Al-Risala · February 1978

یزید کی ولی عہدی

Al-Risala, February 1978, pp. 32–35

By Maulana Wahiduddin Khan

معاویہ بن ابی سفیان کا اپنے بیٹے یزید بن معاویہ کو اپنا ولی عہد مقرر کرنا زبردست اختلافی مسئلہ رہا ہے۔ میں شک نہیں کہ اس تقرر نے اسلامی تاریخ میں صرف المیے کا اضافہ کیا ہے۔ تاہم محتاط مبصرین کی رائے ہے کہ معاویہ اپنے تقرر میں نیک نیت تھے۔ وہ دیانت داری کے ساتھ سمجھتے تھے کہ یزید تمام ممالکِ اسلامی میں خلافت کے لئے سب سے زیادہ اہل ہے۔ ابن خلدون کے نزدیک "معاویہ کے دل میں دوسروں کو چھوڑ کر اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد بنانے کا جو داعیہ پیدا ہوا ، اس کی وجہ امت کے اتحاد و اتفاق کی مصلحت تھی"۔ عبداللہ بن عمرؓ نے جب اس تقرر پر اعتراض کیا تو معاویہ کا جواب یہ تھا :

انی خفت ان اذر الرعیة من بعدی کا غنم مجھے خوف ہوا کہ میں عوام کو بکریوں کے منتشر گلہ کی طرح المطيرة ليس لها راع چھوڑ کر نہ چلا جاؤں جس کا کوئی چرواہا نہ ہو۔

(البدایہ والنہایہ لابن کثیر جلد ۸ صفحه ۸۰)

اس طرح کی متعدد روایتیں ہیں جو بتاتی ہیں کہ معاویہ اپنے انتخاب میں مخلص تھے۔ حتیٰ کہ نقل کیا گیا ہے کہ جمعہ کے دن مسجد کے منبر پر کھڑے ہو کر انھوں نے دعا کی :

اللهم ان كنت عهدت لیزید لما رأیت من فضله اے اللہ اگر میں نے یزید کو اس کی فضیلت دیکھ کر ولی عہد نہ جہاں تک حاکم اپنی ذمہ داری کا تعلق ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہایت سخت تنبیہات منقول ہیں: مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أُمَّتِي وَلِي مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئاً لَمْ يَحْفَظْهُمْ بِمَا يَحْفَظُ بِهِ نَفْسَهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا لَمْ يَجِدُ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ ۔ (المعجم الصغیر للطبرانی) میری امت میں جو کوئی بھی مسلمانوں کے معاملہ کا ذمہ دار ہو پھر وہ اس طرح ان کی حفاظت نہ کرے جس طرح وہ اپنی اور اپنے گھر والوں کی حفاظت کرتا ہے تو وہ بہشت کی مہک بھی نہ پائے گا۔

یہ حکم امیر کے لئے ہے۔ مگر جہاں تک مامور کا تعلق ہے، اس کا فرض یہی ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے امیر کی اطاعت کرے خواہ امیر اس کو پسند ہو یا ناپسند۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : الجهاد واجب عليكم مع كل امير برّاً كان او فاجرا و ان عمل الكبائر (ابو داؤد، مشکوٰة باب الامامة) امیر اچھا ہو یا برا، اور خواہ وہ کبائر کا ارتکاب کرتا ہو۔ اس کے تحت جہاد کرنا مسلمانوں کے اوپر فرض ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حکومتی ادارہ کی اصلاح کے نام پر محاذ نہ بناؤ۔ اس سے باہر دین کی اشاعت و تبلیغ کے جو مواقع ہیں، ان پر اپنی قوتیں صرف کرو۔

فبلغہ ما املت و اعنہ، فان كنت انما حملنی بنایا ہے تو اسے اس مقام تک پہنچا دے جس کی میں نے اس حب الوالد ولد لہا و انہ لیس لما صنعت بہ کے لئے امید کی ہے۔ اور اس کی مدد فرما۔ اور اگر مجھے اس اهلا فاقبضه قبل ان يبلغ ذلك کام پر صرف اس محبت نے آمادہ کرلیا ہے جو باپ کو اپنے بیٹے الذهبی، تاریخ الاسلام و طبقات المشاہیر دار الاعلام سے ہوتی ہے تو اس کے خلافت تک پہنچنے سے پہلے اس کی جلد ۲ صفحه ۲۷۴ روح کو قبض کرلے۔

تاہم یہ سوال باقی ہے ایک ایسے شخص کو ممالک اسلامی کی خلافت کے لئے نامزد کرنے پر وہ کیسے مطمئن ہو گئے جس کے بارے میں اصحاب رسول میں سے صرف ایک بزرگ (مغیرہ بن شعبہ) کی حمایت انھیں حاصل تھی، بقیہ اصحاب، جو اس وقت ہزاروں کی تعداد میں موجود تھے، یا تو اس تقرر کے خلاف تھے یا افتراق امت سے بچنے کے لئے انھوں نے خاموشی اختیار کر لی تھی۔ نیز یہ کہ خود معاویہ بن ابی سفیان مسلمہ طور پر ایک انتہائی دور اندیش آدمی تھے۔ عفر فاروق رضہ کے الفاظ میں، وہ غصہ کے وقت مٹنے والے (من يضحك فی الغضب) آدمی تھے۔ ٹھنڈے ذہن کے تحت فیصلہ کرنے کی صلاحیت ان میں حیرت انگیز حد تک پائی جاتی تھی۔ ایسے ایک مدبر نے ایک ایسی رائے کی صحت پر کیسے یقین کر لیا جس کی صحت و اصابت کی تصدیق بعد کی تاریخ نے نہیں کی۔

یہاں ایک اور بات بھی قابل لحاظ ہے۔ 41 ھ میں جب حسن بن علی نے ایک عظیم سیاسی نزاع کو ختم کیا اور معاویہ کے حق میں خلافت سے دست برداری اختیار کر لی تو، اگرچہ امام حسن کی فرمائش کے طور پر نہیں تاہم بطور خود، امیر معاویہ نے عبداللہ بن عامر کے سامنے زبانی طور پر یہ اقرار کیا تھا کہ ان کے بعد امام حسن خلیفہ ہوں گے۔ ابن کثیر لکھتے ہیں: كان معاوية لما صالح الحسن عهد بالحمر جب معاویہ نے حسن سے صلح کی تو حسن کو اپنے بعد خلافت من بعدہ فلها مات الحسن قوی امر یزید عندہ کا ولی عہد بنانا منظور کر لیا تھا۔ مگر جب حسن کی وفات ہو گئی معاوية و رای انہ لن ذلك اهلا تو یزید کی طرف معاویہ کا رجحان قوی ہو گیا۔ انھوں نے سمجھا کہ (البدایہ والنہایہ، جلد ۸ صفحه ۸۰) وہ خلافت کا اہل ہے۔

حسن بن علی نے معاویہ کے حق میں خلافت سے دست بردار ہو کر جو بے مثال قربانی دی تھی، اس کا یہ صرف ایک ادنیٰ صلہ تھا کہ وہ ان کے لائق بھائی حسین بن علی کے حق میں وعدہ ولی عہدی کو پورا کر دیتے۔ مگر یہ بات بھی معاویہ کے ذہن میں جگہ نہ پا سکی۔ اور انھوں نے پورے اصرار اور اہتمام کے ساتھ اپنے بیٹے یزید کو خلافت کے منصب کے لئے نامزد کر دیا اور اس کے لئے لوگوں سے بیعت لی۔

جہاں تک یزید کی نااہلی کا سوال ہے، اس کو ثابت کرنے کے لئے یہ واقعہ کافی ہے کہ اس کے عہد حکومت میں حسین بن علی کو قتل کیا گیا۔ یہ نہ صرف ایک ظالمانہ فعل تھا، بلکہ سیاسی اعتبار سے مکمل طور پر ایک غیر مدبرانہ اقدام تھا کہ یزید کو ایک عظیم مملکت کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے جاننا چاہئے تھا کہ رسول کے نواسے کو قتل کرنا لازماً شاپر عمل پیدا کرے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ حتی کہ اس سے نمٹنے کے لئے اس کو مکہ اور مدینہ پر حملہ کرنا پڑا جس میں حسین کے تقریباً دو ہزار مسلمان

مارے گئے، حسین کے خون کے بعد عامۃ المسلمین کے خون کو حلال کرنا بھی اس کے لئے ضروری ہو گیا۔ دوسری بات جس سے یزید مکمل طور پر بے خبر رہا، وہ یہ کہ ایک شریف انسان سے مصالحت کا امکان آخر وقت تک ہوتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ حسین نے اگرچہ مکہ سے نکلنے کے معاملے میں اپنے بزرگوں اور دوستوں کے اختلاف کو نظر انداز کر دیا تھا۔ وہ یزید کو اس کے آخری انجام تک پہنچانے سے کسی بات پر راضی نہ تھے۔ تاہم کربلا پہنچ کر جب انہیں معلوم ہوا کہ کوفہ والوں کے بھی خطوط پر انہوں نے اس حد تک بھروسہ کر لیا تھا کہ اپنے اہل و عیال سمیت گھر سے نکل پڑے تھے وہ محض دھوکا تھے۔ تو امام حسین نے طے کر لیا کہ سیاست کو یزید کے حوالے کرکے خاموش زندگی پر قانع ہو جائیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ یزید و حسین کا قضیہ، کم از کم اپنے آخری مرحلہ میں، ٹھیک اسی نقطہ پر پہنچ چکا تھا جہاں معاویہ و حسن کا قضیہ پہنچا تھا۔ مگر معاویہ ایک جہاں دیدہ آدمی تھے۔ انھوں نے سادہ کاغذ پر اپنا دستخط اور مہر ثبت کرکے حسن بن علی کے پاس بھیج دیا کہ صلح کی جو شرا ئط چاہو اس پر لکھ دو۔ اس کے برعکس حسین بن علی کی اسی قسم کی پیش کش پر یزید کے آدمیوں نے حسین کو قتل کر دیا۔ یزید اگرچہ میدان جنگ میں موجود نہ تھا۔ اس نے امام حسین کا سر دیکھ کر ان کے قتل پر شدید رد عمل کا اظہار کیا۔ تاہم وہ اس جرم سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا، کیوں کہ کوئی صاحب اختیار اپنے گرد جو فضا بناتا ہے اسی کے مطابق اس کے ماتحت عمل کرتے ہیں۔

یزید کی ولی عہدی کا واقعہ بتاتا ہے کہ اخلاص اور نیک نیتی کے ساتھ بھی آدمی کتنی بڑی غلطی کر سکتا ہے۔ آدمی عام طور پر اپنی پسند ناپسند سے مغلوب (OBSESSED) رہتا ہے۔ اس کے قریبی حالات اس کا جو مزاج بنا دیتے ہیں، بس اسی کے تحت وہ سوچنے لگتا ہے۔ اس کی فکر ایک قسم کی متاثر فکر (CONDITIONED THINKING) بن جاتی ہے۔ وہ نیک نیت ہوکر بھی غلط فیصلے کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں مشورہ کو بے حد اہمیت دی گئی ہے۔ ذریعہ ایک کی غلطی دوسرے پر واضح ہوتی رہتی ہے۔ اور جہاں تک اجتماعی امور کا تعلق ہے، اس کے لئے تو مشورہ اتنا ہی ضروری ہے جتنا جمعہ کی نماز کے لئے جماعت ____________ معاویہ بلاشبہ نیک نیت تھے۔ تاہم ان کا فیصلہ متاثر ذہن سے نکلا ہوا فیصلہ تھا جس میں ان حقائق کی رعایت شامل نہ تھی جو ان کے اپنے ذہن کے باہر انتہائی عریاں شکل میں پائے جا رہے تھے۔

الامرا سرع من ذالک (فیصلہ کی گھڑی زیادہ قریب ہے)

کہا جاتا ہے کہ امیر معاویہ جب مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو انھوں نے یزید کو بلا کر کچھ نصیحتیں کیں۔ انھوں نے کہا: "بیٹے! میں نے تم کو پالان کنے اور سفر کرنے سے بے نیاز کر دیا ہے۔ دشواریوں کو آسان ، دشمنوں کو تابع اور عرب کی مغرور گردنوں کو مطیع بنا دیا ہے۔ میں نے تمھارے لئے وہ چیزیں فراہم کر دی ہیں جو اس سے پہلے کسی نے فراہم نہیں کیں۔ (محمد بن علی بن طباطباء، تاریخ الفخری)

آدمی پر جب کسی خیال کا غلبہ ہوتا ہے تو اکثر وہ حقائق اس سے اوجھل ہو جاتے ہیں جو اس کے خلاف جلبے ایسا ہی امیر معاویہ کے ساتھ ہوا۔ وہ دو انتہائی سنگین حقیقتوں کو بھول گئے ایک یہ کہ اسلام میں علمبر کے

انتخاب کو شوریٰ کے اختیار میں دیا گیا ہے۔ ایک حکمراں کا اپنے بیٹے کو خلیفہ نامزد کرنا اسلام کے مزاج کے خلاف ایک واقعہ ہوگا جو ضرور ردِ عمل پیدا کرے گا۔ اس طرح ان کے حریف بنو ہاشم کو اموی اقتدار کے خلاف اپنی تحریک کو زندہ کرنے کے لئے ایک نظریاتی بنیاد ہاتھ آجائے گی۔ چنانچہ یہی ہوا، امیر معاویہ کے دنیا سے جاتے ہی تمام اسلامی ممالک میں یزید کے خلاف شورش شروع ہوگئی۔ خلیفہ کی حیثیت سے اپنی عمر کا ایک دن بھی اس نے چین سے نہیں گزارا۔ دوسری اہم بات جس کو امیر معاویہ بھول گئے، وہ یہ کہ جس موت کے کنارے کھڑے ہوکر وہ اپنے بیٹے کو وصیت کر رہے ہیں، ان کا بیٹا بھی بہت جلد وہیں پہنچنے والا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یزید بن معاویہ کو مشکل ساڑھے تین سال حکومت کرنے کا موقع ملا۔ اس کے بعد وہ مر گیا۔ یزید کے بعد امیر معاویہ کا پوتا معاویہ بن یزید بن معاویہ (۳۴-۳۹ ھ) تخت نشین ہوا۔ مگر وہ صرف تین ماہ میں ختم ہوگیا۔ امیر معاویہ کی وفات کے بعد چار سال سے بھی کم مدت میں خلافت، معاویہ کے بیٹوں اور پوتوں سے نکل کر مروان بن حکم بن ابی العاص بن امیہ (۶۵-۲ ھ) کے گھرانے میں چلی گئی۔ معاویہ اگر انسان کے اس غیر یقینی مستقبل کو دیکھ لیتے تو وہ شاید ایسا اقدام نہ کرتے جس نے مورخ کو یہ لکھنے کا موقع دیا کہ: "معاویہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اسلام میں قیصر و کسریٰ کی سنت کو رواج دیا۔

دوسری طرف غیر صالح حکمرانوں کو بے دخل کرنے کا علم بلند کرنے والوں کے لئے بھی اس واقعہ میں بہت بڑی نصیحت ہے ـــــ آدمی اگر صبر کا طریقہ اختیار کرے اور اپنے اصلاحی عمل کو اپنے ممکن دائرہ میں محدود رکھے تو بہت جلد اس کو معلوم ہوگا کہ مالکِ کائنات زیادہ بہتر اور کامیاب طور پر اس واقعہ کو ظہور میں لانے کی تدبیر کر رہا ہے جس کو ہم اپنی بے صبری کی وجہ سے صرف ناکام طور پر وقوع میں لانا چاہتے ہیں۔

یہ مقالہ ایک تقریر پر مبنی ہے جو ۸ جنوری ۱۹۷۰ء کو برہان پور مدھیہ پردیش) میں حلقہ نیرنگ خیال کے زیر اہتمام ایک اجتماع میں کی گئی۔

Printed page