Al-Risala · March 1979

وہ لوگ جو سوشہیدوں کا اجر پائیں گے

Al-Risala, March 1979, pp. 5–6

By Maulana Wahiduddin Khan

من تمسك بسنتى عند فساد امتی فلہ اجر میری امت میں بگاڑ کے وقت جس نے میری سنت کو پکڑا مائة شهید (الحديث) اس کے لئے سو شہیدوں کا ثواب ہے۔

اسلام کی راہ میں لڑ کر اپنی جان دے دینا ایک ایسا عمل ہے جس کا اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑا انعام ہے۔ مگر بگاڑ کے زما میں اپنے آپ کو سچے دین پر قائم کرنے کا اجر اس سے سوگنا زیاوہ بتایا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اول الذکر اپنے آپ کو ایک دن قربان کرتا ہے۔ جب کہ ثانی الذکر کو ہر روز نہ اپنے آپ کو قربان کرنا پڑتا ہے۔ امت کے اندر جب بگاڑ آتا ہے تو اس وقت یہ حال ہو جاتا ہے کہ ایک بگڑے ہوئے مذہب کا نام دین بن جاتا سارے دینی ادارے، تمام دینی اعزازات اسی بگڑے ہوئے مذہب سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔ دین کے تمام شعبوں میں ایسے لوگ قبضہ پالیتے ہیں جو دین کو تجارت بنا چکے ہوتے ہیں۔ خواص اپنے مصالح کی بنا پر اور عوام اپنی جہالت کی بنا پر اسی بگڑے ہوئے دین کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں جب کوئی بندہ خدا کے سچے اور بے آمیز دین کو لے کر اٹھتا ہے تو سارے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ اس شخص کا دین ان کے اپنے دین کو بے اعتبار بنا رہا ہے۔ وہ فوراً اس کے مخالف بن جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ رسول خدا والے طریقے کو پکڑنے والا آدمی خود اپنے دینی معاشرہ میں بے جگہ ہو جاتا ہے۔ وہ سب کے درمیان ایک غیر مطلوب شخص بن جاتا ہے۔ بگاڑ کے زمانہ میں یہ ہوتا ہے کہ وقتی اور رسمی عملیات کو لوگ جنت کا ٹکٹ سمجھ لیتے ہیں، اس کے مقابلہ میں سنت رسول کو پکڑنے والا آدمی حقیقی اعمال پر جنت کا مدار رکھتا ہے۔ لوگ مذہبی مناظرے اور سیاسی مجادلے کے مشغلوں کو دینی کارنامہ سمجھنے لگتے ہیں، وہ بتاتا ہے کہ صبر اور قربانی کے طریقوں کو اختیار کرنے کا نام دین ہے۔ لوگ اپنے دنیوی ہنگاموں کو دین کا عنوان دیے ہوتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ آخرت کے لئے جینے اور مرنے کا نام دین ہے۔ لوگ اخبار و رہبان کے دین کو پکڑے ہوئے ہوتے ہیں، وہ خدا اور رسول کے دین کو دین کا مقام دیتا ہے۔ لوگ اپنے بزرگوں کے ارشادات وملفوظات سے لپٹے ہوئے ہوتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ قرآن وسنت والے دین کو اپنا دین بناؤ۔ لوگ قصے کہانیوں کے ذریعہ اپنا ایک دینی ایڈیشن تیار کر کے اس کی تلاوت میں مشغول ہوتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ اس کے بجائے محکم آیات اور ثابت شدہ سنت رسول پر اپنے دین کی بنیاد رکھو۔ لوگ اپنے طور پر مختلف قسم کی مذہبی موشگافیاں ایجاد کرتے ہیں اور اس کو دین کا قائم مقام بنا لیتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ اس صاف اور سیدھے دین کو اختیار کرو جو خدا اور رسول نے بتایا ہے اور جو اصحاب رسول کے ذریعہ ہم کو پہنچا ہے۔

جو شخص اس قسم کا دین بگڑے ہوئے زمانہ میں لے کر اٹھے دہ لوگوں کی نظر میں کا فرومشرک سے بھی زیادہ مبغوض ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ وہ ان کی دینی حیثیت کو بے بنیاد ثابت کرتا ہے۔ اس سے ان کو اپنی قیادت پر ضرب پڑتی ہوئی دکھائی اس سے ان کے معاشی مفادات درہم برہم ہوتے ہیں۔ اس سے ان کی گدیاں چھنتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

اس کو ماننا اپنے آپ کو جے ہوئے مفادات سے محروم کرنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ ایسا شخص ایک طرف عوام کی عافیت کوش زندگی کے لئے تازیانہ بن جاتا ہے اور دوسری طرف خواص کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان کے شنہ سواریا سلام ہونے کو مشتبہ بنا رہا ہے۔ یہ چیزیں اس شخص کو اتنی بے شمار فتوں اور مشکلات میں مبتلا کردیتی ہیں کہ اس کے مقابلہ میں ایک دن میدان جنگ میں لڑ کر مرجانا کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔

ان مخالفتوں میں سب سے زیادہ شدید مخالفت ان قائدین کی طرف سے سامنے آتی ہے جو دین کے نام پر دنیوی فائدے حاصل کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کی قیادت کا راز صحیح دین کا علم بردار بننا نہیں ہوتا۔ وہ یہ کرتے ہیں کہ بگاڑ کے زمانے میں پائی جانے والی دینی شکلوں میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ کوئی کسی ادارہ کی گدی پر بیٹھ جاتا ہے، کوئی دینی جشنوں اور تقرییوں میں خطابت کا جوہر دکھا کر مرجع خلائق بن جاتا ہے۔ کوئی دین کو رائج الوقت پیمانوں میں ڈھال کر لوگوں کے درمیان مقبولیت حاصل کر لیتا ہے۔ کوئی گزری ہوئی مقدس شخصیتوں کا سہارا لے کر ان کے نام پر اپنا کاروبار چلا رہا ہوتا ہے۔ کوئی دین کے ایسے سستے نسخوں کی کامیاب تجارت کر رہا ہوتا ہے جس میں لوگوں کو اپنی زندگی کا ڈھانچہ بدلے بغیر جنت کی بشارتیں مل رہی ہوں۔

صحیح دینی دعوت کا اٹھنا اس قسم کے تمام لوگوں کے لئے چیلنج بن جاتا ہے۔ اس کے فروغ میں ان کو اپنا عزت و اقتدار مٹتا ہوا نظر آتا ہے۔ مزید یہ کہ ایک عرصہ تک عزت و استقبال کے جلو میں رہنے کے نتیجے میں ان کے اندر ایک قسم کا دینی کبر پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی ذات کو اور دین کو ہم معنی سمجھ لیتے ہیں۔ فطری طور پر وہ ایک ایسے شخص کا اعتراف کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے جو ان کی امتیازی حیثیت کو بے اعتبار ثابت کرے۔ اعاظم کا کبر ہی یہ مخالفت سچے دین کے علم بردار کے لئے انتہائی شدید مسائل پیدا کردیتی ہے۔ وقت کے دینی حلقوں کی طرف سے اس کا بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔ اس کی بے دینی کے فتوے دیئے جاتے ہیں۔ اس کی معاشیات کو برباد کیا جاتا ہے۔ اس کو ماحول میں بے جگہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے خلاف ہر قسم کی معاندانہ کارروائی کو جائز سمجھ لیا جاتا ہے۔ اکابر قوم کی مخالفت سے اصاغر قوم کو مزید جرات بالا خر یہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ اپنی قوم کے اندر رہنا اس کے لئے انگاروں کے درمیان رہنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ ان حالات میں فساد امت کے وقت سنت رسول کو زندہ کرنے کے لئے اٹھنا اتنی بے پناہ مشکلات کا سبب بن جاتا ہے جو سو بار قتل ہونے کے برابر ہے۔ اسی بنا پر آپ نے فرمایا کہ ایسے شخص کے لئے اللہ کے یہاں سو شہیدوں کا اجر ہے۔ جس طرح خدا کی کوئی حد نہیں ، اسی طرح خدا کے دین کی راہ میں آگے بڑھنے کی بھی کوئی حد نہیں خدا کا دین گویا دنیا میں رزق الہی کا ایک عظیم دسترخوان ہے ، اس رزق کا سب سے بڑا حصہ اسی کو ملتا ہے جو اس راہ میں اپنے کو ملیامیٹ کرنے کے لئے تیار ہو۔ یہ عزت و شہرت کا اسٹیج نہیں، بر بادی کے مقامات ہیں۔ ان مقامات کو طے کرنا بلاشبہ سولی پر چڑھنے سے زیادہ سخت ہے۔ مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ آدمی دین کو اس کی اعلی سطح پر اس وقت تک پا نہیں سکتا جب تک وہ قربانیوں کی قیمت پر دین کو حاصل کرنے کے لئے تیار نہ ہو۔ وما يلقها الا الذين صبروا وما يلقها الا ذو حظ عظیم (حم سجده ۳۵)

Printed page