اختلاف کی قیمت پر سرداری قبول نہ کرنا
Al-Risala, January 1979, pp. 9–10
By Maulana Wahiduddin Khan
ابن سعد نے حضرت میمون کے واسطے سے ایک واقعہ ان الفاظ میں نقل کیا ہے :
قال دس معاوية عمروبن العاص وهو يريد وہ کہتے ہیں۔ امیر معاویہ رض نے عمرو بن العاص رض کو يعلم ما في نفس ابن عمر - يريد القتال ام لا۔ فقال حیلہ کر کے عبد اللہ بن عمر رض کے پاس بھیجا، وہ جاننا یا ابا عبد الرحمن ! ما یمنعک ان تخرج فنبایعك چاہتے تھے کہ خلافت کے بارہ میں ) عبد اللہ بن عمر رض وانت صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم و کے دل میں کیا ہے ۔ وہ لڑنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ ابن امير المومنين وانت احق الناس بهذا الامر بن العاص رض ان کے پاس آئے اور کہا: اے ابو عبد الرحمٰن !
قال وقد اجتمع الناس كلهم على ما تقول ۔ آپ کو کیا چیز روکے ہوئے ہے کہ آپ نکلیں تاکہ ہم لوگ، قال نعم الا نفير يسير ۔ قال لو لم يبق الا ثلاثة آپ سے بیعت کریں۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلاج بھجر لم يكن لى فيها حاجة ۔ قال صحابی اور امیر المومنین کے صاحبزادے ہیں۔ فعلم انه لا يريد القتال کام کے لئے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔ عبداللہ بن عمر (طبقات ابن سعد جلد ۴) نے کہا: جو کچھ تم کہہ رہے ہو کیا اس پر تمام لوگوں کا اتفاق انھوں نے کہا ہاں ، سوا تھوڑے لوگوں کے ۔ بن عمر نے کہا اگر ہجر کے تین مونے عجمی آدمی بھی باقی رہ جائیں تو مجھے اس کام (خلافت) کی حاجت نہیں۔