Al-Risala · November 1978

نصیحت کا راستہ تکلیفوں کا راستہ ہے

Al-Risala, November 1978, pp. 40–41

By Maulana Wahiduddin Khan

طبرانی نے ابو جعفر خطمی سے نقل کیا ہے ۔ ان کے دادا عمیر بن حبیب بن حماشہ رضی اللہ عنہ نے اپنے لڑکے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا : تم میں سے کوئی شخص امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام کرنا چاہے تو وہ اپنے آپ کو لوگوں کے آزار پر صبر کرنے کے لئے تیار کرلے ۔ وہ اللہ کی طرف سے ملنے والے اجر پر بھروسہ رکھے۔ کیوں کہ جس نے اللہ کے اجر پر بھروسہ کیا ، اس کو لوگوں کا آزار کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا ( اذا اراد احد کم ان یامر بالمعروف وينهى عن المنکر فليوطن نفسه على الصبر على الاذی وثيق بالثواب من اللہ تعالیٰ ۔ فانہ من وثق بالثواب من الله عز وجل لم يضره مس الاذی)

رسول اللہ کی جنگ اشاعت اسلام کے لئے تھی نہ کہ اقتدار کے لئے خلافت راشدہ کے بعد مسلمانوں میں جو باہمی لڑائیاں ہوئیں، حضرت عبداللہ بن عمر رض ان میں شریک نہیں تھے۔

کہا: آپ فتنہ کو ختم کرنے کے لئے جنگ کیوں نہیں کرتے۔ سعید بن جبیر کی روایت کے مطابق عبداللہ بن عمر نے جواب دیا: تم جانتے ہو کہ فتنہ کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین ہے لڑتے تھے اور اس کا مقصد ان الجیش اسلام داخل کرنا تھا۔ تمھاری طرح آپ کی جنگ اقتدار کے لئے نہ تھی (ولیس بقتالکم علی الملک، تفسیر ابن کثیر جلد ۲ صفحہ ۳۰) اختلاف کی قیمت پر اقتدار حاصل کرنا درست نہیں خالد بن سُمیر کہتے ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے کہا گیا: بہتر ہو کہ آپ خلافت کا کام سنبھالنے کے لئے کھڑے ہو جائیں۔ کیوں کہ آپ کے ساتھ تمام لوگ راضی ہیں۔ آپ نے فرمایا: تم بتاؤ اگر ایک آدمی مشرق میں مخالفت کر دے۔ لوگوں نے کہا۔ کسی نے مخالفت کی تو اس کو قتل کر دیا جائے گا اور امت کی بہتری کے لئے ایک آدمی کا قتل کر دیا جانا کیا ہے۔ حضرت ابن عمر نے کہا: خدا کی قسم مجھے یہ پسند نہیں کہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک نیزے کا ڈنڈا پکڑے اور میں اس کی نوک پکڑے ہوئے ہوں اور اس نیزے سے مسلمانوں میں سے ایک شخص قتل کر دیا جائے اور اس کے بدلے میں میرے لئے دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے، وہ سب ہو۔ حضرت قطن کی روایت میں ہے کہ ایک آدمی حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس آیا اور کہا: تم سے زیادہ برا امت محمد کے لئے اور کوئی نہیں (ما احدشر لامة محمد منك) آپ نے کہا کیوں ! میں نے تو خدا کی قسم نہ ان کا خون بہایا ہے اور نہ ان کی جماعت میں تفریق ڈالی ہے اور نہ ان کے عصا کو توڑا ہے“۔ آدمی نے کہا: اگر آپ چاہیں تو امت کے دو آدمی بھی آپ کے بارے میں اختلاف نہ کریں۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا: مجھے پسند نہیں کہ خلافت مجھے ملے اور ایک آدمی کہے نہیں۔ دوسرا کہے ہاں (ما احب انها انتنی ورجل یقول لا وآخر یقول بلی، طبقات ابن سعد) تبدیلی حکومت کے نام پر مسلمانوں کا قتل درست نہیں حاکم نے ابو عریف کے واسطے سے نقل کیا ہے۔ معاویہ کے مقابلہ میں حسن بن علی کی جو فوج تھی، میں اس کے مقدمہ میں ہم بارہ ہزار تھے اور ہماری تلواریں اہل شام سے جنگ کے لئے گو یا ابھی سے خون ٹپکا رہی تھیں۔ ابو عمرطہٰ تھے۔ جب ہم کو یہ خبر پہنچی کہ حسن بن علی اور معاویہ کے درمیان صلح ہو گئی تو گویا غصہ اور گرمی کی وجہ سے ہماری کمریں ٹوٹ گئیں۔ حضرت حسن بن علی جب کوفہ آئے تو ہم میں سے ایک آدمی نکل کر ان کی طرف گیا۔ اس کا نام ابو عامر سفیان بن لیل تھا۔ اس نے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: السلام عليك يا مذل المومنين (السلام علیک اے مسلمانوں کو ذلیل کرنے والے) حضرت حسن بن علی نے فرمایا: اے ابو عامر ! ایسا مت کہو۔ میں نے مسلمانوں کو ذلیل نہیں کیا۔ بلکہ مجھے یہ بات پسند نہیں آئی کہ میں اقتدار کے لئے لوگوں کو قتل کروں (لم اذل المومنين ولكنی کرهت ان اقتلهم في طلب الملك، البدایہ والنہایہ، جلد ۸)

Printed page