یہ دین داری نہیں نفس پرستی ہے
Al-Risala, January 1979, pp. 12–16
By Maulana Wahiduddin Khan
بہت سے لوگ شعبان کی پندرہ تاریخ کو حلوا پکاتے مشہور یہ ہے کہ اس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دانت شہید ہوا تھا اور اسی بنا پر کوئی سخت چیز کھانے کے بجائے آپ نے حلوہ تناول فرمایا۔
یہ بات تاریخ کے بالکل خلاف ہے۔ اور اربابِ سیر کے اتفاق کے مطابق آپ کا دانت غزوہ احد میں شہید ہوا تھا اور غزوہ احد شوال (۳ھ) میں پیش آیا ہے نہ کہ شعبان میں ۔ نیز اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ اس دن آپ نے حلوہ نوش فرمایا۔
دانت شہید ہونے کے واقعہ سے "حلوہ" کھانے کی سنت تو نکال لی گئی۔ مگر کسی کو اس سے دل چسپی نہیں کہ یہ بھی معلوم کرے کہ وہ کون سا فرض تھا جس کی ادائیگی کے لئے آپ نے اتنی سرگرمی دکھائی کہ آپ کے دانت مجھے ایسی ہی میری ظاہر سے معاف رکھو۔ میں تمھاری دعوت نہیں کھاؤں گا۔ تک شہید کر دیتے ہیں ۔ یہ دین داری نہیں، دین کے نام پر نفس پرستی ہے ۔
ایک گروہ جو آسمانی کتاب کا حامل ہو، اس کی گمراہی یہ نہیں ہوتی کہ وہ دین سے بالکل بے تعلق ہو جائے۔ کی گمراہی تحریف (نساء ۴۶) ہے۔ یعنی خود ساخته دین پر چلنا اور لفظی تاویلوں اور تشریحوں کے ذریعہ یہ ظاہر کرنا کہ یہی عین خدا اور رسول کا دین ہے۔ بالفاظِ دیگر، دین کا نام لیتے ہوئے بے دینی اختیار کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے جو دین مقرر کیا ہے، اس کی ایک سیدھی شاہراہ (صراط مستقیم) ہے۔ شاہراہ ہے ــــــــ اللہ پر یقین، آخرت کا خوف، خشوع اور انابت، بندوں کے ساتھ خیر خواہی، معاملات میں انصاف، بے لاگ حق پرستی، دعوت الی اللہ وغیرہ۔ یہی وہ اصل چیزیں ہیں جو اللہ کو اپنے بندوں سے مطلوب ہیں سارا قرآن ان کی تاکید سے بھرا ہوا ہے۔ ان کیفیات واعمال کے ساتھ جو زندگی بنتی ہے اس کو ایک لفظ میں آخرت رخی زندگی کہہ سکتے ہیں۔ مگر وقت گزرنے کے بعد جب قوموں میں قساوت (حدید ۱۶) آ جاتی ہے اور دھیرے دھیرے آخرت کا فکر کمزور پڑ جاتا ہے تو دنیا پرستی کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ اب لوگوں کے اندر ایک اور دین ابھرنا شروع ہوتا ہے۔ یہ ہے دنیا رخی دین جس کو قرآن میں آخرت کے بدلے دنیا خریدنا (بقره-۸۶) کہا گیا ہے۔ یعنی اپنی دنیا پرستانہ زندگی پر دین کا لیبل لگانا، خود ساختہ تشریحات کے ذریعہ دنیوی اعمال کو آخرت کی کامیابی کا سبب بنانا۔ یہ ہے کہ اپنی زندگی کو خدائی مرضیات کے سانچے میں ڈھالا جائے۔ مگر اب ایک ایسا اسلام وجود میں آتا ہے جس میں آدمی خود اسلام کو اپنے اوپر ڈھالنا شروع دیتا ہے۔ آپ اسلام کے پیچھے چلنے کے بجائے اسلام کو اپنے پیچھے چلانا شروع کر دیتا ہے۔
لوگ اصل دینی شاہراہ کو چھوڑ کر اپنے اپنے ذوق کے تحت مختلف سمتوں میں منحرف ہونے لگتے ہیں۔ کا منطقی مزاج غیر ضروری قسم کی مذہبی بحثیں ایجاد کرتا ہے اور وہ ان مباحث کا پہلوان بن کر ابھرتا ہے۔ مسائل اور سیاسی جھگڑوں کو اسلامی اصطلاحات میں بیان کرتا ہے اور ان کا علم بردار بن کر مجاہد اسلام کے روپ میں ظاہر ہوتا ہے۔ کوئی جھوٹے قصے کہانیاں گھڑ کر اسلام کا ایک طلسماتی مجموعہ تیار کرتا ہے اور ان کو سنا سنا کر عوام کی بھیڑ اپنے گرد جمع کر لیتا ہے۔ کوئی اسلام کا ایک برکتی ایڈیشن وضع کرتا ہے اور بہت سے لوگ اس کو ایک پر اسرار دنیوی نسخہ سمجھ کر اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ کوئی انسان کے بنائے ہوئے "ازموں" کے ساتھ اسلام کا لفظ شامل کر کے ان تمام لوگوں کی قیادت حاصل کر لیتا ہے جو ان ازموں (نظاموں) کے فریب میں ہیں اور اسی کے ساتھ اسلام کو بھی ہاتھ سے جانے دینا نہیں چاہتے۔ کچھ لوگ سارا معاملہ اس خوش عقیدگی پر ڈال دیتے ہیں کہ وہ محبوب خدا کی امت ہیں اور قیامت کے دن وہ بہر حال بخش دیئے جائیں گے۔ غرض اصل شاہراہ دین کے دائیں بائیں بہت سی خود ساخته راہیں نکال لی جاتی ہیں اور لفظی تاویلات یا گھڑے ہوئے افسانوں کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ عین دینی ہیں۔ بلکہ یہی وہ دین ہے جس کے لئے تمام انبیاء اس دنیا میں بھیجے گئے۔
کوئی اہل کتاب گروہ جب دین کی اصل شاہراہ کو چھوڑ کر اس طرح منحرف راستوں پر چل پڑتا ہے تو وہ اللہ کی نظر میں سخت مبغوض ہو جاتا ہے۔ اس کا جرم عام انسانوں کے مقابلہ میں دگنا ہوتا ہے۔ کیوں کہ وہ بے دینی کو دین کے نام پر کر رہا ہے۔ وہ دین خداوندی کا نمائندہ ہو کر لوگوں کے سامنے غلط دین کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ یہود کا جرم یہی تھا جس کے نتیجہ میں ان کو یہ سخت انتباہ دیا گیا :
یا ایھا الذین اوتوا الکتب آمنوا بما نزلنا مصدقا اے اہل کتاب ایمان لاؤ اس پر جو ہم نے نازل کیا ہے۔ لما معكم من قبل ان نطمس وجوها فنردها علی وہ سچا کرنے والی ہے اس چیز کو جو تمھارے پاس ہے۔ ادبارها او نلعنهم كما لعنا اصحب السبت و اس سے پہلے کہ ہم مٹا ڈالیں چہروں کو۔ پھر ان کو پیٹھ کی كان امر الله مفعولا (نساء ۴۷) طرف الٹ دیں یا ان کو لعنت کریں جیسے لعنت کی ہم نے اصحاب سبت کی اور اللہ کا حکم پورا ہو کر رہتا ہے۔
"چہرہ کو بگاڑ کر پیچھے پھیر دینے"، کا مطلب یہ ہے کہ تمھاری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم کر دی جائے گی۔ چہرہ آدمی کی باطنی قوتوں کا مظہر ہے۔ وہ سمع و بصر و فواد کا آئینہ ہے۔ اس لیے چہرہ کو الٹ دینے کا مطلب دیکھنے اور سننے اور سمجھنے کی صلاحیت کو الٹ دینا ہے۔ کتاب آسمانی کے حاملین کی گمراہی کا مطلب یہ ہے کہ حقائق سامنے کھلے پھر بھی وہ ان کو چھوڑ کر منحرف راستوں پر دوڑتے ہیں۔ عام لوگوں کی گمراہی اگر غفلت ہے تو ان کی گمراہی اس لئے اس اعراض کی سزا ان کو یہ ملتی ہے کہ ان کی قوتوں کو مسخ کر دیا جاتا ہے۔ سخت سزا کی وجہ ان کے معاملہ کی خصوصی نوعیت ہے۔ اللہ کی کتاب ان کے سامنے موجود ہے۔ رسول کی سنت ان کو راستہ دکھارہی ہے۔ خدا کی نشانیاں ان کے سامنے کھلی ہوئی ہیں اس کے باوجود وہ جھوٹے الفاظ بول بول کر اس سے ردگردانی کرتے ہیں۔ وہ آنکھوں والے ہو کر اندھے پن کا ثبوت دیتے ہیں۔ یہ چیزیں ان کے جرم کی شناعت کو بہت بڑھادیتی ہیں۔ اللہ کا غضب ان پر بھڑکتا ہے۔ ان کو یہ سخت ترین سزا دی جاتی ہے کہ ان کی عقل کو الٹ دیا جاتا ہے۔ ان کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ چیزوں کی حقیقت ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ سیدھی بات ان کو الٹی نظر آتی ہے اور الٹی بات سیدھی دکھائی دیتی ہے۔ وہ اس قابل نہیں رہتے کہ اللہ کی کتاب اور رسول کی سنت ان کے لئے روشنی کا کام دے سکے۔
آدمی کی عقل ہی وہ چیز ہے جس سے آدمی نیک و بد کو سمجھتا ہے۔ ایک راہ کو چھوڑنے اور دوسری راہ کو اختیار کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ جب عقل کو الٹ دیا جائے تو پھر وہ کسی معاملہ کی حقیقت کو کس طرح سمجھے گا۔ بعد آدمی کا یہ حال ہو جاتا ہے کہ وہ گمراہیوں میں بھٹکتا رہتا ہے، حق کی کوئی آواز اس کی اصلاح کے لئے کارگر ثابت نہیں ہوتی ۔ وہ تعمیرات کے نام پر بے معنی چیخ پکار میں مشغول ہوتا ہے اور ساری تاریخ اس کو یہ سبق دینے سے عاجز رہتی ہے کہ دوسروں کے خلاف چیخ پکار سے کبھی کسی قوم کی تعمیر نہیں ہوتی۔ وہ سیاسی مظاہروں کو حق کی شہادت کا نام دیتا ہے اور تمام انبیاء کا اسوہ اس کو یہ بتانے کے لئے ناکافی ثابت ہوتا ہے کہ شہادت کا کام آخرت
کی گواہی دینا ہے نہ کہ سیاسیات اور معاشیات کی گواہی دینا وہ لفظوں کے ورد سے جنت کے عمل تعمیر کرتا رہتا ہے اور خدا کی کتاب اپنی تمام وضاحتوں کے باوجود اس کو بتانہیں پاتی کہ جنت کسی آدمی کو جنت والے عمل سے ملتی ہے نہ کہ صرف لسانی اوراد سے۔
یہی حال رفتہ رفتہ اس کی تمام دینی و ملی سرگرمیوں کا ہو جاتا ہے ـــ وہ خود ساختہ موشگافیوں کو دینی تعلیم قرار دیتا ہے اور رسول اور اصحاب رسول کی پوری زندگی اس کو یہ بتانے میں ناکام رہتی ہے کہ دینی تعلیم کتاب اللہ کے حقائق و معارف کو ذہن میں اتارنے کا نام ہے نہ کہ ایسے مسائل میں لامتناہی بحث جاری رکھنے کا جن سے کتاب وسنت نا آشنا ہوں ۔ وہ خود ساختہ عملیات اور وظائف پر روحانی ترقی کی عمارت کھڑی کر تا ہے اور یہ واقعہ اس کی آنکھ کھولنے والا ثابت نہیں ہوتا کہ اللہ کے رسول نے اپنے اصحاب کو روحانی ترقی کا جو طریقہ بتایا اس میں اس قسم کے عملیات و وظائف کا کوئی وجود نہ تھا۔ وہ دنیوی حقوق و مطالبات پر ملی سیاست کا بازار گرم کرتا ہے اور یہ عظیم حقیقت اس کے قدموں کو نہیں رکھتی کہ اللہ کے پیغمبروں کا اسوہ جو اللہ کی کتاب میں بیان ہوا ہے اس کے یہ سراسر خلاف ہے کہ داعی گروہ اپنی مدعو قوم سے دنیوی مفادات کے جھگڑے چھیڑ دے۔ وہ سیاسی اقتدار قائم کرنے کو امت مسلمہ کا اصل مشن بتاتا ہے اور یہ واقعہ اس کے یقین میں کوئی تزلزل پیدا نہیں کرتا کہ آسمانی کتاب کے پورے متن میں کوئی فقرہ ایسا نہیں ہے جس کے عبارت النص سے یہ حکم نکلتا ہو کہ ”اے مسلمانو تمھارا نصب العین یہ مقرر کیا گیا ہے کہ تم دنیا بھر میں اپنی سیاست کا جھنڈا گاڑ دو ،، وہ نظام اسلام،، کا نام لے کر مسلم آبادیوں میں توڑ پھوڑ مچاتا ہے اور یہ حقیقت اس کے جوش تخریب میں کمی کرنے والی ثابت نہیں ہوتی کہ خدا کا پیغمبر سرتا پا رحمت بنا کر بھیجا گیا تھا اور اس بات کو اس نے مطلق حرام قرار دیا تھا کہ کوئی بھائی اپنے دوسرے بھائی کی جان و مال پر دست
جب کسی گروہ کی عقل الٹ جائے تو اس کو نہ حق حق کی صورت میں دکھائی دے گا اور نہ باطل باطل کی دلائل اس کو بے وزن معلوم ہوں گے کھلی ہوئی نشانیاں اس کے سامنے آئیں گی مگر وہ اس کو دکھائی نہ دیں گی۔ الٹی باتیں اس کو سیدھی نظر آئیں گی اور جو سیدھی بات ہے وہ اس کو الٹی دکھائی دے گی ۔ اس کا حال ان لوگوں جیسا ہو جائے گا جن کی نشان دہی قرآن میں ان لفظوں میں کی گئی ہے : و ان یروا کل آية لا يومنوا بھا وان یروا اور اگر وہ دیکھیں ساری نشانیاں یقین نہ کریں ان کو۔ سبيل الرشد لا يتخذوه سبيلا ۔ وان یروا اور اگر دیکھیں راہ سنوار کی وہ نہ ٹھہرائیں اس کو راہ۔ سبيل الغي يتخذوه سبيلا۔ ذلك بانھم اور اگر دیکھیں راہ الٹی اس کو ٹھہرائیں راہ۔ كذبوا باياتنا و كانوا عنھا غفلين واسطے کہ انھوں نے جھوٹ جانیں ہماری نشانیاں (اعراف (۱۴۶) اور ہو رہے وہ ان سے غافل ۔
پوپ کا عہدہ روایتی طور پر اطالوی مسیحیوں کے لئے مخصوص تھا۔ موجودہ پوپ پہلے غیر اطالوی ہیں جو ساڑھے چار سو سال کے بعد پوپ کے عہدہ پر فائز ہوئے ہیں۔ ان کا قدیم نام ووجی لا (Wojtyla) ہے اور موجودہ لقب پوپ جان پال وہ پولینڈ کے رہنے والے ہیں۔ پولینڈ کی آبادی میں ۹۰ فی صد لوگ کیتھولک عیسائی ہیں۔ مزید یہ کہ یہاں پادریوں کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے۔ پولینڈ ایک اشتراکی ملک ہے۔ فادر ووجی لانے اس سے پہلے اپنے ملک میں مسیحیت کی آزادی کے لئے زبردست جد و جہد کی اور کامیابیاں حاصل کیں۔ ان کے فاتحانہ کارناموں نے ان کو مسیحی حلقوں میں ہیرو کا مقام دے دیا۔ اس تجربہ کے بعد پولینڈ میں ایسی فضا بن گئی کہ مسیحی کاز کے لئے اٹھنا ہیرو بننے کے ہم معنی ہو گیا۔ چنانچہ نوجوان طبقہ کثرت سے اس طرف مائل ہونے لگا۔ پولش چرچ کے ایک ذمہ دار نے کہا ہے : Our young men are becoming priests, be- ہمارا نوجوان طبقہ پادری بن رہا ہے۔ کیونکہ پولینڈ میں پادری ہیرو بنتا ہے ۔ ہیرو بننے کا شوق موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا شوق ہے۔ عام نوجوان فلمی ہیرؤوں کی نقل کر کے اپنے جذبہ کی تسکین کرتے ہیں اور بڑے لوگ اسٹیج پر چمتکار دکھا کر۔ فرق یہ ہے کہ کوئی روحانی اسٹیج پر یہ چمتکار دکھا رہا ہے اور کوئی سیاسی اسٹیج پر۔