اللہ کے یہاں دونوں برابر نہیں ہو سکتے
Al-Risala, March 1979, pp. 14–18
By Maulana Wahiduddin Khan
اجعلتم سقایة الحاج وعمارة المسجد الحرام تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی خدمت كمن آمن بالله والیوم الآخر وجاهد فی سبیل کرنے کو اس شخص کے برابر ٹھہرالیا ہے جو ایمان لایا اللہ الله لا يستون عند الله والله لا یهدى القوم پر اور آخرت کے دن پر اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ الذین آمنوا و هاجروا و جاهدوا فی کے نزدیک دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ اور اللہ ظالموں سبیل الله باموالهم وانفسهم اعظم درجة کو راہ نہیں دکھاتا۔ جو لوگ کہ ایمان لائے اور جنہوں نے عند الله واولئك هم الفائزون يبشرهم گھر چھوڑا اور اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ربهم برحمة منه ورضوان وجنت لهم فيها کیا ان کا درجہ اللہ کے یہاں بہت بڑا ہے اور وہی لوگ نعیم مقیم (توبه ۲۱ - ۱۹) کامیاب ہیں۔ ان کا رب ان کو خوش خبری دیتا ہے اپنی طرف سے رحمت اور رضامندی کی اور ایسے باغوں کی کہ ان میں ان کے لئے دائمی نعمت ہوگی۔
کعبہ، اسلام کے ظہور کے بہت پہلے سے تمام عربوں کے نزدیک مقدس چلا آ رہا تھا۔ صدیوں کی تاریخ نے اس کی عظمتیں لوگوں کے دلوں میں قائم کر دی تھیں۔ اس سے معمولی انتساب بھی ایک قابلِ تذکرہ چیز سمجھا جاتا تھا۔ کی زیارت اتنا مقدس عمل تھا جس کو آدمی فخر کے ساتھ بیان کر سکتا تھا۔ کعبہ کا خادم اور منتظم ہونا ایک ایسا مسلمہ اعزاز تھا کہ جس کو حاصل ہو جائے اس کو وہ قوم کا سردار بنانے کے لئے کافی ہو ۔ مکہ کے مشرکین کعبہ کی انہیں پر فخر روایات کے اوپر کھڑے ہوئے تھے۔ کعبہ سے انتساب اور اس کی زیارت و خدمت نے ان کو لوگوں کی نظر میں محترم بنا دیا تھا۔ وہ سوچ نہیں سکتے تھے کہ اس کے باہر بھی فضل و شرف کا کوئی درجہ ہے جو کسی کو خدا کی طرف سے عطا کیا جائے۔
دوسری طرف اسلام تھا جس کی ابھی کوئی تاریخ نہیں بنی تھی۔ جس کے گرد ابھی تک عظمتوں کی روایات جمع نہیں ہوئی تھیں۔ اس کی تصویر لوگوں کی نظر میں یہ تھی کہ ایک یتیم جو ابھی تک بکریاں تک چرایا کرتا تھا، اپنے ذاتی حوصلوں کے تحت داعی حق بن کر کھڑا ہو گیا ہے۔ اور کچھ لٹے پٹے لوگ اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔ والوں کو قوم کے اصاغر کا وقتی مجمع نظر آتا تھا۔ دوسرا، قوم کے اکابر کا شان دار قافلہ جو عزت و شرف کی ابدی مسندوں پر جلوہ افروز ہو۔
مکہ کے لوگ اپنے آپ کو کعبہ کی عظمتوں کے جلو میں پا کر مطمئن تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کی دینی حیثیت مسلم ہے۔ ان کی خدا پرستی میں کسی قسم کے شبہ کی گنجائش نہیں۔ مگر خدا کے یہاں ایسی دینداری کا کوئی اعتبار نہیں جس کے ساتھ دنیوی عزتیں اور مادی ترقیاں وابستہ ہو گئی ہوں۔ جو دین تجارت بن گیا ہو، وہ کسی کی خدا پرستی کو جانچنے کا
معیار کیسے بن سکتا ہے۔ خدا پرستی تو ایسے دین کے ساتھ جانی جاتی ہے جو دنیا کی چمک دمک سے خالی ہو۔ یہی حقیقت ہے اور وہ ہمیشہ غیبی روپ میں انسان کے سامنے آتا ہے۔ خدا پرست وہ ہے جو خدا کو اس کی غیبی صورت وہ یتیم چہرہ ہاسے کے اندر چھپے ہوئے دائمی حق کو دیکھ لے۔ وہ ایک انسان کی زبان سے ادا ہونے والے کلمات میں خدا کی آواز کو پہچان لے۔ وہ معمولی آدمیوں کے ساتھ چلنے والے فرشتوں کی آہٹ کو سن سکے۔ مکہ کے لوگ انتظام حرم اور خدمت حجاج جیسے نمائشی کام کر کے خدا پرستی کے چیمپئن بنے ہوئے تھے۔ ان کو خبر نہ حق کہ عالم الغیب جہاں خدا پرستی کا کریڈٹ دینے کے لئے ان کا انتظار کر رہا ہے وہ دوسرا مقام ہے اور وہ وہی ہے جس کو غیر اہم سمجھ کر انھوں نے نظر انداز کر دیا ہے۔
حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کی خدمت کرنا بجائے خود ثواب کے کام ہیں۔ مگر اس وقت کے تاریخی حالات میں وہ مکہ والوں کے لئے کام سے زیادہ اعزاز بن چکے تھے۔ وہ اس کے ذریعہ بیک وقت دینداری کا شرف حاصل کر رہے تھے اور اسی کے ساتھ عزت و اقبال کی گدیاں بھی۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے والوں کا معاملہ بالکل مختلف تھا۔ ان کے لئے دین داری عملاً اپنے آپ کو بربادی کے راستہ پر ڈالنے کے ہم معنی تھی اول الذکر کو دین کے نام پر عزت وجاہ کا تمغہ ملنا تھا۔ ہر قسم کی دنیوی سہولتیں فراہم ہوتی تھیں۔ یہ تسکین حاصل رہتی تھی کہ ہماری دین اور دنیا دونوں محفوظ ہیں۔ جب کہ ثانی الذکر کے لئے دین ایک سراپا جان جوکھم کا معاملہ تھا۔ اس میں رواج کا ساتھ دینے کے بجائے اپنی قوت فیصلہ کو استعمال کرنا تھا۔ سامنے کے فائدے کو چھوڑ کر غیب کے فائدے کی جانب عافیت کی زندگی کو خیر باد کہہ کر کھلیڑ کی زندگی اختیار کرنا تھا۔ ایک کے لئے دین ایک شان دار تجارت تھی دوسرے کے لئے دین سراپا قربانی۔ ایک گروہ حالات کے رتھ پر سوار تھا۔ دوسرے گروہ کا معاملہ یہ تھا کہ رواجی فکر کے دائرہ سے نکال کر اس نے اپنے آپ کو خدائے وحدہ لاشریک کا مومن بنایا تھا۔ دنیا کے بنے ہوئے نقشہ سے بغاوت کر کے اپنے آپ کو آخرت کے ان دیکھے راستہ پر ڈالا تھا۔ چلتی ہوئی زندگی سے موافقت کرنے کے بجائے ایک ایسی نئی تحریک کا ساتھ دیا تھا جس میں بظاہر کش مکش اور محرومی کے سوا اور کچھ نہیں۔ مزید یہ کہ اس قسم کی جان جوکھم دینداری اختیار کرنے کے بعد بھی وہ وقت کے مذہبی ٹھیکیداروں کی نظر میں بے دین ہی بنے ہوئے تھے۔ اللہ کے یہاں اس ایمان کا درجہ بہت بڑا ہے جب کہ آدمی کا ایمان اس کے لئے عوتیں اور شوکتیں جمع کرنے کے ہم معنی نہ بن رہا ہو۔ جب ایمان کی راہ اختیار کرنا اس قیمت پر ہو کہ آدمی سے اس کا گھر بار اور عزیز و اقارب تک چھوٹ جائیں۔ جب اسلام کے لئے اٹھنے میں کچھ ملتا تو در کنار اپنے جان و مال کو اس کی راہ میں قربان کر دینا پڑے۔ ایسے ہی لوگ خدا کے سچے مومن ہیں۔ ان کے لئے خدا کی رحمتیں اور اس کی رضامندیاں ہیں۔ ان کے لئے ابدی خوشیوں اور راحتوں کی وہ دنیا ہے جس کا دوسرا نام جنت ہے۔ موجودہ دنیا امتحان کا مقام ہے۔ یہاں تھی کو ہمیشہ مشتبہ حالت (انعام (9) میں سامنے لایا جاتا ہے۔ آدمی کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ پردہ پوش حق کو بے پردہ حالت میں جو خدا کو اس کے غیبی لباس میں نہ پا سکے اس نے خدا کو پایا ہی نہیں۔
یہ صفحہ آپ کے لئے خالی ہے ۔ ہمارا ہر ہمدرد جو ہماری اپیل پر لبیک کہے وہ اس خالی صفحہ کو اپنے عہد کی سیاہی سے پُر کرے۔ یہاں وہ اپنے اس عزم کو تحریر کرے جو ملت کے اندر فکری بیداری پیدا کرنے کے لئے وہ اپنے رب کو گواہ بنا کر کیا عجب کہ یہی ورق کسی وقت ملت کے مستقبل کا ورق بن جائے ۔ مالا غدر کے بعد
تعمیر ملت اور احیاء اسلام کی مہم آپ کو آواز دیتی ہے دقتی جوش کے تحت بڑی قربانی دینا آسان ہے۔ مگر کامیابی کا راز ان چھوٹی چھوٹی قربانیوں میں ہے جو سنجیدہ فیصلہ کے تحت تسلسل کے ساتھ دی جائیں۔ ہم اسی قسم کی ایک چھوٹی قربانی کے لئے آپ سے اپیل کر رہے ہیں ۔
وہ لوگ جو رسالہ کو ضروری اور مفید سمجھتے ان سے ہماری درخواست ہے کہ وہ اس کی ایجنسی قبول کر کے اس فکری مہم میں ہماری مدد فرمائیں۔ پانچ پرچہ کی قیمت بعد وضع کمیشن ساڑھے سات روپے ہمارا ہر ہمدرد یہ طے کرے کہ وہ پانچ پرچے ہر حال میں منگائے گا۔ اور جب تک خریدار مہیا نہ ہوں لوگوں میں مفت تقسیم کرے گا۔ اور اس وقت تک ساڑھے سات روپے ماہانہ اپنے پاس سے ادا کرتا رہے گا جب تک خریدار نہیں مل جاتے۔
موجودہ حالات میں ایک شخص کے لئے یہ بہت چھوٹی قربانی ہے۔ لیکن اگر ہمارا ہر ہمدرد اس قربانی کو اپنی زندگی میں شامل کرلے تو چند سالوں میں انشاء اللہ بہت بڑے نتائج نکل سکتے ہیں۔
یونیورسٹی کے ایک استاد نے اپنے ساتھی سے ماہنامہ الرسالہ کا تعارف کرتے ہوئے کہا : IT PRESENTS ISLAM AS A LIVING FAITH یہ اسلام کو ایک زندہ مذہب کی حیثیت سے پیش کرتا ہے ۔
اس معاشرہ میں کوئی خوبی نہیں جس میں تنقید اور نصیحت کا ماحول نہ ہو طبرانی نے عبدالعزیز بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ کچھ لوگوں کو آپ سے شکایت ہوئی۔ انھوں نے ایک موقع پر آپ کو دھکا دے کر گرا دیا۔ آپ لڑکے کے دوڑے تو آپ نے فرمایا: ٹھہر و خدا کی قسم کوئی جان جو نکالی جانے والی ہو، اس کا نکالا جانا مجھ کو ابو بکرہ کی جان نکالے جانے سے زیادہ محبوب نہیں۔ لڑکوں نے پوچھا کیوں، آپ نے فرمایا کہ میں ڈرتا ہوں کہ میں وہ زمانہ پاؤں جس میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ کر سکوں، کیوں کہ اس وقت کوئی خیر نہ ہوگا (انی اخشی ان ادرک زمانالا استطیع ان آمر بالمعروف ولا انہی عن منکر۔ خیر یو مئذ )