سیاسی حرص کے بجائے سیاسی قناعت
Booklet «Tarikh ka Sabaq», 1978, pp. 43–46
By Maulana Wahiduddin Khan
کوئی مرد عورت اپنی اولاد کو تعلیم کرنے سے انکار نہیں کرسکتے ۔ یہی سیاست کا معاملہ بھی ہے کسی کے لئے ممکن نہیں کہ وہ اپنے پیدا کردہ سیاسی حالات کے منطقی نتائج سے انکار کر سکے ۔ ایسی ہر کوشش ہمیشہ الٹی پڑتی ہے اور ہٹ دھرمیومیوں میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ اس کو پاکستان کی مثال سے سمجھئے ۔
پاکستان تقسیم کے نعرہ پر بنا مسلمانوں کی طرف سے ” ڈائرکٹ ایکشن“ کی نوبت آجانے کے بعد بالآخر یہ تحریک کامیاب ہوئی اور فرقہ ثانی نے اس مطالبہ کو مان لیا کہ آبادی کی بنیاد پر ملک کو تقسیم کر دیا جائے ۔ مگر جب میں جب تقسیم کی سرحدیں طے کرنے کا وقت آیا تو پاکستانی لیڈروں کو نظر آیا کہ تقسیم کے اصول کے مطابق ” جونا گڑھ “، ” حیدر آباد ، جیسی مسلم ریاستیں ان کے ہاتھ سے نکل رہی ہیں۔ اب انھوں نے کوشش کی کہ دیسی ریاستوں کے معاملہ میں الحاق کے اصول کو مبہم رکھا جائے ۔ وہ سمجھتے تھے کہ اس طرح وہ بیک وقت کشمیر پر بھی قبضہ کرلیں گے اور حیدر آباد پر بھی۔ کشمیر کو اس دلیل سے کہ وہاں کی آبادی میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، حیدر آباد کو اس لئے کہ وہاں کا حکمران مسلمان ہے۔ مگر یہ خود اپنے پیدا کردہ حالات کے منطقی نتائج سے انکار کرنا تھا۔ چنانچہ اس کا انجام الٹا ہوا۔ دو خرگوشوں کے پیچھے دوڑنے کی کوشش میں پاکستان ایک کو بھی نہ پکڑ سکا۔
پاکستان بنا تو وہ دو ایسے الگ الگ حصوں پر مشتمل تھا جن میں سے ایک (مشرقی حصہ) واضح طور پر دوسرے کے مقابلہ میں عددی اکثریت رکھتا تھا۔ بنگالی لیڈر حسین شہید سہر وردی کی کوششوں سے پاکستان کے سابقہ دونوں حصوں میں سیاسی مساوات ( Parity ) قائم ہوگئی۔ صدر ایوب خاں کی بنیادی جمہوریت میں یہ مساوات ایک مسلمہ سیاسی اصول کے طور پر باقی رہی۔ اس کے مطابق مشرقی حصہ کے چالیس ہزار اور مغربی حصہ کے چالیس ہزار نمائندہ وٹر ملک کی حکومت کا فیصلہ کرتے تھے۔ مگر پاکستان کے رہنما اس نظام کے خلاف ہو گئے۔ انھیں صدر ایوب کو اقتدار سے ہٹانا تھا اور اس کی سب سے آسان تدبیر یہ تھی کہ عوام کو یہ کہہ کر ان کے خلاف بھڑکایا جائے کہ بنیادی جمہوریت قائم کر کے انھوں نے عوام کے سیاسی حقوق کو غصب کر رکھا ہے، اب پاکستان میں تحریک جمہوریت چلائی گئی ۔ نقصانات کے بعد بالآخر تحریک کامیاب ہوئی۔ صدر ایوب اور ان کی بنیادی جمہوریت دونوں ختم ہوگئے ۔ ۱۹۷۰ میں پاکستان کا پہلا عوامی انتخاب ہوا جس میں ہر بالغ کو ووٹ دینے کا حق حاصل تھا۔ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) کی آبادی چونکہ زیادہ تھی، اس کے نمائندوں کی تعداد مرکزی اسمبلی میں زیادہ (٥٥ فی صد) ہو گئی۔ ٹوٹ گئی اور بنگلہ دیش نے پاکستان کے اوپر سیاسی بالاتری حاصل کر لی ۔
اب پاکستان کے رہنما بچ اٹھے۔ انھوں نے جمہوریت کے فتنہ کو یہ سمجھ کر جگایا تھا کہ وہ خود ان کو اقتدار تک پہنچانے کا ذریعہ بنے گی نہ اس لئے کہ بنگلہ دیش کے سیکولر لیڈر اس کو استعمال کر کے پاکستان کے اقتدار اعلیٰ پر قابض ہو جائیں گے۔ انھوں نے چاہا کہ جمہوریت کو دوبارہ پابند جمہوریت “ بنائیں اور مشرقی اور مغربی حصہ میں مساویانہ نمائندگی
کا اصول قائم کریں جیسا کہ وہ پہلے قائم تھا۔ مگر عوامی جمہوریت کو زندہ کرنے کے بعد اس قسم کی کوشش خود اپنے پیدا کردہ حالات کے نتائج سے بھاگنے کے ہم معنی تھا۔ بنگلہ دیش عوامی رائے دہی کے اصول کے تحت ملی ہوئی سیاسی فوقیت کو چھوڑ کر نہیں سکتا تھا۔ جمہوری منطق کے تحت پیدا شدہ نتائج کے انکار نے نہ صرف شدید تر مسائل پیدا کئے ۔ دونوں حصوں میں کشمکش بڑھتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ وہ نوبت آئی کہ خود پاکستان دو ٹکڑے ہو گیا۔
۱۹۷۰ء میں یہ تجربہ اب ایک نئی شکل میں دہرایا جا رہا ہے۔ پاکستان کے دوسرے عوامی انتخاب (۱۹۷۷ء) میں بھٹو پارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی۔ حزبِ مخالف کے لئے یہ سیاسی محرومی نا قابل برداشت تھی راس نے الیکشن کے نتائج کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نے نعرہ لگایا کہ بھٹو پارٹی دھاندلی کر کے الیکشن جیتی ہے۔ ورنہ پاکستانی عوام کی ننانوے فی صد اکثریت ہمارے ساتھ ہے۔ انھوں نے ”دوبارہ الیکشن کراؤ“ کے نام پر پاکستانی شہروں میں ہنگامہ شروع اس صورت حال سے فائدہ اٹھا کر فوجی افسروں نے بغاوت کر دی اور حکومت پر قبضہ کر لیا۔ عوام کو مطمئن کرنے کے لئے جنرل محمد ضیاء الحق نے اعلان کیا کہ وہ صرف ریفری کے طور پر حکومت کے ایوان میں داخل ہوئے ہیں اور بہت جلد منصفانہ الیکشن کرائے جائیں گے۔
پاکستان قومی اتحاد کے لیڈر خوش ہو گئے اور ۷ ۱۹۷ء کو ”عام الفتح“ قرار دیا۔ مگر بھٹو پارٹی کے جلسوں میں عوام کی بھیڑ نے بتایا کہ بھٹو کے بے اقتدار ہونے کے باوجود عوام اب بھی اسی کے ساتھ ہیں اور اگر الیکشن ہوا تو بھٹو پارٹی ہی دوبارہ برسرِ اقتدار آ جائے گی۔ جس جمہوریت کو لانے کے لئے پاکستانی رہنماؤں نے چوتھائی صدی خرچ کر دی تھی وہ جب آئی تو معلوم ہوا کہ وہ ساری کی ساری ”بھٹو“، جیسے لوگوں کے حصہ میں چلی گئی ہے۔ ان کو محسوس ہوا کہ مسئلہ صرف جمہوری انتخابات کا نہیں ہے بلکہ ”مسئلہ انتخابات کی پیش آمدہ مصیبت اور ان کے متوقع بھیانک نتائج کا بھی ہے۔ اب انھوں نے اپنے نعرے بدل دیئے۔ انھوں نے کہنا شروع کیا کہ ”جمہوریت کو جلا ڈالو۔ لوگوں کی آزادیاں سلب کر لو۔ عمر کا کوٹا حرکت میں لاؤ (المینبر، فیصل آباد ۱۴۔ اکتوبر ۱۹۷۷ء) یہی پاکستان کے تمام مخالف بھٹو رہنماؤں کا منہ ہے۔ کوئی اس بات کو بھندے الفاظ میں کہہ رہا ہے اور کوئی خوبصورت الفاظ میں۔ مگر ظاہر ہے کہ اس قسم کی سیاست خود اپنے پیدا کردہ حالات کے نتائج کو قبول نہ کرنا ہے۔ جب پاکستان میں عوامی جمہوریت کو زندہ کیا گیا ہے تو اب یہ ممکن نہیں کہ اس کے منطقی نتائج کو ظہور میں آنے سے روکا جا سکے۔ پاکستانی رہنماؤں کی یہ سیاست بلا شبہ ان کے لئے نہایت مہنگی پڑے گی۔ ”نظامِ مصطفیٰ“ اور ”نظریہ پاکستان“ جیسے الفاظ بول کر اس سیلاب کو روکا نہیں جا سکتا۔ اس قسم کی غلطی بار بار کیوں ہوتی ہے۔ اس کی وجہ ”سیاسی حرص“ ہے۔ ہمارے رہنما صرف اتنے پر قانع ہونے کے لئے تیار نہیں ہیں جو حقیقی حالات کے اعتبار سے انھیں مل سکتا ہے۔ ان کی اس کمزوری نے انھیں غیر حقیقت پسند بنا دیا ہے۔ وہ ایسے اقدامات کرتے ہیں جن کو نبھانے کی طاقت ان میں نہیں ہوتی۔ اسلامی تعلیم کے مطابق آگر وہ حرص کے بجائے قناعت کا طریقہ اختیار کریں تو وہ زیادہ بڑی اور حقیقی کامیابی حاصل کریں اور قوم کو بھی نئے سے مسائل سے دوچار کرنے کی ذمہ داری سے بچ جائیں۔ ( ۲۳ راکتوبر ۱۹۷۷ء)
ترکی مشرق و مغرب کا سنگم ہے اس لیے مغربی تہذیب سے تصادم کا مسئلہ سب سے پہلے یہیں پیش مگر اس کے جواب میں کیا ہوا ۔ ایک طرف قدیم علماء کا گروہ تھا جو مغرب کی طرف سے آنے والی ہر چیز کا اس درجہ مخالف تھا کہ سلطان سلیم ثالث (۱۸۰۶ - ۱۸۸۹) اور اس کے جانشین سلطان محمود (۱۸۳۹ - ۱۸۰۸) کی نئی فوجی تنظیمات اور ان جدید اصلاحات تک کی مخالفت کی جو انھوں نے ترکی کو عسکری اور علمی لحاظ سے یورپ کی ابھرتی ہوئی طاقتوں کے دوش بدوش لے چلنے کے لیے نافذ کی تھیں۔
دوسری طرف ترکی کی وہ نئی نسل تھی جو پیرس اور برلن اور لندن کی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر کے آئی تھی ، وہ ترکی کو مغرب کے رنگ میں رنگ دینا چاہتی ان کی انتہا پسندی کا عالم یہ تھا کہ انھوں نے مغربی تقلید کے جواز کے لیے ایک پورا فلسفہ بنا ڈالا ۔ الپ نے کہا :
" مغربی تہذیب در حقیقت بحر روم کی تہذیب کا امتداد ہے ، اس تہذیب (جس کو ہم بحیرہ روم کے منطقہ کی تہذیب کہتے ہیں) کے بانی سماری، سیتھی، فنیقی، رعاة، ترکی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔
تاریخ میں قدیم زمانوں سے پہلے ایک طورانی دور کا وجود ملتا ہے ، اس لیے کہ وسط ایشیا کے قدیم باشندے ہمارے اجداد تھے۔ اس کے بعد مسلمان ترکوں نے اس تہذیب کو ترقی دی اور اس کو یورپ تک پہنچایا ، پھر مغربی و مشرقی سلطنت روما کے خاتمہ کے بعد ترکوں نے یورپ کی تاریخ میں انقلاب پیدا اور اسی بنیاد پر ہم مغربی تہذیب کا جزو ہیں اور تاریخ کا ایک سبق ہمارا اس میں حصہ ہے؟
ان کا منتہائے فکر یہ تھا کہ "وہ اپنے دماغ سے کام لے کر اپنے کو مغرب کی روشن اور بلند پایہ تہذیب میں نصب کر لیں" (عز فان اور گا، اتاترک، ۲۹) کمال آتاترک (۱۹۳۸ - ۱۸۸۱) جب 1923 میں ترک جمہوریہ کے پہلے صدر مقرر ہوئے تو ان کے نزدیک جو سب سے اہم کام تھا وہ یہ کہ ترکوں کو مغرب کا لباس پہنا دیں۔ انھوں نے پردہ کو خلافِ قانون قرار دیا۔ عربی حروف کی جگہ لاطینی حروف جاری کیے ۔ عربی میں اذان ممنوع ہوگئی۔ ہیٹ کا استعمال لازمی قرار دیا حتیٰ کہ جب ایک خون ریز انقلاب کے بعد ہیٹ کی جنگ جیت لی گئی تو مصطفے کمال نے مکہ کی موتمر اسلامی (۱۹۷۰) میں شرکت کے لیے ترک پارلیمنٹ کے ایک ممبر ادیب ثروت کو اس حال میں روانہ کیا کہ وہ اس کے واحد مندوب تھے جو اپنے سر پر مغربی ہیٹ رکھے ہوئے تھے۔ یہ گویا ترک کی فتح عظیم کا اعلان تھا۔
یہی مثال ہر مسلم ملک میں پیش آئی ہے۔ ڈگری کا فرق تو ہو سکتا ہے مگر نوعیت کا کوئی فرق نہیں۔ ہر جگہ یہی ہوا کہ قدیم مذہبی طبقہ نے مغرب سے نفرت اور اجتناب میں زندگی کا راز بتایا اور جدید تعلیم یافتہ طبقہ نے مغرب کی تقلید سے یہ امید کی کہ وہ دوبارہ بام عروج پر پہنچ مگر یہ مثال کہیں نظر نہیں آتی کہ کچھ لوگ شدت سے اس پہلو کی طرف قوم کو متوجہ کر رہے ہوں کہ قوت و طاقت کے اس راز کو معلوم کرو جس سے مسلح ہو کر مغرب تمہارے اوپر اور دنیا کے اوپر چھا رہا ہے
ترکی کی یہ تاریخ ایک انتہائی مثال ہے جو بتاتی ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلم ممالک کس طرح حالات کا اندازہ کرنے میں ناکام رہے اور نتیجہ وقت کے مطابق اپنے عمل کی منصوبہ بندی نہ کر سکے۔ اس کے ساتھ ترکی کی تاریخ میں دو اور علامتی مثالیں بھی ہیں۔ ملی کام کے لئے جان دار کارکنوں کا نہ ملنا، اور تیاری کے بغیر اقدامات۔ جدید ترکی میں دو شخصیتیں علمی و فکری حیثیت سے انتہائی نمایاں نظر آتی ہیں۔ ایک نامق کمال (۱۸۸۸- ۱۸۳۰) دوسرے ضیاء گوک الپ (۱۹۳۶- ۱۸۷۵) دونوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ دونوں ترکی کے علاوہ عربی اور فرینچ زبانیں جانتے تھے۔ انیسویں صدی کی مسلم دنیا کی دوسری تمام شخصیتوں کی طرح اگرچہ یہ دونوں ہی سیاست سے متاثر تھے۔ اور سیاسی انقلاب کو سب سے بڑا کام سمجھتے تھے۔ تاہم دونوں میں یہ فرق تھا کہ نامق کمال نسبتاً معتدل اور متوازن فکر کے آدمی تھے۔ وہ عملی سیاست سے متاثر ہونے کے باوجود اسلامی اصطلاحوں میں سوچتے تھے اور ترک اتحاد کے بجائے اسلامی اتحاد کے الفاظ بولتے تھے۔ مزید یہ کہ نامق کمال کو ترکی کی جدید نسل میں مقبولیت بھی حاصل ہوئی۔ خالدہ ادیب خانم نے ان کے بارے میں لکھا ہے: نامق کمال ترکی جدید کی محبوب ترین شخصیت تھی۔ ترکی کے افکار و سیاسیات کی تاریخ میں ان سے زیادہ کسی دوسری شخصیت کی پرستش نہیں کی گئی :