Al-Risala · January 1978

خدائی اور بندگی کی دریافت

Al-Risala, January 1978, pp. 8–11

By Maulana Wahiduddin Khan

مومن دراصل وہ ہے جو اس واقعہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ اسرائیل صور لئے کھڑے ہیں اور اس بات کے منتظر ہیں کہ کب خدا کا حکم ہو اور پھونک مار کر سارے عالم کو تہ بالا کر دیں۔ کافر اور مومن کا فرق، باعتبارِ حقیقت ۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ کافر دنیا کی سطح پر جیتا ہے اور مومن آخرت کی سطح پر۔ ایک ، ظاہرِ حیات میں گم رہتا ہے ۔ آخر حیات میں اپنے لئے زندگی کا ساز پال لیتا ہے :

يَعْلَمُونَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ عَنِ وہ صرف دنیوی زندگی کے ظاہر کو جانتے ہیں، وہ آخرت الْآخِرَةِ هُمْ غَافِلُونَ (روم - ۷) کی خبر نہیں رکھتے۔

اس کائنات میں سب سے زیادہ جو چیز نمایاں ہے، وہ آخرت ہے۔ قرآن کے الفاظ میں وہ زمین و آسمان میں بوجھل ہورہی ہے۔ حاملہ کے پیٹ میں پورا حمل جس طرح بظاہر دکھا ئی نہ دیبے کے باوجود اس کے پورے وجود سے بول رہا ہوتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی وقت باہر آ جائے گا۔ ایسے ہی آخرت ساری کائنات میں اس طرح ابلی پڑ رہی ہے کہ ہر وقت یہ اندیشہ ہے کہ ظاہری پردہ پھٹ جائے اور آخرت اپنے تمام لوازم کے ساتھ سامنے آجائے۔ ثقلت في السموات والأرض لا تأتيكم الا بغتة وہ زمین و آسمان میں بوجھل ہورہی ہے۔ اعراف - ۱۸۷ آ جائے گی۔

قرآن میں مومن کی جو تصویر دی گئی ہے، وہ یہ کہ آخرت کے اس بظاہر چھپے ہوئے واقعہہ کو وہ اپنی کھلی ہوئی آنکھ سے دیکھ لیتا ہے۔ آخرت کا خیال اس کے اوپر اتنا زیادہ چھایا جاتا ہے کہ ہر طرف اس کو بس آخرت ہی آخرت دکھائی دینے لگتی ہے۔ ہر واقع اس کو آخرت کی یاد دلانے والا بن جاتا ہے اس کی پوری زندگی کا رخ آخرت کی طرف ہو جاتا ہے۔ دنیا میں ایک شخص سے جو زندگی مطلوب ہے، وہ حقیقتاً یہ نہیں ہے کہ آدمی یہاں کچھ خاص طرح کے عملی رسوم ادا کر لے جس کا نتیجہ مرنے کے بعد دوسری دنیا میں اس کے سامنے آجائے۔ بلکہ اصل مطلوب یہ ہے کہ آدمی موجودہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت میں زندگی گزارنے لگے۔ وہ آج ہی اس دنیا میں سانس لینے لگے جہاں اس کو کل پہنچنا ہے، آدمی جب تصوراتی عبادت کے مقام کو پہنچتا ہے، تو وہ اپنے آپ کو بھی پا لیتا ہے اور اپنے خدا کو بھی۔ اسلام اس کے لئے خدا کی خدائی اور اس کے مقابلہ میں اپنی بندگی کی یافت کے ہم معنی بن جاتا ہے ۔

خدا اپنی پوری شان کمال کے ساتھ کائنات میں ظاہر ہوا ہے۔ خدائی بے پایاں وسعتیں اس کی عظمت کا حال بیان کر رہی ہیں۔ سورج کی تابانیاں اس کے نور کو ہر طرف بکھیر رہی ہیں۔ زمین کا سبزہ و شاداب کرہ اس کی رحمتوں کی کہانی سنا رہا ستاروں کی بھڑکتی ہوئی آگ اس کے ہولناک عذاب کی چتاونی دے رہی ہے۔ غرض ذرہ سے لے کر کہکشانی نظاموں تک ہر چیز خدا کی بے پایاں ہستی کا تعارف ہے۔ اسلام کو پانے کا مطلب خدا کو اس کی کائنات میں دیکھ لینا ہے۔ جب آدمی حقیقی طور پر مومن بن جائے تو زمین و آسمان کی وسعتوں میں پھیلا ہوا یہ عالم اس کے لئے خدا کے جلال و جمال کا آئینہ بن جاتا ہے ۔ مخلوقات کے پردہ میں وہ خالق کو اس طرح پالیتا ہے کہ بقیہ تمام چیزیں اس کے لئے سایہ کی مانند ہوجاتی ہیں۔ خدا سب سے زیادہ حقیقی وجود کی حیثیت سے اس کے قلب و نظر کا مرکز بن جاتا ہے۔

دوسری طرف یہی یافت اس کو یہ بھی بتاتی ہے کہ وہ کس قدر حقیر اور گذر در ہے۔ وہ دیکھنے لگتا ہے کہ اس کائنات میں جو تقسیم ہے وہ عجز اور اختیار کی ہے، نہ کہ خود اختیار کی ۔ یہاں سارا اختیار ایک طرف ہے اور سارا عجز دوسری طرف۔ کی تمام قسمیں خدا کی طرف ہیں، اور عجز و ناداری کی تمام صورتیں انسان کی طرف۔ یہ دریافت اس کے اندر عاجزی کا احساس پیدا وہ اس کو اس حقیقت واقعہ سے باخبر کرتی ہے کہ وہ ایک حقیر وجود ہے۔ حدیث کے الفاظ میں وہ پکار اٹھتا ہے : خدایا تمام انسان بھوکے ہیں الایہ کہ تو انہیں کھانا کھلائے، تمام انسان ننگے ہیں الایہ کہ تو انھیں کپڑا پہنائے، تمام انسان پیاسے ہیں الایہ کہ تو انھیں پانی پلائے، تمام انسان نے سایہ ہیں الا یہ کہ تو انھیں اپنے سایہ میں جگہ دے۔

عجز کا یہ مقام دراصل انسانیت کی پہچان کا مقام ہے۔ جب آدمی اس مقام پر پہنچتا ہے تو اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا اس عظیم کائنات میں اب تک وہ بے جگہ تھا۔ اب اس نے اپنی جگہ پالی۔ وہ وہاں پہنچ گیا جہاں دراصل اس کو ہونا چاہئے۔ آخرت پسندانہ ذہن:

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کا جو تصور دیا ہے، وہ آپ کے لفظوں میں مختصر طور پر یہ ہے: الدنیا مزرعة الآخرة غیر اسلامی زندگی یہ ہے کہ آدمی دنیا ہی کو اپنی کھیتی، بالفاظ دیگر اپنی کوششوں کا حاصل پانے کی جگہ سمجھتا ہو۔ سرگرمیوں کا رخ موجودہ دنیا کی طرف ہو جانے۔ وہ اپنے دنیوی مستقبل کی تعمیر میں لگا ہوا ہو۔ اس کو اپنے مادی مفادات سے دل چسپی ہو۔ وہ انھیں چیزوں کے لئے متحرک ہوتا ہو جس میں اس کے دنیوی معاملات درست ہوتے ہوں۔ جس میں اس کی شخصیت چمکتی ہو۔ جس میں اس کی ”انا“ کو تسکین ملتی ہو۔

اس کے برعکس اسلامی زندگی آخرت رخی زندگی (AKHIRAT ORIENTED LIFE) ہوتی ہے۔ دلچسپیوں کا مرکز وہ دائمی زندگی ہوتی ہے جو مرنے کے بعد سامنے آنے والی ہے۔ وہ ہمیشہ اخروی مستقبل کی فکر میں اس کو خدا کے یہاں سرخرو ہونے کا شوق رہتا ہے نہ کہ دنیا میں با عزت زندگی بنانے کا۔ اس کی توجہ، اس کی تمنائیں، اس کی سرگرمیاں، سب آخرت کے گھر کو بنانے کی طرف لگی رہتی ہیں۔ مختصر یہ کہ غیر مومن دنیا میں زندگی گزارتا ہے اور مومن آخرت میں۔ غیر مومن مرنے کے بعد آخرت کے عالم کو جائے گا۔ اور مومن دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کے عالم میں پہنچ

میڈیکل سائنس کا ایک طالب علم اپنی عمر کے ابتدائی حصہ میں تعلیم و تربیت کے ایک نظام میں داخل ہو کر اپنے آپ کو تیار کرتا ہے تاکہ اپنی عمر کے بقیہ حصہ میں کامیاب ڈاکٹر بن کر با عزت زندگی گزار سکے۔ اسی طرح موجودہ دنیا میں خدا پرستانہ زندگی اختیار کر کے ہمیں اپنے اندر وہ "انسان" تعمیر کرنا ہے جو موت کے بعد آنے والے مرحلہ حیات میں عمدہ زندگی پانے کے قابل ثابت ہو:

مَنْ عَمِلَ صَالِحاً مِّنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ تم میں سے جو کوئی اچھا کام کرے، خواہ مرد ہو یا عورت، اور مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً (نحل - ۹۷) وہ ایمان والا ہو، تو ہم اس کو چلائیں گے اچھا جینا۔ اس کے برعکس معاملہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے غلط روش اختیار کی ۔ وہ آخرت میں اپنے آپ کو ایک پر عذاب زندگی میں گھرا ہوا پائیں گے جس سے نکلنے کی کوئی سبیل ان کے پاس نہ ہوگی:

وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكاً اور جس نے میری یاد دہانی سے منہ پھیرا تو اس کو ملے گی طه - ۱۲۴ ایک تنگ گزران ۔

آخرت کی انھیں دونوں زندگیوں کو جنت اور جہنم سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جنت اور جہنم نہ کوئی طلسماتی چیزیں ہیں اور نہ

محض روحانی چیزیں ۔ وہ زندگی بھی دنیا ہی کی ایک زندگی ہوگی ۔ دونوں اسی آرام اور تکلیف کے زیاوہ کامل مقامات ہیں جن کا ایک ابتدائی نمونہ ہم کو آج کی دنیا میں دکھائی دے رہا ہے۔ قرآن میں جنت کے لذیذ پھلوں کو دنیا کے پھلوں کے ہم شکل بتایا گیا ہے (بقرہ - ۲۵) ۔ اسی طرح جہنم کی زندگی کی تشبیہ اس شخص کی زندگی سے دی گئی ہے جس کی زندگی کا سہارا ایک باغ ہو اور وہ اس کے بڑھاپے کے وقت جل کر تباہ ہو جائے (بقرہ - ۲۶۶) موجودہ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جو شخص اپنی عمر کے ابتدائی مرحلہ میں اپنے اندر تعمیری اہلیت پیدا کرتا ہے، وہ بعد کو زندگی میں اس کی قیمت پاتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اپنے ابتدائی اوقات کو کھیل تماشوں میں گنوا دیتا ہے، وہ بعد کو اس حادثہ سے دوچار ہوتا ہے کہ دنیا کے مواقع سے اپنا حصہ وصول کرنے کی استعداد اس کے اندر نہیں ہوتی ۔ ٹھیک یہی حال زیادہ بڑے پیمانہ پر آخرت کا ہے :

قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّىهَا آخرت میں وہ شخص کامیاب رہے گا جس نے اپنے جی کو شمس - ۱۰ سنوارا، اور وہ شخص نامراد ہوگا جس نے اس کو بگاڑا ۔

دنیا میں عمل کے دوران ہر آدمی اپنے آپ کو کسی نہ کسی ڈھنگ سے تیار کر رہا ہے۔ کچھ لوگ دہ ہیں جو حقیقی معنوں میں ایمان اور عمل صالح کا طریقہ اپناتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے اندر ایک ایسی شخصیت تعمیر کر رہے ہیں جو ایسے ماحول میں خوب ترقی کرے جہاں اخلاقی شعور ہو، حق پرستی ہو، احساس ذمہ داری ہو، ظواہر کے مقابلہ میں جواہر کی قدر ہو، سطحی باتوں کے بجائے اعلیٰ حقائق کی اہمیت ہو، خود غرضی کے بجائے اصول پسندی آدمی کی ترقی کا زینہ بنتا ہو۔ عصبیت کے بجائے حقیقت کی بنیادوں پر فیصلے ہوتے ہوں ، لفظی جدال کے بجائے علمی استدلال اپنے اندر وزن رکھتا ہو۔ ممکن ہے دنیا کے اندر ناکام ہو جائیں کیونکہ یہاں انسانی اقتدار اکثر فساد برپا کئے ہوئے ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس قسم کی صلاحیت والے لوگ اس دنیا میں بے جگہ ہو جاتے ہیں، حتیٰ کہ ان کو ناگزیر معاش حاصل کرنا بھی دشوار ہو جاتا ہے، مگر جیسے ہی یہ زمین و آسمان بدلے جائیں گے (ابراہیم - ۴۸) اور براہ راست خدائی اقتدار کے تحت معیاری دنیا کی تشکیل ہوگی، یہی لوگ دنیا کے سردار بن جائیں گے۔ جو صلاحیتیں انھوں نے پچھلے پر مشقت حالات میں پیدا کی تھیں، وہی اس نئی دنیا میں عزت اور آرام کے مواقع پر قبضہ کرنے کی یقینی ضمانت ہوں گی۔

اس کے برعکس جس نے خدا کے بتائے ہوئے راستہ کو نہیں اپنایا، جس کا حال یہ رہا کہ وہ برتر تقاضوں کے بجائےوقتی محرکات کے پیچھے دوڑتا رہا، جس نے اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کی کہ ابن الوقتی، جوڑ توڑ، خوشامد، سطحیت ، استحصال، عصبیت اور مفادات کی پرستش کے ذریعہ اپنا کام بنائے، جس نے اس فن میں مہارت حاصل کی کہ وہ اپنی غلطی اور بے ہودگی کو خوب صورت لفظوں میں چھپا سکتا ہے، ایسا شخص دنیا میں ہو سکتا ہے خوب نمایاں ہو جائے، کیونکہ یہاں اکثر اوقات ایسا ماحول چھایا رہتا ہے جس میں اس قسم کی صلاحیتوں کو بہت جلد اپنی قیمت مل جاتی ہے۔ مگر جب وہ آخرت کے عالم میں پہنچے گا تو یکایک وہ محسوس کرے گا کہ یہاں اس کے لئے مواقع حیات بالکل ختم ہو گئے ہیں۔ صلاحیتوں کی کوئی قیمت نہیں جو اس نے دنیا میں اپنے اندر پیدا کی تھی ۔

Printed page