Al-Risala · March 1978

جاحظ اور حریری

Al-Risala, March 1978, pp. 4–6

By Maulana Wahiduddin Khan

جاحظ (م ۲۵۵ ھ) بصرہ میں پیدا ہوا۔ وقت کا زبردست عالم اور بے مثل ادیب تھا۔ میں اس نے ایک مستقل مدرسہ فکر پیدا کیا جس کو جاحظیہ کہا جاتا ہے۔ اس نے مختلف فنون پر ۲۰۰ کتا بیں لکھی ہیں۔ استاذ ابن العمیہ (م360 ھ) نے اس کی تصنیفات کے بارے میں کہا ہے: "وہ اولاً عقل اور ثانیاً ادب سکھاتی اس نے حیوانات، نباتات، اخلاقیات، اجتماعیات اور دوسرے موضوعات پر بہت کچھ لکھا ہے، اس کی شائع شدہ کتابیں حسب ذیل ہیں :

کتاب البیان والتبیین کتاب المحاسن والأضداد علم و ادب کے کمال کے با وجود وہ نہایت بد شکل انسان تھا، بے ڈول جسم، بھدا چہرہ، بد وضع ابھری ہوئی آنکھوں کے ساتھ وہ دیکھنے والے کو عجیب الخلقت دکھائی دیتا تھا۔ اس کی آنکھوں کا ابھار اتنا نمایاں تھا کہ اس کی وجہ سے اس کا لقب جاحظ (ابھری آنکھوں والا) پڑگیا۔ اصل نام ابو عثمان عمرو بن بحر تھا۔ کہا جاتا ہے کہ خلیفہ متوکل باللہ نے جب اس کے علم و ادب کی تعریف سنی تو اس کو اپنے لڑکے کا اتالیق بنانے کے لئے سر من رآء (تراق) اپنے پاس بلایا۔ مگر جب اس کی بھدی صورت دیکھی تو اس کو سخت کراہت ہوئی۔ اس نے جاحظ کو دس ہزار درہم دے کر واپس کر دیا۔

مشہور ادیب حریری (۱۷۵ - ۵۱۶ھ) بڑی نہایت بدشکل اور پست قد آدمی تھا۔ ایک آدمی اس کی شہرت سن کر دور سے اس سے ادب سیکھنے آیا، مگر اس کی صورت دیکھ کر بھڑک گیا۔ اس پر حریری نے اس کو کچھ اشعار لکھوائے جس کا ایک مصرعہ یہ تھا:

مثل المعیدی فی ت۰۰۰ ہلی ولا ترني (میں صعیدی کی طرح ہوں، میری باتیں سنو شکل نہ دیکھو)

جو کچھ تم کو دیا گیا ہے، وہ محض دنیا کی زندگی کو برتنے کے لئے ہے۔ اور جو کچھ اللہ کے یہاں ہے، وہ زیادہ بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے۔ وہ ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لائے اور جو اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کی باتوں سے بچتے ہیں۔ اور جب غصہ آ جائے تو معاف کر دیتے ہیں۔ اور جن لوگوں نے اپنے رب کا حکم مانا اور نماز کی پابندی کی۔ اور جو اپنے معاملات آپس کے مشورہ سے چلاتے ہیں۔ اور ہم نے جو رزق ان کو دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اور وہ لوگ کہ جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو وہ برابر کا بدلہ لیتے ہیں۔ اور برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے۔ پھر جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ یقیناً اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ اور جو ظلم ہونے کے بعد برابر کا بدلہ لے۔ اس کو کوئی الزام نہیں۔ الزام صرف ان لوگوں پر ہے جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے۔ البتہ جو شخص صبر کرے اور معاف کر دے تو یقیناً یہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہے۔ جس کو ڈر ہو گا وہ نصیحت پکڑے گا اور اس سے گریز کرے گا وہ بد بخت جس کو بڑی آگ میں جانا ہے۔ نہ اس میں مرے گا اور نہ جئے گا۔ کامیاب ہو گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز ادا کی۔ مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔ حالانکہ آخرت زیادہ بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے۔ انسان کا حال یہ ہے کہ اس کا رب جب اس کو آزماتا ہے اور اس کو عزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو عزت دار بنایا۔ اور جب اس کو دوسری طرح آزماتا ہے اور اس کی روزی اس پر تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو ذلیل کر دیا۔ بلکہ تم لوگ یتیم سے عزت کا سلوک نہیں محتاج کو کھانا دینے کی آپس میں تاکید نہیں کرتے۔ میراث کا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔ اور مال کی محبت میں بری طرح پڑے ہوئے ہو۔ جب زمین کو توڑ توڑ کر ریزہ کر دیا جائے گا۔ اور تمھاراراب ظاہر ہوگا اور فرشتے قطار در قطار آئیں گے۔ اور جہنم اس روز سامنے لائی جائے گی۔ اس دن انسان کو سمجھ آ جائے گی۔ اب سمجھ آنے کا موقع کیاں۔ آدمی کہے گا کاش میں نے اپنی اس زندگی کے لئے آگے کچھ بھیجا ہوتا۔ اس دن اللہ جو عذاب دے گا ویسا عذاب دینے والا کوئی نہیں۔ اور جیسا باندھے گا ویسا باندھنے والا کوئی نہیں۔ والی روح ! چل اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو اللہ سے راضی، اللہ تجھ سے راضی۔ شامل ہو جا میرے بندوں میں اور داخل ہو جا میری جنت میں۔ تباہی ہے ہر اس شخص کی جو عیب نکالتا ہے اور غیبت کرتا ہے۔ جس نے مال جمع کہا اور اس کو گن گن کر رکھا۔ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال ہمیشہ اس کے پاس رہے گا۔ وہ شخص تو روندنے والی جگہ میں پھینک دیا جائیگا۔ اور تم کیا جانو کہ وہ روندنے والی جگہ کیا ہے۔ وہ اللہ کی سلگائی ہوئی آگ ہے جو دلوں تک پہنچے گی۔ وہ ان پر بند کر دی جائے گی، اونچے اونچے ستونوں میں۔

"ہم نے اپنے رسول نشانیاں دے کر بھیجے اور ان کے ساتھ کتاب اور تر از و اتاری ، تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں" (حدید ۲۵) قرآن کا یہ ارشاد بتاتا ہے کہ اجتماعی زندگی میں اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے کیا مطلوب ہے۔ وہ مطلوب یہ ہے کہ ہر شخص اپنے اپنے دائرہ میں دوسروں کے ساتھ وہی رویہ اختیار کرے جو انصاف کے مطابق ہے۔ اس کا ہر عمل خدا کی شریعت کی تراز و میں تلا ہوا ہونا لینا ہو یا دینا ، دونوں حالتوں میں وہ لوگوں کے حقوق کی پوری پوری ادائگی کرے چنانچہ ارشاد فرمایا: اے ایمان والو ، انصاف پر خوب قائم رہو اور اللہ کی گواہی دینے والے بنو۔ اگر چہ اپنی ہی ذات پر ہو نساء ۱۳۵) بندہ مومن کی اگر کسی شخص سے ان بن ہو جاتی ہے ، تب بھی اس کے عادلانہ رویہ میں فرق خدا کا ڈر اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ہر حال میں وہی کرے جو حقیقتاً انصاف کا تقاضا ہے: وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اْعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ (مائدہ - ۸) کسی کی عداوت کے باعث انصاف کو نہ چھوڑو، انصاف کرو۔ یہی بات تقویٰ سے لگتی ہوئی ہے۔ تا ہم خود انصاف پر چلنا جتنا مطلوب ہے ، اتنا ہی یہ بات غیر مطلوب ہے کہ آدمی دوسروں کے خلاف انصاف کا جھنڈا لے کر کھڑا ہو جائے ۔ ہر شخص سے اپنی ذات کے بارے میں خدا کے یہاں پوچھ ہونی ہے اور ہر شخص کی اصلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی ذاتی زندگی میں انصاف کو اپنائے ۔ حاکم کی پوزیشن میں ہو یا محکوم کی، ہر حال میں دوسروں کو اس سے انصاف ملے ۔ اس کے بعد اگر کسی کو نظر آتا ہے کہ اس کا بھائی ، خواہ وہ فرد ہو یا جماعت ، بے انصافی کی روش پر چل رہا ہے ، تو ان کے لئے اس کے اندر نصیحت (خیر خواہی) کا جذبہ ابھر نا چاہئے نہ کہ ایجی ٹیشن اور محاذ آرائی کا۔ اس کو چاہئے کہ اپنے دوسرے بھائیوں کی اصلاح کے لئے اللہ سے دعائے رحمت اور خیر خواہی کے ساتھ ان کو بھلائی کی تلقین کرے ۔ ان کی اصلاح کے لئے وہی مشفقانہ طریقہ اختیار کرے جو وہ اپنی عزیز اولاد کی اصلاح کے لئے کرتا ہے۔ اس کے بجائے احتجاجی سیاست چلانا اور انصاف کا جھنڈا لے کر کھڑا ہو جانا کسی طرح صحیح نہیں ۔ اس قسم کا ہر اقدام صرف بگاڑ میں اضافہ کرتا ہے ۔ وہ کسی بھی درجہ میں حالات کو سدھارنے والا نہیں بن سکتا ۔

Printed page