معاملات میں باقاعدگی
Al-Risala, November 1978, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
ابن سعد اور بیہقی نے ابو ہریرہ رضیہ سے نقل کیا ہے، وہ ابو موسیٰ اشعری رضہ کے یہاں سے آٹھ لاکھ درہم لے کر مدینہ صبح کی نماز کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے کہا: رات میرے پاس وہ مال آیا ہے کہ ابتدائے اسلام سے اب تک اتنا مال کبھی نہیں آیا۔ میری رائے ہے کہ میں اس کوکیل سے ناپ ناپ کر لوگوں میں تقسیم کردوں۔ اس معاملہ میں تم لوگ اپنی رائے دو (فاشبرو اعلیٰ) عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : میرا خیال ہے کہ تمام لوگوں کے لئے مال کثیر کی ضرورت ہوگی اگر لوگوں کا شمار نہ کیا جائے جس سے یہ پہچان ہو جائے کہ کس نے لیا اور کس نے نہیں لیا تو اندیشہ ہے کہ یہ کام منتشر ہو جائے ۔ (راری مالا کثيرا اي مع الناس وان لم يحصوا حتى يعرف من اخذ ممن لم يأخدن خشية ان ينتشر الامر) یہ سن کر ولید بن ہشام بن مغیرہ نے کہا : اے امیر المومنین ، میں ملک شام گیا، وہاں کے بادشاہوں کو میں نے دیکھا کہ انھوں نے رجسٹر بنائے ہیں اور اس کام پر کارندے مقرر کئے ہیں۔ اس لئے آپ بھی رجسٹر اور کارندے مقرر کیجئے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس مشورہ کو مان لیا اور عقیل بن ابی طالب، مخرمہ بن نوفل، جبیر بن مطعم کو رجسٹر تیار کرنے پر متعین فرمایا ۔ (طبقات ابن سعد، جلد ۳، صفحہ ۲۱۶ )