سیاسی منازعت بے فائدہ
Al-Risala, February 1978, pp. 28–32
By Maulana Wahiduddin Khan
پہلی صدی ہجری کا تجربہ آخری طور پر ثابت کر چکا ہے کہ قائم شدہ سیاسی نظام کے خلاف محاذ بنانا، خواہ کتنی ہی نیک نیتی کے ساتھ ہو، صرف بگاڑ میں اضافہ کرتا ہے۔ بلکہ نئے نئے مسئلے پیدا کر کے معاملہ کو اور زیادہ پیچیدہ بنا سیاست عثمانی کی اصلاح کی تحریک نے قبیلہ قریش کی دو شاخوں، بنوامیہ اور بنو ہاشم، کے قدیم خاندانی جھگڑے
کوئی شدید تر شکل میں زندہ کر دیا۔ اس نے نو مسلم یہودی عبداللہ بن سبا کو وہ موافق زمین دی جس سے فائدہ اٹھا کر اس نے ”وصی“ کا عقیدہ ایجاد کیا اور استحقاق خلاف کے سیاسی مسئلہ کو اعتقاد کا مسئلہ بنا ڈالا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان دائمی طور پر دو ممتحارب فرقوں (شیعہ اور سنی) میں تقسیم ہو گئے۔ دبی ہوئی عصبیتوں کو موقع ملا کہ وہ ”نظریاتی“ نعروں کے سایہ میں ایک دوسرے کے خلاف اٹھ سکیں۔ عربی لوگ، جو عجمیوں کو حقیر سمجھتے تھے، امیر معاویہ کے جھنڈے کے نیچے اکٹھا ہو گئے۔ عجمی لوگ، جو عرب اقتدار سے متنفر تھے، علی بن ابی طالب کے لشکر میں جمع ہو گئے۔ اصلاحِ سیاست کی تحریک صرف فسادِ سیاست پر منتج ہوئی۔ اس نے سارے ممالک اسلامی میں انارکی پیدا کر کے خلیفہ سوم کو شہید کر دیا۔ مگر صرف آپ کے قتل پر معاملہ ختم نہیں ہو سکتا تھا۔ اب عمل اور ردعمل کالامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا جو امیر معاویہ کی خلافت کے ایک عارضی وقفہ (۴۰ - ۴۱ ھ) کو چھوڑ کر سیکڑوں برس تک جاری رہا۔ قیمتی جانیں انتہائی بے دردی کے ساتھ ہلاک کر دی گئیں۔ اور اصل مسئلہ (خلافت میں پھڑکی، اصلاح یا خونِ عثمان کا قصاص) پھر بھی وہیں ہونے کے لیے باقی رہ گیا جہاں تمام مسائل کو بالآخر حل ہونا ہے۔
یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ حکومت کے لئے جو جنگ شروع کی جائے، اس کا خاتمہ نہ کامیابی پر ہوتا ہے اور نہ ناکامی پر۔ جماعت الف اور جماعت ب کی جنگ ختم ہوگی تو خود اس جماعت میں دو گروہ ہو جائیں گے جو جیت کر اوپر آئی ہے۔ بنو ہاشم اور بنو امیہ میں حصول خلافت کی جنگ ۳۵ ھ میں شروع ہوئی اور تقریباً ایک سو سال تک مختلف شکلوں میں جاری رہی۔ اس پوری مدت میں بنو امیہ کا اقتدار قائم رہا۔ ۱۳۲ ھ میں بنو ہاشم (بنوباس) ایرانوی کی مدد سے بنو امیہ کا اقتدار ختم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ مگر اب بنو ہاشم، عباسیوں اور علویوں میں تقسیم ہو کر خود ہی ایک دوسرے کے خلاف لڑنے لگے۔ محمد بن عبداللہ بن حسن مثنی بن حسن بن علی بن ابی طالب بن عبد المطلب جو محمد مہدی نفس ذکیہ (م ۱۴۵ ھ) کے نام سے مشہور ہوئے، عباسی خلیفہ ابو جعفر عبداللہ منصور بن محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب کے سیاسی حریف تھے۔ انھوں نے اپنے ساتھیوں کو لے کر ابو جعفر منصور (م ۱۵۸-۱۰۱ھ) کے خلافت ”صالح نظام“ کی تحریک چلائی۔ اس مقابلہ میں منصور کامیاب ہوا اور اس نے علویوں کو کچل ڈالا۔ یہ دونوں ہاشمی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک ابو طالب بن عبد المطلب کی اولاد تھا، دوسرا عباس بن عبد المطلب کی اولاد۔ بنو امیہ کو اقتدار سے ہٹانے کا سوال تھا دونوں متحدہ سیاسی محاذ بنائے ہوئے تھے۔ مگر جب حکومت بدلی تو دونوں ایک دوسرے کے رقیب بن گئے۔ یہ رقابت اس وقت تک ختم نہ ہوئی جب تک ایک نے دوسرے کو پیس نہ ڈالا۔
شہادت عثمان کے بعد دلالام المومنین عائشہ رهم (م ۵۸ھ) قاتلین عثمان کو سزا دلانے کا مطالبہ لے کر اٹھیں۔ بن العوام، طلحہ بن زہراور دوسرے بہت سے لوگ ان کے ساتھ شریک ہو گئے۔ اس تحریک نے مسلمانوں کو دو تحارب گروہوں میں تقسیم کر دیا۔ عائشہ کے جھنڈے کے نیچے ۳۰ ہزار آدمی تھے اور علی بن ابی طالب کے ساتھ ۲۰ ہزار۔ قریب مقابلہ ہوا جو جنگ جمل (۳۶ ھ) کے نام سے مشہور ہے۔ اس مقابلہ میں ہزار مسلمان خود مسلمانوں کی تلوار سے ذبح طلحہ اور زبیربھی جنگ سے واپس ہوتے ہوئے راستہ میں ختم ہو گئے۔ طلحہ زخم کے سبب سے۔ اور زبیر کو
مقام وادی السباع میں ایک شخص نے حالت نماز میں مار ڈالا۔
اس کے بعد دوسرا مرحلہ شروع ہوا۔ معاویہ بن ابی سفیان، جو اس وقت شام کے والی تھے، انہوں نے اس تحریک کا جھنڈا سنبھال لیا۔ علی بن ابی طالب کی طرف سے مطالبہ بیعت تھا، معاویہ بن ابی سفیان کی طرف سے مطالبۂ قصاص۔ دوبارہ شام میں صفین کے مقام پر شدید تر مقابلہ (۳ھ) ہوا۔ تقریبا ۷۰ ہزار مسلمانوں کی گردنیں خود مسلمانوں کے ہاتھوں کاٹ ڈالی گئیں۔ اس عظیم ہلاکت کے باوجود مسئلہ حل نہ ہوا تو تحکیم (دودمتہ الجندل) کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ تاہم اصل مسئلہ دوبارہ بدستور اپنی جگہ باقی رہا۔ البتہ عمرو بن العاص نے اس موقع پر جو کردار ادا کیا، اس کی وجہ سے مزید نقصان یہ ہوا کہ جان کے قتل کے ساتھ اعتماد کے قتل کی روایات بھی مسلم معاشرہ میں قائم ہوگئیں۔ یہی بے اعتمادی کی فضا تھی جس نے خارجی فرقہ کو پیدا کیا، جس نے مقام نہروان (37ھ) پر علی بن ابی طالب سے مقابلہ کیا اور تقریباً ۱۰ ہزار مسلمان مارے گئے۔ ان کی بے اعتمادی یہاں تک بڑھی کہ انہوں نے امیر معاویہ، عمرو بن العاص، اور علی بن ابی طالب کو یکساں طور پر گردن زدنی قرار دے دیا ۔ خون عثمان کے نام پر پانچ سال سال(35-40ھ) کی خانہ جنگی اور بے حساب نقصانات کے بعد عملاً جو ہوا، وہ یہ کہ امیر معاویہ کی سیاست مستحکم ہوگئی۔ بیشتر مسلم ممالک، یمن، حجاز، شام، فلسطین، مصر سب امیر معاویہ کے زیر حکم علی بن ابی طالب کی حکومت عراق اور ایران تک محدود ہوگئی۔ علی بن ابی طالب کی شہادت (۴۰ھ) کے بعد امام حسن کی خلافت سے دست برداری نے ان کی مزید مدد کی اور ۲۰ سال (۴۰۔ ۶۰ھ) تک وہ پوری اسلامی دنیا پر بلا نزاع حکومت کرتے رہے۔
امیر معاویہ کے بعد مسئلہ دوبارہ جاگ اٹھا۔ امیر معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد بنایا تھا اور اس کی خلافت سے ۷ صحابہ کے باہمی اختلاف کو آج کل کے لوگوں کے اختلافات پر قیاس نہیں کرنا چاہئے یہ بہت اونچے لوگوں کا اختلاف تھا جو اختلافات کے وقت بھی اپنی اونچائی کو باقی رکھتے ہیں۔
اسحٰق بن راہویہ اپنی سند سے روایت کرتے ہیں :
سمع علی يوم الجمل ويوم الصفين در جلا يعنواني القول، علی نے جنگ جمل وصفین کے بارے میں ایک شخص کو سنا کہ وہ سخت باتیں کر رہا ہے، آپ نے فرمایا، کلمہ خیر کے سوا اور کچھ نہ کہو۔
در اصل انھوں نے سمجھا ہے کہ ہم نے ان کے خلاف بغاوت کی ہے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے خلاف بغاوت کی ہے۔
اس بنا پر ہم ان سے لڑ رہے ہیں۔
فقال لا تقولوا الاخير ا۔ انما هم قوم زعموا انا بغينا عليهم، وزعمنا انهم بغوا علينا فقاتلنا هم ابن تیمیه، منهاج السنة، جلد ۳ ، صفحه ۶۱ زبیر بن العوام جنگ جمل میں حضرت علی کے خلاف تھے۔ جنگ میں حضرت علی کو فتح ہوئی۔ حضرت زبیر اپنے گھوڑے کا منھ پھیر کر چل دیے۔ عمرو کے ایک شخص نے ان کا پیچھا کیا اور روادی السباع میں ان کو حالت نماز میں مار ڈالا۔ اس کے بعد وہ حضرت علی کے پاس ان کی تلوارلے کر پہنچا اور دربان سے کہا کہ زبیر کے قاتل کے لئے اجازت حاصل کر۔ وہ سمجھتا تھا کہ علی اپنے حریف کے قتل کو سن کر خوش ہوں گے اور اس انعام مگر آپ نے فرمایا : ابن صفیہ (زبیر) کے قاتل کو دوزخ کی خوش خبری سنا دو۔
لے لیے بیعت لی تھی۔ لوگوں میں یہ احساس دبا ہوا تھا کہ امیر معاویہ نے انتخاب خلافت کے مسئلہ کو غیر شورائی طریقہ پر کر کے غلطی کی ہے۔ یزید کے مسند خلافت پر بیٹھنے کے بعد کچھ لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ یزید اس منصب کا اہل نہیں ہے۔ مسلم معاشرہ میں اس وقت عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن زبیر، حسین بن علی اور عبد الرحمن بن ابی بکر جیسے جلیل القدر لوگ موجود تھے۔ چنانچہ ایک طبقہ نے یزید کی خلافت پر بیعت کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نئی تحریک کے دو خاص ایک عبداللہ بن زبیر، دوسرے حسین بن علی۔
تاہم صحابہ کرام کی اکثریت اس معاملہ میں یا تو خاموش تھی یا لوگوں کو یہ نصیحت کر رہی تھی کہ یزید کی خلافت کو تسلیم کرلو تاکہ مزید قتل و خون نہ ہو۔ حضرت عبداللہ بن عباس مکہ میں تھے کہ امیر معاویہ کی موت کی خبر آئی۔ لوگ ان کا تاثر جاننے کے لیے ان کے پاس جمع ہوگئے ۔ اس موقع پر آپ نے جو باتیں کہیں، ان میں سے ایک یہ تھی :
وان ابنه يزيد لمن صالحي اهله فالزموا مجالسكم معاویہ کا لڑکا یزید ان کے لائق اہل خانہ میں سے ہے۔ تم لوگ اپنی جگہ بیٹھے رہو اور اپنی اطاعت و بیعت اس دادعطوا طاعتكم وببيعتكم بلاذری، انساب الاشراف، جلد ششم، ۱۹۷۸ء، صفحہ ۷۲ کو دے دو اسی طرح محمد بن حنفیہ نے یزید کے حق میں کلمہ خیر کہہ کر لوگوں کو اس کی بغاوت سے روکا۔ حمید بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ یزید کی ولی عہدی کے وقت میں حضرت بشیر کے پاس گیا جو صحابہ میں سے تھے۔ انھوں نے فرمایا : يقولون انما يزيد ليس بخير امة محمد صلى الله لوگ کہتے ہیں کہ یزید امت محمد میں سب سے بہتر نہیں ہے۔ علیہ وسلم وانا اقول ذلك - ولكن لان يجمع الله میں بھی یہی کہتا ہوں ۔ لیکن امت محمد کا اتحاد مجھے اس کے اختلاف کی نسبت زیادہ پسند ہے ۔
امة محمد احب الى من ان يفترق الذہبی، تاریخ الاسلام ، جلد ۲، صفحہ ۹۸ یہ نقطہ نظر دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس واضح ہدایت پر مبنی تھا کہ حکمرانوں سے سیاسی منازعت مت کرو۔ اور اپنے اصلاحی جذبہ کے اظہار کے لیے عمل کا دوسرا (غیر سیاسی) میدان تلاش کرو۔ مگر تعمیری نقطہ نظر ، سیاسی نقطہ نظر کے مقابلہ میں، ہمیشہ کم لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچتا ہے۔ بیشتر لوگ سیاسی معرکہ آرائی کی راہ پر چل پڑے اور نتیجہ میں امام حسین اور عبداللہ بن زبیر جیسے اعلیٰ صلاحیتوں کے انسان اور ان کے ساتھ بے شمار دوسرے مسلمان خود اپنے بھائیوں کی تلواروں سے ذبح ہو گئے۔ یزید کو جب معلوم ہوا کہ مکہ اور مدینہ کے لوگ باغی ہو گئے ہیں تو اس نے حرمین پر بھی خانہ کعبہ کی دیواریں ڈھائی گئیں ـــــ ان تمام قربانیوں کے باوجود اصل مسئلہ بدستور اپنی جگہ یزید کی حکومت کو موت کے فرشتہ کے سوا کوئی ختم نہ کر سکا۔
پہلی صدی ہجری کی ان خانہ جنگیوں کا ایک نقصان یہ ہوا کہ بڑے بڑے صحابہ جو رستم واسفندیار کو زیر کرتے ہوئے سیلاب کی طرح اسلام کو آگے بڑھارہے تھے، وہ اجتماعی زندگی سے الگ ہو گئے۔ سعد بن ابی وقاص فاتح ایران شہروں سے دور چلے گئے جہاں وہ اونٹ اور بکریاں چراتے رہتے تھے۔ عبداللہ بن عمر جو اپنی خصوصیات کی بنا پر عمر ثانی
بن سکتے تھے، باہمی جھگڑوں سے دل برداشتہ ہو کر گوشہ گیر ہوگئے، وغیرہ وغیرہ۔ تاہم میدانِ جنگ سے ان حضرات کی واپسی محض منفی نوعیت کی نہ تھی۔ اس کا ایک مثبت پہلو بھی تھا۔ اب وہ تعلیم و ارشاد کی سرگرمیوں میں لگ گئے۔ احادیث کی روایت کرنا، شریعتِ اسلام کی حقیقت سمجھانا اور سیرتِ نبوی سے لوگوں کو آگاہ کرنا اب ان کا مشغلہ تھا۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ حدیث اور سیرت اور اسلامی تاریخ کا ذخیرہ جمع ہوا۔ میدانِ جنگ میں کارنامہ دکھانے والوں نے میدانِ درس میں اپنے لئے اسلامی خدمت کا کام تلاش کر لیا۔