الٹی سمت میں
Al-Risala, February 1978, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک لطیفہ ہے کہ دہلی میں ایک مسافر کناٹ پلیس کی سڑک پر چل رہا تھا۔ اس کو پارلیمنٹ ہاؤس جانا تھا۔ اس کا رخ الٹی طرف تھا۔ اس نے راستہ میں ایک شخص سے پوچھا، ” پارلیمنٹ ہاؤس یہاں سے کتنی دور ہوگا “ جواب دینے والے نے کہا ” تقریباً ۲۵ ہزار میل مسافر یہ سن کر گھبرا گیا۔ ” جناب میں آپ سے راستہ پوچھ رہا ہو اور آپ مجھ سے مذاق کر رہے ہیں “ اس نے کہا: معاف میں نے مذاق نہیں کیا۔ اصل میں آپ پارلیمنٹ ہاؤس کے الٹی طرف چل رہے ہیں۔ اس لئے اگر آپ یوں ہی چلتے رہے تو زمین کا پو ما چکر کرنے کے بعد ہی آپ اپنی منزل پر پہنچ سکیں گے جس کی گولائی ۲۵ ہزار میل ہے“ یہ بات بھی اس وقت ہے جب کہ آپ عرض البلد کے ٹھیک اس خط پر چل رہے ہوں جس پر پارلیمنٹ ہاؤس واقع اگر آپ کچھ دائیں بائیں ہو گئے تو زمین کا بار بار چکر کرنے کے بعد بھی آپ اپنی منزل کو پانے سے محروم رہیں گے ۔
پارلیمنٹ ہاؤس کا کوئی مسافر اس قسم کی غلطی نہیں کیونکہ لوگ اپنے دنیوی معاملات میں اتنے نادان نہیں ہوتے کہ اپنی غلطی واضح ہونے کے بعد بھی بدستور الٹی راہ پر چلتے رہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ آخرت کے شدید معاملہ میں بیشتر لوگ اسی غلطی میں مبتلا ہیں۔ والے ان کی غلطیاں واضح کرتے ہیں ۔ ان کا دل بھی گواہی دیتا ہے کہ میں غلطی پر ہوں۔ مگر شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ اس کو عزت کا سوال بنا لیتے ہیں ۔ ” اگر میں نے اس کے کہنے سے اپنی غلطی مان لی تو میں چھوٹا ہو جاؤں گا “ یہ احساس ان کے لئے رکاوٹ بن جاتا ہے ۔ غلط راستہ پر چلتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ تباہی کے گڑھے میں جا گرتے ہیں ۔