ان کا اختلاف حق کے لئے ہوتا تھا
Al-Risala, March 1979, pp. 18–14
By Maulana Wahiduddin Khan
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ وظائف کی تقسیم میں مساوات برتتے تھے۔ آپ سے کہا گیا کہ مہاجرین و انصار کو دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ دیجئے۔ آپ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا : ان کی فضیلت اللہ کے یہاں ہے۔ یہ گزر بسر کی چیز ہے، اس میں ہماری بہتر ہے ( فضائلهم عند الله واما هذا المعاش فالسوية فيه خير، احمد)
عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اس سے اختلاف تھا۔ آپ خلیفہ ہوئے تو آپ نے تقسیم وظائف میں درجات کے اعتبار سے فرق کیا۔ آپ نے مہاجرین وانصار کے لئے پانچ پانچ ہزار درہم مقرر کئے اور دوسرے مسلمانوں کے لئے چار چار ہزار درہم۔ اس اصول کے مطابق اسامہ بن زید کو چار ہزار درہم ملے۔ تاہم اپنے لڑکے عبد اللہ رض کو صرف تین ہزار درہم دئے۔ یہ سن کر عبداللہ بن عمر نے اپنے والد سے کہا: آپ نے اسامہ کو چار ہزار دیئے ہیں اور مجھے تین ہزار، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اس کو مجھ پر ترجیح نہیں دی۔ عمر نے جواب دیا : اسامہ کے والد تمہارے والد سے زیادہ محبوب تھے اور اسامہ رسول اللہ صلی
تین ہزار درہم دیئے۔ انھوں نے کہا: "اسامہ بن زید کو آپ نے چار ہزار درہم دیئے اور میرے لئے تین ہزار درہم مقرر کئے، ان کو یا ان کے باپ کو کون سی فضیلت حاصل ہے جو مجھ کو نہیں۔ عمر ی اللہ عنہ نے فایا: ان کے باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمھار سے باپ سے زیادہ محبوب تھے اور وہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے زیادہ محبوب تھے۔ اباہ کان احب الی رسول اللہ صلی اللہ وسلم من ابیک و ھو کان احب الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منك، بزار) ایک روایت کے مطابق عمر ی اللہ عنہ نے آخر عمر میں فرمایا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے عملاً زیادہ درست تھی (فرایہ خیر رائی، بزار)