مردہ کو برا بھلا کہنے سے پر ہیز
Al-Risala, November 1978, pp. 42–43
By Maulana Wahiduddin Khan
عکرمہ بن ابو جہل کی بیوی ام حکیم بنت الحارث بن ہشام فتح مکہ کے دن اسلام لائیں۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے شوہر عکرمہ یمن کی طرف بھاگ گئے ہیں۔ انھیں اندیشہ ہے کہ آپ ان کو قتل کرا دیں گے۔ درخواست ہے کہ آپ انھیں امن دے دیں۔ آپ نے فرمایا ان کو ہماری طرف سے امن ہے۔ ام حکیم اپنے رومی غلام کو لے کر عکرمہ کی تلاش میں نکلیں۔ عکرمہ اس وقت تہامہ کے ساحل پر پہنچ چکے تھے۔ اور کشتی پر سوار ہو کر سمندر پار چلے جانا چاہتے تھے۔ عین اس وقت ام حکیم وہاں پہنچ گئیں اور کہا کہ میں اس بستی کی جانب سے آ رہی ہوں جو تمام لوگوں میں سب سے بہتر ہے۔ تم اپنے کو ہلاکت میں نہ ڈالو، انھوں نے بڑی مشکل سے ان کو واپسی کے لئے تیار کر لیا۔ ام حکیم نے کہا: میں
نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہارے لئے امان طلب کر لی ہے۔ عکرمہ نے کہا " تم نے"۔ انھوں نے کہا: ہاں میں نے۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ واپس روانہ ہوئے۔ مکہ کے قریب آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے کہا: یا علیکم عکرمہ بن ابی جہل مومنا مہاجرا فلا عکرمہ بن ابو جہل مومن اور مہاجر ہو کر آ رہے ہیں۔ تسبوا ابا ء کان سب المیت یوتھی الحی ولا یبلغ ان کے باپ کو برا نہ کہنا۔ کیوں کہ مردہ کو برا کہنے سے زندہ المیت کو تکلیف ہوتی ہے اور وہ مردہ کو نہیں پہنچتی۔