فکری زمین
Al-Risala, February 1978, pp. 43–45
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانہ میں جو لوگ اسلام کے سیاسی انقلاب کا نعرہ لے کر اٹھے، نیت کے اعتبار سے خواہ وہ کتنے ہی مخلص ہوں، عملاً ان کی تحریک نے اصل معاملہ کو صرف بگاڑنے کا کام انجام دیا ہے۔ سیاسی انقلاب ہمیشہ فکری زمین پر پیدا ہوتا ہے۔ اسلام کے حق میں یہ فکری زمین ، کم ازکم امکانی طور پر، پوری طرح تیار ہو چکی تھی۔ اب ان کا کام یہ تھا کہ اپنے عمل کے ذریعہ ان فکری امکانات کو بروئے کار آنے کا موقع دیتے۔ مگر انھوں نے غیر ضروری قسم کے سیاسی جھگڑے چھیڑ کر اسلام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ یہ کہنا بمشکل مبالغہ ہوگا کہ بیسویں صدی کی اسلامی سیاسی تحریکیں اگر وجود میں نہ آتی ہوتیں تو اسلام کے سیاسی امکانات آج کہیں زیادہ روشن ہوتے۔ اس معاملہ کو ہندوستان کی آزادی کی تحریک کی مثال سے سمجھئے ۔
قدیم دنیا میں سیاست و حکومت " شاہی محل " کا معاملہ سمجھا جاتا تھا۔ جو شخص بھی طاقت کے زور پر شاہی
محل پر قابض ہو جائے، وہ ملک کا جائزہ حکمران بن جاتا تھا۔ یہ حالات تھے جس انگریز اس ملک میں داخل ہوئے۔ صنعتی انقلاب نے ان کی مدد کی۔ جس طرح ۴۵ ھ میں بابر نے اپنے توپ خانہ کے ذریعہ کامیابی حاصل کی تھی، انگریز نے 1857 میں مشینی طاقت سے مسلح ہو کر ہندوستان کے اقتدار پر اپنے قبضہ کو مکمل کر لیا۔ مگر جس سائنس نے انگریزوں کو مادی طاقت دی تھی، اسی سائنس کے بطن سے وہ سماجی اوپر سیاسی علوم پیدا ہوئے جنھوں نے قدیم فکری زمین کو بدلنا شروع کیا۔ ان علوم نے جمہوریت کا تصور پیدا کیا جس کے بعد شاہی حکمرانی ایک بے دلیل چیز بن کر رہ گئی۔ انھوں نے نیشنلزم کو ترقی دی جس نے کسی ملک کے لیے اس حق کا خاتمہ کر دیا کہ وہ دوسرے ملک کے اوپر حکومت کرے، اس طرح ہندوستان کے مغربی حکمران، خود اپنے ہی پیدا کردہ افکار کے نتیجہ میں، بیسویں صدی میں اس فضا سے محروم ہو گئے جس نے اٹھارویں اور انیسویں صدی میں ان کو اپنے نو آباد یاتی نظام کے لیے موافق فکری زمین فراہم کی تھی ۔
تاہم موجودہ صدی کے نصف اول میں ہندوستان میں جو لوگ سیاسی آزادی کا نعرہ لے کر اٹھے، وہ اس فکری زمین کو اپنے حق میں استعمال کرنے میں ناکام رہے۔ ایک طرف سبھاش چندر بوس (۱۹۴۵ء) اور دوسری طرف محمود حسن دیو بندی (۱۹۳۰ء - ۱۸۵۱ء) جیسے ہزاروں لوگوں نے اپنی زندگیاں قربان کر دیں۔ مگر ہندوستان کو آزاد بنانے کے لئے ان کی کوششیں مکمل طور پر ناکام رہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ انگریز کو اسلحہ کے میدان میں چیلنج کر رہے اور اسلحہ کا میدان وہ تھا جہاں ان کا حریف اب بھی ان کے اور فیصلہ کن حد تک فوقیت رکھتا تھا۔ مہاتما گاندھی (۱۹۳۸ء - ۱۸۶۹ء) پہلے شخص ہیں جنھوں نے حالات کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیا اور اس راز کو سمجھا کہ حصول آزادی کے لئے ہمارا طریق عمل بالکل الٹا نتیجہ پیدا کر رہا ہے۔ ان کے مغربیات کے مطالعہ نے انھیں بتایا کہ دنیا کی سیاسی تاریخ ایک نئے دور میں داخل ہو گئی ہے۔ انگریز میں اس فکری زمین سے محروم ہو چکا ہے جو اب تک اس کو ہندوستان میں حکمرانی کا حق دیے ہوئے تھا۔ تاہم ہمارا متشددانہ طریق کار اس کو بروئے کار لانے میں رکاوٹ بنا ہوا مسلح تصادم کے ذریعہ پیدا شدہ غیر ضروری مسائل کو ختم کر دیا جائے تو اس کے بعد خود بخود جمہوریت اور نیشنلزم کے فکری عوامل ابھر آئیں گے اور انگریز کو سیاسی طور پر بے جگہ بنا دیں گے۔
مہاتما گاندھی ۱۹۱۹ء میں بال گنگادھر تلک کو شکست دے کر آل انڈیا کانگریس کے لیڈر بن گئے۔ اس کے بعد انھوں نے اعلان کیا کہ ہندوستان کی آزادی کی تحریک ہنسا( تشدد) کے بجائے آہنسا (عدم تشدد) کی بنیاد پر چلائی جائے گی۔ یہ اعلان انگریز کے لئے پچھلی دہشت پسند تحریکوں سے زیادہ سخت ثابت ہوا۔ تشدد کو تشدد کے ذریعہ ختم کرنے کا ان کے پاس کافی وجہ جواز تھا۔ مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ عدم تشدد کے اصول پر اٹھنے والے طوفان کا مقابلہ کس طرح کریں۔ کہا جاتا ہے کہ جب یہ صورت حال سامنے آئی تو ایک انگریز کلکٹر نے سکرٹریٹ کو تار دیا :
KINDLY WIRE INSTRUCTIONS HOW TO KILL A TIGER NON-VIOLENTLY.
برائے مہربانی بذریعہ تار ہدایات دیجیے کہ ایک شیر کو تشدد کے بغیر کس طرح ہلاک کیا جائے ۔ تشدد اور مار دھاڑ کا ماحول ختم ہوتے ہی فکری عوامل اپنا کام کرنے لگے۔ نیشنلزم اور جمہوریت کے عصری نظریات نے انگریز کو اس کی سیاسی زمین سے بے دخل کرنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ انگریز کو اس ملک سے رخصت ہونے کا فیصلہ تشدد کے محاذ پر ہاری ہوئی میںگ ، عدم تشدد کے محاذ پر جیت گئی ۔ ایسی ہی کچھ صورت حال آج اسلام کے ساتھ پیش آرہی ہے۔ اسلام کے اختیار کیئے گئے نہر ملک جن سیاسی جنگ لڑی جارہی ہے۔ اس کے نتیجہ میں ہر ملک میں اسلام سیاسی حکمرانوں کا حریف بنا ہوا ہے۔ اسلام اور حکمرانوں کے تصادم کی وجہ سے وہ موافق امکانات بروئے کار نہیں آرہے ہیں جو زمانہ کی گردش سے اسلام کے حصے پید اہوتے ہیں۔ کو اگر سیاسی حریف کے مقام سے ہٹا دیا جائے تو اچانک تمام مصنوعی رکاوٹیں دور ہو جائیں گی مسلمانو ں کی قوتیں مثبت پہلوؤں سے اسلام کی خدمت کرنے میں لگ جائیں گی، عصری امکانات اسلام کے حق میں موافق فضا بنانا شروع کر دیں گے اور پھر بہت جلد لوگوں کو معلوم ہو جائے گا کہ میدان مقابلہ سے واپسی ہی میں پہلے بھی فتح مبین “ تھی اور آج بھی اسی میں فتح مبین کا راز چھپا ہوا ہے۔