سیاسی حریف کا مسئلہ
Al-Risala, February 1978, pp. 21–36
By Maulana Wahiduddin Khan
امام حسین نے مقابلہ کے آخری دن (۱۰ محرم ۶۱ ھ) کربلا کے میدان میں یزید کی فوج کے سامنے جو تقریر کی ، وہ فصاحت و بلاغت کا شاہکار ہے ، دیگر باتوں کے علاوہ آپ نے فرمایا : ” عیسیٰ کا گدھا بھی اگر باقی ہوتا تو تمام عیسائی قیامت تک اس کی پرورش کرتے ۔ تم کیسے مسلمان اور کیسے اتنی ہو کہ اپنے رسول کے نواسے کو قتل کرنا چاہتے ہو “ دراصل ” رسول کے گدھے “ کا معاملہ ہوتا تو مسلمان بھی اس کوپوجتے ۔ رسول کے نواسے کا احترام کرنے کے لئے وہ دل و جان سے تیار تھے۔ مگر یہاں مسئلہ یہ تھا کہ رسول کا نواسہ (امام حسین) ان کا سیاسی حریف بن کر کھڑا ہو گیا تھا۔ اور سیاسی حریف کو کوئی بھی نہیں بخشتا ، خواہ وہ عیسائی ہو یا مسلمان ۔ وہی یزید جس نے ۶۱ ھ میں امام حسین کے استیصال کے لئے ایک ظالم سردار (عبید اللہ بن زیاد) کو مقرر کیا ، اسی نے ۳۴ ھ میں مدینہ پر چڑھائی کے لئے مسلم بن عقبہ کو روانہ کیا تھا تو اس کو تاکیدی حکم دیا کہ حسین کے صاحبزادے علی بن حسین بن علی (۵۹۔ کا پورا خیال رکھنا اور ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچانا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ علی بن حسین (امام زین العابدین) حادثہ کربلا کے بعد سیاست سے الگ ہو کر مدینہ کے نواح میں مقیم ہو گئے تھے۔ اہل مدینہ نے ان کے ہاتھ پر بیعت ہونا چاہا تو انھوں نے بیعت لینے سے صاف انکار کر دیا۔ انھوں نے کہا: ” میرے باپ اور دادا دونوں خلافت کے معاملے میں اپنی جانیں کھو چکے ہیں۔ کیا میں بھی اس میں مشغول ہو کر اپنے کو قتل کراؤں‘‘۔ “ کربلا کی جنگ کے خاتمہ کے بعد امام حسین کے بچے ہوئے
دوسری طرف امام حسن کے بارے میں جو روایات ہیں، وہ نہ صرف سنداً زیادہ قوی ہیں، بلکہ محبت فطری سے آگے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ مثلاً انس بن مالک بتاتے ہیں:
حسن بن علی سے زیادہ کوئی شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لم يكن احد اشبه بالنبي صلى الله عليه وسلم من الحسن بن علي (رواه البخاري)
مشابہ نہ تھا۔
صوری اور طبعی مشابہت کے علاوہ یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ صحیح روایات میں امام حسین کے لئے کسی تاریخی کردار کا کوئی ذکر جب کہ دوسری طرف یہ ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امام حسن کے بارے میں ایک عظیم کردار ادا کرنے کی پیشین گوئی فرمائی تھی :
عن ابی بکرة ، قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه ابوبکرہ کہتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر وسلم علی المنبر والحسن ابن علی الی جنبه و هو یقبل دیکھا ہے حسن بن علی آپ کے پہلو میں تھے۔ آپ ایک بار لوگوں علی الناس مرۃ وعلیه أخری۔ و یقول: ان ابنی هذا کی طرف متوجہ ہوتے، دوسری بار ان کی طرف۔ اور فرماتے تھے: سید ، و لعل الله ان یصلح به بين فئتين عظيمتين یہ میرا لڑکا سردار ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرا دے۔ من المسلمين (رواه البخاري)
رسول کی یہ پیشین گوئی امام حسن کی زندگی میں حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی۔ آپ کی بیعت ۴۰ھ میں اس حال میں ہوئی کہ مسلمانوں کی باہمی لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ کچھ لوگ بنو امیہ کے جھنڈے کے نیچے جمع تھے، کچھ بنو ہاشم کے۔ دونوں میں سے کوئی نہ دوسرے کو ختم کر سکتا تھا نہ ہار ماننے کے لئے تیار تھا۔ آپ نے بیعت لی تو آپ نے لوگوں سے یہ اقرار بھی لیا : " میں جس سے جنگ کروں تم اس سے جنگ کرو گے، میں جس سے صلح کروں تم اس سے صلح کرو گے “۔ حضرت علی کی شہادت کے بعد آنجناب کے صاحبزادہ کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت ہونا بنوامیہ کے قائد معاویہ بن ابی سفیان کے لئے نئے چیلنج کے ہم معنی تھا۔ وہ اپنے دارالسلطنت دمشق سے ساٹھ ہزار کا لشکر لے کر کوفہ کی جانب روانہ ہوئے جہاں حسن بن علی مقیم تھے۔ امام حسن کوفہ سے نکلے تو آپ کے ساتھ بھی تقریباً اتنی ہی فوجی طاقت تھی۔ ایک مشاہدہ کے الفاظ میں پہاڑ جیسے لشکر (كتائب امثال الجبال) آپ کے ساتھ تھے۔ یہ لوگ آپ کے والد علی بن ابی طالب کے ہاتھ پر موت کی بیعت کر چکے تھے۔ اور لڑنے مرنے سے کم کسی چیز پر راضی نہ تھے۔
دونوں طرف کے لشکر مدائن کے قریب جمع ہوئے۔ معاویہ بن ابی سفیان نے، امام حسن کے نام پیغام بھیجا کہ جنگ سے بہتر صلح ہے۔ مناسب یہ ہے کہ آپ مجھ کو خلیفہ تسلیم کر کے میرے ہاتھ پر بیعت ہو جائیں۔ امام حسن نے غور و فکر کے بعد اس پیش کش کو منظور کر لیا۔ چھ ماہ خلیفہ رہ کر اس ھ میں امیر معاویہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور خلافت ان کے سپرد کر دی۔ امام حسن کے پرجوش حامیوں کے لئے یہ ذلت “ ناقابل برداشت تھی۔ انھوں نے اس فیصلہ کے خلاف ۵ یہ روایت الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ مختلف طرق سے نقل ہوئی ہے۔ مثلاً ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں ان ابنی هذا سيد وعسى الله ان يبقيہ حتى يصلح به بين فنتين عظيمتين من المسلمين
بیت شروع فرمل کیا۔ آپ کو عار المسلمین (مسلمانوں کے لیے تنگ) اور مذلّ المومنین (مسلمانوں کو ذلیل کرنے والے) کا حتی کہ آپ کو کافر بتایا، آپ کے کپڑے نوچے، آپ پر تلوار سے حملہ کیا۔ مگر آپ کسی بھی حال میں مقابلہ آرائی کی سیاست اختیار کرنے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ آپ نے فرمایا:
"خلافت اگر معاو کا حق تھا تو ان کو پہنچ گیا، اگر میرا حق تھا تو میں نے ان کو بخش دیا۔ صلح کے بعد امیر معاویہ نے امام حسن کے لئے ایک لاکھ درہم سالانہ وظیفہ مقرر کر دیا۔ (حافظ ذہبی، العبر، جلدا، صفحہ ۴) ایک شخص کے پیچھے ہٹ جانے کا یہ نتیجہ ہوا کہ مسلمانوں کا باہمی اختلاف باہمی اجتماعیت میں تبدیل ہو گیا۔ اسلامی تاریخ میں، صفین و جمل کے بعد، تیسری سب سے بڑی خون ریزی کا عنوان بنتا، عام الجماعت کے نام سے وہ اختلاف کے بجائے اتحاد کا سال بن گیا۔ مسلمانوں کی قوت جو آپس کی لڑائیوں میں برباد ہوتی، اسلام کی اشاعت و توسیع میں صرف ہونے لگی۔ پیچھے ہٹنا سب سے بڑی بہادری ہے۔ اگر چہ بہت کم لوگ ہیں، جو اس بہادری کے لئے اپنے آپ کو تیار کر سکیں ۔
پیغمبر اسلام کی وفات (11ھ) کے بعد ۲۰ سال تک اسلامی فتوحات کا سلسلہ جاری رہا۔ ہر مہینے کسی نہ کسی بڑے علاقہ کی فتح کی خبر آتی تھی۔ مگر تیسرے خلیفہ کے آخری زمانہ میں جو باہمی لڑائیاں شروع ہو ئیں، انھوں نے تقریباً 10سال تک فتوحات کا سلسلہ ختم کر دیا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اس بند دروازہ کو جس شخص نے دوبارہ کھولا، وہ امام حسن ہی تھے ۔ ۴۱ھ میں آپ کی خلافت سے دست برداری بظاہر میدان عمل سے واپسی کا ایک فیصلہ تھا۔ حقیقتاً یہ زیادہ بہتر طور پر میدان عمل کی طرف جانا تھا۔ مسلمانوں کی قوت کو باہمی مقابلہ آرائی سے ہٹا کر خارجی میدان میں جدوجہد کی طرف موڑ دینا تھا۔ اس واپسی نے اسلام کی تاریخ میں کامیابی کے نئے امکانات کھول دیے۔ اگر خلافت پر اصرار کرتے تو عجب نہیں کہ اسلامی تاریخ پہلی صدی ہجری ہی میں ختم ہو جاتی۔ مسلمان آپس میں لڑ لڑ کر برباد ہوتے رہتے اور قیاصرہ و اکاسرہ اور یہود و منافقین دوبارہ زندہ ہو کر ہمیشہ کے لئے اسلام کا استیصال کر دیتے ۔ تاریخ اسلام کے ہیرو کا انتخاب اگر حسنین میں سے کسی کے لئے کرنا ہو تو بلا شبہ وہ امام حسن ہوں گے۔ پیغمبر کی ہدایات امام حسن کا یہ مسلک کوئی اتفاقی یا طبعی چیز نہ تھا۔ وہ شریعت کی واضح تعلیمات پر مبنی تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے بتا دیا تھا کہ آپ کے بعد مسلمانوں کی سیاست میں بگاڑ آنے والا ہے، چنانچہ آپ نے انتہائی واضح لفظوں میں حکم دیا تھا کہ "اصلاح" کے نام پر تم لوگ آپس میں لڑنے مت لگنا بلکہ اپنی ذاتی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں مصروف رہنا۔ حدیث کی کتابوں میں کتاب الفتن کے تحت کثرت سے اس قسم کی روایتیں موجود ہیں۔
حضرت حذیفہ کہتے ہیں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگ "خیر" کی بابت پوچھتے تھے۔ میں آپ سے ’’شر‘‘ کی بابت سوال کرتا تھا، اس اندیشہ سے کہ کہیں میں اس میں مبتلا ہو جاؤں۔ میں نے پوچھا، ہم جاہلیت اور شر میں تھے، پھر
اللہ نے ہم کو خیر دیا۔ کیا اس خیر کے بعد پھر شر ہے (فعل بعد طن الخخير من شر) آپ نے فرمایا: ميكون بعدی ائمة لا يهتدون بهدی ولا يستنون میرے بعد ایسے امیر ہوں گے جو میری ہدایت کو نہیں اختیار کریں گے وسیقوم فیهم رجال قلوبهم قلوب الشیاطین اور میری سنت پر نہیں چلیں گے۔ ان میں ایسے لوگ اٹھیں گے فی جثمان انس۔ قال حذیفة قلت: كيف اصنع یا رسول جو بظاہر انسان ہوں گے مگر ان کے جسم کے اندر شیطانی دل اللہ ان ادركت ذلك۔ قال: تسمع وتطيع الامير، و ہوں گے۔ حذیفہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا، اے خدا کے رسول ان ضرب ظهرك واخذ مالك، فاسمع واطیع اگر میں اس زمانہ کو پاؤں تو کیا کروں۔ آپ نے فرمایا۔ (رواه مسلم) سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ خواہ تمہاری پیٹھ پر مارا جائے اور تمہارا مال چھینا جائے، ہر حال میں سن اور اطاعت کر ایک اور روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ولا نعمت دانت عاصی علی جزئی شجرة (ور نہ مر جاؤ اس حال میں کہ تم درخت کے ٹینٹھ کو پکڑے ہوئے ہو)
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ويل للعرب من شر قد اقترب، افلح من كفت خرابی ہے عرب کی اس شر سے جو قریب آ گیا۔ اس میں وہ شخص (رواة ابو داؤد) کامیاب رہے گا جس نے اپنے ہاتھ کو روکا۔
ابو موسیٰ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے فتنے سے ڈرایا۔ لوگوں نے پوچھا: ہم کو آپ کیا حکم دیتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا:
كسروا فيها صيتكم وقطعوا وفيها وتاركم واضربوا اس میں اپنی کمانوں کو توڑ ڈالو۔ اپنی تانت کو کاٹ ڈالو۔ والزموا فيها اجواف بيوتكم۔ تلواروں کو پتھر پر ٹیک دو۔ اور اپنے گھروں کے اندر بیٹھ رہو۔ فان دخل علی احدکم فلیکن كخير بنی آدم اگر کوئی تم کو مارنے کے لیے تمہارے گھر میں گھس آئے تو تم (رواة ابو داؤد) آدم کے دو لڑکوں میں سے بہتر لڑکے بنو۔ (قتل ہو جاؤ مگر قتل نہ کرو)
یہی ہدایت تھی جس پر خلیفہ سوم عثمان بن عفان نے عمل کیا۔ آپ محرم ۳۵ھ میں خلیفہ منتخب ہوئے اور ذی الحجہ ۳۵ھ میں مسلمان بلوائیوں نے آپ کو شہید کر دیا جب کہ آپ کی عمر ۸۲ سال تھی ۔ اس وقت مدینہ کے وفادار مسلمانوں کی ایک جماعت آپ کے مکان پر موجود تھی اور بلوائیوں کو روکنے کے لئے لڑنے مرنے پر تیار تھی، مگر خلیفہ سوم نے ان کو قسم دلا کر اپنے مسلمان بھائیوں پر حملہ کرنے سے روکا۔ آپ اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے قرآن کی تلاوت کرتے رہے، یہاں تک کہ لوگوں نے تلواروں اور نیزوں سے آپ کو قتل کر دیا۔
خلیفہ سوم کا اس طرح خاموشی سے قتل ہو جانا اتفاقا نہیں بلکہ ارادہ تھا۔ یہ اصل شریعت کے حکم کی تعمیل تھی۔ شریعت کے مطابق، اپنی طرف سے مار حریت کا آغاز بندہ مومن کے لئے کسی حال میں جائز نہیں۔ مسلمان دعوت وصیحت
کی راہ سے عمل کرتا ہے نہ کہ قتال کی راہ سے۔ اس کے بعد اگر دوسروں کی طرف سے جارحیت کا آغاز ہو تو دوسری میں۔ جارحیت کا آغاز اگر کفار کی طرف سے ہو تو مخصوص شرائط کے تحت اس کے، دفاع کا حکم ہے (بقرہ - ۔ 190) لیکن جارحیت کا آغاز اگر مسلمان کی طرف سے کیا گیا ہو تو ایسی صورت میں حکم یہ ہے کہ دفاع کے طور پر بھی اپنے دینی بھائی پر وار نہ کیا جائے: لَئِنْ بَسَطْتَ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَا بِبَاسِطٍ يَدِيَ اگر تو نے مجھے مارنے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں تجھ کو مارنے کے لئے اپنا ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا۔