Al-Risala · March 1979

وعظ کون کرے

Al-Risala, March 1979, pp. 31–32

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک بزرگ نے فرمایا کہ " وعظ وہ شخص کرے جس کو وعظ کا کم سے کم اتنا تقاضا ہو جتنا ایک شخص کو رفع حاجت کا ہوتا ہے " یہ بات تحریر اور تقریر دونوں کام پر صادق آتی ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ اتنا زیادہ مطالعہ کرے کہ معلومات اس کے ذہن سے ابلنے لگیں ۔ متعلقہ موضوع پر جو ذخیرہ کتب خانوں میں موجود ہے ، ان کو چھاننے کے بعد وہ بے تابانہ محسوس کرے کہ اب بھی کچھ لکھنے سے رہ گیا ہے۔ اس کا حال یہ ہو جائے کہ اس کی معلومات تھامے نہ سکتیں اور اس کی بے تابی روکے نہ رکے ۔ اس وقت اس کو بولنے یا لکھنے کے لئے اٹھنا چاہئے۔ اس کے بغیر جو لوگ " لاؤڈ اسپیکر، استعمال کریں گے وہ صرف فضائی شور وغل (Noise Pollution) میں اضافہ کریں گے ۔ اور اس کے بغیر جو لوگ قلم سنبھالیں گے وہ صرف سفید کا غذ کو سیاہ کرنے کا کارنامہ انجام دیں گے۔ اس قسم کے مشاغل سے ممکن ہے کسی کے سطحی ذوق کو تسکین ملتی ہو مگر اس کا کوئی حقیقی فائدہ نہ سننے والے کو ملتا ہے اور نہ سنانے والے کو۔

یہ "علم جدید کا چیلنج" کا نظر ثانی کیا ہوا ایڈیشن ہے۔ اس کتاب کا عربی ایڈیشن "الاسلام التحدی" کے نام سے شائع ہو چکا ہے جو قاہرہ کی جامعۃ الازہر کے نصاب میں ایک "مددگار کتاب" کی حیثیت سے داخل ہے۔ اسی طرح طرابلس یونیورسٹی نے اس کو اپنی تمام فیکلٹیوں میں "ثقافت اسلامیہ" کے موضوع کے تحت بی اے اور بی ایس سی کے پہلے اور دوسرے سال کے طلبہ کی تعلیم کے لئے مقرر کر دیا ہے۔

مذہب اور جدید چیلنج از مولانا وحید الدین خاں قیمت تیرہ روپے پچاس پیسے از مولانا وحید الدین خاں قیمت دو روپے تاریخ کا سبق از مولانا وحید الدین خاں قیمت دو روپے مکتبہ الرساله، جمیعه بلڈنگ، قاسم جان اسٹریٹ دہلی ۶

Printed page