اپنے خلاف تنقید کو پسند کرنا
Al-Risala, March 1979, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ اس شخص کا بھلا کرے جو میرے عیوب کا تحفہ مجھے بھیجے ۔ انصاف میں بڑے چھوٹے کا لحاظ نہیں امام شعبی نے روایت کیا ہے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی ایک زرہ جنگ جمل میں کھو گئی تھی۔ حضرت علی ایک روز بازار میں چل رہے تھے۔ دیکھا کہ ایک نصرانی زرہ میں بیچ رہا ہے۔ انھوں نے اپنی گم شدہ زرہ اس کے پاس پہچان لی اور کہا کہ یہ میری زرہ ہے۔ مسلمان قاضی میرے اور تمھارے درمیان فیصلہ کرے گا۔ حضرت علی امیر المومنین تھے اور قاضی شریح اس وقت قضا کے عہدہ پر تھے۔ مقدمہ قاضی شریح کی عدالت میں پیش ہوا۔ حضرت علی نے کہا: "اے شریح ! میرے اور اس کے درمیان فیصلہ کرو"، قاضی شریح نے کہا "اے امیر المومنین۔ آپ کا دعویٰ کیا ہے؟ " حضرت علی نے کہا " یہ زرہ میری ہے" قاضی شریح نے نصرانی سے کہا: "تم کیا کہتے ہو؟ نصرانی نے کہا: "امیر المومنین غلط بیانی کر رہے ہیں یہ زرہ میری ہے۔ " قاضی شریح نے حضرت علی سے کہا: "آپ کے گواہ کون ہیں۔ حضرت علی نے اپنے لڑکے حسن اور اپنے غلام قنبر کو پیش کیا۔ قاضی شریح نے کہا: حسن کی جگہ کوئی اور گواه لائیے۔ حضرت علی نے کہا: اترد شہادة الحسن (کیا تم حسن کی شہادت کو رد کر رہے ہو) قاضی شریح نے جواب دیا: یہ بات نہیں۔ مگر میں نے آپ ہی سے سن کر یاد کیا ہے کہ لڑکے کی گواہی باپ کی موافقت میں جائز نہیں۔ لا، ولكن حفظت عنك انه لا تجوز شهادة الوالد على الولد، (كنز العمال، جلد ۴، صفحه ۶)