تنقید سن کر برہم نہ ہونا
Al-Risala, March 1979, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ نے خالد بن الولید کو فوج کی سپہ سالاری سے معزول کر دیا ۔ امام احمد نے ناشرہ بن سمی الیزنی سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے یوم جابیہ میں عمر رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا۔ آپ نے فرمایا: اے لوگو! میں تم کو بتاتا ہوں کہ میں نے خالد بن الولید کو کیوں معزول کیا۔ نے ان کو حکم دیا کہ اس مال کو کمزور مہاجرین کے لئے روکیں۔ مگر انھوں نے اس کو صاحب شرف اور صاحب لسان کو دے دیا۔ اس بنا پر میں نے ان کو معزول کر دیا۔ اور ان کی جگہ ابو عبیدہ بن جراح کو مقرر کر دیا؛ ابو عمر و بن حفص (حضرت خالد کے رشتہ دار مجمع میں موجود تھے۔ وہ اس کو سن کر اٹھے اور کہا: خدا کی قسم اے عمر بن خطاب ! یہ کیا عذر ہے جو تم نے بیان کیا تم نے اس شخص کو ہٹا دیا جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کیا تھا، تم نے وہ تلوار میان میں ڈال دی جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے نیام کیا تھا، تم نے وہ جھنڈا گرا دیا جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑا کیا تھا ( و وضعت لواء نصبه رسول الله صلى الله عليه وسلم ) تم نے اپنے چچا کے لڑکے سے حسد کا معاملہ کیا، عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو سنا اور اس کے بعد نرمی کے ساتھ فرمایا: تم خالد کے قریبی ہو، نو عمر ہو، اپنے چچا زاد بھائی کے معاملہ میں غصہ میں آگئے ہو (انك قریب القرابة، حدیث السن، مغضب في ابن عمك )