Al-Risala · Booklet «Tarikh ka Sabaq», 1978

تاتاری فتنہ اختلافی سیاست کا نتیجہ تھا

Booklet «Tarikh ka Sabaq», 1978, pp. 31–43

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلم دنیا پر تاتاریوں کا حملہ ساتویں صدی ہجری کے ربع اول میں ہوا اس وقت بغداد کی سلطنت پر ناصر الدین اللہ کا قبضہ تھا اور خراسان میں خوارزم شاہ حکومت کر رہا تھا۔ دونوں میں سیاسی اختلاف پیدا ہو گیا۔ تاتاریوں کے ہاتھ سے مسلم دنیا کی غارت گری انھیں دو مسلم قائدین کے باہمی اختلاف کے نتیجہ میں وقوع میں آئی۔ خراسان کی سلطنت اگر چہ ایک آزاد سلطنت تھی۔ تاہم وہاں خلیفہ بغداد کا خطبہ پڑھا جاتا تھا۔ خوارزم شاہ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ ناصر الدین اللہ کی مملکت کے ایک سرحدی حصہ (عراق) کو کاٹ کر اپنے علاقہ میں شامل کرلے۔ اس نے اپنے ملک میں ناصر الدین اللہ کا خطبہ موقوف کرا دیا۔ ناصر الدین اللہ اس خبر سے بہت خفا ہوا اور اس کے توڑ کے لئے یہ تدبیر کی کہ لڑاکو تاتاری قبائل کو اکسا کر خوارزم شاہ پر حملہ کرا دیا۔ یہ تدبیر نہ صرف خوارزم شاہ بلکہ پوری مسلم دنیا کے لئے ایک عذاب ثابت ہوئی۔ تاتاری جب خوارزم شاہ کو مغلوب کر چکے تو انھوں نے ناصر الدین اللہ کی سلطنت پر حملہ کر دیا اور بالآخر دونوں کو برباد کر ڈالا۔

خوارزم شاہ کو ۲۱ سال حکومت کرنے کا موقع ملا اور ناصر الدین اللہ کو ۴۷ سال۔ اس کے بعد دونوں میں سے ہر ایک اسی قبر میں لیٹ گیا جس میں وہ اپنے بھائی کو لٹانا چاہتا تھا۔ تاریخ کا یہ سبق بھی کتنا عبرت انگیز ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ کوئی اس سے سبق نہیں لیتا۔ ہر شخص جس کو موقع ملتا ہے۔ پہلی فرصت میں اسی تاریخ کو دہراتا ہے جو خوارزم شاہ اور ناصر الدین اللہ کے واقعہ کی شکل میں ہمیشہ کے لئے ناکام ہو چکی ہے اور آخرت میں ناکام تر شکل میں سامنے آنے والی ہے۔ ۱۰۹۵ سے لے کر اے ۱۲۶ تک یورپ کی مسیحی قوموں نے بلاد اسلامیہ پر آٹھ زبردست حملے کئے یہ حملے مغربی سمت سے ہوتے تھے اور ان کا مقصد "مقدس مقامات کو عیسائی قبضہ میں لینا تھا۔ مگر دو سو سالہ جنگ اس طرح ختم ہوئی کہ بالآخر یہ دشمن مسلمانوں ہی کے قبضہ میں رہا۔ اسی زمانہ میں ۱۲۲۰ء میں تاتاریوں (مغلوں) نے بلاد اسلامیہ پر حملہ کیا اور اس حد تک کامیاب ہوئے کہ سارے عالم اسلام کو زیر و زبر کر ڈالا۔ وہ چین کے شمالی پہاڑوں سے چنگیز خاں کی زیر قیادت نکلے اور ترکستان، ما وراء النہر، خراسان، آذربائیجان، اصفهان، افغانستان، فارس ، عراق، شام، ایشیائے کوچک، روس، آسٹریلیا تک تمام ملکوں کو لوٹ مار اور قتل و غارت کا قبرستان بنا دیا۔ مورخ ابن اثیر جو اس زمانہ کا عینی شاہد ہے، اس زمانہ کے واقعات بیان کرنے بیٹھتا ہے تو اس کے قلم سے یہ الفاظ نکل جاتے ہیں: فمن الذي يسهل عليه ان يكتب نعی الاسلام کون ہے جس کے لئے آسان ہو کہ اسلام اور مسلمانوں کی ہلاکت ومن الذی یهون ذکر ذلک ؟ کی داستان لکھے۔ اور کون ہے جس کے لئے اس کا ذکر آسان ہو۔ فياليت اومی لم تلدنی ویالیت مت قبل هذا وكنت کاش میری ماں نے مجھے نہ جنا ہوتا اور کاش میں اس سے نسيا منسيا.. پہلے مر گیا ہوتا اور ختم ہو گیا ہوتا۔ اگر کوئی کہے کہ جب آدم : فلو قال قائل ان العالم منذ خلق الله سبحانه پیدا کئے گئے، اس وقت سے لے کر اب تک ایسا حادثہ

و تعالیٰ آدم الی الان - ای الی عھد ابن الاثیر ۔ بمثلھا کان صادقاً .. اور اس کے مصداق بن کر یوں سامنے آئے جیسے کوئی انسانیت پر نہیں کیا تو یقیناً وہ سچا ہوگا ۔ یکم کی اس الہر کے کھ رکھ سکے کتار کا ٹاٹکانا بشالکا اڑا کر دیا سلطان صلاح الدین ایوبی (۵۹۳۔ ۱۱۱۳ء) کی وفات کے ۲۰ سال سے بھی کم عرصہ میں اتنا بڑا حادثہ عالم اسلام پر کیوں پیش آیا۔ کچھ لوگ اس سلسلہ میں تاتاریوں کی سفاکی کا حوالہ دینا کافی سمجھتے ہیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ حکمراں قومیں ہمیشہ سفاک دشمنوں کے نرغہ میں رہتی ہیں۔ کوئی نہ کوئی "تاتار" مسلمانوں کے لئے ہمیشہ موجود رہا ہے۔ پھر اس کو تیرہویں صدی عیسوی کے آغاز ہی میں یہ شان دار کامیابی کیسے حاصل ہوئی۔ حالاں کہ یہ وہ وقت تھا جب کہ اسلامی سلطنت کی وسعت، اس کی مسلسل فتوحات، اس کی حربی اور تمدنی ترقیاں اور اس کے مقابلہ میں یورپی قوموں کی عبرت ناک پسپائی نے اتنی دھاک بٹھا دی تھی کہ کوئی سیاسی حوصلہ مند سلطنت اسلامی کی طرف رخ کرنے کی جرأت مشکل ہی سے کر سکتا تھا۔ تاتاری حملہ کا واقعہ ولی عیلیفہ ناصر الدین اللہ (۵۲۲ - ۵۵۳ ھ) کے زمانہ میں ہوا۔ مشہور مورخ ابن اثیر اس خلیفہ کا ہم عصر تھا۔ وہ تاتاریوں کی خوں ریزی بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے : وكانوا كلما مروا بمدينة أو قرية وضعوا السيف على أهلها دون تفرقة بين كبير أو صغير اورجل او امرأة، وعمت بلاد المشرق جرائهم وفضائعهم جب وہ کسی شہر یا گاؤں سے گزرتے تو اس کے باشندوں پر اپنی تیغ بے نیام کر دیتے اور بڑے چھوٹے، عورت ، مرد سب کو قتل کر ڈالتے۔ مشرق کے تمام علاقے ان کے جرائم سے بھر گئے۔

ابنِ اثیر نے (۲۴۱-۶۱۲ھ) کے حوادث کے ذیل میں لکھا ہے : ان سبب خروج التارالى الديار الاسلامية هو تصرف خوارزم شاه السيتي بقتل جماعة من التّار جادوا إلى بلاده للتجارة ونهب اموالهم بلاد اسلامیہ پر تاتاریوں کی یورش کی وجہ خوارزم شاہ کی یہ بیہودہ حرکت تھی کہ اس نے تاتاریوں کی جماعت کو قتل کر دیا اور ان کے اموال کو چھین لیا جو کہ اس کے ملک میں تجارت کی غرض سے آئے تھے۔

یہی قصہ مختلف شکلوں میں مشہور ہوا ہے تا تاری فتنے کی ذمہ داری خوارزم شاہ (م ۵۶۱ھ) پر ڈالی مگر تاریخ کے گہرے مطالعے سے یہ بات صحیح نظر نہیں آتی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ خود مورخ ابن اثیر نے دوسرے ہے، فرمائیں گے ہر وقت سامنے یہ بات ہے سر راہ ہی، موقع پر ایک اور بات لکھی ہے :

وقيل في سبب خروجهم الى بلاد الاسلام غير ذلك مما لا يذكر في بطون الدفاتر:

فكان ما كان مما لست اذكره فظن خيرا ولا تسال عن السبب مہلک کی بنیاد ہے، اس پر اور کچھ مزید گفتگو ہوگی۔ تاز تاریپوں کی یورش کا اس کے سوا دوسرا سبب بھی بیان کیا گیا ہے جس کو لکھا نہیں جاسکتا، جو معاہدہ ہوا ۔ اب میں اس کو بیان نہیں کروں گا۔ تم اچھا گمان کر لواور سبب مت پوچھو۔ الکامل ، ج ۹، صفحہ ۳۳۱ اس کے بعد میں صاحب حقہ یہ کہ جو اس بارے میں نگ - تاریخ ابن اثیر کے اس بیان سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ وہ سیاسی اسباب سے اصل حقیقت کو چھپا رہا ہے، مگر یہ تاریخ

کی خوش قسمتی تھی کہ ابن اثیر کی زندگی ہی میں وہ سیاسی رکاوٹ ختم ہو گئی اور بعد کے "دفتر" میں وہ اس کو درج کرنے کے لئے زندہ رہا۔ تاتاری حملہ ۶۱۷ھ میں ہوا اور خلیفہ ناصر لدین اللہ کا انتقال ۶۲۲ھ میں ۔ ابن اثیر نے مذکورہ بالا حملے ، ۶۱۷ھ کے حوادث کے ذیل میں لکھے تھے ۔ ناصر لدین اللہ کے انتقال کے بعد جب وہ ۶۲۲ھ کے حوادث کے ذیل میں خلیفہ کے حالات لکھنے بیٹھا تو اس نے اپنی تاریخی کتاب میں حسب ذیل الفاظ ثبت کئے : فصیلہ کے حالات کے دیکھا واسطے اپنی ماریسی صاحب میں ان كان سبب ما ينسيه العجم اليه صحيحا من انه هو الذي اطمع التتار فى البلاد وارسلهم في ذلك فهو الطامة الكبرى التي يصغر عندها كل ذنب عظيم استفاوی واقندار منگان کتاب الرویات الحرایندھقت اگر وہ سبب صحیح ہو جو عجبی لوگ ناصر لدین اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں یعنی وہی تھا جس نے تاتاریوں کو حملہ پر اکسایا اور اس سلسلہ میں ان کے پاس پیغام بھیجا تو وہ ایسی قیامت تھی جس کے آگے ہر بڑا گناہ ہیچ ہے ۔ المختار) اس میں موقع جو ہے ذیل تعلق رکھتا ہے ۔ استافا محمد حافظ رمؤلف كتاب (الدولة الخوارزمية والمغول) نے اس موقع پر حسبِ ذیل تعلیق لﯽ ہے: والظاهر أن ابن الأثير وهو من المعاصرين للغزو المغولى والخليفة الناصر لدين الله لم يجترؤ على المجاهرة باستدعاء الخليفة للمغول ، ولم ينقل ذلك بصراحة ووضوح الاعند ماتوفى الخليفة ذكر هذه الحقيقة في جلاء وجرأة اس کا ظاہر مفہوم یہ ہے کہ ابن اثیر، جو کہ مغلوں کے حملہ اور خلیفہ ناصر لدین اللہ کے ہم زمانہ ہیں۔ خلیفہ کی وفات سے پہلے صراحتاً اس کو کہنے کی جُرأت نہ کر سکے تھے کہ مغلوں کو بلانے والا خود خلیفہ ناصر لدین اللہ تھا۔ حقیقت کو انھوں نے خلیفہ کی وفات کے بعد جُرأت اور وضاحت سے بیان کیا ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں ابن اثیر کے قول کو نقل کیا ہے اور اس پر کوئی جرح و تعدیل نہیں کی (جلد ۱۳، صفحہ ۷، ۱۰) ابو الفداء نے اپنی تاریخ میں اس کی تائید کی ہے اور لکھا ہے : وقد نسب الی الامام الناصر انہ ھو الذی کتب التتار واطمعہم فی البلاد ليشغل خوارزم شاه من قصد العراق ج ۳ صفحه ۱۳۶ خلیفہ ناصر لدین اللہ کی طرف یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ وہی ہے جس نے تاتاریوں کو لکھا اور ان کو حملہ کرنے کے لئے اکسایا تا کہ خوارزم شاہ اس کے مقابلہ میں مشغول ہو جائے اور عراق کا قصد نہ کرے خلیفہ ناصر لدین اللہ کی وفات کے تذکرے میں لکھتا ہے وفی خلافته حرب التتار بلاد المشرق حتى وصلوا الی همدان ، وكان هو السبب في ذلك خانه كتب الیہم بالعبور الى البلاد خوفا من السلطان علاء الدين محمد بن خوارزم شاہ، لما هم بالاستیلاء على بغداد ناصرلدین اللہ کی خلافت کے زمانہ میں تاتاریوں نے بلاد اسلامیہ کے مشرقی علاقہ میں غارت گری کی یہاں تک کہ ہمدان تک پہنچ گئے ، اس کا سبب خود یہی خلیفہ تھا، اس نے تاتاریوں کو لکھا کہ وہ بلاد اسلامیہ میں گھس آئیں ۔

وان يجعلها دار مملکته کما کانت السلجوقیة اس نے سلطان علاء الدین محمد بن خوارزم شاہ کے خون سے کیا تھا، کیونکہ وہ بغداد پر قبضہ کا ارادہ کر رہا تھا اور چاہتا تھا کہ اس کو اپنا دارالحکومت بنائے ۔

خلیفہ ناصر لدین اللہ نے تقریباً بہتر برس کی عمر پائی ۔ وہ ۵۷۵ھ میں تخت پر بیٹھا اور ۴۶ سال تک حکمراں رہا آخر عمر میں اس کو شدید قسم کی ہیضش ہوگئی ۔ اس کی بصارت جاتی رہی اور وہ اندھا ہوگیا اور اسی حال میں رمضان ۶۲۲ (۱۲۲۵ء) کی آخری رات کو مرگیا ۔ تاتاری اپنے اس خروج میں پہلے خوارزم شاہ پر حملہ آور ہوئے اور خراسان اور بلاد جبل کو اس کے قبضہ سے چھین لیا ۔ اس کے بعد چنگیز خاں (۶۱۲-۶۶۲ء) کی قیادت میں ارانیہ اور شروان پر قابض ہوگئے ۔ خوارزم شاہ تاتاریوں سے شکست کھا کر طبرستان کے کسی مقام میں چلا گیا اور ۲۱ سالہ حکومت کے بعد ۷۶۱ھ میں فوت ہوگیا ۔ تاتاریوں کا ایک گروہ غزنی، سجستان، کرمان وغیرہ کی طرف نکل گیا ۔ خوارزم شاہ کو شکست دینے کے بعد تاتاریوں نے اس کے بیٹے جلال الدین بن خوارزم شاہ کو غزنی میں شکست دی ۔ چنگیز خاں اس کا تعاقب کرتے ہوئے دریائے سندھ تک چلا گیا۔ جلال الدین دریا ئے سندھ کو عبور کر کے ہندوستان میں داخل ہوگیا۔ چند روز ہندوستان میں رہ کر ۶۲۲ھ میں خوزستان اور عراق کی طرف چلا گیا اور آذر بائیجان اور آرمینیا پر قابض ہوگیا ۔ یہاں تک کہ مظفر کے ہاتھ سے قتل ہوا۔ اس کے بعد تاتاریوں کا ٹڈی دل ناصر لدین اللہ کی مملکت کی طرف بڑھا اور سارے عالم اسلام کو قتل و غارت گری کا قبرستان بنا ڈالا ۔

ناصر لدین اللہ نے خوارزم شاہ کو نیچا دکھانے کے لیے جو تدبیر کی ، وہ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری پہلی جنگ عظیم کے زمانہ میں عربوں نے ترک خلافت کا جو، اپنے سر سے اتار پھینکنے کے لیے انگریزوں کا بنگلہ دیش نے پاکستانی غلبہ کے خلاف اپنی لڑائی میں ایک خارجی ملک کو بہترین مددگار پایا (۱۹۷۰ء) افغانستان میں سردار داؤد خاں کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے وہاں کے لیڈر اشتراکی روس سے مل گئے (۱۹۷۸ء) اس طرح آج بھی اکثر مسلم ممالک کسی نہ کسی تاتاری فتنے“ کی شکار گاہ بنے ہوئے ہیں ۔ اور ان نئے تاتاریوں کو جو لوگ مسلم ممالک میں داخلہ کا راستہ دے رہے ہیں وہ دوبارہ خود مسلمان میں جو اپنے حریف مسلمان کو شکست دینے کے لیے اغیار کو ان کے اوپر چڑھاتے ہیں ، اس سیاست کا نتیجہ دوبارہ اسی بھیانک صورت میں نکل رہا ہے جو بارھویں صدی عیسوی میں ناصر لدین اللہ کے زمانہ میں نکلا تھا۔ اس قسم کی سیاست میں نہ صرف ملت کے بہترین امکانات برباد ہوتے ہیں بلکہ وہ دونوں فریقوں کے لیے یکساں مہلک ہے جو لوگ اپنے مسلمان بھائی کی ضد میں اغیار کو اپنی صفوں میں داخل کرتے ہیں وہ جب آتے ہیں تو صرف ان کے مفروضہ حریف کو ختم نہیں کرتے ۔ بلکہ بیرونی اندازے کی یہ سیاست بالآخر خود ان کے لیے بھی مہلک ثابت ہوتی ہے ۔ رہ خود بھی بہت جلد اسی تخریبی سیاست کا شکار بن جاتے ہیں جس کا شکار وہ اپنے حریف مسلمان کو بنانا چاہتے تھے ۔ بنگلہ دیش کے شیخ مجیب الرحمن کا قتل (۱۹۷۵ء) اور افغانستان کے کرنل عبدالقادر (۱۹۷۸ء) کی تطہیر (purge) اس کی تازہ مثالیں ہیں ۔

Printed page