Al-Risala · February 1978

THE MOUNTAIN, AT LAST, IS COMING TO MOHAMMED.

Al-Risala, February 1978, pp. 38–42

By Maulana Wahiduddin Khan

اس جملہ کا پس منظر ویہ ہے کہ صلیبی جنگوں میں ناکامی کے بعد جب یورپ کی مسیحی قوموں نے "روحانی کروسیڈ" شروع کی، تو اس کا ایک جز یہ تھا کہ پیغمبر اسلام کو "بناوٹی پیغمبر ثابت کرنے کے لئے فرضی قصے گھڑے جائیں۔ انھیں میں سے ایک جھوٹی کہانی وہ تھی جو اتنی پھیلی کہ مغربی لٹریچر میں ضرب المثل کے طور پر مشہور ہوگئی۔ بیکن (۱۵۶۱-۱۶۲۶) نے اپنے ایک مضمون جرات (BOLDNESS) میں لکھا ہے۔ "ایک جری آدمی محمد جیسے معجزے بار بار دکھا سکتا ہے۔ محمد نے لوگوں کو یقین دلایا کہ وہ ایک پہاڑ کو اپنے پاس بلائیں گے اور وہ ان کے پاس آجائے گا۔ لوگ اس معجزہ کو دیکھنے کے لئے جمع ہوئے۔ محمد نے پہاڑ کو اپنے پاس آنے کے لئے کہا۔ وہ بار بار جب پہاڑ بدستور اپنی جگہ کھڑا رہا تو وہ ذرا بھی نہ شرمائے۔ اب انھوں نے کہا: اگر پہاڑ محمد کے پاس نہیں آیا تو محمد تو پہاڑ کے پاس جاسکتا ہے۔

آج کی دنیا میں تیزی سے ایک تبدیلی آرہی ہے۔ اور اگر ہم گہرائی کے ساتھ دیکھ سکیں تو اس تبدیلی کا رخ اسی منزل کی طرف ہے جس کو امریکی میگزین نے لطیفہ کے طور پر ان لفظوں میں ظاہر کیا تھا: "پہاڑ بالآ خرمحمدؐ کی طرف آرہا ہے" حبقرانہ کھڑا کیا جائے :

اسلامی انقلاب کا معاملہ دندانے دار پہیہ (COG WHEEL) کا سا معاملہ ہے۔ خدا موافق حالات پیدا کر کے اپنے پہیہ کو نکالتا ہے تا کہ اس کے بندے اٹھیں اور اپنے پہیہ کو اس کے ساتھ ملا دیں۔ جب انسانوں کی کوئی جماعت اپنے آپ کو اس طرح خدائی اسکیم کے ساتھ شامل کر دے تو وہ چیز ظہور میں آتی ہے جس کو اسلامی انقلاب کہتے ہیں۔ ساتویں صدی عیسوی کا اسلامی انقلاب اسی قسم کا ایک واقعہ تھا۔ عرب کے علاقہ میں اللہ تعالیٰ نے ملکی اور بین اقوامی یہ موافق حالات پیدا کئے۔ اس وقت مہاجرین وانصار نے رسول کا ساتھ دے کر اپنے آپ کو پوری طرح خدائی اسکیم

میں دے دیا اس کا نتیجہ وہ عظیم الشان انقلاب تھا جس کے اثرات آج تک زمین پر باقی ہیں۔ یہ موافق حالات کیا تھے اور اصحاب رسول نے کس طرح اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دیا، اس کی تفصیل اس سے پہلے سامنے آچکی ہے۔ یہاں ہم اس معاملے کے صرف ایک پہلو کا ذکر کرنا چاہتے ہیں جو انتہائی اہم ہے۔ اکثر حالات میں فیصلہ کن ثابت ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ کوئی بے موقع جھگڑا (خاص طور پر سیاسی جھگڑا کھڑا کر کے ایسی نزاکت پیدا نہ کی جائے جس سے سارا بنا ہوا کھیل بگڑ جائے۔

اسلامی تاریخ میں 11 ھ اسی قسم کا ایک نازک لمحہ تھا پیغمبر کی وفات کے بعد خلیفہ کے انتخاب کا سوال ہوا تو انصار (اہل مدینہ) نے مطالبہ کیا کہ ان کے سردار (سعد بن عبادہ) کو خلیفہ بنایا جائے۔ انصار نے سارے عرب کی دشمنی مول لے کر اسلام کے لٹے ہوئے قافلہ کو پناہ دی تھی۔ اپنی اقتصادیات کو اسلام کی راہ میں برباد کیا تھا۔ اسلام کی خاطر ان کی عورتیں بیوہ اور ان کے بچے یتیم ہو گئے تھے۔ فطری طور پر وہ اپنا حق سمجھتے تھے کہ خلافت ان کے سپرد کی جائے ۔ جب انھوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کا دوسرا گروہ (مہاجرین) اس معاملے میں ان کا ساتھ نہیں دے رہا ہے تو انھوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ خلافت کو دونوں گروہوں میں تقسیم کر دیا جائے ۔ ایک امیر مہاجرین میں سے ہو اور ایک امیر انصار میں سے۔ (منا امیر و منکم امیر)

یہ ایک نہایت نازک صورت حال تھی۔ یہ سیاسی اختلاف اگر باقی رہتا تو مہاجرین اور انصار کی تلواریں ایک دوسرے کے خلاف نکل پڑتیں اور اسلام کی تاریخ ہجرت کے گیارھویں سال ہی عرب کے ایک قصبہ (یثرب) میں ختم ہو جاتی۔ جب جھگڑا بڑھا تو ابو بکر صدیق ﷺ کھڑے ہوئے۔ آپ نے ایک تقریر کی جس میں مسئلہ کے نازک پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ عرب کے حالات میں قریش کی امارت کے سوا کوئی اور امارت قابل عمل نہیں ہے : ولن تعرف العرب هذا الامر الا لهذا الحي من قريش قبیلہ قریش کے سوا کسی اور کی امارت کو عرب کے لوگ تہذیب سیرة ابن ہشام : قاہره ۱۳۷۳، جزء ثانی ، صفحه ۱۵ نہیں جانتے ۔

اس عملی نزاکت کو تسلیم کرتے ہوئے انصار نے اپنے مطالبہ کو واپس لے لیا۔ وہ سیاسی عہدہ کو مہاجرین کے حوالے کر کے " محکومی “ پر راضی ہو گئے۔ اس کے بعد آخر تک خلافت کے معاملے کے لئے ان کی طرف سے کوئی شورش نہیں ہوئی۔ ان کے پورے گروہ میں صرف ایک شخص (سعد بن عبادہ) اس احساس کو اپنے دل سے نکال نہ سکے۔ حتی کہ انھوں نے خلیفہ اول کے ہاتھ پر بیعت نہ کی۔ مگر انھوں نے بھی احتجاج اور مطالبہ کی کوئی مہم نہیں چلائی۔ وہ اپنے اس احساس کو لئے ہوئے مدینہ سے شام چلے گئے اور وہیں خاموش زندگی گزار کر مر گئے۔

انصار کا یہ سیاسی ایثار واحد سب سے بڑا عامل ہے جس نے اسلام کو مقامی دائرہ سے نکال کر ایک عالمی واقعہ بنا دیا۔ خلافت کو اگر وہ " جمہوری " بنانے پر اصرار کرتے تو کبھی یہ کامیابی حاصل نہ ہوتی ۔ بیسویں صدی اسلام کی صدی تھی ، جس طرح ساتویں صدی اسلام کی صدی بنی۔ اللہ نے دوبارہ انتہائی اعلیٰ درجہ کے موافق حالات پیدا کر دیئے تھے۔ مگر پوری صدی مسلمانوں نے لا حاصل قسم کے سیاسی جھگڑوں میں

کوئی گروہ حتیٰ کہ کوئی قابل ذکر مذہبی نہ اٹھا جو اللہ کے منصوبے میں اپنے کو شامل کرے ۔ اب ہم صدی کے آخر میں ہیں اور خدا بدستور تمام مواقع کو لئے ہوئے اپنے بندوں کے انتظار میں ہے جو اس کے پہیہ کے ساتھ اپنا پہیہ جوڑ دیں۔ اسی واقعہ کے ہونے یا نہ ہونے پر مستقبل کا انحصار ہے۔ اگر آج ایسا ہو گیا تو اکیسویں صدی انشاء اللہ اسلام کی صدی ہوگی ۔ اور اگر انسانوں میں ایسے لوگ نہ نکلیں تو عجب نہیں کہ خدا اس کے بعد انسان کے سوا کسی دوسری مخلوق کو اٹھائے اور اس کو حکم دے کہ وہ بول کر امر الہی کا اعلان کرے۔ مگر اس میں ہمارے لئے خوشی کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ کیونکہ انسان کا کام جب غیر انسان انجام دینے لگیں تو یہ خدا کی طرف سے انسان کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ جب خدا کی آواز بلند کرنے کے لئے انسانوں کی زبانیں بند ہو جاتی ہیں، اس وقت دابتہ الرمل (۴۸) زمین سے نکل کر امرحق کا اعلان کرتا ہے۔ مگر جب دابتہ الارض کی زبان سے خدا اپنا اعلان کرانے لگے تو یہ خوشی کا نہیں غم کا وقت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کے بعد زمین و آسمان کی بساط لپیٹ دی جاتی ہے۔ انسان سے زمین کا سبز و شاداب کره چھین لیا جاتا ہے اور اس کو دھوئیں اور آگ کی دنیا کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے، جہاں وہ ابدی طور پر "روتا اور دانت پیستا" رہے، ملوکیت کا خاتمہ دو سو سالہ صلیبی لڑائیوں (۱۰۹۶ - (1096-1271) میں ناکامی کے بعد مغرب کی مسیحی قوموں نے اسلامی دنیا کے خلاف روحانی جنگ (SPRITUAL CRUSADES) کا جو طریقہ نکالا ، اس نے انھیں نئی کامیابیوں سے ہم کنار کیا۔ مسلم اسپین میں علمی تحقیق کا جو کام ہو رہا تھا ، وہ دھیرے دھیرے یورپ منتقل ہو گیا ۔ اور بالآخر سائنسی اور صنعتی انقلاب کا سبب بنا۔ مغربی قوموں نے جدید علمی اور عملی قوتوں سے مسلح ہو کر سارے عالم اسلام پر قبضہ کر لیا۔ 1799 میں ایک طرف ترکوں کے بیڑے کا غرق ہونا اور دوسری طرف ٹیپو سلطان کی شہادت ، اس تبدیلی کا آخری نقطہ تھا جب کہ مغربی قوموں کا غلبہ اپنے کامل درجہ پر پہنچ گیا۔

تاہم اللہ تعالیٰ نے خود سائنسی انقلاب کے اندر ایسے عوامل پیدا کر دیئے جو مغربی قوموں کے خلاف کام کرنے لگے۔ اس کا سب سے پہلا مظاہرہ جدید استشراق کا وجود میں آنا ہے جو ٹامس کارلائل (۱۸۸۱ - ۱۷۹۵) سے شروع ہوا۔ سائنسی طرز فکر نے اس مقدس فریب (PIOUS FRAUD) کو بے معنی ثابت کر دیا جس نے حقائق کو بگاڑنے اور جھوٹے واقعات گھڑنے کو سند جواز عطا کر رکھا تھا۔ اس طرح سائنس کے ظہور نے وہ ذہنی زمین ہی ختم کر دی جس پر قدیم طرز کا استشراق وجود میں آتا تھا۔

پھر انھیں جدید علوم کے بطن سے نیشنلزم اور ڈیموکریسی جیسے نظریات برآمد ہوئے جنھوں نے نو آبادیاتی نظام کو فکری حیثیت سے بے بنیاد ثابت کر دیا۔ قومی اقتدار اور عوامی حکومت کے تصورات خود مغرب سے در آمد ہو کر ان مشرقی مقبوضات میں پہنچے اور آزادی کی تحریکوں کے لئے نظریاتی ہتھیار بن گئے ۔ اس کے بعد صنعتی نظام کی پیدا کردہ

دو عالمی جنگوں نے مغربی قوموں سے طاقت کی منطق بھی چھین لی۔ اس طرح وہ حالات پیدا ہوئے جن میں ایشیا اور افریقہ کے تمام محکوم ممالک مغرب کے سیاسی غلبہ سے آزاد ہوتے چلے گئے۔

اس سلسلے کا آخری واقعہ عرب پٹرول کا ظہور ہے۔ اس نے مغربی قوموں سے اقتصادی برتری کی حیثیت بھی چھین لی جو آخری طور پر ان کے پاس باقی رہ گئی تھی۔ پٹرول کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مسلم ملکوں کی صنعتی پس ماندگی کی تلافی اتنی عالی شان سطح پر کی ہے کہ اب خود صنعتی ممالک ان کے مقابلہ میں دفاع کی پوزیشن میں چلے گئے ہیں۔ اسلام کی اعتباریت (CREDIBILITY)

دوسری اہم چیز جو موجودہ زمانہ میں وقوع میں آئی ہے، وہ ایسے علمی حالات ہیں جنھوں نے حیرت انگیز طور پر اسلام کی اعتباریت ثابت کر دی ہے۔ اس کا ایک پہلو تاریخی اعتباریت (HISTORICAL CREDIBILITY) جدید دور میں مختلف مذاہب کا مطالعہ خالص مور خانہ انداز سے کیا گیا ہے۔ اس سے ثابت ہوا ہے کہ تمام مذاہب میں اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو تاریخی طور پر معتبر ثابت ہوتا ہے۔ باقی تمام مذاہب، خالص تاریخی اعتبار سے، روایتی افسانے سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتے۔ مسیحیت، اسلام کے ماسوا، سب سے قریبی دور کا مذہب ہے۔ اس کا حال یہ ہے کہ اناجیل کے باہر اس کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں۔ حضرت مسیح، ہمارے ایمان کے مطابق، بلاشبہ اللہ کے رسول تھے۔ مگر جہاں تک مدون تاریخ کا تعلق ہے، آپ کی زندگی کے بارے میں ایسے کافی شواہد موجود نہیں ہیں جو معروف تصور کے مطابق آپ کو ایک تاریخی شخصیت کا مقام دے سکیں، اٹھارہویں صدی کے آخر سے لے کر بیسویں صدی کے شروع تک بہت سے محققین سرے سے مسیح کے وجود ہی کے منکر تھے۔ کیوں کہ انجیل کے علاوہ، جس کا استناد خود مشتبہ ہے، حضرت مسیح کی معاصر تاریخ میں آپ کا کوئی ثبوت نہیں مل رہا تھا۔ تاہم موجودہ صدی کے نصف آخر میں چند ایسے قدیم ماخذ تلاش کر لئے گئے ہیں جن میں مسیح کے نام کا حوالہ، اگر چہ مبہم اور مجمل شکل میں ، مگر وہ اتنا کافی ہے کہ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (۱۹۶۶) کے مقالہ نگار کو کہنا پڑا : IT IS DIFFICULT TO WRITE WITH CERTAINTY AN AUTHENTIC LIFE OF JESUS. (Vol. 10, p. 145)

مسیح کے مستند حالات کے ساتھ لکھنا ایک مشکل کام ہے۔

تاہم جہاں تک پیغمبر اسلام کا تعلق ہے، آپ کی زندگی کے بارے میں جب کوئی شخص لکھتا ہے تو اس کو یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے :

(MOHAMMAD WAS) BORN WITHIN THE FULL LIGHT OF HISTORY The Encyclopedia Americana (1961) Vol., 19, p. 292 محمد تاریخ کی مکمل روشنی میں پیدا ہوئے۔

دوسرا اہم پہلو وہ ہے جس کو علمی اعتبار بیت (SCIENTIFIC CREDIBILITY) کہہ سکتے ہیں۔ زمانہ میں جو علمی حقائق دریافت ہوئے ہیں، ان کو سامنے رکھ کر جب مذاہب کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو، اسلام کے سوا، ہر مذہب میں ان کے ساتھ اتنی عدم مطابقت پائی جاتی ہے کہ ان مذاہب کی علمی صداقت پر یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہاں مثال کے طور پر میں صرف ایک حوالہ نقل کروں گا۔

ایک امریکی سائنس داں والٹر اسکر لنڈ برگ (WALTER OSKAR LUNDBERG) نے اس پہلو کا جائزہ وہ کہتے ہیں کہ ایک سائنس داں، دوسروں کے مقابلہ میں، ایک خصوصی موقع (SPECIAL ADVANTAGE) اس بات کا رکھتا ہے کہ وہ خدا کی سچائی کو سمجھ سکے۔ وہ اساسی اصول جس پر اس کے کام کی بنیاد ہے، وہ دراصل خدا کے وجود کا ایک اظہار (AN EXPRESSION OF GOD'S EXISTANCE) ہے، اس کے باوجود سائنس کی تسلیم کے بعد کیوں لوگ خدا کے منکر ہو جاتے ہیں، امریکی پروفیسر کے نزدیک، دومیں سے ایک خاص سبب اس کا یہ ہے: IN ORGANIZED CHRISTIANITY, THERE IS INSTILLED DEEPLY IN YOUNG PEOPLE A CONCEPT OF GOD CREATED IN THE IMAGE OF MAN, RATHER THAN OF MAN CREATED IN THE IMAGE OF GOD. WHEN SUCH MINDS ARE LATER TRAINED IN SCIENCE, THIS REVERSED AND LIMITING ANTHROPOMORPHIC CONCEPT GRADUALLY BECOMES MORE AND MORE INCOMPATIBLE WITH THE RATIONAL, INDUCTIVE ATTITUDE OF SCIENCE, ULTIMATELY, WHEN ALL ATTEMPTS AT RECONCILIATION FAIL, THE CONCEPT OF GOD MAY BE ABANDONED ENTIRELY. The Evidence of God in an Expanding Universe Edited by John Clover Monsma, Pocket books Distributing Co., Bombay, 1 968, p. 56 ترجمہ: عیسائیت کے نظام میں نوجوان لوگوں میں نہایت گہرائی سے ایک ایسے خدا کا تصور بٹھایا گیا ہے جو انسان کی صورت میں ظاہر ہوا، بمقابلہ اس کے کہ ایسے انسان کا تصور بٹھایا جائے جو خدا کی صورت میں پیدا کیا گیا ہو۔ اس طرح کے ذہن بعد کو جب سائنس کی تعلیم حاصل کرتے ہیں تو یہ الٹا اور محدود انسانی تصور خدا تدریجی طور پر سائنس کے عقلی اور استقرائی نقطہ نظر سے زیادہ سے زیادہ غیر مطابق نظر آنے لگتا ہے۔ بالآخر یہ ہوتا ہے کہ جب روایتی عقیدہ اور سائنس کے درمیان مطابقت پیدا کرنے کی ساری کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو وہ خدا کا تصور بالکل ہی چھوڑ بیٹھتے ہیں۔

مگر اسلام کا معاملہ مکمل طور پر ایک مستثنی معاملہ ہے۔ اس کی تعلیمات تمام ثابت شدہ حقائق کے مطابق ہیں اور علمی جانچ میں پوری اترتی ہیں۔ حتیٰ کہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جدید علم پورا کا پورا اسلام کا علم کلام ہے۔ یہ واقعہ علمی حیثیت سے، اسلام کا قابل اعتبار ہونا ثابت کرتا ہے۔ اگر اسلام کسی غیر معتبر ماخذ سے نکلا ہوا ہوتا، یا دوسرے قدیم مذہبوں کی طرح اس میں انسانی ملاوٹ شامل ہوگئی ہوتی تو نا ممکن تھا کہ وہ جدید حقائق کے مقابلہ میں ٹھہر سکے۔

Printed page