Al-Risala · March 1979

خاموش رہنا اور اہل تنہ کو بولنے کا موقع دینا

Al-Risala, March 1979, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی تو مدینہ میں نفاق نے زور پکڑا اور عرب و عجم مرتد ہونے لگے۔ نہاوند (ایران) سے ان کی ساز باز ہوگئی۔ انھوں نے کہا وہ آدمی (رسول) وفات پاگیا جس کی وجہ سے مسلمانوں کو خدا کی مدد حاصل ہوتی تھی۔ اس وقت خلیفہ اول ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مہاجرین اور انصار کو جمع کیا اور کہا: ان عربوں نے بکری اور اونٹ (زکوۃ) دینا بند کر دیا ہے۔ وہ اسلام سے پھر گئے ہیں، عجمیوں نے نہاوند والوں سے ساز باز کرلی ہے تاکہ وہ مل کر تم سے لڑیں۔ ان کا خیال ہے کہ وہ شخص چلا گیا جس کی وجہ سے تمھاری مدد ہوتی تھی۔ اب تم لوگ مجھ کو مشورہ دو۔ میں بھی تمھاری طرح ایک آدمی ہوں۔ بلکہ خلافت کا بوجھ اٹھانے کے لئے تم سب سے زیادہ کمزور ہوں ۔ " عبداللہ بن عمر رض کہتے ہیں: صحابہ کرام نے سنا اس کے بعد وہ چپ ہو کر بہت دیر تک گردن جھکائے رہے پھر عمر بن الخطاب رض بولے۔ - - (فانظر توا طویلا ۔ ثم تكلم عمر بن الخطاب رض فقال... کنز

Printed page