الترمذي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "قَدْ أَفْلَحَ مَنْ اَسْلَمَ، وَرُزِقَ كَفَافاً ، وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِمَا آتَاهُ رواء مسلم لا تَكُونُوا إِمَّعَةً تَقُولُونَ إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَحْسَنَّا وَإِنْ أَظْلَمُوا ظَلَمْنَا، وَلَكِنْ وَطِّنُوا أَنْفُسَكُمْ إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا وَإِنْ أَسَاؤُا فَلا تَظْلِمُوا۔ (مشكوة باب الظم) والاثم ما حال في صدرك وكرهت ان يطلع عليه الناس عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ عُرْوَةَ السَّعْدِيَّ السَّحَانِي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قال قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لاَ يَبْلُغُ العَبْدُ أَنْ يَكُونَ مِنَ الْمُتَّقِينَ حَتَّى يَدَعَ مَالَا بَأْسَ بِهِ حَذَراً لِمَا بَأْسَ" رواه الترمذي عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ: أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : "مُؤْمِنٌ يُجَاهِدُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " قَالَ ثُمَّ مَنْ ؟ " يَتَّقِي اللَّهَ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ "، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم قَالَ : " لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرِ ! " قِيلَ وَمَا الكبر - قال الكبر بَطَرُ الحَقِّ، وَغَمْطُ النَّاسِ" رواه مسلم عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْراً أَوْ لِيَصْمُتْ " مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم قال : " اَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ ؟ “، قَالُوا : الله کے دین کے لئے مال اور عزت کی حریص پہنچاتی ہے۔ کامیاب ہو گیا وہ شخص جس نے اسلام اختیار کیا، اس کو بقدر ضرورت رزق ملا، اور اللہ نے جو کچھ اس کو عطا فرمایا، اس پر اس کو قانع بنا دیا۔

مت کہو کہ لوگ اچھا سلوک کریں تو ہم بھی اچھا سلوک کریں گے، اگر لوگوں نے بدسلوکی کی تو ہم بھی ظلم کریں گے۔ بلکہ اپنے آپ کو اس کا خوگر بناؤ کہ لوگ اچھا سلوک کریں تو تم بھی اچھا سلوک کرو۔ برا سلوک کریں تو تم ظالم نہ بنو۔

نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے۔ گناہ وہ ہے جو دل میں کھٹکے، اور تم کو ناپسند ہو کہ لوگ اس سے باخبر ہو جائیں۔ بندہ اس وقت تک تقویٰ کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا جب تک اس کا حال یہ نہ ہو جائے کہ گناہ کے اندیشے سے ایسی چیز کو چھوڑ دے جس میں بظاہر گناہ نہیں ہے۔ ایک شخص نے پوچھا، اے خدا کے رسول، لوگوں میں بہتر کون ہے، آپ نے فرمایا، جو اللہ کے راستے میں اپنی جان و مال کے ساتھ جدوجہد کرے، پوچھا پھر کون، فرمایا جو اللہ سے ڈرے اور لوگوں کو اپنے شر سے بچائے۔ جنت میں وہ شخص داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی گھمنڈ ہو۔ پوچھا گیا، گھمنڈ کیا ہے فرمایا، حق بات نہ ماننا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا۔ جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اس کو چاہئے کہ بات کہے تو بھلی بات کہے ورنہ چپ

آپ نے فرمایا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے۔ لوگوں نے جواب اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔

وَرَبُّكَ أَعْلَمُءَ قَالَ • ذِكْرُثَ أُخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ " قِيلَ : آپ نے فرمایا تم اپنے بھائی کے حق میں ایسی بات کہو جو قَالَ: دُكِرَتِ أَحَدَاتُ مَاهِذِهِ؟ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ؟ قَالَ: "إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدْ بَهَتَّهُ « رَوَاهُ مُسْلِمُ۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ : دَمُهُ وَعِرْضُهُ وَمَالُهُ» رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقاً خَالِصاً: إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ» عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ « لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَانِ وَلَا اللَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيءِ » رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ وَيَدْخُلَ الْجَنَّةَ فَلْتَأْتِهِ مِيَّتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَلْيَأْتِ إِلَى النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ» رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ» رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَوْحَى إِلَى أَنْ تَوَاضَعُوا حَتَّى لَا يَبْغِيَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ، وَلَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ اس کو ناپسند ہو، کہا گیا، اگر وہ بات میرے بھائی میں موجود آپ نے فرمایا۔ جو بات تم نے کہی اگر وہ بات تمھارے بھائی میں ہے تو تم نے اس کی غیبت کی۔ اگر تم نے ایسی بات کہی جو اس کے اندر نہیں ہے تو تم نے بہتان باندھا۔ ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کی تین چیزیں حرام ہیں : اس کا خون ، اس کی عزت اور اس کا مال۔

چار باتیں کسی میں ہوں تو وہ پکا منافق ہے۔ سپرد کی جائے تو خیانت کرے، بولے تو جھوٹ بولے ، وعدہ کرے تو پھر جائے، بحث کرے تو جھگڑنے لگے۔

مومن طعنہ دینے والا ، لعنت کرنے والا ، فحش بولنے والا اور زبان دراز نہیں ہوتا۔

جس کو یہ پسند ہو کہ وہ آگ سے بچا لیا جائے اور جنت میں داخل کیا جائے تو اس پر لازم ہے کہ اس کی موت اس حال میں آئے کہ وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور لوگوں کے ساتھ وہی برتاؤ کرے جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔

تم لوگ حسد سے بچو۔ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔

اللہ نے مجھ پر وحی کی ہے کہ تم لوگ تواضع اختیار کرو، کوئی کسی کے اوپر زیادتی نہ کرے۔ (اور کوئی دوسرے کے مقابلہ میں اپنے کو بڑا نہ سمجھے۔

ثَلَاثَ مَنْ كُنَّ فِيهِ يَسْرُ اللَّهُ لَهُ كَنَفَهُ وَأَدْخَلَهُ جَنَّتَهُ: رِفْقٌ بِالضَّعِيفِ، وَشَفَقَةٌ عَلَى الْوَالِدَيْنِ وَإِحْسَانُ إِلَى الْمَمْلُوكِ (ترندی)

اِيَّاكُم وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ (مشكوة) كَفَى بِالْمَرْءِ كِذْبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ (متفق عليه) مثل المومن ومثل الايمان كمثل الفرس في أحِيَتِه يحول ثم يرجع الى اخيته (بيهقي)

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثُ مِنْ أَخْلَاقِ الْإِيمَانِ مَنْ إِذَا غَضِبَ لَمْ يُخْرِجْهُ حِلْمُهُ غَضَبُهُ فِي باطِلٍ، وَمَنْ إِذَا رَضِيَ لَمْ يُخْرِجْهُ بِرِضَاهُ مِنْ حَقٍّ وَمَنْ إِذَا قَدَرَ لَمْ يَتَعَادِ مَا لَيْسَ لَهُ (المعجم الصغير للطبرانی ص ۳۱)

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ وَأَبْغَضَ لِلَّهِ وَأَعْطَى لِلَّهِ وَمَنَعَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ ۔ رواه ابود اؤد مشکوة كتاب الايمان ص)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَخْنُهُ وَلَا يَكْذِبُهُ وَلَا يَظْلِمُهُ إِنَّ أَحْدَكُمُ مِرْآةٌ لِأَخِيهِ فَإِنْ رَأَى أَذًى فَلْيُمِطْهُ عَنْهُ - (ترمذی بحواله مشکوة ) عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ذَبَّ عَنْ لَحْمِ أَخِيهِ بِالْمَغِيبَةِ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُعْتِقَهُ مِنَ النَّارِ (بيهقی بحواله مشکوة) تین باتیں جس میں ہوں اللہ اس کی موت کو آسان بنادیتا ہے اور اس کو اپنی جنت میں داخل کرتا ہے، کمزوروں سے نرمی ، ماں باپ سے محبت، خادموں سے اچھا سلوک۔ گمان سے بچو۔ کیونکہ گمان بہت بڑا جھوٹ ہے۔

آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ ہر سنی ہوئی بات کو دہرانے لگے۔

مومن اور ایمان کی مثال گھوڑے کی ہے جو کھونٹے سے بندھا ہو-وہ گھومتا ہے پھر اپنے کھونٹے کی طرف لوٹ

تین باتیں ایمانی اخلاق میں سے ہیں۔ جب غصہ آئے تو آدمی کا غصہ اس کو باطل میں داخل کر دے۔ جب وہ خوش ہو تو اس کی خوشی اس کو حق سے باہر وہ کر دے۔ جب وہ کسی کے اوپر قدرت پائے تو وہ چیز نہ لے جس پر اس کا حق

جس نے محبت کی تو اللہ کے لئے محبت کی۔ نفرت کی تو اللہ کے لئے نفرت کی۔ دیا تو اللہ کے لئے دیا اور روکا تو اللہ کے لئے روکا، اس نے اپنے ایمان کو کامل کر لیا۔ مسلمان ، مسلمان کا بھائی ہے، وہ اپنے بھائی کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑتا۔ نہ وہ اس سے جھوٹ نہیں کہتا، نہ اس پر ظلم نہیں کرتا۔ تم میں سے ہر ایک اپنے بھائی کا آئینہ ہے۔ وہ اپنے بھائی میں کوئی عیب دیکھے تو اس کو دور کر دے جس نے اپنے مسلمان بھائی کی طرف سے اس کی غیر موجودگی میں مدافعت کی تو اللہ پر لازم ہے کہ اس کو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے۔

"الاسلام" کے بعد ادارہ الرسالہ کی دوسری کتابی پیشکش عنقریب شائع ہونے والی ہے تقریباً تین سو صفحات پر مشتمل یہ اہم کتاب جدید اسلامی لٹریچر میں اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے۔

قرآن پہلی کتاب ہے جس نے انسانی تاریخ میں دورِ نثرکا آغاز کیا۔ علمی طرز فکر کی بنیاد رکھی اور سائنٹفک استدلال کو رائج کیا۔ موجودہ دور کا علمی انقلاب ، قرآن ہی کے پیدا کردہ انقلاب کا نتیجہ ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ قرآن کے حاملین اس انقلاب کو سمجھنے میں سب سے پیچھے ہیں ـــــ وہ ابھی تک شعر و شاعری کی فضا سے نکل نہ سکے۔ حتی کہ ان کی نثر بھی خطابت اور شاعری کی ایک صورت ہوتی ہے۔ میں ان کے پیچھے ہونے کا حال یہ ہے کہ ان کے علماء اب بھی سائنٹفک استدلال اور مغرب زدگی کو ہم معنی سمجھتے ہیں۔

مسلمانوں کی اس علمی پس ماندگی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ دورِ جدید کے معیارِ فکر پر ابھی تک اسلام کا علمی اظہار نہ ہو سکا۔ ہر دور کا ایک اسلوب اور ایک علمی معیار ہوتا ہے اور ہر دور کے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنے دور کے فکری معیار پر خدا کے دین کا اعلان عام کریں۔ جب خود ہی فکری پس ماندگی میں مبتلا ہوں تو وہ اس ذمہ داری کو کس طرح ادا کر سکتے ہیں ۔

خاں عبدالولی خاں ۴ ماه جیل میں رہنے کے بعد اس شان سے باہر آئے ں کہ اچانک وہ پاکستان کی سیاسیات میں قومی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ کے اکثر سیاسی مشاہدین کا خیال ہے کہ بھٹو کے سیاسی منظر سے ہٹنے کے بعد اب خان عبدالولی خاں واحد شخصیت ہیں جو قومی قیادت کا خلا پُر کر سکتے ہیں۔ حکومت نے ان کو بھٹو کے مشہور ہوائی جہاز شاہین (FALCON) پر سفر کرنے کا موقع دیا ہے، وہ پورے ملک کا دورہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے انکشاف کیا ہے کہ میں نے اس جہاز میں سفر کیا تو مجھ کو معلوم ہوا کہ اس کے غسل خانہ کے ٹیپ گولڈ پلیٹڈ (سنہرے) ہیں ۔

خان عبدالولی خان کو میدان سیاست میں لانے کا مقصد بظاہر یہ ہے کہ "بھٹو ازم" کو ختم کیا جائے۔ ولی خان کا ایک انٹرویو حال ہی میں سرکاری اخبار پاکستان ٹائمز میں چھپا ہے، وہ کہتے ہیں " مجھے معلوم ہے کہ کچھ لوگ میری موجودہ پوزیشن کو مسٹر بھٹو کی ۱۹۷۰ کی پوزیشن کے مانند قرار دے رہے ہیں۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ بھٹو نے اقتدار کی کرسی پر پہنچنے کے لیے یحییٰ حکومت سے سازش جب کہ ہم ملک کو بچانے کے لیے موجودہ فوجی حکومت سے تعاون کر رہے ہیں۔ ہم اقتدار نہیں چاہتے۔ ہم کو عہدے اور کرسی کا شوق نہیں ہے۔ یہ ہمارا راستہ نہیں ہے ۔ پہلے بھٹو کا پیدا کردہ فاشزم ختم ہونا ضروری ہے۔ کے بعد الیکشن ہونا چاہئے۔

تاہم اس کو واضح طور پر سمجھ لینا چاہئے کہ بھٹو نے مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ میں جو خرابیاں پیدا کیں وہ ایک علیحدہ چیز ہیں اور عوام کو جس طرح گمراہ کیا، وہ علیحدہ چیز۔ دوسرا مسئلہ ایک خالص سیاسی مسئلہ ہے۔ اس کو سیاسی طور پر حل کیا جا سکتا ہے ۔

(۱۲ مارچ، ۱۹۷۱)

نے یہ کارٹون شائع کیا تھا اس کا عنوان

اور اس کے نیچے لکھا ہوا تھا : بستر ہو گانے کے کیپارا آنکھوں نے اور دوسرے لیڈروں نے کانگریس کو اس لیے نہیں چھوڑا ہے کہ وہ حکومت

WE RECOGNISE THE FORCES THAT SUPPORTED BHUTTO, THE BHUTTO CONSTITUENCY OF THE POOR PEA- SANTS AND WORKERS. THIS IS A CONSTITUENCY WHERE THE MARTIAL LAW CANNOT DO ANYTHING. IT IS A POLITICAL PHENOMENON AND IT IS FOR THE POLITICIANS TO WORK THERE, FOR POLITICAL EVOLUTION TO TAKE ITS NORMAL COURSE. WE ARE TRYING TO DO THAT. WE ARE TRYING TO EXPOSE BHUTTO FOR WHAT HE WAS. WE HAVE TO TELL THE POOR PEOPLE THAT THEY HAVE The Times of India 14.1.1978 ہم کو ان طاقتوں کا اندازہ ہے جنھوں نے بھٹو کی مدد کی یہ بھٹو کا وہ حلقہ ہے جو غریب کسانوں اور مزدوروں پر مشتمل یہ ایک ایسا حلقہ ہے جہاں مارشل لا کچھ نہیں کر سکتا۔ یہ ایک سیاسی ظاہر ہے اور یہ سیاست دانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہاں کام کریں، تاکہ سیاسی ارتقاء ہو اور سیاست اپنے نارمل راستہ پر آسکے۔ ہم اس وقت یہی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم بھٹو کو بے نقاب کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ کیا تھے۔ غریب عوام کو بتانا ہے کہ ان کو غلط رہنمائی دی گئی تھی۔ پاکستان ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے ولی خاں مزید کہتے ہیں : اب تک تین عوامی نعرے استعمال ہوئے ہیں: پہلا ڈاکٹر الطاف حسن قریشی (ایڈیٹر اردو ڈائجسٹ لاہور) نے 7ستمبر1977 کو پاکستان کے فوجی حکمران جنرل محمد ضیاء الحق سے انٹرویو لیا تھا۔

مجھے یاد ہے کہ جب جنرل محمد یحیی خاںنے اقتدار سنبھالنے کے بعد جنرل ہیڈ کوارٹرز میں پہلی پریس کانفرنس کی تھی تو وہ ٹی وی کیمروں پر بری طرح برسے تھے اور کہا تھا کہ مجھے پبلسٹی کا ذرا بھی شوق نہیں۔ مگر چند ہی روز بعد اخبارات میں ان کی بڑی بڑی تصویریں شائع ہونے لگیں “ ڈاکٹر الطاف حسن قریشی یہ لکھتے ہوئے فرماتے ہیں ”مگر جنرل ضیاء الحق کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ وہ پکا پاخ کے منکسر المزاج انسان ثابت ہوئے ہیں“ ڈاکٹر قریشی کے سوالات میں سے ایک سوال یہ تھا ”کیا آپ فوجی قوت کے بل بوتے پر اسلام نافذ کرنا چاہتے ہیں “ جنرل ضیاء الحق نے جواب دیا:

”نہیں ہرگز نہیں۔ میں تو جمہوریت پر غیر متزلزل یقین ہم اقتدار پر قابض رہنے کے لئے نہیں اقتدار منتقل کرنے کے لئے آئے ہیں۔ عام انتخابات انشاء اللہ ۱۸ مقدس نعرہ تھا: پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ۔ پھر دوسرا نعرہ آیا: روٹی کپڑا اور مکان۔ ان دونوں کا نقصان قوم اٹھا چکی ہے۔ اب ہمارا نعرہ ہے: "نظام ہم کو بتانا ہوگا کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ عوام کو مطمئن کرنا ہوگا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو ان کا اقتصادی اور سماجی حق ملے۔ ضروری ہے کہ ہمارے پاس ایک متعین اقتصادی پروگرام ہو۔ اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعہ ہم بھٹو کے حلقہ اثر میں کام کر سکتے ہیں۔ اکتوبر ۱۹۷۷ء کو ضرور منعقد ہوں گے۔ خدا کے ساتھ اور پوری قوم کے ساتھ میں نے ایک عہد باندھا ہے اور اسے پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کروں گا “ اگلا سوال "اگر انتخابات کے نتائج برے برآمد ہوئے تو پھر بھی کیا اقتدار منتقل کر دیا جائے گا" "میں کون ہوتا ہوں یہ فیصلہ کرنے والا کہ نتائج اچھے ہیں یا برے۔ عوام جو بھی فیصلہ دیں، ہم اس کے پابند رہیں گے" اردو ڈائجسٹ لاہور۔ ستمبر 1977 ، صفحہ ۲۰

مولانا وحید الدین خاں قیمت مجلد مع پلاسٹک کور بارہ روپے قیمت مجلد بغیر پلاسٹک کور دس روپے دین کمی حقیقت، تعلیمات قرآن کی حکمتیں، سیرت رسول کا انقلابی سبق مودہ زمانہ میں اسلام کے مسائل، دین کا تجدید و احیاء امت مسلمہ کی تعمیر، دعوت اسلامی کے جدید امکانات ۔ ان موضوعات کے گہرے مطالعہ کے لئے "الاسلام" پڑھیے۔ جدید سائنٹفک اسلوب میں نہایت دلچسپ اور معلومات سے بھر پور۔ قارئین الرسالہ کے مسلسل اصرار پر قیمت میں غیر معمولی کی تاجروں اور ایجنٹوں کے لئے خصوصی کمیشن کتاب کی روانگی کا خرچ ادارہ کے ذمہ ہوگا الدار العلمیہ، جمعیۃ بلڈنگ، قاسم جان اسٹریٹ، دہلی۔

Printed page