زبان کو روکنا تمام بھلائیوں کا دروازہ
Al-Risala, March 1979, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ انھوں نے آپ سے پوچھا : اے خدا کے رسول مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھ کو جنت میں لے جائے اور جہنم سے دور کر دے۔ آپ نے فرمایا تم نے بہت بڑی بات پوچھی۔ اور یہ آسان ہے جس پر اللہ اس کو آسان کر دے۔ پھر آپ نے فرمایا : تم اللہ کی عبادت کرو۔ کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، نماز ادا کرو، زکوٰۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو۔ پھر فرمایا : کیا میں تم کو بتاؤں کہ بھلائی کے دروازے کیا ہیں۔ سنو، روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہ کو اس طرح بجھاتا ہے جس طرح پانی آگ کو۔ اور رات کی خاموشی میں اٹھ کر نماز پڑھنا۔ پھر فرمایا : کیا میں تم کو بتاؤں کہ دین کا سرا کیا ہے اور اس کا ستون کیا ہے اور اس کی چوٹی کیا ہے۔ میں نے کہا ضرور اے خدا کے رسول۔ فرمایا : اس کا سرا اسلام ہے، اس کا ستون نماز ہے، اور اس کی چوٹی جہاد ہے۔ پھر فرمایا : کیا میں تم کو بتاؤں کہ ان تمام چیزوں کی جڑ کیا ہے۔ میں نے کہا ضرور اے خدا کے رسول۔ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا کفت عليك ھذا (اس کو روکے رکھو) میں نے کہا اے خدا کے رسول ہم جو کچھ بولتے ہیں، کیا اس کا بھی ہم سے مواخذہ ہوگا۔ آپ نے فرمایا : تمھاری ماں تمھیں گم کرے۔ لوگ اپنی زبان کی بدولت ہی تو آگ میں منھ کے بل گرائے جائیں گے (ثكلتك امك وهل يكب الناس في النار على وجوههم الا حصائد السنتهم ، ترندی)