Al-Risala · Booklet «Tarikh ka Sabaq», 1978

ایک خاندانی جھگڑا جو پوری تاریخ پر چھا گیا

Booklet «Tarikh ka Sabaq», 1978, pp. 22–25

By Maulana Wahiduddin Khan

جنگ قادسیہ (۱۳ ھ) میں جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی تھیں ۔ ایرانی لشکر سے ان کا ایک مشہور پہلوان گھوڑے پر سوار ہو کر نکلا۔ اسلامی لشکر سے عاصم بن عمر اس کے مقابلہ کے لئے باہر آئے۔ ایک دو وار ہی ہوئے تھے کہ ایرانی شہ سوار بھاگا۔ عاصم بن عمر نے اس کا پیچھا کیا وہ اپنے لشکر کی صف اول کے قریب تک جا چکا تھا کہ عاصم بن عمر پہنچ گئے۔ انھوں نے اس کے گھوڑے کی دم کو پکڑ کر اس کو روک لیا۔ سوار کو اس کے اوپر سے اٹھایا اور زبردستی اپنے گھوڑے پر اپنے آگے بٹھا لیا اور اس کے بعد گھوڑا دوڑاتے ہوئے اپنے لشکر میں آگئے۔ اس قسم کے بہادر لوگ صفین و جمل (۳۶ ھ) کی باہمی لڑائیوں میں ۹۰ ہزار کی تعداد میں کٹ گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر خلافت راشدہ کے آخر میں آپس کی لڑائیاں شروع نہ ہوگئی ہوتیں تو طاقت و قوت کا بے پناہ سیلاب جو عرب سے اٹھا تھا، ایشیا، افریقہ اور یورپ کے تمام علاقوں کو توحید کا علاقہ بنا دیتا۔ صرف آسٹریلیا اور امریکہ ہی ممکن طور پر اس سے مستثنیٰ رہ جاتے جو وسیع سمندروں کے دوسری طرف قدیم زمانہ میں ناقابل عبور تھے ۔

وہ کیا چیز تھی جس نے اس سیلاب کے رخ کو باہر کے بجائے خود اپنی طرف موڑ دیا۔ یہ کہنا بڑی حد تک صحیح ہوگا کہ یہ ایک خاندانی جھگڑا تھا جس نے بڑھ کر قومی جھگڑے کی شکل اختیار کر لی اور بالآخر ساری اسلامی تاریخ پر چھا گیا۔ ۷۲۰ء میں سیلِ عرم سے یمن میں عام تباہی آئی۔ یہاں کے باشندوں نے اپنے وطن کو چھوڑ کر دوسرے علاقوں کا ان میں سے قبیلہ خزاعہ مکہ آیا اور حضرت اسمٰعیل (۱۹۳۷ء - ۴۰۴ ق م) کی اولاد کو بے دخل کر کے مکہ پر قابض اس کے بعد مقامی باشندے ادھر ادھر منتشر ہو گئے۔ تقریباً ڈھائی سو سال تک قبیلہ خزاعہ مکہ پر قابض رہا۔ قصی بن کلاب پہلا شخص ہے جس نے قریش کی بکھری ہوئی طاقت کو دوبارہ منظم کیا اور ۴۸۰ء میں لڑ بھڑ کر خزاعہ سے مکہ کی سرداری چھین لی۔

قصی نے خانہ کعبہ کی مرمت کی۔ رفادہ، سقایہ، حجابہ اور قیادت کے عہدے قائم کئے۔ قومی نشان کے طور پر قومی اسمبلی قائم کی جس کو دار الندوہ کہا جاتا تھا۔ اس کے بعد قدرتی طور پر قصی کو تمام قبائل قریش کی سرداری

قصی کے بعد قریش کی سرداری ان کی اولاد میں جاری رہی۔ تاہم تیسری نسل میں قصی کے خاندان میں سرداری پر جھگڑا شروع ہو گیا۔ قصی کا پوتا ہاشم نہایت لائق اور شان دار شخصیت کا آدمی تھا۔ اس نے تجارت کر کے نہ صرف اپنے مال میں اضافہ کیا بلکہ قریش کو بھی بین الاقوامی تاجر کے مقام پر پہنچا دیا۔ اس نے اپنے بھائیوں کی مدد سے شاہ غسان، شاہ حبش، امرار یمن اور عراق و فارس کی حکومتوں سے تجارتی معاہدے کئے اور خصوصی مراعات حاصل کیں وہ قیصر روم سے یہ پروانہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا کہ قریش کا تجارتی مال شام و فلسطین میں بغیر کسی ٹیکس کے

داخل ہوتا ہے۔ اب قریش کے تجارتی قافلے گرمی کے زمانہ میں شام کی طرف جانے لگے، کیونکہ وہ ٹھنڈا اور شاداب علاقہ تھا اور جاڑے میں یمن کی طرف سفر کرنے لگے جو گرم علاقہ ہے۔ (قریش - (۴) ہاشم کے حسن تدبیر سے قریش کی اقتصادیات نے بہت تیزی سے ترقی کی اور نتیجہ رائے سے قبیلہ میں ان کی عظمت قائم ہو گئی ۔ ہاشم کی اس عزت و ترقی نے خاندان کی دوسری شاخ کے اندر ان کے خلاف منافسفت پیدا کردی۔ بھائی عبد شمس اور ان سے زیادہ ان کے بیٹے امیہ کو ہاشم کی سرداری نا پسند تھی ۔ امیہ نے اس کو اپنے چچا سے چھینے کی بہت کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکے حتیٰ کہ اسی رنج و غم میں وہ ایک بار مکہ چھوڑ کر شام چلے گئے اور دس سال تک وہال پڑے رہے۔

ہاشم کے بعد دوبارہ ان کے بیٹے عبد المطلب اپنی وجاہت وصلاحیت کی بنا پر قریش کے سردار ہو گئے اور امیہ کی اولاد اس سے محروم رہی۔ اس طرح سرداری قصی کی ہاشمی شاخ میں چلتی رہی اور اس کی اموی شاخ کو حاصل نہ ہوسکی ۔ ھ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار اصحاب کے ساتھ فتح مکہ کے لئے روانہ ہوئے تو آپ نے ایک موقع پر اپنے چچا عباسؓ سے کہا کہ ابو سفیان کو لے کر راستہ میں کسی گھاٹی پر بیٹھے جائیں تا کہ ابو سفیان ، جو ید کے بعد قریش کے سب سے بڑے لیڈر تھے، اسلامی فوج کو گزرتے ہوئے دیکھیں۔ حضرت عباس نے ایسا ہی کیا۔ ابو سفیان کو لے کر ایک تنگ پہاڑی راستہ کی طرف گئے اور وہاں بیٹھنے کے لئے کہا تو ابو سفیان کو اندیشہ ہوا۔ ان کی زبان سے بے ساختہ نکلا :

غدر ا یا بنی هاشم بنی ہاشم ! کیا غداری کا ارادہ ہے۔

اس کے بعد جب دس ہزار کی تعداد میں مسلح فوج سامنے سے گزری ، تو ابو سفیان پر ہیبت طاری ہو گئی۔ انھوں نے کہا: لقد اصبح ملک ابن اخیک الغذ اة عظیما تمھارے بھتیجے کی حکومت آج بہت عظیم ہو گئی ۔

خاندان عبد مناف کی ان دو شاخوں میں یہ چقش اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ زمانہ جاہلیت میں یمن کا ایک شخص کچھ سودا لے کر مکہ آیا ۔ ایک شخص نے اس کا سودا خریدنے کے لئے لیا اور پھر اس کو نہ قیمت دی اور نہ سودا واپس کیا وہ ایک ٹیلہ پر چڑھ کر چیخنے لگا۔ یہ واقعہ عرب آن کے انتہائی خلاف تھا، چنانچہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ اس کی مدد کے لئے اٹھے۔ انھوں نے آپس میں عہد کیا کہ مکہ میں اگر کسی مسافر اور اجنبی کو ستایا گیا تو وہ اس کی پوری حمایت کریں گے۔ بنو ہاشم کے ساتھ اس معاہدہ میں بنو اسد، بنو زہرہ، بنو تمیم بھی شریک ہوگئے۔ مگر عبد شمس کا خاندان بنو ہاشم کے خلاف اپنی جلن کی وجہ سے معاہدہ میں شریک نہیں ہوا۔

اس طرح کے واقعات جو تاریخ کی کتابوں میں ملتے ہیں، وہ بنو امیہ اور بنو ہاشم کے درمیان اسی خاندانی کشمکش کے مظاہر ہیں۔

قصی بن کلاب کے خاندان کی دو شاخوں میں سرداری کی منافسفت جاری رہی، اکثر چھوٹے چھوٹے جھگڑے بھی یہاں تک کہ ہاشم کے خاندان میں پیغمبر پیدا ہو گئے ۔ اب اموی خاندان کی جلن اپنے شباب پر پہنچ گئی ۔

پہلے انہوں نے نبوت کی مخالفت کرکے بنی ہاشم کو زیر کرنا چاہا۔ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام مخالفین کو شکست دے کر مکہ پر قبضہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو ظاہر ہو گیا کہ نبوت کی مخالفت کرنا فضول ہے۔ ان کے لڑکے معاویہ اور دوسرے امویوں نے اسلام قبول کر لیا۔ تاہم یہ احساس لوگوں کے اندر باقی رہا کہ نبوت کے بعد سیاسی اقتدار بنی ہاشم کے ہاتھ میں نہ جانے دیں گے۔

حضرت عمرؓ اپنے بعد علیؓ بن ابی طالب کو خلافت کے لئے موزوں ترین شخص سمجھتے تھے۔ مگر غالباً اسی اندیشہ کی بنا پر وہ آنجناب کو نامزد نہ کرسکے۔ حضرت عثمان جو خاندان امیہ کی ایک شاخ سے تعلق رکھتے تھے، ان کی شہادت کے بعد جب حضرت علیؓ کو خلیفہ بنایا گیا تو بنوامیہ کے لئے یہ بالکل ناقابل برداشت تھا۔ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد قصاص کے مسئلہ نے ان کو فوری طور پر ایک کامیاب سیاسی حربہ دے دیا ۔ اس جذباتی نعرہ پر انہوں نے مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد کو اپنے پتہ گرد اکٹھا کیا۔ اگر چہ وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے کہ خلیفہ چہارم کو منصب خلافت سے تاہم معاویہ بن ابی سفیان بن حریون امیہ نے اپنی گورنری سے فائدہ اٹھا کر مملکت اسلامی کے نصف سے زیادہ حصہ کو سیاسی طور پر کاٹ لیا۔ حضرت عثمان کی شہادت کے نام پر عوام میں ایسی آگ بھڑ کائی کہ کچھ لوگوں نے مجنونانہ طور پر حضرت علی کو قتل کر دیا۔ جنگ جمل اور جنگ صفین جس میں ۹۰ ہزار مسلمان کٹ گئے اور دس سال کے لئے اسلام کی توسیع کا سیلاب رک گیا ، وہ دراصل امویوں اور ہاشمیوں کی اسی خاندانی لڑائی کا شاخسانہ تھا جس نے پوری ملت مسلمہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

حسن بن علی اس راز کو اچھی طرح سمجھتے تھے یہی وجہ ہے کہ وہ امیر معاویہ کے حق میں خلافت سے دست بردار ہو گئے ۔ انھوں نے اپنے چھوٹے بھائی حسین بن علی کو بھی مشورہ دیا کہ خلافت کے معاملہ سے بالکل الگ ہو جائیں کیونکہ لوگ اس کے لئے تیار نہیں ہیں کہ نبوت اور خلافت دونوں کو علوی خاندان میں جمع ہونا برداشت کر لیں ۔ مگر حضرت حسین کی رائے یعنی کہ حق کے لئے جان دے دینا باطل کے آگے سر جھکانے سے زیادہ بہتر ہے۔ انھوں نے خلافت کی راہ میں اپنی جان دے دی۔ یہ واقعہ سانحہ کربلا ہے۔

اس کے بعد اموی حکومت قائم ہو گئی ۔ مگر بنو امیہ کو بنو ہاشم کے خلاف جو بغض و عناد تھا ، وہ ان کے انتظام ملکی میں ظاہر ہوتا رہا۔ حتیٰ کہ ان کا ذہن یہ بن گیا کہ ہاشم کی اولاد کا خاتمہ کر دو تاکہ مستقبل میں کوئی خلافت کا دعوے دار باقی نہ رہے۔ ان وجوہ سے وہ فضا پیدا نہ ہوسکی جس میں بنو ہاشم اپنی سیاسی حق تلفی کو بھول جاتے۔ اندر اندر ان کے دل میں مخالفت کی آگ سلگتی رہی ۔ یہاں تک کہ ۱۳۲ ھد کے خاتمہ نے یہ دوسرا انقلاب دیکھا کہ بنوعباس نے ایرانیوں کی مدد سے بنوامیہ کا خاتمہ کر دیا۔

بنوامیہ کا فتنہ انتہائی شدید تھا۔ مگر وہ تمام تر سیاسی تھا ۔ اس لئے سیاست کے ساتھ اس کا خاتمہ ہو گیا۔ بنو ہاشم سے یہ جوابی غلطی ہوئی کہ انہوں نے کو اپنا حق ثابت کرنے کے لئے انھوں نے خلافت کو عقیدہ کا مسئلہ بنا دیا۔ اس غلطی نے ایک سیاسی قضیہ کو مذہبی حیثیت دے دی اور اس امکان کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا کہ دوسرے سیاسی

جھگڑوں کی طرح یہ جھگڑا صرف وقتی نقصان پہنچائے اور بعد کی نسلوں کے لئے محض تاریخ کا موضوع بن کر رہ جائے۔ سیاست کو مذہب بنانے کی اس غلطی نے اسلام کو جو نقصانات پہنچائے ان کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ طور پر وضع حدیث کا فتنہ سب سے پہلے اسی محرک کے تحت شروع ہوا۔ بے شمار حدیثیں دونوں طرف سے گھڑی گئیں ایک طرف بنو ہاشم نے حضرت علی کی فضیلت میں یہ حدیث نکالی:

انا مدينۃ العلم وعلى بابها میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں دوسری طرف فریق ثانی نے ایک روایت گھڑی اور کہا کہ پوری حدیث دراصل اس طرح ہے:

انا مدينۃ العلم وابو بكر اساسها وعمر حيطانها وعثمان سقفها وعلى بابها میں علم کا شہر ہوں، ابو بکر اس کی بنیاد ہیں، عمر اس کی دیواریں، عثمان اس کی چھت ہیں، علی اس کا دروازہ ہیں اس قسم کی چیزوں سے اسلام کو جو عملی نقصان پہنچا، اس کی تلافی اب ممکن نہیں۔ تاہم یہ اللہ کا بہت بڑا فضل ہے کہ اس نے اپنی رحمت خاص سے قرآن کو محفوظ کر دیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ان جھگڑوں اور ان کے پیدا کردہ فتنوں میں دین حق گم ہو جاتا اور اللہ کے بندے قیامت تک کے لئے بے آمیز سچائی کو جاننے سے محروم ہو جاتے۔ تاریخ کی تمام کامیابیاں باہمی اتفاق کا نتیجہ ہیں اور تاریخ کی تمام ناکامیاں باہمی اختلاف کا نتیجہ ہیں۔ خواہ ذاتی طور پر نیک اور مخلص کیوں نہ ہوں، ان میں ایک دوسرے سے شکایت پیدا ہونا بالکل ناگزیر ہے۔ نہ کسی وجہ سے، حتی کہ بعض اوقات بلا وجہ بھی، دو افراد یا دو گروہوں میں اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ اس لئے اتحاد کی واحد صورت یہ ہے کہ اختلاف کو برداشت کیا جائے۔ کیونکہ اختلاف سے خالی انسانی معاشرہ اس زمین پر ممکن وہی لوگ کوئی بڑا کام کر سکتے ہیں جو ذاتی اعتبارات پر قومی اعتبارات کو ترجیح دے سکیں ۔ جو اپنے آپ کو اتنا اوپر اٹھا چکے ہوں کہ اختلافی باتوں کو نظر انداز کر کے عملی اتحاد پر قائم رہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے کوئی رکاوٹ، رکاوٹ نہیں بنتی۔ کسی دشمن کی سازش یا عداوت ان کو نقصان پہنچانے والی ثابت نہیں ہوتی۔ ان کا ہر حال میں متحد رہنا ایک ایسی طاقت بن جاتا ہے جو ہر امکانی صورت حال سے نمٹنے کی یقینی ضمانت ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ ذاتی شکایتوں سے اوپر اٹھ کر سوچنا نہ جانتے ہوں، جو ذاتی اختلافات کو اجتماعی مفاد پر قربان نہ کر سکیں، وہ کبھی کوئی بڑا کام نہیں کر سکتے۔ ان کی کوششیں یا تو محدود ہو کر رہ جاتی ہیں یا خود اپنے بھائیوں کو نقصان پہنچانے میں استعمال ہوتی ہیں۔ ایسے لوگ اپنے وسائل اور مواقع کو اپنے اندرونی جھگڑوں میں برباد کرتے رہتے ہیں۔ ان کے اندر ہمیشہ ایسے کمزور گوشے باقی رہتے ہیں جہاں سے ان کا دشمن ان کے اندر گھس آئے اور ان کے بارے میں اپنے خطرناک منصوبوں کو پورا کر سکے۔ یہ اختلافی سیاست اس وقت اور زیادہ مہلک ہو جاتی ہے جب کہ اس کو عقیدہ بنا لیا جائے۔ سیاسی اختلاف کبھی نہ کبھی ختم ہو جاتا ہے۔ مگر جب اس کو اعتقادی اختلاف کا درجہ دے دیا جائے تو اس کے ختم ہونے کی کوئی صورت نہیں۔ یہاں تک کہ خدا خود ظاہر ہو کر فیصلہ فرما دے۔

Printed page