اللهم انی قد رضیت عن عثمان فارض عنه، اللهم انی
Booklet «Tarikh ka Sabaq», 1978, pp. 19–20
By Maulana Wahiduddin Khan
قد رضیت عن عثمان فارض عنه اے اللہ میں عثمان سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہوجا۔
ایک بار حضرت عثمان کے ایثار و قربانی سے آپ اتنا خوش ہوئے کہ دعا کا یہ کلمہ دن بھر آپ کی زبان سے نکلتا رہا۔ تاہم یہی عثمان بن عفان تھے جن کے خلاف ان کی خلافت کے بعد کے سالوں میں سارے ممالک اسلامی میں شورش برپا ہو گئی۔ اس شورش کے پیدا کرنے میں متعدد مخلص اور مقدس لوگ بھی شریک تھے۔ یہ شورش اتنی بڑھی کہ ہزاروں کی تعداد میں بلوائی مختلف ملکوں سے جمع ہو کر مدینہ میں گھس گئے۔ انھوں نے حضرت عثمان کے مکان کا محاصرہ کر لیا۔ کے گھر میں پانی کا داخلہ روک دیا۔ آپ کے لئے مسجد نبوی میں جا کر نماز پڑھنا نا ممکن بنا دیا۔ جب شدت بہت بڑھی تو آپ اپنے مکان کی چھت پر چڑھے اور بلوائیوں کو خطاب کیا:
عن ثمامة بن حزن القشیری، قال شهدت الدار ثمامہ بن حزن القشیری کہتے ہیں۔ عثمان بن عفان کے محاصرہ حین اشرف علیهم عثمان فقال: انشدکم الله والاسلام کے وقت میں ان کے گھر کے پاس موجود تھا۔ وہ مکان کے اوپر هل تعلمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قدم چڑھے اور لوگوں سے کہا۔ میں تم کو اللہ کی اور اسلام کی قسم المدينة وليس بها ماء يستعذب غير بئر رومة دلاتا ہوں۔ کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فقال من يشتري بئر رومة يجعل دلوه مع دلاء کر کے مدینہ آئے اور یہاں صرف ایک یہودی کا کنواں بئر رومہ تھا المسلمين بخير له منها في الجنة۔ فاشتريتها من جس سے میٹھا پانی لیا جا سکے وہ بہت مہنگی قیمت پر فروخت کر رہا لب مالی، وانتم اليوم تمنعوني ان اشرب منها۔ تھا) رسول اللہ نے کہا۔ کون بئر رومہ کو خرید لے۔ کہ وہ بجلی اس فقالوا، اللهم نعم۔ فقال انشدكم الله والاسلام هل سے پانی لے اور مسلمان بھی پانی لیں۔ جنت میں اس کو اس سے بہتر تعلمون ان المسجد ضاق بهاء نه قال رسول الله جگہ میں نے (۳۵ ہزار درہم) کے عوض اس کو خریدا۔ صلى الله عليه وسلم من يشتري بقعة آل فلان مجھ کو اس سے پانی پینے سے روکتے ہو۔ لوگوں نے جواب دیا۔ فيزيدها في المسجد بخير له منها فى الجنة ہاں۔ پھر عثمان بن عفان نے کہا۔ میں تم کو قسم دلاتا ہوں اللہ کی فاشتريتها من صلب مالی، فانتم اليوم تمنعوني اور اسلام کی۔ کیا تم جانتے ہو کہ مسجد نبوی تنگ پڑ گئی تو رسول اللہ ان اصلی فيها ركعتين - فقالوا اللهم نعم ۔ قال الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون فلاں زمین کو خرید کر مسجد میں اکبر، اشهد و ا رب الكعبة انی شهید، ثلاثا۔ اضافہ کر تا ہے۔ جنت میں اس کو اس سے بہتر ملے گا۔ میں نے اس (ترندی - نسائی، دار قطنی) کو اپنے مال سے خریدا۔ اور تم مجھ کو اس میں دو رکعت نماز پڑھنے سے لوگوں نے کہا خدایا ہاں ۔ عثمان بن عفان نے کہا رب کعبہ کی قسم، تم لوگ گواہ رہو کہ میں شہید ہوں ان سب کے باوجود لوگوں نے حضرت عثمان کو قتل کر دیا۔ اور قتل کرنے والے اور ان کا ساتھ دینے والے سب کے سب نماز روزہ والے تھے۔ اور اپنے کو مکمل معنوں میں مسلمان سمجھتے تھے۔
خلیفہ سوم کے خلاف اتنا بڑا ہنگامہ کھڑا ہونے کی وجہ کیا تھی جس سے بالآخران کی جان لے لی۔ مورخین کے بیان کے مطابق یہ ایک چھوٹا سا واقعہ تھا۔ حضرت عثمان کی خلافت کے بارے میں بعض وجوہ سے عوام میں ناراضگی پائی جاتی تھی۔ اسی بیچ میں یہ واقعہ ہوا کہ مصر کے عامل عبد اللہ بن ابی سرح کی زیادتیوں سے اہل مصر کو شکایت ہوئی۔ لوگ مدینہ آئے اور مطالبہ کیا کہ اس کو معزول کیا جائے۔ حضرت عثمان نے حضرت علی منہ کے مشورہ سے عبد اللہ بن ابی سرح کو معزول کر دیا۔ اور محمد بن عبد الرحمن بن ابی بکر رض کے لئے مصر کی امارت کا فرمان لکھ دیا۔ مصری اس فرمان کو لے کر اپنے ملک کی طرف ان کے ساتھ محمد بن عبد الرحمن بھی تھے۔ راستہ میں انھوں نے دیکھا کہ حضرت عثمان کا غلام خلیفہ کے اونٹ پر سوار ہو کر تیزی سے مصر کی طرف جا رہا ہے ۔ دریافت کرنے پر اس نے بتایا کہ وہ خلیفہ کی طرف سے ایک خط لے کر مصر کے حاکم (عبد اللہ بن ابی سرح) کے پاس جا رہا ہے۔ انھوں نے زیر دستی کر کے غلام سے خط چھین لیا۔ میں لکھا تھا کہ محمد اور انکے ساتھی مصر پہنچیں تو ان کو قتل کر دیا جائے اور نا حکم ثانی عبد اللہ بن ابی سرح مصر کا حاکم رہے۔ یہ خط حضرت عثمان کے چچازاد بھائی مروان بن حکم نے لکھا تھا اور خلافت کی مہر لگا کر اس کو غلام کی معرفت مصر روانہ کر دیا تھا۔ مگر مصریوں نے اس کو خود خلیفہ سوم کی جانب سے سمجھا اور یہ رائے قائم کی کہ ان کے ساتھ غداری کی گئی ہے کہ ایک طرف تو عبد اللہ بن ابی سرح کی معزولی کا حکم نامہ ہم کو دیا گیا اور دوسری طرف عبد اللہ کو خفیہ خطر وا نہ کر دیا گیا کہ ان سب لوگوں کو قتل کر دو اور تم اپنے عہدہ پر بحال رہو۔ چنانچہ وہ راستہ سے لوٹ آئے اور اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ دوبارہ مدینہ میں داخل ہو گئے۔ ان کا رد عمل اتنا شدید تھا کہ کسی کے سمجھانے بجھانے سے کم نہ ہو سکتا تھا۔ انھوں نے حضرت عثمان کے مکان کو گھیر لیا اور بالآخر انھیں قتل کر ڈالا۔ اس لئے قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ جب کوئی خبر ملے تو اس پر کارروائی کرنے سے پہلے خوب تحقیق کر لو :
اے ایمان والو! کوئی شریر آدمی تمھارے پاس خبر لائے یا ایہا الذین آمنوا ان جاءکم فاسق بنبا فتبینوا تو خوب تحقیق کرو۔ ایسا نہ ہو کہ تم نادانی سے کسی قوم پر ان تصیبوا قوما بجہالة فتصبحوا علی ما جا پڑو پھر تم کو اپنے کے پر پچھتا ناپڑے ۔
فعلتم نندمین ( حجرات (۶)
اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ بن ابی محیط کو قبیلہ بنی المصطلق کی زکاۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا، قبیلہ کے لوگ ان کی آمد کو سن کر ان کے استقبال کے لئے نکلے ۔ ولید کی اس قبیلہ سے زمانہ جاہلیت میں کچھ شکایت تھی، وہ سمجھے کہ یہ لوگ میرے قتل کے لئے نکلے ہیں، اس لئے وہ بستی میں داخل ہونے سے پہلے مدینہ واپس آگئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ قبیلہ کے لوگ میرے قتل کے درپے ہو گئے اور زکوۃ دینے سے انکار کر دیا۔ آپ نے ارادہ کیا کہ ان کی سرکوبی کے لئے حضرت خالد کی سرکردگی میں ایک فوجی دستہ روانہ کریں۔ اسی درمیان میں قبیلہ بنی المصطلق کے سردار حارث بن ضرار آگئے جو ام المومنین جویریہ کے والد بھی تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ہم نے زکوٰۃ جمع کر رکھی تھی مگر ولید بن عقبہ ہمارے یہاں پہنچے ہی نہیں۔ ہم تو اسلام پر قائم ہیں اور اللہ کے حقوق ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ (ابن کثیر) اس حکم دیا گیا کہ جب کسی کے متعلق کوئی خبر ملے تو کارروائی کرنے سے پہلے پوری تحقیق کر لو۔ ایسا نہ ہو کہ خبر غلط ہو اور اس کی بنا پر تم غلط اقدام کر بیٹھو۔