Al-Risala · Booklet «Tarikh ka Sabaq», 1978

اسپین میں کیا ہوا

Booklet «Tarikh ka Sabaq», 1978, pp. 36–30

By Maulana Wahiduddin Khan

سلیمان بن عبد الملک نے تخت خلافت پر بیٹھنے کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ محض ایک ذاتی شکایت کی بنا پر موسی بن نصیر گورنر افریقہ اور اس کے سپہ سالار طارق بن زیاد (فاتح اسپین) کو ان کے عہدوں سے معزول کر کے واپس بلا لیا ۔ اور اول الذکر کو قید اور دوسرے کو نظر بند کر دیا۔ اس کے قدرتی نتیجہ کے طور پر اسپین کی مسلم حکومت اور مرکز خلافت کے درمیان آغاز ہی میں حریفانہ جذبات پیدا ہو گئے۔ میں جب ایک خون آشام انقلاب کے بعد دمشق کی اموی سلطنت ختم ہوئی اور نئے دار الخلافت بغداد میں عباسی خلافت قائم ہوئی تو اموی خاندان کا ایک لٹا ہوا شہزادہ عبد الرحمن الداخل اسپین پہنچا اور وہاں کے حالات سے فائدہ اٹھا کر اسپین میں اپنی حکومت قائم کر لی۔ بنوامیہ کے ایک فرد کی یہ کامیابی عباسیوں کے لیے ناقابل برداشت تھی۔ اس طرح اسپین اور مرکز خلافت کے درمیان رقابت کی ایک اور وجہ پیدا ہو گئی اور نتیجہ باہمی آویزش کا وہ لامتناہی سلسلہ چلا جو صرف اس وقت ختم ہوا جب اسپین میں خود مسلم سلطنت ختم ہو گئی۔

مرکز خلافت اور اسپین کی یہ رقابت یہاں تک بڑھی کہ جس خلافت نے طارق بن زیاد کو گھاری کمک دے کر اسپین کی مہم پر بھیجا تھا اسی خلافت نے فرانس کے بادشاہ شارلمین کو اکسایا کہ وہ اسپین پر حملہ کرے نتیجہ یہ ہوا کہ اسپین میں ایک عام خانہ جنگی اور بغاوت کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ ہر علاقہ کا گورنر خود مختاری کا خواب دیکھنے لگا۔ امیر قرطبہ کے رشتہ داروں نے اس نازک وقت کو اسپین کے تاج و تخت کے لیے سازش کرنے کا سنہری موقع سمجھا۔ مقامی عیسائیوں کو شہ ملی کہ وہ باغی مسلمانوں کو ساتھ لے کر ہر جگہ شورش پیدا اسپین کی اموی خلافت کے بعد اسپین کا ملک چھوٹی چھوٹی مسلم ریاستوں میں تقسیم ہو گیا جنہوں نے قرطبہ، اشبیلیہ ، غرناطہ، بلنسیہ، طلیطلہ۔ مالقہ وغیرہ شہروں کو اپنا اپنا پدار الحکومت بنا لیا۔ طارق بن زیاد ۹۲ ھ (۷۱۱ء) میں اسپین میرا داخل ہوا تھا اور ۷۹۰ ھ (۹۹۲ء) میں اسپین سے مسلم

اقتدار کا خاتمہ ہوا۔ آٹھ سو برس کی اس طویل مدت کا کوئی دن ایسا نہیں گزرا جو بغاوتوں اور شورشوں سے یہ حقیقت ہے کہ اسپین کو اکثر بہت لائق مسلم حکمراں ملے، عدل وانصاف کے اعتبار سے بھی اور تمدن و سیاست کے اعتبار سے بھی۔ اور بلا شبہ انھوں نے مشکل حالات کے باوجود تمدن اور سیاست دانی کے اعتبار سے اسپین میں ایک عظیم تاریخ بنائی، مگر اندرونی حالات اور مرکز خلافت کی شہ کی بنا پر ملک کی عیسائی رعایا مسلسل بغاوتوں پر مائل رہتی تھی جس کی وجہ سے وہ ماحول نہ بن سکا جس میں اس اہم ترین کام کی بنیاد پڑتی، جس کے لیے اسلام نے کشور کشائی اور جہاں بانی کے میدان میں قدم رکھا تھا، یعنی اشاعت دین کا کام۔ اور اطراف عرب کے اکثر ممالک جنسی مدت میں مکمل طور پر اسلامی آبادی کے ملک بن گئے اس سے بہت زیادہ مدت پانے کے باوجود اسپین اسلامی آبادی کا ملک نہ بن سکا۔

اسپین میں مسلم حکومت کی مثال تقریباً ویسی ہی ہے جیسے آزادی سے قبل ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت کی مثال۔ انگریزوں نے ہندوستان میں اپنے سو سالہ دور حکومت میں ملک کو زبردست تمدنی ترقیات سے مالا مال کیا۔ اگر چہ انھوں نے وہ غلطی نہیں کی جو اسپین کے مسلمانوں نے کی تھی، انھوں نے سارے ملک میں عیسائی مشنریوں کا جال بچھا دیا اور ان کو بے پناہ سہولتیں عطا کیں مگر کسی مذہب میں اتنی طاقت نہ تھی کہ وہ اس ملک کی آبادی کو اپنا ہم عقیدہ بنا لیتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب ہندوستان سے انگریزوں کی ہوا کھڑی تو عالی شان عمارتیں اور بڑے بڑے پل ان کے کام نہ آسکے اور انھیں ہندوستان چھوڑ کر وطن واپس

طارق بن زیاد نے جس اسلامی جذبے کے تحت اسپین کی سرزمین پر قدم رکھا تھا اگر وہ جذبہ جاری رہتا اور وہاں مستحکم حکومت کی روایت قائم ہو سکتی تو اسپین میں مسلمانوں کے سوا کسی کا وجود نہ ہوتا۔ دریا پار کرنے کے بعد اپنی طویل دعا میں اس نے رب لا تذر علی الارض من الکافرین دیار ا کی آیت بطور بد دعا نہیں دہرائی تھی، بلکہ یہ اپنے اس عزم کا اظہار تھا کہ وہ اس ملک کو کفر و شرک سے خالی کر کے اسلام کا گہوارہ بنا دنیا چاہتا ہے۔ مسلم اسپین کی ابتدائی تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائی کثرت سے اسلام قبول کر رہے ہیں۔ مگر چند ہی برس بعد وہاں کی سیاست کا رخ اس طرح بدلا کہ تبلیغ دین کا کام پس پشت پڑ گیا۔ ۱۲۲ ھ میں جب مرکز خلافت میں تبدیلی ہوئی اور بنوامیہ کی جگہ بنو عباس کی سلطنت قائم ہوئی تو اس ذہن کو مزید تقویت ملی۔ کو جتنی دلچسپی تمدن اور علوم وفنون کی ترقی سے تھی اتنی دین کی اشاعت سے نہیں تھی۔ اس طرح بغداد کے اثر سے قرطبہ تمدن اور علوم وفنون کا مرکز تو بن گیا مگر وہ اشاعت دین کا مرکز نہ بن سکا۔ چنانچہ اسپین میں جب حالات بدلے تو وہاں کی مسلم اقلیت پر عیسائی اکثریت آناً فاناً غالب آگئی اور الحمر کا بے مثال محل مسلمانوں کے کچھ کام نہ آسکا۔ چنانچہ عام آبادی میں عیسائیوں کو غلبہ حاصل تھا اس لیے ۹۰۲ھ میں قرطبہ کو زیر کرنے کے بعد جب مسلمانوں کے خلاف دار و گیر شروع ہوئی تو ان کے لیے وہاں بچنے کی

بھی کوئی جگہ نہیں تھی۔ عیسائیوں نے غالب آتے ہی تمام ملک میں اپنی مذہبی عدالتیں قائم کر دیں جن میں ہر روز ہزاروں مسلمان گرفتار کر کے لائے جاتے اور طرح طرح کے جھوٹے الزامات لگا کر آگ میں جلا دیے جاتے ہیں میں ایک عام حکم جاری کیا گیا کہ ہر وہ شخص جو مسلمان ہے وہ دین مسی کی قبول کرلے ورنہ جہاں اس کو پایا جائے گا قتل کر دیا جائے گا۔ کچھ مسلمان جہازوں پر سوار ہو کر افریقہ کے لیے روانہ ہوئے مگر ان کو ساحل افریقہ تک پہنچنے سے پہلے ہی سمندر میں غرق کر دیا گیا۔ آخر کار کوئی ایک بھی توحید پرست سرزمین اسپین میں باقی نہ رہا، عیسائیوں نے سب کو یا تو تلوار کے گھاٹ اتار دیا۔ یا سمندر میں ڈبو دیا۔ یا آگ میں جلا ڈالا۔ خلفائے اربعہ کے بعد اسلامی حکومت بنی امیہ کے ہاتھ میں چلی گئی جن کے بانی امیر معاویہ روفات ۶۰ھ تھے اس سلسلہ حکومت کا پانچواں فرماں روا عبد الملک بن مروان تھا۔ ۸۶ھ میں عبدالملک کا انتقال ہوا ۔ انتقال سے پہلے اس نے اپنے دونوں بیٹوں ولید اور سلیمان کو ولی عہد مقرر کر دیا۔ اس نے تمام صوبوں کے گورنروں اور عاملوں کے نام فرامین جاری کیے کہ عید الفطر کے اجتماع میں یکم شوال ۸۶ھ کو ولید و سلیمان کی ولی عہدی کے لیے بیعت لی جائے۔ چنانچہ تمام ممالک اسلامی میں تاریخ مقررہ پر ان دونوں کی ولی عہدی کے لیے بیعت یہی موقعہ ہے جب کہ مدینہ کے مشہور محدث سعید بن مسیب کو بیعت سے انکار کرنے پر دردرے لگائے گئے۔ عبد الملک بن مروان (۸۶-۲۳ھ) کے انتقال کے بعد جب اس کا بڑا لڑکا ولید تخت پر بیٹھا تو اس نے یہ کوشش شروع کی کہ اپنے بعد تخت کی وراثت اپنے بھائی (سلیمان) کے بجائے اپنے بیٹے (عبدالعزیز) کی طرف منتقل کر دے۔ ولید بن عبدالملک نے پہلے اپنے بھائی سلیمان کو لکھا کہ وہ از خود ولی عہدی سے دست بردار جب سلیمان اس کے لیے تیار نہ ہوا تو اس نے دوسری تدبیر کی۔ اس نے تمام دالیان ملک اور ممتاز افراد کو اپنے حق میں ہموار کیا اور طے کیا کہ ایک روز کسی خاص اجتماع کے موقع پر تمام ممالک اسلامی میں سلیمان بن عبدالملک کی ولیعہدی کی منسوخی کا اعلان کر دیا جائے اور اس کے بجائے عبدالعزیز بن ولید کیلی پر لوگوں سے بیعت لے لی جائے۔

مگر اس منصوبہ کی تکمیل سے پہلے ۱۵ جمادی الثانی ۹۶ھ (فروری ۷۱۵ ء) میں اس کا انتقال ہو گیا۔ بن عبدالملک کے انتقال کے بعد سلیمان بن عبدالملک تخت نشین ہوا تو قدرتی طور پر وہ ان سرداروں کا دشمن ہو گیا جنھوں نے اس کو تخت سے محروم کرنے کی سازش میں اس کے بھائی ولید کا ساتھ دیا تھا۔ اٹھیں میں سے ایک حجاج بن یوسف تھا جو مشرق کے اسلامی ممالک کا وائسرائے تھا اور مغربی ممالک کا وائسرائے موسیٰ بن حجاج کا صدر مقام عراق تھا اور موسیٰ بن نصیر کا قیروان۔ ان دونوں نے ولید کے منصوبہ کی حمایت کی تھی اس لیے دونوں سلیمان کی نظر میں وہ بدترین دشمن تھے جن سے سب سے پہلے نمٹانے حکمران کے لیے ضروری تھا۔ حجاج سلیمان بن عبدالملک کی تخت نشینی سے آٹھ ماہ پہلے شوال ۹۵ھ میں انتقال کر گیا تھا۔

سلیمان اب حجاج بن یوسف کو نہیں پاسکتا تھا۔ تاہم حجاج کے رشتے دار اس کے انتقامی جذبات کی تسکین کے لیے موجود تھے جن میں سر فہرست حجاج کے ابن عم اور داماد محمد بن قاسم کا نام تھا جس نے سندھ (موجودہ پاکستان) میں غیر معمولی فاتحانہ کارنامے دکھا کر حجاج کی شہرت میں اضافہ کیا تھا۔ محمد بن قاسم نہایت اعلیٰ درجہ کی قابلیت رکھنے والا سپہ سالار تھا۔ ایک مورخ کے الفاظ میں، "اس نے سندھ و ہند کی فتوحات میں ایک طرف اپنے آپ کو رستم و اسکندر سے زیادہ بڑا بہادر ثابت کیا تو دوسری طرف نوشیروان عادل سے بڑھ کر عادل و رعایا پرور ظاہر ہوا" یہ نوجوان فتح مند سردار سندھ و پنجاب میں اتنی تیزی سے گھس رہا تھا اور بستیوں کی بستیاں اس کے اثر سے اس طرح دائرہ اسلام میں داخل ہوتی چلی جارہی تھیں کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ عنقریب سارا علاقہ ایک اسلامی علاقہ بن جائے گا۔ ہندوستان کی مہم پر محمد بن قاسم کو حجاج ہی نے روانہ کیا تھا اس کے لیے حجاج نے کتنا اہتمام کیا تھا اس کا اندازہ چند مثالوں سے ہوگا۔

حجاج نے دیگر تمام ساز و سامان کے علاوہ ۳۰ ہزار دینار خصوصی طور پر محمد بن قاسم کے ہمراہ کیے تھے تاکہ ناگہانی ضرورت کے وقت کام آسکیں (مبینہ معصوم)، کہا جاتا ہے کہ فوج کشی کی اس مہم پر کل ۶ کروڑ درہم صرف

فراہمی سامان کا حجاج کو اس قدر خیال تھا کہ اس نے سوچا کہ محمد بن قاسم کو عربوں کی عادت کی بناء پر کھانے میں سرکہ کی ضرورت ہوگی۔ چنانچہ اس نے بہت سی روئی سرکہ میں تر کر کے خشک کرایا اور اس کو محمد بن قاسم کے پاس روانہ کیا اور لکھا کہ جب سرکہ کھانے کا جی چاہے تو اس کو پانی میں بھگو کر نچوڑ لیا کرنا۔ پانچ منجنیقیں جو بھاری ہونے کی وجہ سے خشکی کے راستے سے روانہ نہ ہوسکتی تھیں، ایک بڑے جہاز پر لاد کر ساحل سندھ کی طرف روانہ کیں۔ منجنیقیں اتنی بڑی تھیں کہ ان میں سے ہر ایک کو جلانے کے پانچ سو آدمیوں کی ضرورت ہوتی تھی۔

اس پوری مہم کے دوران حجاج اور محمد بن قاسم کے درمیان ڈاک کا سلسلہ جاری رہا۔ حجاج بصرہ میں تھا اور محمد بن قاسم سندھ میں۔ مگر انتظام یہ تھا کہ ہر تیسرے روز ایک خط حجاج لکھتا تھا اور اسی طرح محمد بن قاسم بھی ساری مصروفیتوں کے باوجود ہر تیسرے روز حجاج کے نام مفصل حالات تحریر کرتا۔ ڈاک کی روانگی کے لیے ایسے خاص انتظامات کیے گئے تھے کہ اگرچہ دیبل (سندھ) اور بصرہ میں ہزاروں کوس کا فاصلہ تھا مگر برابر ساتویں روز بصرہ سے دیبل اور دیبل سے بصرہ دونوں کے خطوط پہنچ جاتے تھے۔

محمد بن قاسم نے ۹۵ھ میں ملتان فتح کیا۔ اب پورا سندھ اس کے قبضہ میں تھا۔ بحر عرب سے لے کر حدود کشمیر تک تمام راجاؤں اور سرداروں نے اسلام کی عظمت کو تسلیم کر لیا تھا۔ اب اس نے پورے برصغیر میں اسلام کی اشاعت کا منصوبہ بنایا اور قنوج کی طرف کوچ کرنا شروع کیا۔ اس کا خیال تھا کہ قنوج پر قبضہ کرنے کے بعد

بقیہ علاقوں کی فتوحات کا دروازہ کھل جائے گا۔ مگر ۹۲ھ میں سلیمان بن عبد الملک تخت نشین ہوا۔ حجاج کے متعلقین سے حجاج کا بدلہ لینا تھا۔ اس نے ایک طرف حجاج کے بعد یزید بن مہلب کو عراق کا والی مقرر کیا اور ایک خارجی المذہب صالح بن عبد الرحمن کو خراج وصول کرنے کی خدمت سپرد کی۔ یہ دونوں حجاج کے بد ترین دشمن تھے۔ چنانچہ سلیمان کے حکم کے مطابق ان دونوں نے نسل عقیص (خاندان حجاج) کے لوگوں کو طرح طرح سے ماخوذ کر کے قتل کرنا شروع کیا۔

دوسری طرف سلیمان نے محمد بن قاسم کو ولایت سندھ سے معزول کرنے کا حکم جاری کر دیا جس کا قصور اس کے سوا اور کچھ نہ تھا کہ وہ حجاج بن یوسف کا ابن عم اور داماد تھا اور حجاج کا نامور عزیز ہونے کی بنا پر اس کو ہلاک کر کے سلیمان اپنے انتقامی جوش کو ٹھنڈا کر سکتا تھا۔ سلیمان نے محمد بن قاسم کی جگہ یزید بن ابی کبشہ کو سندھ کا حاکم مقرر کیا۔ نیا حاکم دربار خلافت کا حکم لے کر سندھ پہنچا۔ اس نے محمد بن قاسم کو گرفتار کیا اور مجرموں کی طرح اس کو ٹاٹ کے کپڑے پہنائے، ہاتھ پاؤں میں زنجیریں ڈالیں اور معاویہ بن مہلب کی حراست میں عراق روانہ یہ بھی محمد بن قاسم کی سعادت مندی تھی۔ ورنہ سندھ میں وہ اتنا مقبول تھا کہ وہ خلیفہ کے حکم سے بغاوت کر کے خود یزید اور مہلب کو گرفتار کر سکتا تھا۔

فتوح البلدان کے بیان کے مطابق عربی کا مشہور شعراسی وقت محمد بن قاسم کی زبان پر جاری ہوا تھا: اضاعونی وای فتی اضاعوا ليوم كريبة وسداد ثغر لوگوں نے مجھے ضائع کر دیا اور کیسے جوان کو ضائع کیا۔ وہ جو مصیبت کے دن کام آئے اور سر حدوں کو محفوظ رکھے) اس کے بعد محمد بن قاسم کو دمشق لے جایا گیا۔ وہاں سلیمان کے حکم سے وہ واسط کے جیل خانہ میں قید کر دیا گیا۔ اس پر دارو غہ جیل کی حیثیت سے صالح بن عبد الرحمن مسلط تھا جس نے اس کو جیل میں طرح طرح کی تکلیفیں دے کر مار ڈالا۔

ایک مورخ ان واقعات کو بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے:

" اگر ولید بن عبد الملک کی زندگی کچھ روز اور وفا کرتی۔ یا سلیمان ہی عقل وہوش سے کام لے کر محمد بن قاسم کو چھوڑ دیتا تو شاید ایشیا کی تاریخ کچھ اور ہوتی۔

یہی مورخ مزید لکھتا ہے " محمد بن قاسم کے زمانہ میں خلقت خدا کثرت سے اسلام قبول کرتی جارہی تھی۔ دین کی جو کچی اور صحیح کوشش اس نے چند روز میں کر کے دکھادی۔ بعد کی بڑی بڑی سلطنتیں صدیوں میں بھی نہ کر سکیں۔ اس نو عمر سپہ سالار نے چند روز کی حکمرانی میں جو گہرا اثر ڈال دیا تھا۔ ویسا اثر پٹھانوں اور مغلوں کی سلطنتیں پانچ سو برس میں بھی ملک پر نہیں ڈال سکیں۔ سندھ کے علاوہ بقیہ ملک میں آج مسلمان تھوڑے ہیں اور ملک پر کوئی اثر نہیں رکھتے۔ کے سندھ میں سب سے بڑا غلبہ مسلمانوں کو حاصل ہے اور یہ صرف عربوں اور خاصہ محمد بن قاسم کی دین ہے :

Printed page