Al-Risala · February 1978

شہادتِ حسین: ایک مطالعہ

Al-Risala, February 1978, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

حسن اور حسین، اسلامی تاریخ میں، دو مختلف قسم کے طریقِ کار کی علامت ہیں۔ حسین، سیاسی طریقِ کار کی علامت ہیں اور حسن غیر سیاسی طریقِ کار کی۔ امام حسین نے وقت کے مسلم حکمران سے ٹکرا کر جس سیاسی مقصد کو حاصل کرنا چاہا، اسی مقصد کو امام حسن نے ٹکراؤ کے میدان سے واپسی کے ذریعہ حاصل کیا۔ اگر چہ امام حسین کا کردار اتنا مشہور ہوا کہ ہر آدمی اس سے واقف ہو گیا۔ جب کہ امام حسن کے کردار سے، اس کی ساری عظمتوں کے باوجود، بہت کم لوگ واقف ہیں۔ اور اس سے بھی کم وہ لوگ ہیں جو اس عظیم کردار کی اہمیت کو سمجھتے ہوں۔ امام حسین بن علی (۴۱۔ ۶۱ھ) کی چھاپ بعد کی اسلامی تاریخ پر اتنی زیادہ ہے کہ آنجناب، کم از کم عملاً، اسلامی تاریخ کی سب سے بڑی علامت بن گئے ہیں۔ مسلمان ہر سال جس دھوم سے "۱۰ محرم" کی یادگار مناتے ہیں کسی بھی دوسرے دن کی یادگار اس طرح نہیں مناتے حتیٰ کہ شاید " شاید’’12 ربیع الاول" کی بھی نہیں۔ عام خیال کے مطابق اسلام کی روح یہ ہے کہ آدمی ناحق کے آگے سر نہ جھکائے۔ خواہ اس راہ میں لڑ کر اس کو اپنی جان دے دینی پڑے ۔ اسی کا نام، لوگوں کے نزدیک، شہادت ہے۔ یہ شہادت اپنی اعلیٰ ترین شکل میں امام حسین کی زندگی میں تمثّل ہوئی ہے۔ آپ کے ساتھ ، عام روایت کے مطابق، کل ۷۲ آدمی تھے۔ دوسری طرف آپ کے مقابلہ کے لئے چھ ہزار کا لشکر پورے ساز و سامان کے ساتھ موجود تھا۔ مگر آپ ظالم حکمران کے آگے نہیں جھکے اور لڑ کر اپنی جان دے دی: سردار مگر نداد دست در دست یزید عجیب بات ہے کہ اسلامی تاریخ کی یہ سب سے زیادہ مشہور بات نہ اسلام کے مطابق ہے اور نہ خود تاریخی واقعات اسلام اور تاریخ دونوں اس تصویر کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔

Printed page