Al-Risala · Booklet «Tarikh ka Sabaq», 1978

متحدہ محاذ کی سیاست

Booklet «Tarikh ka Sabaq», 1978, pp. 35–42

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ دوسری صدی ہجری کے وسط کا واقعہ ہے۔ لوگ بنی امیہ کے مظالم سے تنگ آچکے تھے اور ہر صبح شام ایک نئی حکومت کے منتظر تھے جس کی ایک روایت کے مطابق آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی فرمائی تھی ۔ دوسری طرف ہاشمی (یا عباسی) خاندان کے کچھ لوگ بنی امیہ کے کھنڈر پر اپنی شاہی عمارت اٹھانے کا خواب دیکھ اس صورت حال نے ایک طرف عوام اور دوسری طرف عباسی حوصلہ مندوں کے لئے ایک مشترک نقطہ بنی امیہ کا خاتمہ۔ اگر چہ مظلوم عوام کے لئے اس کا محرک کچھ اور تھا اور عباسی حوصلہ مندوں کے لئے کچھ اور ۔ اس مشترکہ جدوجہد کے نتیجہ میں ۱۳۲ھ میں خلافت بنو امیہ کا خاتمہ ہو گیا اور سفاح تخت نشین ہوا، جو عباسیوں کا پہلا خلیفہ تھا۔ سفاح کے بعد اس کا بھائی ابو جعفر منصور خلیفہ ہوا۔ ۱۳۶ھ میں اس کے ہاتھ پر بیعت بنو امیہ کے آخری زمانہ میں جو لوگ ان کے خلاف تحریک چلا رہے تھے ان میں محمد بن عبداللہ (نفس ذکیہ) اور ان کے بھائی ابراہیم بن عبداللہ خاص طور پر مشہور ہیں۔ یہ لوگ امام حسن ابن علی کی اولاد سے تھے۔ بنو عباس جو نسلی وجوہ سے اپنے آپ کو خلافت کا مستحق سمجھتے تھے اور اموی سلطنت کو ختم کرنا چاہتے تھے ۔ انہیں مذکورہ بالا دونوں بھائیوں کی خفیہ تحریک کا علم ہوا تو وہ ان سے مل گئے۔ حتیٰ کہ خود المنصور ( جو بعد کو خلیفہ ہوا) نے نفس زکیہ کے ہاتھ پر بیعت کی ۔ اموی سلطنت ختم ہوئی اور عباسی سلطنت اس کی جگہ قائم ہو گئی۔ مگر صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ مظالم اور زیادہ بڑھ گئے، حتیٰ کہ شاعر کو کہنا پڑا:

فبهلاً يا بنى العباس مهلا لقد كويت بغد ركما الصدور اے بنی عباس! اپنا ظلم چھوڑ دو تمھاری غداری سے سینے داغدار ہو چکے ہیں ۔

چنانچہ نفس زکیہ اور ان کے بھائی دونوں روپوش ہوگئے اور جو " انقلابی تحریک" پہلے وہ بنی امیہ کے خلاف چلا رہے تھے اس کو اب بنو عباس کے خلاف چلانے لگے۔ یہاں تک کہ موقع پا کر انھوں نے خروج (سلطنت سے بغاوت) کا اعلان کر دیا اور مدینہ میں اپنی آزاد حکومت قائم کر لی ۔ اس کے بعد ان کا جو انجام ہوا وہ یہ کہ نفس زکیہ ۱۴۵ھ میں مارے گئے اور ان اور ان کا سر منصور کے دربار میں پیش کیا گیا۔ وہی منصور جس نے ان کے ہاتھ پر نو جوانی کی عمر میں بیعت کی تھی ۔ عباسی سلطنت کے قیام سے پہلے نفس زکیہ کی تحریک اور عباسی تحریک دونوں کا مشترک دشمن ایک تھا۔ یعنی بنو امیہ ۔ عباسی تحریک نے بنوامیہ کی تحریک کو ختم کرنے میں کامیابی حاصل کر لی اور عباسی سلطنت قائم ہو گئی تو اب صورت حال بدل گئی ۔ اب عباسی سلطنت کے لئے نفس زکیہ دشمن کی حیثیت رکھتے تھے۔ کیوں کہ وہ موجودہ عباسی سلطنت سے بھی مطمئن نہیں تھے۔ وہی المنصور جو " انقلاب" سے پہلے نفس زکیہ کا حلیف تھا، اب ان کا دشمن بن گیا۔ اس نے ان کی تحریک کو ختم کرنے میں اتنی سرگرمی دکھائی کہ دو مہینے تک لباس نہیں بدلا اور بستر پر نہیں سویا۔ اس کو اس وقت تک چین نہیں آیا جب تک اس نے اس تحریک کو ختم نہ کر لیا۔

تاریخ کا یہ تجربہ ایک ہزار سال پہلے پیش آچکا تھا جو بتا رہا تھا کہ مختلف محرکات رکھنے والے لوگ جب کسی مقصد کے لئے متحدہ محاذ بناتے ہیں تو اس کا فائدہ ہمیشہ اس فریق کو حاصل ہوتا ہے جو زیادہ زور آور اور ہوشیار ہو۔ عجیب بات ہے کہ اس تجربے سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا اور لوگ بار بار اسی ناکام تجربہ کو دہراتے رہے۔ جمال الدین افغانی (۱۸۹۷ء۔ ۱۸۳۸ء) نے مصر میں احیائے ملت کا علم بلند کیا۔ انھوں نے اس مقصد کے لئے قوم پرستوں کی ایک انجمن الحزب الوطنی کے نام سے قائم کی جس کے ممبروں کی تعداد کافی وسیع تھی۔ اس میں شیخ محمد عبدہ، سعد زغلول پاشا، عبداللہ ندیم بے اور احسان بے جیسے ممتاز لوگ شامل تھے، مصر میں جمال الدین افغانی کا اثر ورسوخ اتنا بڑھا کہ وہاں کی با اثر جماعت جمعیت مانوسیہ نے ان کو اپنا صدر نامزد کیا۔ یہاں تک کہ وہ وقت بھی آجا جب جمال الدین افغانی کی انجمن کا ایک خفیہ رکن توفیق پاشا مصر کے تخت حکومت پر تمکن ہو گیا۔ اگر چہ اس کامیابی میں فرانس اور برطانیہ کا زیادہ ہاتھ تھا اس واقعہ کے بعد جمال الدین افغانی اور ان کے قوم پرست، ساتھی بہت خوش ہوئے۔ انھیں نظر آیا کہ ان کی دیرینہ آرزوئیں اور تمنائیں پوری ہو رہی ہیں۔ مگر بہت جلد معلوم ہوا کہ یہ محض سراب تھا۔ توفیق پاشانے تخت پر بیٹھتے ہی جمال الدین افغانی اور ان کے مخصوص خادم ابوتراب کو مصر سے جلاوطنی کا حکم دے دیا۔ توفیق پاشا، سید جمال الدین افغانی کی خفیہ مجلسوں میں شریک ہو چکا تھا، اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ لوگ امپیریلزم کے شدید مخالف چوں کہ توفیق پاشا کا نہیں امپیریلیٹ طاقتوں (فرانس اور برطانیہ) کی حمایت سے کام کرنا تھا، اس لئے اس نے مصر میں ان کی موجودگی کو حکومت کے لئے ایک خطرہ سمجھا۔ اس نے فوج اور پولیس کی کڑی نگرانی میں جمال الدین افغانی اور ان کے خادم کو سوزنہ بھیج دیا اور وہاں انھیں بحر کشتی پر سوار کر کے روانہ کر دیا گیا۔

عجیب بات ہے کہ صرف نصف صدی بعد اسی حصہ میں ٹھیک اسی غلطی کو دوبارہ اس سے زیادہ بری شکل میں ۱۹۵۲ء میں جب مصر میں شاہ فاروق کی حکومت کا تختہ الٹا گیا اور فوجی افسروں نے ملک میں حکومت قائم کرلی تو ایک صاحب مجھ سے ملے۔ "مولانا ..... مصر جانے کا پروگرام بنا رہے ہیں" انھوں نے بہت راز دارانہ انداز

"کیوں خیریت تو ہے"، میں نے پوچھا۔

"یہ جو مصر میں انقلاب ہوا ہے، بظاہر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ فوجی انقلاب ہے، مگر حقیقتاً اخوانی اس انقلاب کے اب مصر میں اخوان المسلمین کی حکومت ہوگی، مولانا اس لئے جانا چاہتے ہیں کہ اس نازک اور تاریخی موقع پر اخوانی لیڈروں کو نصیحت کریں اور اسلامی نظام کی تعمیر کے لئے انھیں مفید مشورے دیں"۔

یہ واقعہ ہے کہ مصر میں جو فوجی افسران انقلاب لائے تھے ان میں ایسے بھی تھے جن کے اخوان المسلمین سے تعلقات وہ اخوانی تحریک کی تائید کرتے تھے۔ حتیٰ کہ خود جمال عبدالناصر کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ اخوانیوں کے اجتماعات میں شریک ہوتے تھے۔ موجودہ صدر سادات کا بیان ہے کہ فوجی افسروں کی انقلابی کونسل نے ان کو مامور کیا تھا کہ وہ اخوانیوں سے رابطہ قائم کریں اور انقلابی جد وجہد کے سلسلہ میں ان کی تائید حاصل کریں۔ چنانچہ جس رات کو شاہ فاروق

کی حکومت کا تختہ الٹا گیا ہے۔ اخوانی رضا کار قاہرہ کی سڑکوں پر پہرہ دینے میں مشغول تھے۔ وہ ان خفیہ باتوں کے بھی راز دار تھے جن میں شاہ فاروق کو تخت سے معزول کرنے کی اسکیم بنائی گئی تھی ۔

" جب اخوان المسین اور فوجی افسروں کے اشتراک سے مصر میں انقلاب آیا تھا تو کیوں ایسا ہوا کہ فوجی افسروں نے بر سر اقتدار آنے کے بعد اخوانیوں کو ختم کر دیا۔ " یہ سوال اکثر لوگوں کو پریشان کرتا ہے ۔ جواب بالکل سادہ ہے ۔ " اشتراک " اسی قسم کی ایک غلطی تھی جس کا نمونہ اوپر کی مثالوں میں آپ دیکھ چکے ہیں ۔

شاہ فاروق کی فوج کے کچھ جو نئیر افسر فاروق کی قبر کے اوپر اپنی حکمرانی کا تختہ بچھانے کا خواب دیکھ رہے تھے ۔ مگر انہیں شبہ تھا کہ وہ تنہا اپنے اس خواب کو عملی شکل دے سکتے ہیں۔ دوسری طرف اخوان المسین مصر میں اسلامی طرز کی حکومت قائم کرنے کے خواہشمند تھے۔ مگر ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ اپنی اس تمنا کو کس طرح واقعۂ بنائیں ۔ دونوں کی راہ کی رکاوٹ بظاہر صرف ایک چیز تھی ، شاہ فاروق کی حکومت ۔ اس صورت حال نے دونوں گروہوں کے لئے ایک مشترک نقطۂ اتحاد فراہم کر دیا۔ باہم ملاقاتیں اور دوستیاں شروع ہو گئیں ۔ خفیہ مجالس میں شاہ کے خلاف اسکیمیں بننے لگیں۔ دونوں خوش ہو گئے کہ مقصد کے حصول کا قریبی موقع ہاتھ آ گیا ہے ۔ مگر جب حکومت بدلی تو فطری طور پر وہ ان لوگوں کے ہاتھ میں چلی گئی جو زیادہ ہوشیار اور عملی طور پر حکومت سے قریب تھے اور اتفاق سے یہ وہی لوگ تھے جن کو اسلامی یگانگت سے زیادہ ذاتی حوصلوں کی تکمیل کے شوق نے فریق ثانی سے قریب کیا تھا۔ کے بعد نہیں محسوس ہوا کہ ان حوصلوں کی تکمیل میں پہلے جہاں شاہ فاروق کی شخصیت حائل تھی وہاں اب یہ " قدیم دوست “، آکر کھڑے ہو گئے ہیں یا کم از کم کھڑے ہو سکتے ہیں ۔ حل بہت آسان تھا ۔ پہلے کے فوجی افسر ملک کے حکمراں بن چکے تھے۔ انھوں نے اپنے قدیم دوستوں کو اس سے بھی زیادہ بے دردی کے ساتھ اپنی راہ سے ہٹا دیا جس کا مظاہرہ انھوں نے شاہ فاروق کی معزولی کے وقت کیا تھا۔

اسی اتحادی سیاست کو مزید بدتر شکل میں پاکستان میں دہرایا گیا ہے ۔ ۱۹۵۱ میں پاکستان میں فوجی انقلاب ہوا اور صدر ایوب کی " ڈکٹیٹر شپ “، ملک میں قائم ہو گئی ۔ یہ صورت حال ملک کے بہت سے لوگوں کے لئے پریشان کن نہ تھی ۔ ان میں ایک طبقہ اسلام پسند ، حضرات کا تھا ، یہ لوگ پاکستان میں اسلامی نظام لانے کے علم بردار تھے اور صدر ایوب اور ان کی " بنیادی جمہوریت "، ان کے نزدیک اس راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ تھی ۔ دوسرا گروہ سیکولر اور سوشلسٹ ذہن رکھنے والوں کا تھا ۔ ان کو بھی یہی محسوس ہو رہا تھا کہ " بنیادی جمہوریت “، کے ہوتے ہوئے وہ ملک کے اقتدار پر قبضہ نہ کر سکیں گے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس کو ختم کیا جائے ۔ دونوں گروہ آخری منزل کے بارے میں ایک دوسرے سے مختلف نقطۂ نظر رکھتے تھے ۔ تاہم دونوں محسوس کرتے تھے کہ " صدر ایوب “ کی ذات دونوں کے لئے یکساں رکاوٹ ہے ۔ اشتراک کی اس منفی بنیاد نے دونوں کو ایک متحدہ سیاسی پلیٹ فارم پر یک جا کر دیا ۔ اور پھر دونوں نے مل کر ملک میں وہ طوفان مچایا کہ خود ملک ڈکٹیٹر ہو کر رہ گیا ۔ یہ متحدہ محاذ جو بڑے وعدوں کے ساتھ بنایا گیا تھا جب اپنے آخری انجام کو پہنچا تو معلوم ہوا کہ اس کا سارا فائدہ سیکولرزم اور سوشلزم کے علم برداروں

کے حصہ میں آئی ہے اور اسلام پسند گروہ کا اس کے سوا کچھ نہیں ملا کہ ساری طاقت خرچ کرکے سیاست کے صحرا میں ملوما مدحودا بنے رہیں ۔

اب اسی نادان سیاست کو ہندوستان کے کچھ مسلم قائدین نے اس ملک میں درآمد کیا ہے۔ سیاست کے نعرے لگارہے ہیں۔ الیکشن کے موقع پر وہ ایک سیاسی پارٹی سے مل کر دوسری پارٹی کو شکست دیتے ہیں۔ مگر قوم کے بے شمار وسائل کو خرچ کرنے کے بعد ان کے حصہ میں جو آخری چیز آئی ہے وہ صرف یہ کہ الیکشن کے بعد جب لوگ اسمبلیوں پر قبضہ کرلیں اور وزارتیں بنالیں تو ہمارے لیڈر اسٹیج پر نمودار ہو کر یا پریس کانفرنس کرکے یہ انکشاف‘‘ کریں کہ جیتنے والوں نے ہم سے فلاں فلاں وعدے کئے تھے جو پورے نہیں کئے گئے۔ ۱۹۷۷ء کے الیکشن میں مہاذاتی سیاست کے رہنماؤں نے دوسری پارٹیوں کے ساتھ مل کر ریاستوں میں حکمران کانگریس کو شکست دی۔ ، ۱۹۷۷ کے الیکشن میں اندرا گاندھی کی شکست کے بعد ایک مسلم رہنما نے کہا " آج ہم نے ظلم کا بیڑا غرق کر دیا ، مگر ان فتوحات کے باوجود اصل صورت حال آج بھی ویسی ہی ہے جیسی کہ وہ پہلے تھی ۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک ہی غلطی کو ہم کب تک دہراتے رہیں گے ۔ اصل سیاست یہ ہے کہ خود اپنے آپ کو طاقتور اور مستحکم بنایا جائے۔ سیاسی اشتراک یا متحدہ محاذ ہمیشہ اس فرقے کے لئے مفید ہوتا ہے جو دوسرے کے مقابلہ میں زیادہ فیصلہ کن پوزیشن کا حامل ہو، اندرونی کمزوری اور انتشار کو درست کرنے سے پہلے متحدہ محاذ کی طرف دوڑنا نادانی کے سوا اور کچھ نہیں ۔

اس سلسلہ میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ جہاں تک جزوی امور میں تعاون کا تعلق ہے ۔ اس قسم کا تعاون ہر ایک سے لیا جا سکتا ہے، حتی کہ کافر و مشرک سے بھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے نازک سفر میں عبداللہ بن اریقط کو رہنما بنایا جو کہ مشرک تھا ۔ صفوان بن امیہ آپ کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک ہوئے، حالاں کہ اس وقت تک وہ مشرک تھے۔ امام زہری نے روایت کیا ہے :

ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم استعان بناس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض یہودیوں سے جنگ کے من اليهود في حربه فاسم هم لہم (رناه سعيد في سننه) موقع پر مدد کی تو ان کے لئے مال غنیمت میں حصہ مقرر کیا۔ مگر یہ جزوی اور انفرادی تعاون کی مثالیں ہیں۔ کلی جدوجہد کے سلسلہ میں کبھی اغیار پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ پر وہ جدوجہد جو " غیر صالح حکمران ‘‘ کو ہٹا کر اس کی جگہ صالح حکمران‘‘ کو لانے کے لئے کی جائے۔ اس قسم کی سیاسی جدوجہد تمام تر جماعت صالحہ کی اپنی طاقت پر ہونا چاہئے ۔ کوئی جماعت صالح اگر اپنے بل پر انقلاب لانے کی پوزیشن میں نہ ہو تو اس کا غیر سیاسی دائرہ عمل میں کام کرنے پر قانع رہنا اس سے بہتر ہے کہ وہ غیر صالح عناصر کو لے کر عملی سیاست کے میدان میں کود پڑے ۔ یہ غیر صالح عناصر اپنے مزاج کی بنا پر ایسا کبھی نہیں کر سکتے کہ " غیر صالح حکمران‘‘ کو بے دخل کرنے کے بعد اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں اور خالی شدہ تخت کو تمام تر جماعت صالحہ کے حوالے کر دیں۔ وہ لازماً یہ چاہیں گے کہ تخت پر خود قبضہ کریں۔ اس وقت " متحدہ محاذ ‘‘ کے اندر باہمی کش کش شروع ہوگی جو یقینی طور پر غیر صالح عناصر کے کے غلبہ پر ختم ہوگی ۔ ساری تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے ۔

جب تعمیری حوصلے سیاسی عزائم میں تبدیل ہو جائیں ابو علی محمد بن علی بن مقلہ ( ۳۲۸ - ۲۷۲ ھ )

دالاسانی کون تھا جو ابن مقلہ کی طرح چینی شہنشاہ ہوئی کا ایک غیر معمولی صلاحیت رکھنے والا فن کار تھا۔ اس نے قدیم وزیر تھا۔ روسی ترکستان میں عربوں اور چینیوں کی جنگ عربی خط (خط کوئی) میں اصلاحات کرکے اس کو حسین اور واضح میں کچھ چینی قیدی جو مسلمانوں کے ہاتھ آئے وہ کاغذ بنانا بنانے میں کامیابی حاصل کی۔ ابتدا میں وہ عباسی حکومت کے جانتے تھے۔ سمر قند میں ان سے کاغذ بنوایا گیا۔ اس کے بعد ۹۵ ۶ ایک دفتر میں چھ دینار ماہوار پر منشی تھا۔ پھر اس کا فنی کمال میں دلی کا کاغذ کی صنعت بغداد میں قائم ہوئی ۔ تاہم مشین کے اس کو خلیفہ کے دربار تک لے گیا۔ یہاں اس نے اتنی مقبولیت ذریعے کا غذ بنانے کا کام پہلی بار ۵۰ ، ۶۱ میں ہالینڈ میں کیا حاصل کی کہ مسلسل تین بادشاہوں کا وزیر بنارہا۔ مسلسل رول کی شکل میں کا غذ بنانے کی صنعت ۹۸ ۱ ، ۶ مقتدر باللہ عباسی ( ۳۲۰ - ۲۸۲) کا ، پھر اس کے بھائی میں فرانس میں شروع ہوئی۔ اسی طرح پرنٹنگ پریس پہلی بار قاہر باللہ ( ۳۲۲ - ) کا، اس کے بعد راضی باللہ غالباً چینیوں نے ۷۷ ، ۶ میں دریافت کیا۔ یہ ابن مقلہ ( ۳۲۹ - ۲۹۴) کا۔ واضح ہو کہ " وزیر " قدیم زمانے میں ( ۹۰ - ۸۸۵ ) کی پیدائش سے ۱۵ سال پہلے کا زمانہ وزیر اعظم کے ہم معنی ہوتا تھا۔ کیونکہ بادشاہ کا صرف ایک تھا۔ پرنٹنگ کا قدیم ترین نمونہ اس سے کہی پہلے پانچویں صدی وزیر ہوتا تھا اور اس کو سارے اختیارات حاصل ہوتے تھے۔ عیسوی کا چین میں دریافت ہوا ہے۔ یورپ میں ترقی یافتہ مقتدر باللہ کے ابتدائی زمانے میں حامد بن عباس وزیر تھا۔ پرنٹنگ پریس ۱۵ ویں صدی میں گوٹن برگ نے بنایا اور رابل اس کے ساتھ اس نے علی بن عیسی الجراح کو نائب وزیر بنایا تو چھاپی ۔ تاہم مسلم دنیا میں پرنٹنگ پریس نپولین کے ذریعے لوگوں کو سخت تعجب ہوا۔ ایک شاعر کی نظم کا ایک شعر ہے۔ ۷۹۸ ۱ میں پہلی بار مصر پہنچا۔

اعجب من كل ما رأينا اب مقلہ جو نہ صرف فن تحریر کا ماہر تھا بلکہ حیرت انگیز ان وزیر من في ميلاد تخلیقی صلاحیت رکھتا تھا۔ اگر وہ اپنی خدا داد صلاحیتوں کو اپنے سب سے عجیب بات جو ہم نے دیکھی میدان میں لگاتا تو کا غذ اور چھپائی اور اس طرح کی دوسری وہ یہ کہ ایک ملک میں دو وزیر ہیں نعمتیں جو عالم اسلام کو بہت بعد کو ملیں شاید ابن مقلہ کے زمانہ ابن مقلہ کے یہ مناصب اس کے فن کی ترقی میں بے حد ہی میں اس کو مل چکی ہوتیں ۔ مگر وہ اس پر قانع نہ رہ سکا کہ اپنے مددگار ہو سکتے تھے۔ اگر ان ٹے ہوئے مواقع کو وہ فن تحریر اور آپ کو مخصوص میدان میں محدود رکھے۔ وزارت کے طے ہوئے اس سلسلے کی دوسری چیزوں کی ترقی اور تحقیق میں لگاتا نہ صرف مواقع کو وہ تحریر اور کا غذ اور چھپائی کی ترقی میں استعمال یہ کہ عربی۔ سم الحظ بہت پہلے اپنے معراج کمال کو پہنچ جاتا ، بلکہ کر سکتا تھا۔ اس کے برعکس اس نے ان مواقع کو عزت و ناموری ہو سکتا ہے کہ تحریر اور کتاب کے میدان کی بہت سی دوسری کی طرف چھلانگ لگانے کے لیے ایک زینہ کے طور پر استعمال ایجادیں جو اس کے بہت بعد سامنے آئیں اسی کے زمانے میں کیا۔ ابن مقلہ جب وزیر کے منصب پر پہنچ نیا تو اس کے ساتھ وجود میں آگئی ہو تیں۔ مثال کے طور پر کا غذ ابن مقلہ سے آٹھ بڑی حادثہ ہوا جس سے وہ لوگ بہت کم بچتے ہیں جن کو حالات سو برس پہلے ۱۰۰ ، ۶ میں چین میں ایجاد ہوا۔ اس کا ایجاد کرنے کسی بلند مقام پر پہنچادیں ۔ اس کے فنی حوصلے اب سیاسی

عزائم میں تبدیل ہو گئے۔ خاموش تعمیری کاموں میں مشغول رہنے کے بجائے وہ سیاسی اور فوجی تحریکوں کا لیڈر بن گیا اس نے یہ منصوبہ بنایا کہ خلیفہ قاہر باللہ کو تخت سے اتار کر ابو احمد بن مکتفی کو عباسی سلطنت کا حکمران بنایا جائے ۔ راز کھل گیا۔ ابن مقلہ پر یہ الزام لگایا کہ اس نے فوجی سردار مونش خادم کے ساتھ مل کر قاہر باللہ کی حکومت کو ختم کرنے کی سازش کی تھی۔ سازش کے انکشاف کے بعد ابن مقلہ کا گھر جلوادیا گیا۔ ابو احمد بن مکتفی کو دیوار میں چین تاہم ابن مقلہ کی خیانت اس کے کام آئی۔ ہو کر بچ گیا اور اس کے بعد پانچ لاکھ دینار خلیفہ کو نذر کر کے دوبارہ وزارت حاصل کر لی ۔ مگر اس کے سیاسی عزائم نے دوبارہ اس کے لئے مسائل پیدا کئے۔ یہاں تک کہ راضی باللہ نے اس کو وزارت سے معزول کر کے اس کے گھر میں نظر بند کر دیا اور اس کا دایاں ہاتھ کٹوا دیا۔ بلاشبہ یہ ایک سخت ترین سزا تھی جو کسی فن کار کو دی جاسکتی تھی۔ گھر کی قید میں جو اشعار وہ پڑھا کرتا تھا ۔ اس میں سے ایک شعر یہ تھا: لیس بعد الیمین لذة عیش یا حیاتی بانت یمینی فبینی دایاں ہاتھ کٹ جانے کے بعد زندگی میں کوئی لطف نہیں، اے میری زندگی جب میرا دایاں ہاتھ مجھ سے جدا ہو گیا تو تو بھی جدا ہو جا ۔

ابن مقلہ کی غیر معمولی صلاحیت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ جب اس کا دایاں ہاتھ کٹ گیا تو اس نے بائیں ہاتھ سے لکھنے کی مشق کی۔ یہاں تک کہ بائیں ہاتھ سے بھی وہ اتنا ہی اچھا لکھ لیتا تھا جیسا وہ دائیں ہاتھ سے لکھتا تھا ۔ پھر اس نے اپنے کٹے ہوئے ہاتھ میں ایک قلم باندھا اور اس سے لکھنے لگا ۔ کہا جاتا ہے کہ ہاتھ کٹنے سے پہلے کے خط اور ہاتھ کٹنے کے بعد کے خط میں کوئی تمیز نہیں کر سکتا تھا۔ یہ با کمال انسان اپنے گھر کے قید خانے میں ۵۶ سال کی عمر میں مر گیا ۔

ابن مقلہ شاعر بھی تھا۔ اس نے اپنے کٹے ہوئے ہاتھ کے ماتم میں بہت سے اشعار موزوں کئے۔ وہ کہتا تھا: "وہ ہاتھ جس نے قرآن کے فلاں فلاں نسخے لکھے، جس نے رسول اللہ کی فلاں فلاں حدیثیں لکھیں، جس نے مشرق و مغرب میں احکام لکھ کر بھیجے وہ چوروں کے ہاتھ کی طرح کاٹ دیا گیا۔ ماضی کے ابن مقلہ کو تاریخ معاف کر سکتی ہے، مگر حال کے "ابن مقلہ" جو اپنے مناصب کو تعمیری جدوجہد میں نہیں لگاتے بلکہ اشتہاری قسم کے ذاتی عزائم میں اپنے قیمتی ، مواقع کو برباد کر رہے ہیں، ان کے پاس دوسری بار اس اندوہناک غلطی میں مبتلا ہونے کا کیا عذر ہے۔ کیا انھیں یاد نہیں کہ مومن کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ وہ ایک بل سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ بہترین صلاحیتیں ہمیشہ سیاسی عزائم میں برباد ہوتی ہیں۔ سیاست بازی کے کام میں عام طور پر وہی لوگ حصہ لیتے ہیں جو قدرت سے اعلیٰ صلاحیت لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ وہ اپنی اعلیٰ صلاحیت کو کسی تعمیری خدمت میں لگانے کے بجائے سیاسی حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی کوشش میں لگ جاتے اس کے نتیجہ میں بے شمار انسانی جانیں ضائع ہوتی بے شمار اقتصادی وسائل برباد ہوتے ہیں۔ عملاً اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا کہ کچھ لوگوں کو لیڈرانہ شہرت حاصل ہو جائے اور عوام کے حصہ میں صرف یہ نتیجہ آئے کہ ایک "ظالم" کی جگہ دوسرا "ظالم" ، تخت سلطنت پر بیٹھ گیا ہو۔ تاریخ میں کوئی مثال نہیں ہے کہ مقابلہ آرائی کی سیاست سے کبھی کوئی حقیقی نتیجہ برآمد ہوا ہو۔ قوم کو اٹھانے کا راز یہ ہے کہ قوم کے رہنما اپنے سیاسی جھنڈے کو نیچا کر لیں۔ انفرادی حوصلوں کا بیج جہاں زمین میں دفن ہوتا ہے وہیں سے قومی مستقبل کا شاندار درخت اگتا ہے۔ ہماری تاریخ کو اسی قسم کی "شہادت" کا انتظار ہے۔

سیاست کے ساتھ دینی خدمت کا کام نہیں کیا جاسکتا شمالی نائیجیریا کی ۵۰ ملین آبادی میں آدھے سے زیادہ مسلمان ہیں۔ دوسو برس پہلے کی بات ہے۔ نائیجیریا کے سلطان بیوا نے ریاست کے علما کو اپنے دربار میں بلایا اور ان کو تحفے دئے ۔ آنے والوں میں ایک بزرگ نے تحفہ قبول نہیں کیا۔ یہ عثمان دان فوڈیو (۱۸۱۷ - ۱۷۵۴) انھوں نے کہا: میں آپ کا تحفہ اس وقت لوں گا جب کہ آپ مجھ کو تبلیغِ اسلام کا پروانہ عطا فرمائیں ۔ سلطان نے فوراً ان کے مطالبہ کو مان لیا، عثمان دان فوڈیو نے اس کے بعد تبلیغ و دعوت کا کام شروع کیا۔ ان کی کوششوں سے نائیجیریا کے بہت سے باشندے مسلمان ہو گئے۔ تاہم یہ سلسلہ دیر تک قائم نہ رہ سکا۔ فوڈیو نے اس کے بعد سلطان کے سامنے سیاسی مطالبات رکھنے شروع کئے ۔ "تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرو، ٹیکس کی شرح گھٹاؤ، وغیرہ۔ " اس قسم کے مطالبات نے حکمرانوں کو خفا کر دیا۔ سلطان بیوا کسی طرح ان کو برداشت اس کے مرنے کے بعد اس کا لڑکا سلطان نف تا تخت پر بیٹھا۔ اس نے نہ صرف عثمان دان فوڈیو کے سیاسی مطالبات کو رد کیا بلکہ ان کی تبلیغی سرگرمیوں پر بھی پابندی اب عثمان دان فوڈیو اور ان کے ساتھی سلطان کے سیاسی مخالف بن کر کھڑے ہو گئے۔ ۱۸۰۹ میں اس باہمی جنگ کا سلسلہ شروع ہوا جو عثمان دان فوڈیو کی موت (۱۸۱۷) تک ناکام طور پر جاری رہا۔ احمد و بلو انھیں عثمان دان فوڈیو کے لڑکے تھے جن کو اپنے باپ سے انحام سے کوئی سبق نہیں لیا اور اسی حجرے پر پھر دہرایا جو ان کے پیش رو کے زمانہ میں ناکام ہو چکا تھا۔ ”میری کوششوں کی وجہ سے دسمبر ۱۹۶۳ سے لے کر مارچ ۱۹۶۵ تک تقریباً دو لاکھ (۱۸۶۹۳۰) مشرکوں نے اسلام قبول کیا۔ ان میں سے بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو سماجی زندگی میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ یہ نائیجیریا کے سابق وزیر اعظم الحاج احمدو بلو ۱۹۰۱) کے الفاظ ہیں جو انھوں نے ۱۳۸۳ھ (۱۹۶۳ء) کی موتمر اسلامی (قاہرہ) میں تقریر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ افریقہ کی لگ بھگ ۲۲ کروڑ آبادی میں دس کروڑ ۸۰ لاکھ مسلمان ہیں۔

اگر مسلم ملکوں کی مدد شامل ہو تو افریقہ کے مشرک قبائل میں تیزی سے اسلام پھیل سکتا ہے۔ اس کا ثبوت خود میری وہ کامیابیاں ہیں جن کا میں نے ابھی حوالہ دیا۔ احمد و بلو کو اسلام کی خدمت کا یہ جذبہ اپنے دادا عثمان ڈان فوڈیو سے ملا تھا۔ ۱۹ ویں صدی میں جب پرتگال، فرانس اور برطانیہ نے افریقہ کے علاقوں میں گھسنا شروع کیا تو افریقہ میں اس کے رد عمل کے تحت بہت سے مصلحین اٹھ کھڑے ہوئے۔ انھیں میں سے ایک عثمان ڈان فوڈیو بھی تھے۔ انھوں نے گزشتہ صدی میں مسلمانوں کی اصلاح اور استعماری طاقتوں کے خلاف جہاد کی زبردست تحریک چلائی۔ دریائے نائیجیریا کے کنارے ایک طرف تبلیغی جذبہ کی دراشت ملی تھی اور اسی کے ساتھ سیاسی جہاد کی بھی عجیب بات ہے کہ احمد و بلو نے اپنے والد کے کنارے دور تک انھوں نے اسلام کا جھنڈا لہرا دیا تھا۔ ۱۸۳۳ء میں ان کے انتقال کے بعد ان کے جانشینوں نے

یہ مہم جاری رکھی۔ نائیجریا کی راجدھانی لاگوس سے لے کر شمال میں لکوشو شہر تک مقابلے جاری تھے۔ تا ہم آخری فیصلہ انگریزوں کے حق میں ہوا۔ انھوں نے 1886 میں سلطان محمد طاہر اور ان کے ساتھیوں کو شکست دے کر نائیجریا پر قبضہ کر لیا۔

احمد و بلبو امھیں رضایات کے درمیان موجودہ صدی کے آغاز میں پیدا ہوئے ۔ ان کے باپ سوکو تو کے امیر قبیلہ تھے۔ ابھی وہ دس سال کے تھے کہ باپ کا انتقال ہو گیا ۔ ان کی ماں ایک دیندار خاتون تھیں ۔ قدیم رواج کے مطابق پہلے انھیں قرآن حفظ کرایا گیا ۔ اس کے بعد انھوں نے عربی مدرسہ میں داخلہ لیا اور ۲۱ سال کی عمر تک دینی تعلیم سے فراغت حاصل کی۔ میں مغربی تعلیم کے لئے کاسینا کالج میں داخل ہوئے اور انگریزی زبان اور ریاضیات کی تعلیم مکمل کی۔ وراثت کے تحت ان کو سوکو تو کا امیر بنایا گیا۔ سلطان حسن نے ان کو شہر رہا چ کا گورنر مقرر کیا ۔ ۱۹۳۸ء میں جب سلطان حسن کا انتقال ہوا تو نئے سلطان ابو بکر نے احمد و بلو کو سوکو تو کے "سار و فنا" کے منصب پر سرفراز کیا۔ ۱۹۴۹ء میں انھوں نے لندن کا سفر کیا اور آزادی کے مسائل پر حکومت برطانیہ سے گفتگو کی ۔ ۱۹۳۱ء کی مردم شماری کے مطابق نائیجریا میں ۴,۴ ملین مسلمان ہیں، عیسائی ۹ ملین اور دوسرے قبائل ۱۰ ملین ہیں۔ شمالی نائیجریا میں زیادہ تر مسلمان آباد ہیں اور جنوبی نائیجریا میں زیادہ تر عیسائی۔ شمالی نائیجریا کے لیڈر تھے۔ وہ مغربی استعمار کے خلاف جنگ میں پیش پیش ہے ۔ ۱۹۶۰ء میں نائیجریا آزاد ہو تو د ایک فیڈرل گورنمنٹ بنی۔ اس حکومت کے فیڈرل پرائم منسٹر سر ابو بکر تفاد اولیوا ( ۱۹۶۶ - ۱۹۱۲) تھے ۔ شمالی نائیجیریا کے وزیر اعظم مقرر ہوئے ۔ یہ ایک مخلوط حکومت تھی جس میں مختلف پارٹیوں کے نمائندے اور مسلمان ، اور عیسائی دونوں شریک تھے ۔ نے مسلمانوں کی اصلاح و تعمیر اور عیسائیوں میں اسلام کی اشاعت کا کام پوری توجہ سے شروع کیا۔ نتائج بھی نکلنے شروع ہوئے ۔ مگر انھیں زیادہ کام کرنے کا موقع نہیں ملا ۔ ۱۵ جنوری ۱۹۶۶ کو ۲۵ فوجی افسروں نے مل کر بغاوت کر دی ۔ اس بغاوت میں ابو بکر تفاد اولیوا ، احمد بلو اور بہت سے مسلمان اور عیسائی مارے گئے ۔ اس کے بعد نائیجیریا میں فوجی حکومت قائم ہوگئی جس کے سربراہ جنرل ارونسی تھے ۔ مگر انھیں بھی صرف چھ ماہ حکومت کرنے کا موقع ملا ۔ ۲۹ جولائی ۱۹۶۶ کو دوسری فوجی بغاوت ہوئی اور وہ بھی ختم کر دیئے گئے ۔ نائیجیریا میں دو مسئلے ہیں ۔ یہاں مسلمانوں کی تعداد ستر فی صد ہے ۔ مگر تعلیم ، اقتصادیات اور تنظیم میں پیچھے ہونے کی وجہ سے عملاً اکثر شعبوں پر عیسائی چھائے ہوئے ہیں ۔ ضرورت ہے کہ انھیں تعلیمی اور اقتصادی اعتبار سے بلند کیا جائے تا کہ وہ ملک میں اپنا جائز مقام پا سکیں ۔ کام یہاں کے عیسائیوں اور خاص طور پر ملین مشترک نابل میں اسلام کی اشاعت ہے ۔ یہ دونوں کام احمد بلو نے شروع کر دیئے تھے ۔ مگر ان کی شہادت سے جو سبق ملتا ہے وہ یہ کہ تعمیر و تبلیغ کا کام سیاست کو لے کر نہیں کیا جا سکتا احمد بلو اگر سیاست سے الگ ہو کر یہ کام کر رہے ہوتے تو ۲۰ - ۲۵ برس میں نائیجیریا کی تاریخ بدل دیتے ۔ کے خوار زار نے انھیں بھی ختم کر دیا اور ان کے ملی اور اسلامی کام کو بھی ۔

Printed page