Al-Risala · February 1978

واقعات کیا کہتے ہیں

Al-Risala, February 1978, pp. 17–21

By Maulana Wahiduddin Khan

اب دیکھئے کہ اصل تاریخی تصویر کیا ہے۔ مکہ میں قبیلہ قریش (بنو عبد مناف) کی دو بڑی شاخیں تھیں۔ دوسرے بنو امیہ۔ ان دونوں میں قدیم زمانہ سے خاندانی رقابت چلی آ رہی تھی۔ بنو ہاشم میں پیغمبر پیدا ہوئے تو ہاشمیوں میں تو صرف ایک شخص (عبد العزیٰ) آپ کا دشمن بنا۔ مگر اموی گھرانے کے لوگ عام طور پر آپ کے مخالف ہو گئے۔ تا ہم ان کی مخالفت کامیاب نہ ہو سکی۔ فتح مکہ ( ۸ھ) کے بعد، عرب کے دوسرے قبائل کی طرح، بنو امیہ بھی اسلام میں داخل ہو گئے۔ عہد رسالت اور بعد کو خلافت راشدہ کے زمانہ میں ان کے لائق افراد نے مختلف اسلامی عہدے حاصل خلیفہ سوم عثمان بن عفان جو کہ اموی خاندان سے تعلق رکھتے تھے، ان کے زمانہ (۳۵۔ ۲۴ھ) میں بنو امیہ کا اثر و رسوخ کافی بڑھ گیا۔ اس کے بعد جب علی بن ابی طالب کا انتخاب ہوا، جو پہلے ہاشمی خلیفہ تھے، تو بنو امیہ کی رقابت

خون عثمان کے مسئلہ نے ان کا ساتھ دیا اور انھوں نے خلیفہ چہارم کی بیعت میں داخل ہونے سے انکار آپ کا پورا زمانہ خلافت (۳۰۔ ۳۵ھ) باہمی خانہ جنگیوں میں گزرا، یہاں تک کہ آپ ایک جنونی مسلمان کے ہاتھ سے شہید کر دیے گئے۔

علی بن ابی طالب کے بعد آپ کے صاحبزادے حسن بن علی کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت ہوئی۔ اس وقت صورت حال یہ تھی کہ صرف عراق اور خراسان (ایران) کی خلافت امام حسن کے حصہ میں آئی تھی۔ بقیہ تمام ممالک یمن، حجاز، شام، فلسطین، مصر وغیرہ معاویہ بن ابی سفیان اموی کے زیر قبضہ تھے جنھوں نے علی کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت نہیں کی تھی اور اب حسن کی خلافت کو تسلیم کرنے سے بھی انھوں نے انکار کر دیا تھا۔ ربیع الاول41 ھ میں صورت حال اس نوبت کو پہنچ چکی تھی کہ ایک طرف امام حسن کے ساتھ چالیس ہزار سے زیادہ مسلح افراد تھے جو موت پر بیعت کئے ہوئے تھے، دوسری طرف امیر معاویہ کے جھنڈے کے نیچے ساٹھ ہزار کا لشکر مرنے مارنے پر تیار تھا۔ امام حسن نے خیال کیا کہ میرے والد کی پانچ سالہ خلافت کے زمانہ میں مسلمان خود اپنے بھائیوں کی تلواروں سے ذبح ہوتے رہے۔ اب اگر میں خلافت پر اصرار کرتا ہوں تو عملاً اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا کہ یہ باہمی قتل و خون مزید نامعلوم مدت تک جاری رہے گا۔ امام حسن اگرچہ حق پر تھے اور وہی ممالک اسلامی کے جائز خلیفہ تھے۔ مگر یہ دیکھ کر کہ فرقہ ثانی منٹنے کے لئے تیار نہیں ہے، وہ خود ہی میدان مقابلہ سے ہٹ گئے اور خلافت کا عہدہ امیر معاویہ کے حوالے کر دیا۔

اس کے بعد ۲۰ سال (۴۰۔ ۶۰ ھ) تک حالات پر سکون رہے، اسلامی قوتیں آپس کی جنگ کے بجائے اسلام کی سرحدوں کو وسیع کرنے میں لگ گئیں۔ امیر معاویہ کے انتقال (رجب ۶۰ ھ) کے بعد خلافت کا مسئلہ دوبارہ زندہ امام حسین، جو اپنے بڑے بھائی کی دست برداری خلافت سے خوش نہ تھے، انھوں نے امیر معاویہ کے لڑکے یزید بن معاویہ (رم ۶۰ - ۶۴ ھ) کی خلافت کو ماننے سے اسی طرح انکار کر دیا جس طرح اس سے پہلے معاویہ بن ابی سفیان نے ان کے والد علی بن ابی طالب کی خلافت کو ماننے سے انکار کیا تھا۔ یہیں سے امام حسین بن علی (۴۱- ۴۱ ھ) کا وہ کرانہ شردسا ہوتا ہے جس کی یاد ہر سال ۱۰ محرم کو منائی جاتی ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ یزید بن معاویہ نے دمشق کے تخت خلافت پر بیٹھنے کے بعد اپنے مدینہ کے والی عتبہ بن ابی سفیان کو لکھا کہ لوگوں سے میرے نام پر بیعت لو۔ ولید نے لوگوں کو جمع کیا تو امام حسین نے فوری طور پر بیعت ہونے سے معذوری اگلے روز وہ خاموشی کے ساتھ اپنے اہل و عیال کو لے کر مدینہ سے مکہ چلے گئے۔ تاہم مکہ بھی ان کے لئے سکون کی جگہ نہ بن سکا۔ کیونکہ مکہ کے لوگوں نے عبداللہ بن زبیر کے ہاتھ پر بیعت کرلی تھی۔ یہ صورت حال امام حسین پر اس قدر گراں تھی کہ وہ اور ان کے اہل خاندان مکہ میں عبداللہ بن زبیر کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے تھے جو عملاً اس وقت مکہ کے حاکم تھے۔ خون عثمان کے مسئلے نے مکہ اور مدینہ کو خلیفہ چہارم علی بن ابی طالب کے لئے نامساعد بنا دیا تھا۔ نے مدینہ کو چھوڑ کر کوفہ (عراق) کا قیام اختیار کر لیا تھا۔ اس طرح اسلام کا دارالخلافہ ۴۰ ھ میں مدینہ سے کوفہ منتقل ہوگیا۔

امام حسن نے خلافت سے دست برداری (41ھ) کے بعد کوفہ کا قیام ترک کر دیا اور اپنے سابق وطن (مدینہ) کی طرف کوفیوں کی نفسیات کے بارے میں عرب شاعر فرزدق نے نہایت صحیح طور پر امام حسین سے مکہا تھا: "اہل کوفہ کے دل آپ کے ساتھ ہیں۔ مگر ان کی تلواریں آپ کی حمایت میں بے نیام نہیں ہو سکتیں "۔ یزید کو جب خلافت کا عہدہ ملا تو اہل کوفہ کی محبت اہل بیت جوش میں آئی۔ انھوں نے امام حسین کو خطوط لکھنے شروع کئے کہ آپ کو فہ آجائیں۔ ہم سب لوگ آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لیں گے۔ اس قسم کے تقریباً ڈیڑھ سو خطوط کوفہ سے آکے پہنچے۔

امام حسن صورت حال کی نزاکت کو اچھی طرح جان چکے تھے۔ انھوں نے اپنے چھوٹے بھائی حسین کو وصیت کردی تھی کہ تم کبھی کوفہ والوں کی باتوں سے فریب مت کھانا۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ نبوت اور خلافت دونوں ہمارے خاندان میں جمع نہیں ہو سکتیں ۔ اس لئے تمھارے حق میں بہتر یہی ہے کہ تم اس معاملے میں خاموش رہو۔ حسین کی حوصلہ مند طبیعت اس قسم کے کسی مشورہ پر راضی نہ ہو سکتی تھی۔ انھوں نے کوفہ جانے کا ارادہ کر لیا۔ اپنے چچازاد بھائی مسلم بن عقیل بن ابی طالب کو بلایا اور ان سے کہا کہ تم پہلے کو فہ جاؤ اور وہاں پوشیدہ طور پر میرے لئے بیعت لو۔ جلدہی میں بھی وہاں پہنچتا ہوں۔ مسلم بن عقیل اس منصوبے سے متفق نہ تھے۔ تاہم امام حسین کے اصرار پر وہ کوفہ کے لئے روانہ ہو گئے۔

مسلم بن عقیل جب امام حسین کے نمائندے کی حیثیت سے کوفہ پہنچے تو وہاں بہت سے لوگوں نے ان کی پذیرائی کی۔ کہا جاتا ہے کہ تقریباً 18ہزار آدمی مبايعۃ ان کے ہاتھ پر بیعت ہو گئے۔ یزید کو جب خبر ہوئی تو اس نے عبید اللہ بن زیاد کو کوفہ والوں کی سرکوبی کے لئے مقرر کیا۔ عبید اللہ بن زیاد بصرہ سے کوفہ پہنچا اور لوگوں کو جمع کر کے انہیں سخت تنبیہ کی۔ اس کے بعد مسلم بن عقیل اور ان کے کوئی میزبان ہانی بن عروہ کو اپنے محل کی چھت پر کھڑا کر کے قتل کرا دیا۔ ان کے کٹے ہوئے سر اور خون آلود جسم ہوا میں لہراتے ہوئے لوگوں کے سامنے زمین پر گرے۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ امام حسین کا ساتھ دینے سے پہلے لوگوں کو سوچ لینا چاہئے کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔ تمام لوگ خاموش ہو کر اپنے گھروں میں بیٹھ رہے ۔ مکہ میں امام حسین ان تمام واقعات سے بے خبر رہ کر کوفہ جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ عبد اللہ بن عمر، عبد اللہ بن عباس، عمرو بن سعد بن العاص، عبد الرحمن بن حارث اور مکہ کے دوسرے بزرگوں نے امام حسین کو شدت سے منع کیا۔ عبد اللہ بن زبیر نے کہا کہ آپ کو نہ جانے کے بجائے مکہ کی حکومت قبول فرمائیں۔ آپ ہاتھ بڑھائیں۔ میں سب سے پہلے آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں۔ مگر وہ کسی طرح راضی نہ ہوئے۔ عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب نے مدینہ سے خط لکھ کر باصرار مگر انھوں نے نہیں مانا۔ حتی کہ انھوں نے عبد اللہ بن عباس کی اس آخری بات کو ماننے سے بھی انکار کر دیا کہ عورتوں اور بچوں کو مکہ میں چھوڑ کر سفر کریں یا کم از کم حج کے بعد روانہ ہوں جس میں صرف چند دن باقی رہ گئے ہیں۔ امام حسین ذی الحجہ ۶۰ھ کے پہلے ہفتے میں کوفہ کے لئے روانہ ہوئے تو راستہ میں عبد اللہ بن مطیع سے ملاقات انھوں نے امام حسین سے کہا: " میں آپ کو قسم دلاتا ہوں کہ آپ کہ واپس چلے جائیں ۔ اگر آپ بنو امیہ سے خلافت چھیننے کی کوشش کریں گے تو وہ ضرور آپ کو قتل کر ڈالیں گے۔ اور پھر ہر ایک ہاشمی، ہر ایک عرب اور ہر ایک مسلمان

کے قتل پر دلیر ہو جائیں گے مگر امام حسین کی حوصلہ مند طبیعت کے لئے کوئی چیز رکاوٹ نہ بن سکی۔ یزید بن معاویہ اور اس کے والی عراق عبیداللہ بن زیاد کو سب خبریں مل رہی تھیں۔ انھوں نے چھ ہزار کی فوج مختلف مقامات پر لگا دیٹا کہ آپ کو کوفہ میں داخل نہ ہونے دے۔ امام حسین کے ساتھ ابتدا صرف چند سو آدمی تھے۔ جب ان کو یزید کی فوج کی سرگرمیوں کا علم ہوا تو لوگ چھٹنا شروع ہوئے یہاں تک کہ کربلا پہنچتے پہنچتے آپ کے قافلے کی تعداد بہتر رہ گئی۔ صرف اپنے خاندان اور قبیلہ کے لوگ باقی رہ گئے۔

تاہم آخر وقت میں امام حسین کو صورت حال کا اندازہ ہو گیا۔ مسلم بن عقیل کے قتل، کوفیوں کی بے وفائی اور یزید کے لشکر جرار کے مقابلہ میں آپ کا مختصر قافلہ، ان چیزوں نے آپ کی کامیابی کے امکان کو ختم کر دیا تھا۔ سمجھ لیا کہ تصادم کا واحد مطلب ہے موت۔ امام حسین ایک انتہائی شریف اور بہادر آدمی تھے۔ جنگ یا موت انھیں خوف زدہ نہیں کر سکتی تھی۔ مگر اپنے ساتھیوں نیز عورتوں اور بچوں کے لئے اپنے دل میں جذبہ رحم کی پیدائش کو روکنا ان کے لئے ممکن نہ تھا۔ چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ آخر وقت میں وہ یزید سے صلح کرنے کے لئے راضی ہوگئے۔ یزید کے والی عبیداللہ بن زیاد کے سامنے تین تجویزیں پیش کیں:

میں مکہ واپس چلا جاؤں اور وہاں خاموشی کے ساتھ عبادت الہی میں مصروف ہو جاؤں۔

مجھے کسی سرحد کی طرف نکل جانے دو کہ وہاں کفار سے لڑتا ہوا شہید ہو جاؤں۔

یزید کے ہاتھ پر بیعت کرلوں۔ (اقوال اضعد بدی فی ید یزید، الطبری، جلد ۴، صفحہ ۳۱۳)

امام حسین کے رویہ میں اس تبدیلی سے یزید کی فوج کے لوگ بہت خوش ہوئے۔ اگرچہ دونوںکر بلا کے میدان میں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا تھے۔ اس کے باوجود ”نواسہ رسول“ کے احترام کا یہ حال تھا کہ دونوں طرف کے لوگ مل کر نمازیں ادا کرتے تھے اور اکثر حسین ہی لوگوں کے امام ہوتے تھے۔ عبیداللہ بن زیاد کے پاس امام حسین کا پیغام پہنچا تو وہ بھی بہت خوش ہوا کہ لڑائی بھڑائی کے بغیر مسئلہ ختم ہو جائے گا اور امام حسین یزید کے ہاتھ پر بیعت کر لیں گے۔ لیکن عبیداللہ بن زیاد کا ایک مشیر شمر ذی الجوشن، جو نہایت بری طبیعت کا آدمی تھا، اس نے عین وقت پر عبید اللہ بن زیاد کے ذہن کو پھیر دیا۔ اس نے سمجھایا کہ امام حسین کے مسئلہ کو آخری طور پر ختم کرنے کے لئے اس سے بہتر موقع دوبارہ نہیں ملے گا۔ عبید اللہ بن زیاد کے حکم پر اس کی فوجوں نے امام حسین کے لئے کوٹنے کے تمام راستے بند کر دیئے۔ جس سمت سے بھی واپس ہونا چاہتے، ادھر ہی ایک فوج ان کا راستہ روکنے کے لئے موجود رہتی۔

۱۰ محرم ۶۱ھ کو یزید کی فوجوں کی طرف سے حملہ کا آغاز ہوا۔ امام حسین کے قافلہ نے نہایت بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا۔ سارے لوگ کٹ گئے اور آخر میں، عورتوں اور بچوں کے علاوہ، صرف امام حسین بچ گئے اس کی وجہ یہ تھی کہ یزید کی فوج کا ہر آدمی آپ پر وار کرنے سے بچتا تھا اور طرح دے جاتا تھا۔ آخر میں وہی شمر ذی الجوشن آگے بڑھا جس نے عبیداللہ بن زیاد کو آپ کے خلاف جنگ کے لئے اکسایا تھا۔ اس نے چند آدمیوں کو لے کر اس بہادر انسان پر قاتلانہ حملہ کیا اور آپ کا کام تمام کر دیا ۔ اس میں اتنا اور اضافہ کر لیجئے کہ شمر ذی الجوشن، امام حسین کا پھوپھا

لگا تھا اور عمرو بن سعد جس نے امام حسین کے قافلے کی طرف پہلا تیر پھینکا تھا ، امام حسین کا ماموں۔ امام حسین کے معاملہ کی یہ تصویر جو طبری اور تاریخ کی دوسری کتابوں میں ملتی ہے ، وہ اس سے کافی مختلف ہے جو ہمارے شعراء اور مقررین پر جوش الفاظ میں پیش کرتے رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امام حسین کا سیاسی اقدام بڑی حد تک ذاتی حوصلہ کے تحت وجود میں آنے والا اقدام تھا۔ اس وقت جو صحابہ کرام زندہ تھے ، وہ سب اس معاملہ میں آپ کے خلاف تھے۔ مکہ اور مدینہ کے بزرگ ان کو اس اقدام سے روک رہے تھے ، حتی کہ خود آپ کے بھی آپ سے اتفاق نہیں کر رہے تھے۔ اس کے باوجود ان کی حوصلہ مند طبیعت کے لئے کوئی چیز رکاوٹ بن سکی۔ تا ہم آخری دنوں میں معاملہ کی نزاکت ان کی سمجھ میں آگئی اور وہ ٹھیک اسی رائے پر پہنچ گئے جہاں ان کے بڑے بھائی امام حسن اپنی دور اندیشی سے ۲۰ سال قبل پہنچے تھے۔ یزید بن معاویہ جواپنے دارالخلافہ دمشق (شام) میں مقیم تھا ، اگر وہ خود کربلا (عراق) کے میدان میں اپنی فوجوں کے ساتھ موجود ہوتا اور حسین و یزید کے درمیان براہ راست گفتگو ہوتی تو اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ وہ امام حسین کی آخری شرط پر راضی ہو جاتا ۔ یزید اس امام حسین کا دشمن تھا جو اس کا سیاسی حریف ہو۔ بیعت خلافت کے بعد امام حسین اس کے لئے ” نواسہ رسول “ ہوتے اور وہ ان کو عزت و احترام کے ساتھ ان کے وطن کی طرف لوٹا دیتا۔ مگر یزید کو امام حسین کی مصالحانہ پیش کش کا علم صرف اس وقت ہوا جب کہ ان کا سر ان کے تن سے جدا کیا جا چکا تھا۔

Printed page