Al-Risala · February 1978

بقرہ - ۲۸

Al-Risala, February 1978, pp. 36–27

By Maulana Wahiduddin Khan

خلیفہ سوم نے اسی دوسرے حکم پر عمل کرتے ہوئے اپنے مسلمان حملہ آوروں سے کوئی مقابلہ نہیں کیا اور خاموشی سے شہید وہ آدم کے دو بیٹوں میں سے بہتر بیٹے بن گئے۔ مگر عجیب بات ہے کہ جس خلیفہ نے اصول شریعت کی اتنی بڑی عملی مثال قائم کی تھی، اس کے خون کا انتقام لینے کے لئے، آپ کے بعد مسلمان پانچ سال (۳۰- ۳۵ھ) تک باہم ایک خون عثمان کے نام پر ایک لاکھ مسلمانوں کو خود مسلمانوں کی تلواروں نے ذبح کر دیا ، اس قتل و خون کے باوجود قاتلین عثمان کا مسئلہ خدا کے یہاں فیصلہ ہونے کے لئے باقی رہ گیا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ ہدایات اس اندیشے کی بنا پر دی تھیں کہ آپ کے بعد مسلمانوں کی سیاست میں بگاڑ آئے گا۔ اس وقت لوگوں کا دینی جذبہ " اصلاح سیاست " کے لئے ان کو خروج (بغاوت) پر ابھارے گا ۔ آپ نے لوگوں کو پیشگی طور پر منع فرما دیا کہ اس قسم کی تحریک ہرگز نہ اٹھائیں۔ اپنے حکمرانوں کے ساتھ سرکہ آرائی کرنے کے بجائے ان کو نصیحت کریں ۔ اس سے بھی اصلاح نہ ہو تو خاموشی اختیار کریں اور ان کے حق میں اللہ سے دعا مانگنے پر قناعت کریں۔ اس تاکید کی وجہ یہ تھی کہ ایک قائم شدہ حکومت کے خلاف حق کا جھنڈا لے کر کھڑا ہونا فساد میں مزید اضافہ کے سوا کسی اور نتیجہ تک نہیں پہنچاتا:

عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ حضرت جریر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : اسْتَنْصِتِ النَّاسَ، ثُمَّ حجة الوداع کے دن مجھ سے فرمایا۔ لوگوں کو چپ رکھو ۔ قَالَ: لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ پھر فرمایا، میرے بعد کا فر ہو جانا کہ آپس میں ایک دوسرے یَضْرِبُ بَعْضُكُمُ (متفق علیہ)

کی گردنیں مارنے لگو۔

انہیں ہدایات کا نتیجہ تھا کہ جنگ صفین (۳۶ھ) کے وقت اصحاب رسول دسیوں ہزار کی تعداد میں موجود تھے۔ مسلمانوں کی اس باہمی لڑائی میں عملاً شریک ہونے والے اصحاب کی تعداد مشکل ۳۰ تھی (ابن تیمیہ، منهاج السنة، جلد " صفحه) حدیث کی کتابوں میں فتنے کے ابواب کے تحت کثرت سے ایسی روایتیں ہیں جو اس کو غیر مستبہ طور پر واضح کر رہی انھیں واضح ہدایات کی بنا پر بعد کو فقہ میں مسئلہ بنا کہ سلطان منقلب کے خلاف خروج (بغاوت) جائز نہیں۔ سے انفرادی حالات میں اپنا معتین حق محفوظ رکھنے کے لئے اگر ایک مسلمان دوسرے سے مقابلہ کرے، تو اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہوگا بشرطیکہ یہ اندیشہ نہ ہو کہ اس کے اقدام سے اجتماعی فساد پیدا ہو جائے گا :

عن عبد الله بن عمر و بن العاص ، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من قتل دون ماله فهو شهيد (متفق عليه). ترجمہ : جو شخص اپنے مال کو بچاتے ہوئے مارا جائے، وہ شہید ہے۔

کیونکہ اس سے امت میں انتشار و باہمی قتل وخون وجود میں آتا ہے۔ یہاں اس سلسلے میں چند مزید روایتیں بطور نمونہ نقل کی جاتی ہیں ۔ عن عوف بن مالك رضی اللہ عنہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يقول: خيار أئمتكم الذين تحبونهم ويحبونكم، وتصلون عليهم ويصلون عليكم وشرار أئمتكم الذين تبغضونهم ويبغضونكم - وتلعنونهم ويلعنونكم قال: قلنا يا رسول الله افلاننا بذهم قال: لا ما

Printed page