Al-Risala · March 1979

قرآن سامنے آتے ہی رک جانا

Al-Risala, March 1979, pp. 14–20

By Maulana Wahiduddin Khan

عبداللہ بن عباس رم کہتے ہیں عیینہ بن حصن مدینہ آئے اور اپنے بھتیجے حر بن قیس کے یہاں ٹھہرے ۔ حر بن قیس ان لوگوں میں تھے جن کو عمر رضی اللہ عنہ کی قربت حاصل تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس اور ان کے مشوروں میں شریک ہونے والے قرآن کے علماء ہوتے تھے خواہ وہ بوڑھے ہوں یا جوان ۔ عیینہ نے حر بن قیس سے کہا: اے میرے بھتیجے ! تم کو امیر المؤمنین کے یہاں رتبہ حاصل ہے، میرے لئے امیر المؤمنین سے ملنے کی اجازت حاصل کرو۔ اجازت مانگی اور عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت دے دی۔ عیینہ آئے اور کہا : اے خطاب کے لڑکے ! تم ہم کو نہ مال دیتے ہو اور نہ ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتے ہو (ھی یا ابن الخطاب فواللہ ما تعطينا الجزل ولا تحکم فینا بالعدل) عمر رضی اللہ عنہ سن کر غصہ میں آگئے ۔ قریب تھا کہ ان پر ٹوٹ پڑیں۔ اتنے میں حر بن قیس نے کہا: اے امیر المومنین ! اللہ نے اپنے رسول سے کہا ہے " معافی کا طریقہ اختیار کرو، نیکی کا حکم کرو اور جاہلوں سے اعراض کرو (اعراف ۱۹۹) اور یہ شخص یقیناً جاہل ہے۔ راوی کہتے ہیں: والله ما جاوزھا عمر حين تلاھا وكان وقافا عند كتاب الله (بخاری) خدا کی قسم قرآن کی آیت سننے کے بعد عمر رض نے ذرا بھی تجاوز نہیں کیا۔ وہ قرآن کے سامنے بہت زیادہ رک جانے والے تھے۔

ضد اور عناد ان کے لئے سچائی کو پہچاننے میں رکاوٹ نہ بن سکا ہجرت سے چند سال پہلے مدینہ میں اسلامی دعوت کا آغاز ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصعب بن عمیر رض کو وہ وہاں پہنچ کر خاموشی سے لوگوں کے درمیان اسلام کی تبلیغ کرتے اور قرآن پڑھ کر سناتے۔ سعد بن معاذ

مدینہ کے قبیلہ بنو عبد الاشہل کے سردار تھے۔ ان کو معلوم ہوا تو بہت خفا ہوئے۔ ایک روز نیزہ لے کر مصعب بن عمیر کی تلاش میں نکلے۔ بستی کے باہر ایک کنوئیں پر ان کو پایا جو کچھ لوگوں کو جمع کرکے ان کو دینی باتیں بتا رہے تھے۔ سعد بن معاذ قریب آئے اور غصے سے خطاب کرتے ہوئے کہا: کون اس اجنبی شخص کو وہاں لایا ہے جو ہمارے کمزور لوگوں کو بہکاتا ہے کیا تم ہمارے گھروں میں یہ چیز داخل کرنا چاہتے ہو جس کو ہم برا سمجھتے ہیں۔ میں آج کے بعد میں تم کو یہاں نہ دیکھوں! بن زرارہ جو ان کے ہم قبیلہ تھے اور اسلام لا چکے تھے بولے: "میرے خالہ زاد بھائی! ان کی بات بھی سن لو۔ اگر نا معقول ہو تو رد کر دینا اور معقول دکھائی دے تو مان لینا۔ " سعد بن معاذ کچھ نرم پڑے۔ انھوں نے کہا ان کی بات کیا ہے ۔ مصعب بن عمیر نے اس کے جواب میں قرآن سے سورہ زخرف کا ابتدائی حصہ پڑھ کر سنایا۔ قرآن کو سنتے ہی ان کا جوش ٹھنڈا پڑ گیا۔ وہ نئی سوچ میں پڑ گئے۔ یہاں تک کہ چند روز بعد انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اب انھوں نے خود ہی بنو عبد الاشہل میں تبلیغ شروع کر دی۔ انھوں نے اپنے قبیلہ کے لوگوں سے کہا:

من شك من صغير او كبير او ذكر اون انثى فليأتنا کسی چھوٹے یا بڑے، مردیا عورت کو اس کے بارے میں باهدی منه نلخذ به فوالله لقد جاء امر شک ہو تو وہ ہمارے پاس اس سے زیادہ ہدایت لانی لتخزن فيه الرقاب (ابو نعیم فی دلائل النبوة) چیز لے آئے ہم اس کو لے لیں گے۔ خدا کی قسم یہ ایک ایسی بات آگئی ہے کہ اس کے آگے گردنیں جھک جائیں۔

Printed page