Al-Risala · March 1979

زیادہ بڑی ذلت

Al-Risala, March 1979, pp. 29–31

By Maulana Wahiduddin Khan

کرشن چند آئی سی ایس (۱۹۱۷ - ۱۹۱۸) ایم ہنی کے زمانہ میں دہلی کے لفٹنٹ گورنر تھے جنتا حکومت آنے کے بعد شاہ کمیشن قائم ہوا تو اس نے کرشن چند کو ایم ہنی کے زمانہ میں دہلی میں ہونے والے واقعات کا براہ راست ذمہ دار قرار دیا۔ وہ اس سے اتنا پریشان ہوئے کہ ۱۰ جولائی ۱۹۷۸ کو جنوبی دہلی کے ایک کنویں میں چھلانگ لگا کر اپنے پیچھے انھوں نے ایک تحریر چھوڑی جس میں ہندی میں لکھا ہوا تھا : جینا ذلت سے ہو تو مرنا اچھا آدمی "مرنے" کو "مٹنے" کے ہم معنی سمجھتا ہے۔ اس لئے وہ دنیا کی ذلت سے گھبرا کر خودکشی کرلیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ مر کر میں ذلت سے نجات پا جاؤں گا۔ اگر اس کو معلوم ہو کہ مرنے کے بعد شدید تر ذلت آسکتی ہے تو وہ زندگی کو "ختم" کرنے کے بجائے زندگی کو صحیح بنانے کی کوشش کرے تاکہ اگلی دنیا میں مستقل ذلت اور تکلیف سے بچ سکے۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ قریب کے گاؤں کے کچھ لوگوں نے آخر وقت میں کنویں کے اندر سے "بچاؤ بچاؤ" کے الفاظ سنے تھے۔ موت کو دیکھنے سے پہلے کرشن چند موت کو دنیا کی زندگی سے اچھا سمجھتے تھے۔ مگر جب وہ موت سے دوچار ہوئے تو معلوم ہوا کہ موت دنیا کی زندگی سے بھی زیادہ بھیانک ہے۔ _________ یہ صرف "موت" کا معاملہ ہے۔ موت کے اُس پار کا عالم دیکھے جہاں ہر غافل اور سرکش انسان کے لئے آگ کا الاؤ بھڑک رہا ہے تو اس کی زندگی میں انقلاب وہ موجودہ زندگی کو ہمہ تن اگلی زندگی کی بہتری میں لگا دے۔ یہ بے اعتمادی کی فضا یہ اعظم گڑھ ریلوے اسٹیشن کا واقعہ ہے۔ کی کھڑکی پر اپنا ٹکٹ لے رہا تھا۔ اتنے میں ایک دیہاتی آیا اس کو کسی مقام کا ٹکٹ لینا تھا جس کی قیمت پانچ چھ پیسے اس نے ریز گاری بکنگ کلرک کے سامنے پیش کرتے ہوئے اپنا ٹکٹ مانگا۔ مٹھی بھر ریز گاری دیکھ کر کلرک "روپیہ لے آؤ۔ ہم کب تک اس کو گنتے رہیں گے" اس نے کہا اور دوسرے مسافر کی طرف متوجہ ہو گیا۔ دیہاتی آدمی کھڑکی سے نکل کر باہر آگیا۔ کی حالت پر ترس آیا۔ میں اس کے قریب گیا اور اس سے کہا کہ یہ ریزگاری مجھ کو دے دو اور اس کے بدلے مجھ سے نوٹ دیہاتی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ایک لمحہ کے لئے اس نے ادھر ادھر دیکھا اور پھر خاموشی سے ایک طرف

دیہاتی نے میری پیش کش کیوں قبول نہ کی۔ کی وجہ بے اعتمادی ہے۔ ہم ایک ایسے سماج میں ہیں جہاں کسی کو دوسرے پر بھروسہ نہیں۔ آج اگر کوئی شخص کسی پر مہربان ہوتا ہے تو صرف اپنے فائدہ کے لئے نہ کہ حقیقتاً دوسرے کی مدد کے لئے۔ دیہاتی نے غالباً یہ سوچا کہ میرے پاس کچھ خراب نوٹ ہوں گے اور اس موقع سے فائدہ اٹھا کر میں ان کو دیہاتی کی ریز گاری سے بدل لینا چاہتا ہوں۔

یہ ایک کی بے غرضی کا امتحان ہے اور دوسرے کی فیاضی کا للفقراء الذین احصروا فی سبیل اللہ لا يستطيعون دینا ہے ان حاجت مندوں کو جو گھر گئے ہیں اللہ کی راہ ضربا فی الارض يحسبهم الجاهل اغنياء من میں۔ چل پھر وہیں سکتے زمین میں۔ نا واقف ان کو غنی التعفف تعرفهم بسيماهم لا يسئلون الناس الحافا خیال کرتا ہے۔ تم ان کے چہرہ سے ان کو پہچان لو گے۔ وما تنفقوا من خير فان الله به عليم ۔ الذين لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے۔ اور جو مال تم خرچ کرو گے ينفقون اموالهم بالليل والنهار سر ا وعلانية وہ اللہ کو خوب معلوم ہے۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنا فلهم اجرهم عند ربهم ولا خوف عليهم ولا مال رات دن کھلے اور چھپے خرچ کرتے ہیں، ان کا اجر هم يحزنون (بقره - ۲۷۳) ان کے رب کے پاس ہے۔ ان کے لئے نہ ڈر ہے نہ غم۔

انفاق کے حکم کے ذیل میں اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ نے وسعت دی ہے ان کے لئے خرچ کی سب سے بڑی مد وہ لوگ ہیں جو دین کی خدمت میں لگنے کی وجہ سے ایسا گھر گئے ہیں کہ معاشی جدوجہد کے لئے وقت نہیں نکال سکتے۔ ایسے لوگوں کو خدا کا دین ایک طرف اس قابل نہیں رکھتا کہ نہ دوسرے لوگوں کی طرح معاش کی فراہی کے لئے دوڑ دھوپ کر سکیں۔ دوسری طرف یہی دین ان کے اندر توکل علی اللہ کا جو مزاج پیدا کرتا ہے، وہ اس کے لئے مانع بن جاتا ہے کہ وہ اپنی ذاتی یا دینی ضرورتوں کے لئے ہر ایک سے کہتے پھریں۔ ان کی متوکلانہ باتیں اکثر لوگوں کو غلط فہمی میں ڈال دیتی وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ مستغنی ہیں، ان کو پیسہ کی ضرورت نہیں۔

تاہم وہ لوگ جن کو اللہ نے ایمان کی روشنی عطا کی ہے، وہ ظاہری پر دوں کو پھاڑ کر خدا کے ان بندوں کو دیکھ وہ جان لیتے ہیں کہ یہ دنیا امتحان کا مقام ہے۔ یہاں "لینے والوں" کی بے غرضی کا امتحان ہو رہا ہے اور "دینے والوں" کی فیاضی کا امتحان ۔ ایک سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے آپ کو دین کی خدمت میں اس طرح جھونک دے کہ اس کے پاس پیسہ کمانے کا وقت نہ رہے اور دوسرے سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے خرچ کی سب سے بڑی مد اپنی ذات کو نہیں بلکہ خدا کے دین کو سمجھے اور اپنی کمائی کو اس قسم کے خادم ان دین پر قربان کر دے۔ کا کمال یہ ہے کہ اپنی ضرورت مندی کو چھپائے اور دوسرے کا کمال یہ ہے کہ بظاہر چھپے ہونے کے باوجود اس کی ضرورتوں کو جان لے۔ ایک اگر اپنی تمام توانائیوں سمیت خدا کی طرف دوڑ رہا ہو تو دوسرا خدا کی طرف دوڑنے والوں کے پیچھے اپنا سرمایہ لئے پھرتا ہو ۔ جن لوگوں کے رات اور دن، جن کی خلوتیں اور جلوتیں اس طرح اللہ کے لئے وقف ہو جائیں، وہ گویا اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ وہ اپنی ذات کے خول سے باہر آکر خدا کو دیکھ رہے ہیں۔ وہ اپنی ضرورتوں سے اوپر اٹھ کر دین کی ضرورتوں کو جانتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کی مالی قربانیوں کا بے حساب گنا بدلہ دے گا اور ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جہاں وہ ہر قسم کے اندیشوں سے بے خوف ہو کر خوشیوں کی لازوال دنیا میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اس سے نکلنا نہ چاہیں گے۔

" روزہ نماز " زندگی سے علیحدہ کوئی چیز نہیں ہے جو چھنگلیا کی طرح آدمی کے ہاتھ میں ملکی رہے۔ اصل زندگی ہے۔ روزہ نماز کو آدمی کی پوری ہستی میں شامل ہونا چاہئے نہ کہ اس طرح جیسے کوئی وقتی رسم ادا کی جاتی ہے۔ آدمی حقیقت کیا ہے ، اس کو دیکھنے کی جگہ عبادتی مراسم نہیں ہیں۔ بلکہ آدمی کی اصل زندگی ہے — اگر اس کی مجلسی باتیں وہی ہوں جو عام دنیا داروں کی ہوتی ہیں۔ اگراس کے اخبار میں وہی باتیں چھیڑی رہتی ہوں جو عام قومیں اپنے اخباروں میں چھیڑے رہتی ہیں۔ اگراس کے پاس بھی وہی نخرے اور مطالبے ہوں جو دوسروں کے پاس ہوتے اس کی بحثوں اور گفتگوؤں اور دوسروں کی بحثوں اور گفتگوؤں میں اس کے سوا کوئی فرق نہ ہو کہ دوسرے لوگ جو بات اپنی روایتی اصطلاحوں میں کہتے ہیں ، وہ ان کو اپنی روایتی اصطلاحوں میں بیان کر رہا ہے ، اگر ایسا ہو تو اس کی نماز قرآن کے الفاظ میں غفلت کی نماز ( ماعون ) کہی جائے گی ۔ یعنی نماز روزہ کے ذریعہ وہ جس قسم کی زندگی گزارنے کا اقرار کرتا ہے ، حقیقی عملی زندگی میں وہ ان کو نہیں اپناتا۔

ذکر کوئی رٹے ہوئے منتروں کا جاپ نہیں ہے۔ ذکر اللہ کی یاد کا نام ہے جو قلب و روح کی گہرائیوں سے ابلتا ہے اللہ سے خوف ، اللہ سے محبت ، اللہ پر اعتماد ، اللہ کو اپنا سب کچھ سمجھنا ، جب کسی کے اندر پیدا ہو جائے تو اس کا سینہ اللہ کی یاد سے بھر جاتا ہے ۔ اللہ کے کلمات اس کی زبان و قلب سے امنڈتے رہتے ہیں۔ وہ ہر وقت اللہ سے دعاؤں اور سرگوشیوں میں مشغول رہتا ہے — اللہ کے ساتھ اس قسم کے مستقل ربط camac touch میں رہنے کا نام ذکر ہے۔

Printed page