بے فائدہ باتوں کا جواب نہ دینا
Al-Risala, March 1979, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
ابو سفیان کی بیوی ہند بنت عتبہ فتح مکہ کے بعد اسلام پر بیعت ہونے کے لئے آئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت کے الفاظ ادا کرتے ہوئے فرمایا ولا تقتلن اولادکن (تم اپنی اولاد کو قتل نہیں کروگی)۔ یہ ہند نے کہا: انت قتلتہم يوم بدر (دران کو تو آپ ہی نے جنگ بدر میں قتل کر دیا)۔ دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں: وہل ترکت لنا اولادا نقتلہم (کیا آپ نے ہماری اولاد کو باقی رکھا ہے جو ہم انھیں قتل کریں، تفسیر ابن کثیر جلد ۴) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان باتوں کا کوئی جواب نہیں دیا اور ہند بنت عتبہ کی بیعت قبول کرلی۔ طعن و طنز کی زبان میں کلام کرنا درست نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک پہنچ کر جب دیکھا کہ لشکر میں کعب بن مالک نہیں ہیں تو آپ نے فرمایا : ما فعل کعب (کعب نے کیا کیا)۔ بنی سلمہ کے ایک شخص نے کہا: اے خدا کے رسول، ان کو ان کی چادر نے اور اپنے کاندھوں کو دیکھنے نے روک دیا حبسہ برد او نظرة في عطفيه معاذ بن جبل نے جواب دیا: تم نے نہایت بری بات کہی۔ اے خدا کے رسول ! ہم نے کعب میں خیر کے سوا کوئی اور بات نہیں دیکھی (بئس ما قلت، واللہ یا رسول اللہ ما علمنا عليه الاخیرا ، البدایہ والنہایہ)