Al-Risala · Booklet «Tarikh ka Sabaq», 1978

CS CamScanner

Booklet «Tarikh ka Sabaq», 1978, pp. 7–17

By Maulana Wahiduddin Khan

قدیم عرب کے شمال اور جنوب کے زرخیز حصے اس زمانے کی دو بڑی شہنشاہیتوں ساسانی سلطنت اور اور باز نطینی سلطنت کے قبضہ میں تھے۔ شمال میں عمارت غسانہ اور امارت بُصری تھی۔ یہ دونوں باز نطینی سلطنت (رومیوں) کے ماتحت تھیں اور یہاں ان کی طرف سے عرب سردار حکومت کرتے تھے۔ رومی اثرات کے تحت یہاں کی اکثر آبادی مسیحی مذہب اختیار کر چکی تھی، عرب کے جنوب میں امارت بحرین، امارت عمان، امارت یمامہ تھی۔ یہ ریاستیں ساسانی سلطنت (ایرانیوں) کے ماتحت تھیں اور ان کے اثر سے یہاں کے باشندوں میں مجوسیت پھیلی ہوئی تھی۔ ۶ھ میں جب حدیبیہ میں قریش سے دس سال کا جنگ معاہدہ ہو اور حالات پر امن ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے اطراف میں واقع سلطنتوں کو دعوتی مراسلے بھیجنے شروع کئے۔ اس سلسلے میں ایک مراسلہ حارث بن ابی شمر غسانی کے نام تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر شجاع بن وہب آپ کا مراسلہ لے کر اس کے پاس گئے۔ میں یہ بھی تھا کہ اللہ پر ایمان لاؤ تمہاری حکومت باقی رہے گی (ربق ملک) اس نے مکتوب نبوی میں یہ جملہ پڑھا تو اس کو غصہ آگیا۔ اس نے خط کو زمین پر پھینک دیا اور کہا: میری حکومت مجھ سے کون چھین سکتا ہے (من ینزع ملکی منی) حاکم تبری شرحبیل بن عمر وغسانی نے اس سے بھی زیادہ بیہودہ سلوک کیا۔ اس رومی گورنر کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر حارث بن عمیر ازدی آپ کا خط لے کر گئے تھے، وہ سرحد شام پر قصبہ موتہ میں داخل ہوئے تھے کہ حاکم بصری کے اشارہ پر ایک اعرابی نے آپ کے سفیر کو قتل کر دیا۔

بین اقوامی روایات کے مطابق یہ واقعہ ایک ملک پر دوسرے ملک کی جارحیت کے ہم معنی تھا۔ یہ بھی ظاہر کر رہے تھے کہ شام کی فوجیں پیش قدمی کرکے مدینہ میں داخل ہو جانا چاہتی ہیں۔ رومی شہنشاہیت اس کو برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ عرب میں کوئی آزاد حکومت قائم ہوا اور ترقی کرے ۔

حارث بن عمیر کے قتل کی خبر مدینہ پہنچی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فوجی جواب دینا ضروری سمجھا۔ حکم دیا کہ مسلمان اپنے اپنے ہتھیار لے کر موضع حرتی میں جمع ہو جائیں۔ چنانچہ تین ہزار کی تعداد میں اسلامی لشکر اکٹھا ہو گیا۔ اس لشکر پر زید بن حارثہ کو سردار مقرر کیا اور ضروری نصیحتیں کرنے کے بعد ان کو شام کی طرف روانہ کیا۔ اسلامی لشکر نے معان شام پہنچ کر قیام کیا۔ دوسری طرف حاکم بصری بھی جنگ کے لئے تیار ہو گیا۔ حوصلہ افزائی اس واقعہ سے بھی ہوئی کہ اتفاق سے ہر قل انھیں دنوں مآب (بلقاء) میں آیا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ایک لاکھ مسلح فوج تھی۔ نیز اس علاقے کے عیسائی قبائل لخم، جذام، قین، بھراء، بلی بھی سمی حمیت کے جوش میں اٹھ کھڑے ہوئے اور بنی بلی کے سردار مالک بن زافلہ کی قیادت میں لڑنے کے لئے تیار ہو گئے۔ اس طرح شامی محاذ پر ایک لاکھ سے بھی زیادہ کا لشکر جمع ہو گیا جبکہ مسلمانوں کی تعداد صرف تین ہزار تھی۔

یہ جنگ جو جمادی الاولیٰ ۸ ھ میں ہوئی، اس میں زید بن حارثہ دشمنوں کے ہاتھ سے مارے گئے۔ اس کے بعد

جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ بھی قیادت کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔ مسلمانوں کا جھنڈا گر جانے سے انتشار کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ اس وقت لشکر اسلام کے ایک سپاہی ثابت بن اقرم نے بڑھ کر جھنڈا اٹھالیا اور بلند آواز سے کہا: کسی ایک شخص کو امیر بنانے کے اوپر اتفاق کرلو‘‘ مسلمان فوجیوں کی طرف سے آواز آئی، رضینا بک - ہم تمہاری سرداری پر راضی ہیں)، ثابت بن اقرم نے جواب دیا: مانا بفاعل فأتفقوا علی خالد بن الوليد (میں یہ کام نہ کر سکوں گا تم لوگ خالد بن ولید کو اپنا سردار بنا لو) اب آواز بلند ہوئی: ہم کو خالد بن ولید کی سرداری منظور ہے۔ یہ سنتے ہی خالد بن ولید نے آگے بڑھ کر جھنڈا اپنے ہاتھ میں لے لیا اور رومی لشکر پر حملہ کر کے اس کو پیچھے دھکیل دیا۔ اس جنگ میں دو ہزار مسلمان شہید ہوئے۔ تاہم یہ جنگ فیصلہ کن طور پر ختم نہیں ہوئی تھی۔ ہر وقت یہ اندیشہ تھا کہ رومیوں کی مدد سے غسانہ مدینہ پر چڑھ آئیں اور اس نومولود ریاست کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ ذی الحجہ ۵ ھ میں بنو قریظہ کے خاتمہ کے بعد جب مدینہ میں بعض معاشی مسائل پیدا ہوئے اور ازواج رسول نے اضافہ نفقہ کا مطالبہ کیا تو آپ کو بہت رنج ہوا اور آپ نے ایک مہینہ تک گھر کے اندر نہ آنے کی قسم کھالی۔ اس سلسلے میں تاریخ میں آتا ہے کہ جب ایک صحابی عمر فاروق سے ملے اور ان سے کہا: ’’کچھ سنا آپ نے‘‘ تو عمر فاروق کی زبان سے فوراً نکلا: ’’کیا غسانہ آگئے‘‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں عیسائیوں کی طرف سے مدینے کے لئے کتنا خطرہ لاحق تھا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مسئلہ کا شدید احساس تھا۔ چنانچہ اپنی عمر کے آخری ایام میں جن امور کے لیے آپ نے شدت سے اہتمام کیا، ان میں غسانہ یا بالفاظ دیگر رومیوں سے مقابلے کے لیے فوج کی تیاری بھی تھی۔ آپ نے اس مقصد کے لیے ایک فوج ترتیب دی۔ اس فوج میں اگر چہ ابو بکر و عمر جیسے بڑے بڑے اصحاب تھے مگر آپ نے انتہائی دانش مندی سے کام لیتے ہوئے اس لشکر کا سردار اسامہ بن زید کو مقرر کیا۔ اسامہ نہ صرف ایک بہادر نوجوان تھے بلکہ ان کے دل میں رومیوں سے انتقام کا شدید جذبہ بھی موجزن تھا۔ کیونکہ موتہ کی جنگ میں رومیوں نے ان کے والد زید بن حارثہ کو قتل کیا تھا۔

تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں لشکر روانہ نہ ہوسکا۔ کیونکہ عین وقت پر آپ پر مرض الموت کا غلبہ آپ کی وفات کے بعد صدیق اکبر نے خلیفہ اول کی حیثیت سے اس لشکر کو شام کی طرف روانہ کیا۔ یہ روانگی بھی اسلامی تاریخ کا حیرت انگیز واقعہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہر طرف سے ارتداد کی خبریں آنے لگیں۔ لوگوں نے خلیفہ اول کو مشورہ دیا کہ اب جبکہ مرکز اسلام خطرہ میں پڑ گیا ہے اور مدینہ پر حملہ کی تیاریاں ہورہی ہیں اس لشکر کی روانگی کو ملتوی کر دیا جائے مگر صدیق اکبر کا یہ جواب لوگوں کو خاموش کرنے کے لیے کافی تھا : ’’اگر مجھ کو یقین ہو کہ لشکر کی روانگی کے بعد مجھ کو مدینہ میں کوئی درندہ تنہا پا کر پھاڑ ڈالے گا، تب بھی میں اس لشکر کی روانگی کو ملتوی نہیں کر سکتا جس کو خود رسول اللہ نے ترتیب دیا ہو۔ ‘‘ صدیق اکبر کی یہ ایمانی جرات کام آئی۔ اسامہ کا لشکر صرف رومیوں کے مقابلہ میں کامیاب ہوا بلکہ رومی شہنشاہیت کے مقابلہ میں مسلمانوں کی فتح نے مرتدین کی بھی حوصلہ شکنی کی اور

نسبتاً آسانی کی ساتھ وہ مغلوب کرلیے گئے۔

اس واقعہ میں اور بہت بڑی حکمت شامل تھی، عرب قبائل ہمیشہ سے آپس میں لڑتے چلے آرہے تھے شدید اندیشہ تھا کہ اپنی قوتوں کی اظہار کا دوسرا میدان نہ پاکر وہ دوبارہ آپس میں لڑنے لگیں گے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت عرب طاقت کو رومی شہنشاہیت سے متصادم کر کے اس کا جواب فراہم کر د۔ اب عربوں کے جنگجو فطرت کے لیے ایک بہترین میدان مل چکا تھا۔ چنانچہ تاریخ نے دیکھا کہ وہ لوگ جو اپنے ہم وطنوں کے قتل وغارتگری کے سوا کچھ نہ جانتے تھے انھوں نے ایک صدی سے بھی کم عرصہ میں ایک پوری دنیا کو فتح کر ڈالا۔ جان بیگٹ گلب پاشانے اپنی کتاب دی لائف اینڈ ٹائمز آف محمد میں اسی پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے: «عرب نامعلوم زمانے سے ایک دوسرے کے ساتھ جنگ و جدل میں زندگی بسر کرنے کے عادی رہے تھے۔ جنگ و جدل کسی خاص سبب کا نتیجہ تھی۔ ہوتی تھی بلکہ یہ ان کی طرز زندگی میں داخل نہیں ۔ اب جبکہ وہ بحیثیت مسلمان ایک دوسرے سے لڑنے سے بڑھنے سے روک دیے گئے تھے یہ کیسے ممکن تھا کہ فوجی ذہنیت کے قبائلی آدمیوں کو ہمیشہ کے لیے پرامن زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا جائے ؟ پیغمبر اسلام نے خود اس مہم کو روانہ کر کے جس نے موت میں شکست کھائی تھی اس سوال کا حل پیش کر دیا تھا۔

۶۳۷ء کے سرما میں تین عرب کالموں نے فلسطین اور شام پر حملہ کر دیا یا اسی اثناء میں مشرقی عرب کے قبیلوں نے جو حیرہ کی لکھی ریاست کی ضبطی کے بعد سے ایران کے دشمن بنے ہوئے تھے، فرات کی طرف پیش قدمی کر کے حیرہ پر قبضہ کر لیا۔ ۲۴ اگست ۶۳۶ء کو بازنطینی رومی قوت نے یرموک کے میدان میں مکمل شکست کھائی اور شام کا تمام علاقہ طبر یہ تک عربوں کے قبضہ میں آگیا۔ فروری، ۶۳۴ء میں ایرانی فوج قادسیہ کے مقام پر جو حیرہ سے چند میل کے فاصلہ پر تھا مکمل طور پر تباہ کر دی گئی اور قدیم عراق بشمول ایرانی دارالسلطنت مدائن جو دجلہ کے جنوب میں موجودہ بغداد کے قریب واقع تھا، عربوں کے زیر تسلط آگیا۔ ۶۴۰ء میں مصر پر حملہ ہوا اور ایک بار پھر بازنطینی حکومت شکست یاب ہوئی اور ستمبر ۶۴۲ء تک پورے مصر پر عرب قبضہ مکمل ہوگیا۔ اسی سال کچی بھی ایرانی فوج نہاوند کے مقام پر تباہ کر دی گئی اور ایرانی سلطنت کا پورے طور پر خاتمہ ہوگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد پہلے خلیفہ راشد رضی اللہ عنہ نے، انتہائی نازک حالات کے باوجود حضرت اسامہ کے لشکر کو رومیوں کی طرف بھیجا۔ یہ مسلمانوں کی آئندہ نسلوں کے لیے ایک عظیم سبق تھا: مسلمانوں کیلیے طاقت آزمائی کا میدان خارجی دنیا ہے نہ کہ داخلی دنیا۔ مگر عجیب بات ہے کہ یہ اہم ترین سبق بعد کے زمانہ میں مسلمان بھول گئے ۔ خاص طور پر موجودہ زمانہ میں تو یہ حال ہے کہ مسلم ممالک دو گروہوں (ترقی پسند اور قدامت پسند میں بٹ کر ایک ایک دوسرے کے حریف بنے ہوئے ہیں۔ ان کی مسلح فوجیں اپنے ہی ملکوں کو فتح کرنے میں مشغول ہیں، مسلم جماعتیں خود اپنے ملکوں کی حکومتوں سے نبرد آزما ہیں۔ باہر کے حریفوں سے مقابلے کے لیے ہر ایک عاجز ہے اور اپنے بھائیوں سے لڑنے کے لیے ہر ایک بہادر بنا ہوا ہے۔ حالت میں اگر اسلام کی توسیع و اشاعت کا کام رک جائے تو اس پر تعجب نہ کرنا چاہئے۔

یہ کامیابی محض پر جوش اقدام کا نتیجہ نہ تھی بلکہ سوچے سمجھے منصوبہ کے ذریعہ حاصل کی گئی بحر ظلمات میں دوڑادیئے گھوڑے ہم نے اس طرح کے الفاظ نے مسلمانوں میں نا عاقبت اندیشانہ اقدام کا ذہن پیدا حالاں کہ خود اس شعر میں جس واقعہ کی طرف اشارہ ہے وہ ایک سوچی سمجھی پیشگی قدمی تھی نہ کہ محض ایک پر جوش چھلانگ۔ ۶۳۵ھ میں اسلامی فوج سعد بن وقاص کی قیادت میں عراق کے علاقوں کو فتح کر رہی تھی۔ بہرہ شیر کو فتح کر کے جب وہ آگے بڑھی تو سامنے دریائے دجلہ تھا اور اس کے دوسری طرف مدائن جو ایرانیوں کا ایک اہم شہر تھا اور وہاں انھوں نے زبردست قلعہ بنا ایرانیوں نے بہرہ شیر سے بھاگتے ہوئے دجلہ کے پل کو توڑ دیا تھا اور دور تک کوئی کشتی بھی نہ چھوڑی تھی جس سے اسلامی لشکر دریا کو عبور کرسکے۔

سعد بن ابی وقاص اگلے دن اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور یہ کہہ کر گھوڑا دریا میں ڈال دیا:

نستعین باللہ ونتوکل علیہ حسبنا اللہ ونعم الوکیل ولا حول ولا قوة الا بالله العظیم ہم اللہ سے مدد چاہتے ہیں اور اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اللہ ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین عظیم و برتر خدا کے سوا کسی کے پاس کوئی طاقت نہیں ۔

آپ کو دیکھ کر دوسروں کو بھی جرات ہوئی اور پورا لشکر اپنے گھوڑوں کے ساتھ دریا میں تیرنے لگا۔ یہ لوگ نصف سے زیادہ دریا پار کر چکے تھے کہ ایرانی تیر اندازوں نے تیروں کی بارش شروع کر دی جو دریا کے دوسرے کنارے پہلے سے موجود تھے۔ دریا میں تیرتا ہوا لشکر اس ناگہانی آفت کا خود مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ پھر کیا چیز تھی جس نے فوج کو برباد ہونے سے یہ کوئی اتفاق نہ تھا اور نہ محض جوش کا کرشمہ تھا۔ یہ سوچی سمجھی منصوبہ بندی تھی، جو کچھ ہوا، وہ عین اس نقشہ کے مطابق ہوا جو پہلے سے طے کر لیا گیا تھا۔

صورت حال پیش آنے کے بعد سعد بن وقاص نے باقاعدہ مشورہ کیا۔ سعد بن وقاص جہاں نصرت الہی پر یقین کرتے ہوئے دریا میں کود پڑے، وہیں انھوں نے حالات کا مکمل جائزہ لے کر اس آنے والی آفت کا بھی پیش اندازہ کر لیا تھا۔ چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ جب انھوں نے گھوڑا دریا میں ڈالنے کا ارادہ کیا تو لشکر یوں سے فرمایا کہ تم میں کون ایسا بہادر سردار ہے جو اپنی جمعیت کے ساتھ اس بات کا وعدہ کرے کہ وہ ہم کو دریا عبور کرنے کے وقت دشمن کے امکانی حملہ سے بچائے گا۔ عاصم بن عمرو نے اس کی ذمہ داری لی اور چھ سو تیر اندازوں کی ایک جماعت لے کر دجلہ کے اس کنارے ایک اونچے مقام پر کھڑے ہوگئے۔ جیسے ہی ایرانی تیر اندازوں نے دجلہ میں تیرتے ہوئے اسلامی لشکر پر تیر پھینکنے شروع کئے، عاصم بن عمرو کا دستہ فوراً متحرک ہو گیا۔ اس نے ایرانی تیر اندازوں پر اتنی قوت کے ساتھ مسلسل تیر برسائے کہ انھیں دفاع کی پوزیشن میں ڈال دیا۔ کثرت سے ایرانی مجروح اور ہلاک ہونے لگے حتیٰ کہ بھاگ کھڑے اس درمیان میں اسلامی لشکر دریا پار کر کے دوسرے کنارے پہنچ گیا اور ایرانی لشکر پر سخت حملہ کر کے مدائن پر قبضہ کر لیا۔

کبھی پیچھے ہٹنا سب سے بڑا اقوام ہوتا ہے مگر اس کو وہی لوگ جانتے ہیں جو بڑے دل والے ہوں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات (11ھ) کے بعد ۲۰ سال تک فتوحات اسلام کا زبردست سلسلہ جاری رہا۔ مہینے کسی نہ کسی بڑے علاقہ کے فتح کی خبر آتی تھی، مگر تیسرے خلیفہ کی شہادت (۲۵ھ) کے ساتھ جو باہمی لڑائیاں شروع ہوئیں، انھوں نے تقریباً ۱۰ سال تک فتوحات کا سلسلہ ختم کر دیا۔ وہ شخص جس نے اس بند دروازہ کو دوبارہ کھولا، وہ حضرت امام حسن تھے بیشک میں آپ کی خلافت سے دست برداری بظاہر میدان عمل سے واپسی کا ایک فیصلہ تھا۔ مگر اس واپسی نے اسلامی تاریخ میں اقدام و عمل کے نئے امکانات کھول دیئے۔

حسن بن علی بن ابی طالب شعبان ۳ھ میں پیدا ہوئے، ربیع الاول سنہ ۵۰ میں وفات پائی۔ آپ کے والد حضرت علیؓ کی شہادت ۱۱ رمضان ۴۰ھ کو کوفہ میں ہوئی تو آپ کی عمر ۳۷ سال تھی۔ اس وقت صرف عراق اور ایران حضرت علیؓ کے زیر خلافت رہ گئے تھے۔ اس کے علاوہ یمن ، حجاز، شام، فلسطین، مصر وغیرہ میں امیر معاویہ کی حکومت قائم تھی۔ حضرت علیؓ کے زیر خلافت علاقہ میں بھی بہت سے لوگ در پردہ آپ کے مخالف تھے۔ حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد لوگوں نے امام حسن کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کی جو آپ کے سب سے بڑے صاحب زادے تھے۔

حضرت حسن نے حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے خلافت کی ذمہ داری کو قبول کر لیا۔ مگر ان کے اندر چونکہ اقتدار کی ہوس نہ تھی، انھوں نے بہت جلد اس حقیقت کو محسوس کر لیا کہ موجودہ حالات میں ان کا خلافت پر اصرار کرنا صرف ملت کے انتشار میں اضافہ کے ہم معنی ہوگا۔ انھوں نے ایک حقیقت پسند انسان کی طرح ایک بار اپنے چھوٹے بھائی حضرت حسین سے کہا تھا : "میں جانتا ہوں کہ نبوت و خلافت دونوں ہمارے خاندان میں جمع نہیں رہ سکتیں “ اسی نزاکت کی وجہ سے آپ نے بیعت کے وقت لوگوں سے یہ اقرار لے لیا تھا کہ ” میں جس سے جنگ کروں تم اس سے جنگ کرو گے، میں جس سے صلح کروں تم اس سے صلح کرو گے “ حضرت علیؓ کے بعد کوفہ کے لوگوں نے حضرت حسن کو خلیفہ بنایا۔ دوسری طرف حضرت امیر معاویہ کے لئے حضرت علی کا اس دنیا سے جانا گویا راستہ صاف ہونے کے ہم معنی تھا۔ انھوں نے حضرت علی کی شہادت کی خبر ملتے ہی اپنے لئے ”امیر المومنین“ کا لقب اختیار کر لیا اور یہ منصوبہ بنایا کہ بقیہ اسلامی علاقوں (عراق د ایران) کو بھی اپنے ماتحت کر کے اپنی حکومت کو مکمل کر لیں۔ تجدید بیعت سے فارغ ہونے کے بعد ساٹھ ہزار کا لشکر لے کر دمشق سے کوفہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ کوفہ میں داخلہ سے پہلے انھوں نے امام حسن کو پیغام بھیجا کہ جنگ سے بہتر یہ ہے کہ آپ مجھ سے صلح کر لیں اور مجھ کو خلیفہ وقت تسلیم کر لیں ۔ امام حسن کے پاس بھی اس وقت ساٹھ ہزار کا لشکر تھا جو لڑنے مرنے پر تیار تھا۔ مگر امام حسن نے مسلمانوں کو باہمی خون ریزی سے بچانا زیادہ ضروری سمجھا۔ وہ اپنے حق خلافت سے از خود دست بردار ہوگئے اور صرف چھ ماہ خلیفہ رہ کر امیر معاویہ کے ہاتھ کوفہ کی مسجد میں بیعت کر لی۔

امام حسن کے پرجوش حامیوں کے لیے یہ ”ذلت“ ناقابلِ برداشت تھی۔ انھوں نے اس فیصلے کے خلاف بہت شور و غل کیا۔ کو مارا، مسلمین (مسلمانوں کے لیے ننگ) کا خطاب دیا کہا کہ آپ کا فر ہو گئے ہیں۔ آپ کے کپڑے نوچے، حتیٰ کہ آپ پر تلوار سے حملہ کیا۔ مگر آپ کسی بھی حال میں مقابلہ آرائی کی سیاست اختیار کرنے کے لیے تیار نہ ہوئے ۔ بلکہ فرمایا : "خلافت اگر معاویہ بن ابوسفیان کا حق تھا تو ان کو پہنچ گیا۔ اور اگر یہ میرا حق تھا تو میں نے ان کو بخش دیا۔ ایک شخص کے پیچھے ہٹ جانے کا یہ نتیجہ ہوا کہ مسلمانوں کا باہمی اختلاف باہمی اجتماعیت میں تبدیل ہو گیا اور سلسلہ جو اسلامی تاریخ میں ، صفین و جمل کے بعد تیسری سب سے بڑی باہمی خوں ریزی کا عنوان بنتا، عام الجماعت کے نام سے پکارا گیا ۔ کے بجائے اتحاد کا سال بن گیا۔ مسلمانوں کی قوت جو آپس کی لڑائیوں میں برباد ہوتی ، اسلام کی اشاعت و توسیع میں صرف ہونے لگی ۔ حقیقت یہ ہے کہ کبھی پیچھے ہٹنے ہی کا نام آگے بڑھنا ہوتا ہے اگر چہ بہت کم لوگ ہیں جو اس حقیقت کو جانتے ہوں۔ حضرت حسن کا یہ عملی کسی قسم کی پسپائی یا فرار نہ تھا۔ یہ انتہائی مدلل سیاست تھی اور عین وہی چیز تھی جس کا نمونہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی سے قائم فرمایا ہے۔

اجتماعی زندگی کا معاملہ انتہائی نازک معاملہ ہے۔ اگر کوئی شخص صرف اقدام اور مقابلہ کی اصطلاحوں میں سوچنا جانتا ہو تو وہ کبھی اجتماعی اصلاح کے میدان میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ اجتماعی زندگی مختلف الخیال قوتوں کے مجموعہ کا نام ہے۔ اس میں ناقابل قیاس حد تک مختلف صورتیں پیش آتی رہتی ہیں۔ اس لیے اجتماعی زندگی میں طریق عمل کا کوئی ایک معیار مقرر نہیں کیا جا سکتا۔ ضروری ہے کہ ان طاقتوں کو سمجھا جائے جو بالمقابل محاذ میں مصروف کار ہیں اور اپنی اور دوسروں کی حقیقی صورت حال کا موازنہ کر کے اپنے عمل کی منصوبہ بندی کی جائے ۔ بیک وقت نہایت گہری نگاہ کا طالب ہے اور اسی کے ساتھ نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ذہن کا بھی۔ میں کبھی اپنے آپ کو مکمل طور پر نظریاتی تبلیغ کے دائرہ میں محدود رکھنا پڑتا ہے۔ اس کی مثال مکہ کے ابتدائی بارہ سال ہیں۔ کبھی حالات کا تقاضا ہوتا ہے کہ فریق مخالف کے چیلنج کو میدان جنگ میں قبول کیا جائے ۔ اس کی مثال غزوہ بدر ہے۔ کبھی دور رس نتائج کو پانے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ فریق ثانی سے براہ راست تصادم کرنے سے بچا جائے خواہ اس کی قیمت یہی کیوں نہ ہو کہ فریق ثانی کے ایک طرفہ مطالبات مان لینے پڑیں ۔ اس کی ایک مثال معاہدہ حدیبیہ ہے۔ اصطلاح میں یہ سیاست کا صبر ہے۔ جو شخص سیاست میں صابرانہ طریق کار کا جوتہ نہ رکھتا ہو اس سے اسلام کا کم سے کم مطالبہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو سیاست کے میدان میں داخل نہ کرے ۔

کامیاب اقدام وہی کر سکتا ہے جو کامیاب پسپائی کا راز جانتا ہو ۔ جسے پینا بزدلی نہیں حکمت عمل ہے ۔ سے نہ ہلکا نا ظلم کو برداشت کرنا نہیں بلکہ ظلم کو جڑ سے مٹانے کی طاقت فراہم کرنا ہے۔ سیاست کو ترک کرنا سیاسی خودکشی نہیں بلکہ معاشرہ کے دیگر عوامل کو بروئے کار آنے کا موقع دینا ہے۔ احتجاج سے گریز کرنا مسئلہ سے صرف نظر کرنا نہیں بلکہ اپنی قوتوں کو مثبت تعمیر کی راہ میں لگانا ہے۔ جو شخص فوری رد عمل کے تحت سیاست کے میدان میں کود پڑتا ہے اس سے زیادہ سیاست سے نا واقف اور کوئی نہیں۔

تاریخ انسانی عمل کا ریکارڈ ہے۔ لیکن تاریخ کو اگر افسانہ بنادیا جائے تو وہ ایک ایسا ذہنی کار خانہ بن جاتی ہے جس میں صرف خوش فہمی کی مہلک گولیاں تیار ہوتی ہوں ـــــ ایک سوچا سمجھا ہوا منصوبہ تھا نہ کہ محض پر جوش اقدام طارق بن زیاد رمضان 91ھ میں اسپین کے ساحل پر اترے تو ان کے ساتھ سات ہزار کا لشکر تھا۔ ساحل افریقہ اور اسپین کے درمیان دس میل کی آبنائے کو، ان کے لشکر سے چار کشتیوں کے ذریعہ پار کیا تھا۔ کا ذکر کرتے ہوئے موجودہ زمانہ کے ایک مورخ اسلام “ لکھتے ہیں:

” اس سے اس زمانہ کے جہازوں کا اندازہ ہو سکتا ہے کہ وہ کتنے بڑے تھے“ موصوف نے قیاس کیا کہ پورا لشکر ایک ہی بار چار کشتیوں پر لاد کر دوسری طرف پہنچ گیا ہوگا۔ حالاں کہ یہ صحیح نہیں۔ اس زمانہ میں ایسی کشتیاں وجود میں نہیں آئی تھیں جن پر دو ہزار فوجی اپنے تمام ساز و سامان کے ساتھ بیک وقت اصل یہ ہے کہ ان لشکر یوں نے کئی پھیروں میں آبنائے طارق کو پار کیا تھا۔ ساتویں صدی عیسوی کے آخر تک مسلمانوں نے افریقہ کو بحر روم کے آخری ساحل تک فتح کر لیا تھا۔ باز نطینی سلطنت ایشیا اور افریقہ سے ختم ہو چکی تھی۔ تاہم مراکش کے ساحل پر سبطہ اور اس کے مضافات کے علاقے اب بھی اسپینی گورنر سیلیان (کاونٹ جولین) کے قبضہ میں تھے۔ یہاں رومیوں نے زبردست قلعہ بنایا تھا موسیٰ بن نصیر نے اس کو فتح کرنے کی کوشش کی۔ مگر ان کی طاقت دیکھ کر بالآخر انہوں نے مصلحت یہ سمجھی کہ جولین سے صلح کرلیں اور اس ساحلی قلعہ کو اس کے قبضہ میں چھوڑ دیں۔ افریقہ سے باز نطینی سلطنت کے خاتمہ کے بعد جولین نے اپنے سیاسی تعلقات اسپین کی عیسائی حکومت سے قائم کر لئے۔ سبطہ اس وقت اندلس کا ایک سمندر پار صوبہ سمجھا جاتا تھا۔ اندلس سے برابر کشتیوں کے ذریعہ اس کو مدد پہنچتی رہتی تھی۔

یہاں یہ سوال ہے کہ جو مسلمان اسپین کے ایک ماتحت گورنر نے خود اپنے مفتوحہ بر اعظم میں صلح کرنے پر مجبور ہوئے تھے، انھوں نے سمندر پار کر کے خود اسپین پر حملہ کرنے کی جرات کس طرح کی۔ اس کا جواب زیر بحث مسئلہ کے تاریخی مطالعہ سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔

منڈھہ میں قوط (گاتھ) قبائل اپین میں گھس آئے اور پانچ سو سالہ رومی سلطنت کو ختم کر کے وہاں اپنی حکومت قائم کرلی۔ بعد کو ان لوگوں نے ٹھیک اسی طرح کسی مذہب کو اختیار کر لیا جس طرح ترکوں کے ایک گروہ بنو سلجوق نے مسلم دنیا پر قابض ہونے کے بعد اسلام قبول کرلیا۔ گاتھ کا مقصد اس تبدیلی مذہب سے یہ تھا کہ مقامی عیسائیوں کو مطمئن کرکے اسپین میں اپنے سیاسی اقتدار کو مستحکم کرے۔ جس زمانہ میں مسلمانوں نے بازنطینی اقتدار کو شام ، مصر، فلسطین سے ختم کیا ملیطہ (ٹالیڈو) پر گاتھ کا آخری بادشاہ ڈینیکا (فیٹشر) حکمران تھا۔ ڈینیکا کی بعض کمزوریوں سے اس کے ایک فوجی افسر ذریق (RADRICK) کو موقع ملا کہ وہ اس کی حکومت کا تختہ الٹ دے اور خود اسپین کا حکمران بن جائے۔ سبطہ کا گورنر جولین اگرچہ ڈینیکا کا رشتہ دار نہ تھا۔ تاہم اس نے مصلحت کے تحت اپنی وفاداریاں رذریق سے مگر بعد کو ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے اس کو بے حد مشتعل کر دیا۔ اور اس کو اپنے بادشاہ کا مخالف کر کے مسلمانوں کے قریب کر دیا جو افریقی براعظم میں اس کے جغرافی پڑوسی تھے۔

اس زمانہ میں اسپین کا حکمران طبقہ بدترین قسم کی عیاشیوں کا شکار تھا۔ رواج کے مطابق امرا کی لڑکیاں عرصہ تک شاہی محل میں رکھی جاتی تھیں تاکہ شاہی آداب وقواعد کو سیکھ سکیں اور بادشاہ کی خدمت کریں۔ کے عہد میں جولین کی لڑکی فلور نڈا بھی اسی رواج کے مطابق شاہی محل میں داخل ہوئی۔ لڑکی جوان ہوئی تو رذریق اس پر فریفتہ ہو گیا اور جبر یہ طور پر اس کی عصمت دری کی لڑکی نے کسی طرح اس واقعہ کی اطلاع اپنے باپ کو دی۔ جولین کو اس واقعہ کا انتہائی صدمہ ہوا۔ اس نے قسم کھائی کہ جب تک رذریق کی سلطنت کو دفن نہ کرے، چین سے نہ بیٹھے گا۔ اولا وہ طلیطلہ گیا اور لڑکی کی ماں کی بیماری کا بہانہ کرکے اس کو سبطہ واپس لایا۔ اس کے بعد وہ موسیٰ بن نصیر سے ملا اور اس کو اکسا کر تسخیر اندس پر آمادہ کیا۔ اس نے موسیٰ کو اندس کی اندرونی کمزوریاں بتائیں اور وعدہ کیا کہ وہ اور خود اندس کے بہت سے لوگ اس مہم میں اسلامی فوج کا ساتھ دیں گے۔ یہ واقعہ ۹۰ھ کا ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جولین نے اسلام قبول کر لیا تھا اور اپنا نام مسلم رکھا تھا۔

اس کے بعد موسیٰ بن نصیر نے خلیفہ ولید بن عبد الملک سے خط و کتابت کی کئی خطوط کے بعد ولید نے لکھا: مسلمانوں کو خوفناک سمندر میں نہ ڈالو۔ اگرچہ پر امید موجب بھی ابتدائے تھوڑی سی فوج بھیج کر صحیح اندازہ کرو" موسیٰ نے رمضان ۹۱ھ میں ایک شخص طریف کو، جس کی کنیت ابوزرعہ تھی پہلی مہم کے طور پر پانچ سو آدمیوں کے ساتھ اسپین روانہ کیا۔ جولین بھی ان کے ساتھ تھا۔ شمالی افریقہ کے ساحل ملک مراکش اور اسپین کے درمیان صرف دس میل کا آبی فاصلہ ہے۔ ان لوگوں نے چار کشتیوں کے ذریعہ اس کو عبور کیا اور دوسری طرف ساحل پر اتر یہ لوگ ساحلی علاقوں میں رہے اور وہاں کے حالات کا اندازہ کرکے دوبارہ واپس آگئے۔ اس کے بعد اگلے سال رمضان ۹۲ ھ میں طارق بن زیاد کی سرکردگی میں سات ہزار کا لشکر تیار کیا گیا۔ دس میل کی آبنائے کو پار کرکے جب وہ لوگ اسپین کے ساحل پر اترے تو کہا جاتا ہے کہ طارق نے اپنی تمام کشتیاں مگر کشتیاں جلانے کا واقعہ بعد کا اضافہ شدہ افسانہ معلوم ہوتا ہے۔ اس زمانہ میں، اور آج بھی، فاتح

کی داستانوں میں اس قسم کے اضافے عام رہے ہیں۔ ہمارے اس خیال کے لئے ایک قرینہ یہ ہے کہ تاریخ اندرس کی بعض قدیم کتابوں، مثلاً اخبار مجموعہ فی فتح الاندلس" میں یہ واقعہ سرے سے مذکور نہیں ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سمندر کو پار کرکے جب طارق بن زیاد اسپین کے ساحل پر اترے تو انھوں نے اپنے فوجیوں کو للکارا: العد و اما مکم والبحر دراء کم وليس لكم دالله الا الجلد والصبر اے لوگو دشمن تمھارے سامنے ہے اور سمندر تمھارے پیچھے ہے۔ تمھارے لئے خدا کی قسم اس کے سوا کوئی راہ نہیں کہ صبر کرو اور جم کر مقابلہ کرو۔

سپہ سالار کے یہ جوشیلے الفاظ سن کر شکری چیخ اٹھے :

انا ورائك يا طارق طارق ہم سب تمھارے ساتھ ہیں ۔

تمام تاریخوں کے متفقہ بیان کے مطابق مخالف فوجوں سے مقابلہ ساحل پر اترتے ہی فوراً پیش نہیں آیا تھا۔ قیاس یہ ہے کہ یہ تقریر بعد کو اس وقت کی گئی ہے جب کہ عملاً مقابلہ پیش آیا ہے۔ اور فتح اندلس کے بعد جب تقریر کے الفاظ " سمندر تمھارے پیچھے ہے" لوگوں میں عام ہوئے تو قصہ گویوں نے اس میں اپنی طرف سے یہ اضافہ کر دیا کہ یہ تقریر کشتیوں کو جلانے کے بعد کی گئی تھی۔ شاید ان کے نزدیک سمندر کے پیچھے ہونے کے لئے ضروری تھا کہ سمندر اور فوجیوں کے درمیان سے کشتیوں کو ہٹایا جا چکا ہو !

وائرلیس کے دور سے ایک ہزار سال پہلے سمندر پار کے ملک میں اترنے والا ایک کمانڈرا س حقیقت سے بے خبر نہیں رہ سکتا تھا کہ اسپین کے ساحل پر اترنے کے بعد یہی کشتیاں وہ واحد ذریعہ ہیں جن سے وہ اپنے مرکز سے مربوط رہ طارق اور موسیٰ بن نصیر (گورنر افریقہ) کے درمیان پیغام رسانی کا دوسرا کوئی ذریعہ اس زمانہ میں ممکن نہ تھا۔ یہ صرف قیاس نہیں ہے بلکہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ وہ ساحل اسپین پر اترنے اور مقابلہ پیش آنے کے درمیان تقریبا دو ماہ تک ہی کشتیاں تھیں جو دونوں کے درمیان باہمی ربط اور پیغام رسانی کا ذریعہ بنی رہیں ۔ طارق جس مقام پر اترے اس کا نام قلعہ الاسد LION'S ROCK تھا۔ بعد کو وہ جبل الطارق (جبرالٹر) کے نام سے طارق اسپین کے جس ساحل پر اترے وہ اس وقت ایک غیر آباد علاقہ تھا۔ وہاں ایک دشوار گزار پہاڑی کو جائے پناہ قرار دے کر وہ لوگ اکٹھا ہو گئے، تاکہ حالات کو سمجھ کر آئندہ کا نقشہ بنا سکیں۔ اسپین کا بادشاہ رذریق ان دنوں بپبلونہ (PAMPLONA) کی ایک جنگ میں مشغول تھا، جہاں اس کے خلاف بغاوت ہوگئی تھی۔ جب طارق کے اسپین میں داخلہ کی خبر ملی تو اس نے حکم دیا کہ ایک لاکھ فوج جمع کی جائے تاکہ مداخلت کاروں کو باہر نکالا طارق کا جاسوسی نظام بھی کام کر رہا تھا۔ انھیں جب رذریق کی تیاریوں کی خبر ملی تو انھوں نے فوراً اپنا ایک قاصد موسیٰ بن نصیر (گورنر افریقہ) کے یہاں روانہ کیا اور مزید کمک کی درخواست کی۔ ادھر موسیٰ بھی خاموش نہ تھے۔ بلکہ مسلسل تیاریوں میں مصروف تھے۔ چنانچہ انھوں نے کشتیوں کے ذریعہ پانچ ہزار مزید سپاہی بھیج دیئے۔ طارق کے لشکر کی تعداد بارہ ہزار ہو گئی ۔

طارق نے پیام رسانی کا یہ تمام کام کشتیوں کے ذریعہ کیا۔ کوئی دوسرا ذریعہ اس زمانہ میں ممکن نہ تھا۔ پھر یہ کشتیاں ہی تھیں جنھوں نے پانچ ہزار فوجیوں کی دوسری قسط کو اسپین کے ساحل پر اتارا، جس کے بعد طارق اس قابل ہو سکے کہ وہ اسپین پر حملہ کر سکیں۔ طارق اگر اسپین کے ساحل پر اترتے ہی اپنی کشتیوں کو جلا دیتے تو یہ پیغام رسانی ممکن نہ ہوتی۔ اور نہ مقابلہ کے وقت فرید کمک پہنچ سکتی۔

اس معرکہ میں جو لین بھی پوری طرح طارق کے ساتھ تھا۔ اس نے شاہ زریق کے خلاف مقامی باشندوں کی ناراضگی سے فائدہ اٹھایا اور اپنے تعلقات کی بنیاد پر اسپمنی شہریوں کی ایک جماعت طارق کی خدمت میں حاضر ان لوگوں نے دشمن کی خبریں فراہم کرنے کا کام اپنے ذمہ لیا اور فوجی اعتبار سے کم زور مقامات کی اطلاع مسلمانوں کو دی اور مسلمانوں کی رہبری کرتے رہے۔ یہ واقعہ بھی مسلمانوں کے لئے ایک نعمت ثابت ہوا کہ تین سال (۹۰-۸۸ھ) تک اندلس میں سخت قحط پڑا تھا، اس کی وجہ سے اتنے لوگ مرے کہ کہا جاتا ہے کہ اندلس کی آبادی آدھی رہ گئی۔ مزید یہ کہ زریق کی ایک لاکھ فوج میں ایک عنصر ایسا بھی تھا جو سابق شاہ اسپین سے عقیدت رکھنے کی وجہ سے باغی زریق کا اندر اندر مخالف تھا۔ ان کے فوجی سرداروں میں شسرت اور ابتے بھی تھے جو سابق شاہ کے بیٹے انھوں نے اپنی خفیہ میٹنگ کی اور کہا:

"زریق خبیث ہمارے ملک پر خواہ مخواہ مسلط ہو گیا ہے، حالاں کہ شاہی خاندان سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ تو ہمارے یہاں کے کینوں میں سے ہے۔ رہے مسلمان، وہ تو صرف وقتی لوٹ مار کے لئے آئے ہیں۔ اس کے بعد اپنے وطن کو واپس چلے جائیں گے۔ اس لئے مقابلہ کے وقت اس خبیث کو زک دینے کے لئے ہم کو خود شکست کھا جانا چاہئے"

زریق کی فوج کے ایک حصہ نے نہایت سخت جنگ کی۔ مگر غیر مطمئن فوجیوں نے جنگ میں زور نہیں دکھایا۔ شکست ہوئی اور زریق میدان جنگ سے بھاگ کھڑا ہوا۔ اس کے بعد وہ نہ زندہ مل سکا نہ مردہ۔ کہا جاتا ہے کہ بھاگنے کے دوران وہ ایک دلدل میں پھنس کر مر گیا۔

اسپین کے بعض علاقوں کو طارق نے فتح کیا۔ بعض کو مغیث رومی نے، بعض کو موسیٰ بن نصیر نے، جو بعد کو مہا ہزار فوج کے ساتھ اندلس میں داخل ہوئے تھے۔ رعایا کی اپنے بادشاہ اور سرداروں سے بیزاری کی وجہ سے ان کو خود اسپینیوں میں مددگار اور جاسوس ملتے چلے گئے۔ تمام مورخین لکھتے ہیں کہ غیر مسلم جاسوسوں نے اسپین کی ابتدائی فتوحات میں بہت مدد کی تھی۔

خدا کی یہ دنیا کوئی طلسماتی کارخانہ نہیں ہے۔ یہ نہایت محکم اصولوں پر قائم ہے۔ یہاں کوئی واقعہ ان قوانین سے مطابقت کرنے کے نتیجہ ہی میں ظاہر ہوتا ہے جن پر دنیا کا نظام چل رہا ہے۔ جو شخص یا قوم اپنے لئے کوئی حقیقی مستقبل دیکھنا چاہے اس کے لئے لازم ہے کہ وہ فطرت کی انی بنیادوں پر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو خدا کی اس دنیا میں اس کا کوئی انجام نہیں۔ خواہ اپنے طور پر وہ اپنے بارے میں کتنا ہی زیادہ خوش فہمی میں مبتلا رہے۔

ہماری زندگی کا ایک دردناک پہلو سابق وزیر اعظم ملایشیا تنکو عبدالرحمن نے بتایا کہ ملایشیا میں جو غیر مسلم آباد ہیں، وہ اسلام کے بارے میں جاننے کے بہت شائق ہیں، مگر مسلمانوں کو اس سے کوئی دل چسپی نہیں کہ ان کو اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ الیکشن کے موقع پر غلط قسم کی سیاست بازی کے ذریعہ وہ غیر مسلموں کو اسلام سے کچھ متوحش کر دیتے ہیں۔ نے بتایا کہ ان کی جماعت ”پرکم “ کی کوششوں سے ملایشیا میں تقریباً ۳۰ ہزار اور صباح میں ایک لاکھ آدمی اسلام قبول کر چکے ہیں۔ سراوک میں ہر دن لوگ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔ مگر مسلمان ان کو اپنے معاشرہ میں قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ حتیٰ کہ بعض لوگ ان نومسلموں سے مصافحہ تک نہیں کرتے۔ کیونکہ ان کے خیال کے مطابق" ان کے ہاتھ سور کی چربی سے گندے ملایشیا کی حکومت نے جزیرہ نما میں نئی سڑکوں کی تعمیر کے لئے ایک بلین ڈالر کا منصوبہ بنایا ہے۔ ہو چکے ہیں“:۔

تنکو عبدالرحمن لکھتے ہیں :

TODAY I AM FIGHTING A LONE BATTLE TO GET THESE MUSLIM CONVERTS ACCEPTED INTO THE ان نو مسلموں کو ملایا کے مسلم معاشرہ میں شامل کرنے کے لئے میں ایک تنہا جنگ لڑ رہا ہوں اسلامک ہیرالڈ، کوالمپور، دسمبر ۱۹۷۷ء تنکو عبدالرحمن اپنی سیاسی زندگی کے زمانہ میں ملیشیا کی مقبول ترین شخصیت تھے۔ مگر جب انھوں نے سیاست کی ہنگامی زندگی کو چھوڑ کر تعمیری کام کرنا چاہا تو اب وہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ تنہا ہیں۔ ان کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں ۔

یہی موجودہ زمانہ میں ساری دنیا کے مسلمانوں کا حال ہے۔ وہ کسی قائد کا ساتھ صرف اس وقت دیتے ہیں جب کہ وہ ان کو جذباتی سیاست کی شراب پلا رہا خاموش کام کرنے والوں کا ساتھ دینے کا اس کے اندر حوصلہ نہیں۔ اس مشکل کا واحد حل یہ ہے کہ ہمارے درمیان کچھ قائد ایسے نکلیں جو عزت و شہرت کی قربانی پر اپنے آپ کو خاموش تعمیری کاموں میں لگا دیں۔ قائدین کی ایک نس اس طرح اپنے آپ کو گم نامی کے قبرستان میں دفن کر چکی ہوگی ، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ ملت کو حقیقی معنوں میں دنیا کے اندر عزت و سربلندی کا مقام حاصل ہو۔ اگر ہمارے قائدین شہرت و عزت کی فضاؤں میں پرواز کر رہے ہوں اور عوام کو تعمیری کام کا وعظ سنائیں ، تو یہ کام کبھی انجام نہیں پاسکتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ تنکو عبدالرحمن جیسے تعمیری کام کا ذوق رکھنے والے ہمارے یہاں صرف استثناء کا درجہ رکھتے ہیں ۔

Printed page