جواب میں الزام تراشی نہیں
Al-Risala, March 1979, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب ابتدائی زمانہ میں آپ کے سرپرست تھے۔ بعثت کے دسویں سال ابو طالب کا انتقال ہو گیا تو مکہ والوں کو موقع مل گیا۔ انھوں نے آپ کو برادری سے خارج کر دیا۔ اب ضروری تھا کہ آپ اپنے لئے کوئی نیا حمایتی تلاش کریں۔ آپ اپنے چچا عباس بن عبد المطلب کو لے کر عکاظ کے میلے میں گئے۔ مختلف قبائل کے خیموں میں جا کر ان سے کہا کہ مجھے اپنی حمایت میں لے لو تا کہ میں اپنے تبلیغی کام کو جاری رکھ سکوں۔ قریش مکہ کے ڈر سے کوئی تیار نہ ہوا۔ اگلے سال دوبارہ آپ عرب کے میلوں میں حمایتی کی تلاش میں نکلے۔ یثرب (مدینہ) کے قبائل اوس و خزرج کے چھ آدمیوں سے آپ کی ملاقات ہوئی۔ آپ نے ان کو اسلام کا پیغام دیا۔ نے پوچھا کہ آپ پر جو وحی آتی ہے وہ کیا ہے۔ آپ نے ان کو سورہ ابراہیم کی آیتیں سنائیں۔ اس کو سن کر ان کا دل نرم ہو گیا۔ انھوں نے فوراً اسلام قبول کر لیا۔ یہ رات کا وقت تھا۔ آپ ان لوگوں سے باتیں کر رہے تھے کہ عباس بن عبد المطلب ادھر سے گزرے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پہچان کر وہ وہاں آ گئے۔ انھوں نے پوچھا: اے میرے بھتیجے یہ کون لوگ تمھارے پاس ہیں؟ آپ نے جواب دیا: اے میرے چچا یہ یثرب کے رہنے والے ہیں۔ میں نے ان کو دہ دعوت پیش کی جو اس سے پہلے دوسرے قبائل کے سامنے پیش کی تھی، انھوں نے مان لیا اور میری تصدیق کی۔ کے لئے تیار ہیں کہ مجھ کو اپنے یہاں لے جائیں۔ عباس بن عبد المطلب سواری سے اتر پڑے ۔ انھوں نے اپنے اونٹ کو باندھ دیا اور کہا: اے اوس اور خزرج کی جماعت! یہ میرا بھتیجا ہے اور وہ مجھ کو تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہے۔ اگر تم نے اس کی تصدیق کی ہے اور اس پر ایمان لائے ہو اور اس کو اپنے یہاں لے جانا چاہتے ہو تو میں تم لوگوں سے ایک عہد لینا چاہتا ہوں تاکہ میرا دل مطمئن رہے۔ نہ یہ کہ تم اس کو رسوا نہیں کرو گے اور اس کو دھوکا نہیں دو گے۔ کیوں کہ تمھارے پڑوس میں یہودی ہیں اور یہود اس کے دشمن ہیں۔ اور میں اپنے بھتیجے کو ان کے مکر سے محفوظ نہیں سمجھتا۔ اسعد بن زرارہ، جو یثرب والوں کے سردار تھے، ان کو عباس بن عبد المطلب کا یہ قول برا معلوم ہوا۔ کیوں کہ انھوں نے ان کے کردار پر شک و شبہ کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے عباس بن عبدالمطلب کا جواب دینے کی اجازت آپ نے فرمایا: تم جواب دو، مگر جواب میں الزام کا طریقہ نہ اختیار کرنا (اجیبوه غیر متهمين، ابو نعیم، دلائل النبوة ص۱)