یہ بے حسی کیوں
Al-Risala, March 1979, pp. 33–44
By Maulana Wahiduddin Khan
مجھ کو جب یہ حکم ملا کہ اس وقت کی مجلس میں مجھے کچھ کہنا ہے ، تو میں نے سوچنا شروع کیا کہ وہ کیا بات ہے جو مجھے آپ سے کہنی چاہئے۔ یہ چونکہ نصیحت ، یا قرآن کے الفاظ میں تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کی مجلس ہے، اس لئے اس مناسبت سے بہت سی باتیں ذہن میں آئیں۔ میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک ایک سوال نے میرے سلسلے خیال کو توڑ دیا ـــــــــ "تم جو باتیں سوچ رہے ہو کیا وہ سننے والوں کے لئے نئی ہیں، کیا ان کے کان بار بار یہ آوازیں نہیں سن چکے ہیں۔ پھر جن الفاظ نے اس سے پہلے کوئی اثر نہیں دکھایا ، وہی الفاظ ایک مرتبہ اور دہرادینے سے کیا انقلاب اس سوال کا آنا تھا کہ میرے سارے خیالات اس طرح منتشر ہو گئے جیسے یکایک ہوا کا تیز جھونکا آئے اور تنکوں اور پتوں کے ڈھیر کو اڑالے جائے ۔
اب میں دم بخود تھا۔ آخر اس بے حسی کی وجہ کیا ہے " یہ سوال میرے سامنے گھومنے لگا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں نے ساری باتیں کہہ ڈالی ہیں اور اب میرے پاس آپ سے کہنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ میری مثال اس مقرر کی سی ہو گئی جو اپنی پوری تقریر ختم کر چکا ہو۔ مگر ساری قوت صرف کرنے کے بعد آخر میں جب وہ حاضرین سے کہے کہ لگائیے نعرہ انقلاب زندہ باد ، تو سامنے بیٹھے ہوئے ہزاروں انسانوں میں سے کسی ایک کی زبان بھی حرکت میں نہ آئے۔ بار کہے کہ "لگائیے نعرہ “ ، مگر ہر شخص اس طرح خاموش بیٹھا ہے گویا کسی کے منھ میں زبان ہی نہیں ہے۔ تین اس وقت مجھے دور سے ایک آواز سنائی دی۔ مجھے نظر آیا کہ امام ترمذی سے لے کر کعب بن عیاض تک انسانوں کی ایک جماعت ایک دوسرے کو پکار رہی ہے کہ آخری رسول کا یہ پیغام اس بندہ خدا تک پہنچا دو، کیوں کہ اسی پیغام میں اس کے سوال کا جواب ہے :
حدثنا احمد بن منيع نا الحسن بن سوار نا | امام ترمذی سے کہا احمد بن منیع نے ، ان سے کہا حسن بن سوار لیث بن سعد عن معاویة بن صالح عن عبد | نے ، ان سے کہا لیث بن سعد نے ، ان سے کہا معاویہ بن الرحمن بن جبیر بن نفیر حدثہ عن ابیہ عن | صالح نے ، ان سے کہا عبدالرحمن بن جبیر نے ، ان سے کہا کعب بن عیاض قال سمعت النبي صلى الله عليه | ان کے باپ نے ، ان سے بیان کیا کعب بن عیاض نے ، وسلم یقول : ان لكل امة فتنة وفتنة امتی | انھوں نے کہا کہ میں نے سنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے، المال (ترمذی ، ابواب الزهد) | آپ نے فرمایا ۔ ہر امت کا ایک فتنہ تھا اور میری امت کے لئے جو چیز فتنہ بنے گی وہ مال ہے ۔
اس فقرے میں “ مال ” ، در اصل " دنیا “ ، کا قائم مقام ہے۔ کیوں کہ دنیا کی وہ تمام چیزیں جن کو عاجلہ پسند انسان للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتا ہے وہ مال ہی کے ذریعہ حاصل ہوتی ہیں۔ مال دنیا کے ساز و سامان کی قیمت ہے۔ جیسا کہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے، یہی دنیا ہر زمانے میں انسانوں کی گمراہی کا سبب رہی ہے۔ مگر بعد کے دور
نں یہ فتنہ پوری شدت سے ظاہر نے والا تھا۔ اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو خاص طور پر امت اسلامیہ کا فتنہ قرار دیا۔ پہلے آدمی جن لذائذ ونعم کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا وہ آج سائنسی تحقیقات کے نتیجہ میں واقعہ بن کر انسان کو حاصل ہو چکی ہیں۔ یہی نہیں، پہلے دنیا کی جور نگینیاں اور اس کے دل کش ساز و سامان صرف کسی بادشاہ کے محل میں ہوتے تھے، وہ آج خوب صورت الماریوں میں سجے ہوئے بازار کے اندر نظر آتے ہیں، آج در و دیوار پر رنگین اشتہارات کی صورت میں لگے ہوئے ہیں، وہ پوری رعنائی کے ساتھ سڑکوں پر ظاہر ہو کر ہر راہ گیر کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا اس سے پہلے کبھی اتنی حسین نہیں تھی، اس لئے وہ اس سے پہلے انسان کے لئے اتنا بڑا فتنہ بھی نہیں بن سکتی تھی ۔
یہاں میں ایک واقعہ کا ذکر کروں گا جو ابھی حال ہی میں اخبارات میں آیا تھا۔ نئی دہلی میں ہندوستان کے بین اقوامی صنعتی میلہ میں امریکہ کی طرف سے ایک ہوائی موٹر کار کی نمائش کی گئی ہے جس کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ زمین پر بھی چلتی ہے اور ساٹھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوا میں بھی اڑ سکتی ہے۔ اس عجیب و غریب کار کو جب ایک نوجوان سادھو نے دیکھا تو اس کے سامنے ایک نیا مسئلہ پیدا ہو گیا ” کیا میں تیاگ اور قربانی کی زندگی کو چھوڑ کر مادی ترقی کی دنیا میں اپنے حوصلوں کی تسکین ڈھونڈ لوں “ سادھو ہونے کہا۔ گیروے کپڑے میں ملبوس اور لمبے بکھرے ہوئے بالوں والا یہ ہندوستانی نوجوان بیس منٹ تک اس امریکی کار کو دیکھتا ر ہا جس کو نمائش کے ذمہ داروں نے مستقبل کی کار (Car of the نام دیا ہے۔ جب اس کے بارے میں سادھو کا تبصرہ پوچھا گیا تو اس نے گہرے تاثر کے ساتھ جواب دیا ” اس نے مجھے اس سوچ میں ڈال دیا ہے کہ دونوں دنیاؤں میں سے وہ کون سی دنیا ہے جس کو میں اپنے لئے زیادہ بہتر سمجھوں “ (ہندوستان ٹائمس ۲۰ نومبر ۱۹۶۱) یہ واقعہ بتاتا ہے کہ مادی سازو سامان نے آج کس طرح ہر شخص کو اس خطرے میں مبتلا کر دیا ہے کہ وہ ان کی ظاہری چمک دمک سے متاثر ہو کر زندگی کی اصل حقیقت کو بھول جائے ۔
اس حدیث سے میرا ذہن اس طرف منتقل ہوا کہ امت محمدیہ کے افراد میں جب کوئی کمزوری نظر آئے تو اس کے اسباب سب سے پہلے دنیا کے فتنوں میں تلاش کرنے چاہئیں۔ جب اس امت کا فتنہ دنیا ہے تو امت کی خرابیاں بھی دنیا ہی کی پیدا کی ہوئی ہوں گی۔ جب میں نے اس حیثیت سے غور کیا تو بالا خر میرا ذہن اس پر مطمئن ہو گیا کہ دنیا ہی وہ سب سے بڑا روک ہے جو حق کی آواز کو آدمی کے لئے قابل فہم اور قابل قبول بننے نہیں دیتا۔ کی بلند تر حقیقتوں کو وہی شخص پاسکتا ہے جو دنیا اور دنیا کی چیزوں سے اپنے آپ کو اوپر اٹھا چکا ہو۔ سے اوپر نہ اٹھ سکے اس کے عین سر کے اوپر حقیقت کی آواز گونج رہی ہوگی مگر اس کو گرفت کرنے کی طاقت سے وہ محروم ہوگا۔ اس کے پاس وہ کان نہیں ہوگا جن سے وہ سنے اور وہ دل نہیں ہوں گے جن سے وہ اسے سمجھے آپ کی سعادت و ترقی کے تمام امکانات اس وقت تک آپ سے دور ہیں جب تک آپ کی تو جہات دنیا کے اندر بکھری آپ کا مومن بننا، آپ کا داعی بننا، آپ کا مجاہد فی سبیل اللہ بننا، سب کچھ منحصر ہے اس بات پر کہ اس
سے پہلے آپ " زہد في الدنیا " کی کیفیت اپنے اندر پیدا کر چکے ہوں جو رسول کے الفاظ میں ۔ ھذہ الامۃ ہے۔ دنیا پسندی دوسرے لفظوں میں ظاہر پسندی کا نام ہے۔ اور زہد یہ ہے کہ ظاہری چیزوں کے پیچھے جو اصل حقیقت ہے وہ آدمی کے سامنے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا پسندی سلحیت پیدا کرتی ہے اور فھل سے وہ گہری نظر حاصل ہوتی ہے جو چھپے ہوئے واقعات کو بالکل بے نقاب دیکھ لے۔ اور حقیقت سے انتہائی حد تک آشنا ہو کر بول سکے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
ما زھد عبد في الدنيا الا انبت الله الحكمة جو شخص دنیا سے بے رغبت ہو جائے اللہ تعالیٰ اس کے في قلبه وانطق بھا لسانه وبصرها عيب الدنيا دل میں حکمت پیدا کر دیتا ہے اور اس کی زبان پر کلمات وداءھا و دواء ها و اخرجه سالما الی دار حکمت جاری کر دیتا ہے۔ دنیا کے عیب اور اس کا مرض السلام (بیہقی فی شعب الایمان) اور علاج اسے دکھا دیتا ہے۔ اور اس کو سلامتی کے گھر (جنت) تک محفوظ لے جاتا ہے۔
یہ حکمت جو زہد کے صلے میں ملتی ہے، یہ خدا کی سب سے بڑی دین ہے جس کو قرآن میں "خیر کثیر" کہا گیا ہے یعنی سب سے بڑا خزانہ ۔ قرآن کے بیان سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکمت کا خزانہ اسی کو ملتا ہے جو دوسرے خزانوں سے اپنی نظریں ہٹالے ، جو دنیا کی محبت سے اپنے دل کو خالی کر چکا ہو۔ چنانچہ سورہ بقرہ میں خدا کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے :
يؤتي الحكمة من يشاء ومن يؤتى الحكمة الله جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے، اور جس کو فقد أوتي خيرا كثيراً حکمت دی گئی اس کو سب سے بڑا خزانہ دے دیا گیا۔
یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ "خیر کثیر"، اسی کو ملتا ہے جو "خیر قلیل" سے اپنے آپ کو خالی کرلے، جو خیر قلیل میں پلٹا ہوا ہو، وہ خیر کثیر سے اپنا دامن نہیں بھر سکتا۔
میں چاہتا ہوں کہ آج کی صحبت میں اسی "زہد فی الدنیا" کے بارے میں کچھ عرض کروں۔ کیوں کہ اپنے مطالعہ اور تجربہ سے میں اس حقیقت پر مطمئن ہو چکا ہوں کہ جب تک کسی کے اندر " زہد کی کیفیت پیدا نہ ہو وہ دین کی اعلیٰ حقیقتوں کا ادراک نہیں کر سکتا اور نہ اس کے اندر کبھی گہرا عمل پیدا ہو سکتا۔ جس شخص کی آخرت طلبی نے اس کو دنیا کا زاہد نہیں بنایا ، اس کے درمیان اور قرآن کے درمیان ایک " حجاب مستور ،، حائل رہتا ہے ۔ وہ سنتا ہے مگر نہیں سنتا ، وہ سنتا ہے مگر نہیں سمجھتا۔ (بنی اسرائیل ۴۶- ۴۵)
زہد فی الدنیا کے معنی ہیں دنیا سے بے رغبتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا سے دلچسپی کا تعلق ختم کر کے اس سے صرف ضرورت کا تعلق باقی رکھا جائے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو حدیث میں التجافی من دار الغرور کہا گیا ہے ۔ دھوکا دینے والی جگہ سے دور رہنا اس دوری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ دنیا کے کاروبار سے
الگ تعلق ہو جائیں۔ زہد دراصل دنیا سے حیاتی بے تعلقی کا نام ہے نہ کہ عملی بے تعلقی کا۔ جیسا کہ حضرت سفیان ثوری نے فرمایا، زہد خراب کپڑے اور معمولی کھانے کا نام نہیں ہے۔ یہ ایک کیفیت ہے جو دل کے اندر پیدا ہوتی ہے ظاہری شکلیں اس اندرونی کیفیت کا فطری اظہار ہیں، نہ کہ بجائے خود کسی ظاہری شکل کا نام زہد ہے۔ یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک شخص جھونپڑی میں رہتا ہو مگر اپنے خیالات و احساسات کے اعتبار سے وہ مکمل طور پر ایک دنیا پسند اور دوسرا شخص اپنے آپ کو عالی شان عمارزہدں کے درمیان پائے مگر دنیا پسندی سے اس کا ذہن خالی ہو تو کسی مصنوعی تدبیر کا نام نہیں ہے۔ بلکہ وہ آدمی کی ایمانی حالت کا ایک فطری اظہار ہے۔ جب کوئی شخص اعلیٰ حقیقتوں کو پا لیتا ہے تو اسفل حقیقتیں خود بخود اس کی نگاہ میں حقیر بن جاتی ہیں۔ اُخروی قدروں کی اہمیت کا احساس دنیوی قدروں کو غیر اہم بنا دیتا ہے۔ وہ اپنی ایمانی کیفیت کے بالکل لازمی نتیجے کے طور پر دنیا سے بے رغبت ہو جاتا ہے۔ جب آپ کا ذہن خدا کی باتیں سوچنے میں اتنا مصروف ہو کہ آپ دنیا کی باتیں بھولنے لگیں، جب آخرت کی فکر آپ کے اوپر اس طرح چھا جائے کہ دنیا کے غم آپ کو یاد نہ آئیں، جب آنے والے مستقل آرام و تکلیف کا مسئلہ آپ کو اتنا فکر مند بنا دے کہ عارضی آرام و تکلیف کے مسئلے آپ کے لئے بے حقیقت ہو جائیں۔ جب کل کی زندگی آپ کو اس طرح اپنی طرف کھینچ لے کہ آج کی زندگی کے بارے میں آپ لوگوں کو غافل نظر آنے لگیں، جب بلند تر حقائق کی طرف متوجہ ہونے کی وجہ سے آپ دنیا میں اس طرح رہنے لگیں گویا آپ دنیا میں نہیں ہیں۔ جب دنیا میں آپ کوئی آرام دیکھیں تو یہ سوچ کر رو پڑیں کہ معلوم نہیں کہ آخرت میں کیا ہونے والا ہے اور جب کوئی تکلیف ستائے تو آپ کی زبان سے نکلے کہ ”خدایا دنیا کی معمولی تکلیف کا یہ حال ہے تو آخرت میں کیا ہوگا “، جب دنیا کی لذتیں آپ کو تسکین نہ دے سکیں اور دنیا کی رحمتیں آپ کی نگاہ میں حقیر بن جائیں ـــــــ جب آپ کا حال یہ ہو جائے تو اسی کا نام زہد فی الدنیا ہے۔ آنحضورؐ نے ایک بار اپنے صحابی حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کو پکڑ کر جو نصیحت فرمائی تھی، اس کا ایک فقرہ یہ تھا:
عُدَّ نفسک مِنْ اهل القبور (بخاری) اپنے آپ کو قبر والوں میں شمار کرو گویا اللہ تعالیٰ نے ہم کو جو دنیا میں بھیجا ہے اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ہم یہاں کی نعمتوں میں غرق ہوں اور یہاں رہ کر اپنے دل کی تمنائیں پوری کریں۔ بلکہ وہ تو یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ ہم میں سے کون ہے جو دنیا کو اپنے حوصلوں اور تمناؤں کا قبرستان بناتا ہے۔
اس تشریح سے خود بخود یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ زہد صرف محرمات دنیا سے بچنے کا نام نہیں ہے بلکہ وہ ایک ایسی حالت ہے جس میں آدمی کو بہت سی جائز چیزوں سے بھی اپنے آپ کو محروم کر لینا پڑتا ہے۔ بے شک جو کچھ اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے وہی حرام ہے اور جو کچھ اس نے حلال کیا ہے وہ سب حلال ہے۔ کسی انسان کو حق نہیں کہ اس میں بال برابر کوئی رد و بدل کر سکے۔ مگر شریعت کی قانونی حدود ہمارے ارتقا کی آخری حدود نہیں ہے۔ دائرہ ایمان میں داخل ہونے کے لئے یقیناً صرف اتنا ہی کافی ہے کہ آدمی احکام کے قانونی تقاضے پورے کر دے۔ مگر ایمان کے اعلیٰ
مراتب کو حاصل کرنے کا ذریعہ قانون نہیں، قربانی ہے، اگر آپ خدا کی راہ میں مسابقت کا جذبہ رکھتے ہیں تو آپ کو اپنی نیند، اپنا آرام، اپنی لذتیں، سب کچھ چھوڑنی پڑیں گی، ذوق اور عادت کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دینا ہوگا۔ حالاں کہ یہ سب کچھ آپ کے لیے جائز ہے اور ان میں سے کوئی بھی چیز شریعت نے حرام نہیں قرار دی ہے۔ ہے کہ دوسری تمام راہوں کی طرح اسلام کی راہ میں بھی ترقی صرف اسی کے لیے ہے جو قانونی تقاضوں سے بلند ہو کر کام کرنے کا جذبہ رکھتا ہو۔ جو یہ نہ دیکھتا ہو کہ دنیا کی چراگاہ میں اس کے لیے کیا کیا جائز ہے بلکہ جس کی نگاہ اس پر لگی ہوئی ہو کہ کتنے عظیم امتحان میں اسے پیش ہونا ہے اور اس کے لیے کتنی بے پناہ تیاریوں کی ضرورت ہے۔ ایسا شخص یقیناً بہت سی ایسی چیزوں سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہ جائے گا جو اس کے لیے شرعاً حلال تھیں۔ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:- لا يبلغ العبد ان يكون من المتقين کوئی شخص متقیوں میں شمار کیے جانے کے قابل نہیں ہو سکتا حتی يدع ما لا باس به حذراً لما جب تک اس کا یہ حال نہ ہو جائے کہ وہ ان چیزوں کو به باس (ترمذی، ابن ماجہ) چھوڑ دے جن میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ایسی چیزوں سے بچنے کی خاطر جن میں واقعتاً حرج ہے۔
اس "چھوڑنے" کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، ایسی چیزوں کو چھوڑنا جو بذات خود مشتبہ ہوں۔ دوسرے، ایسی چیزوں کو چھوڑنا جو بذات خود مشتبہ نہ ہوں مگر ان کے متعلق یہ شبہ ہو کہ وہ آدمی کو غلط انجام تک پہنچا سکتی ہیں۔ پہلی صورت میں متعلقہ چیز کی حرمت کا یقین تو نہیں ہوتا مگر اس کی حلت کے بارے میں بھی ذہن پوری طرح مطمئن نہیں ہوتا۔ اس لیے آدمی احتیاط کی بنا پر اسے ترک کر دیتا ہے۔ دوسری صورت میں متعلقہ چیز اصلا بالکل جائز ہوتی ہے مگر یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ ایسے نتائج پیدا کرے گی جو صحیح نہ ہوں مثلاً دنیا کا عیش و آرام فی نفسہ بالکل جائز مگر ایک حساس مومن ان سے صرف اس لیے بچتا ہے کہ وہ ڈرتا ہے کہ اس میں پڑ کر اس کا نفس موٹا ہو جائے گا۔ اس کے درمیان اپنے آپ کو پاکروہ اور اس کے اہل خاندان غلط قسم کے احساس برتری میں مبتلا ہو جائیں گے، دنیا کی آسودہ زندگی "کامیابی" کا غلط احساس پیدا کرے گی اور اس طرح آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کی فکر نفسیاتی طور پر مضمحل ہو جائے گی۔
زہد فی الدنیا سے وہ انسان کیسے بنتا ہے جو ترقی کے اعلیٰ مراتب طے کر سکے، اس کے بہت سے پہلو ہیں، میں یہاں چند خاص پہلوؤں کا ذکر کروں گا۔
زہد فی الدنیا سے جو چیزیں حاصل ہوتی ہیں ان میں پہلی چیز وہ ہے جس کو میں استغراق یا ذہنی یک سوئی کے لفظ سے تعبیر کروں گا۔ دنیا سے جتنا زیادہ آپ کا تعلق ہوگا اتنا ہی زیادہ آپ کے خیالات منتشر ہوں گے، اور یہ تعلق جتنا کم ہوگا اتنا ہی آپ اپنے خیالات کو یک جا کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ حقیقت ایک نہایت لطیف چیز ہے اس لیے اس کو گرفت کرنے کے لیے غیر معمولی ذہنی ارتکاز بہت ضروری ہے جس نے اپنی فکر کو مختلف سمتوں میں پھیلا
رکھا ہو وہ ہرگز اعلیٰ حقائق کا ادراک نہیں کر سکتا۔ تاریخِ سائنس کا عظیم ترین نام "نیوٹن"، اپنے پیچھے جو عظمت رکھتا ہے اس کا سب سے بڑا راز نیوٹن کا ذہنی استغراق تھا۔ وہ اپنے بچپن میں Wool Gatherer کہا جاتا تھا۔ یعنی کھویا ہوا شخص۔ لوگ اسے نیوٹن کا طبعی نقص سمجھتے تھے۔ مگر بعد کو معلوم ہوا کہ اس کی یہ کیفیت اس کی استغراقی صلاحیت کی وجہ سے تھی۔ وہ کسی مسئلہ خاص پر ذہن کو بالکل مرکوز کر کے سوچنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا تھا۔ اس خصوصیت کی وجہ سے وہ بہت جلد مسائل کی تہ تک پہنچ جاتا تھا، اور انتہائی پیچیدہ سوالات جن کے حل کرنے میں دوسرے لوگ مہینوں لگا دیتے تھے وہ انہیں گھنٹوں میں حل کر کے رکھ دیتا تھا۔
اگر آپ اس کے کمرے میں داخل ہوں تو آپ کے سامنے کتابوں اور کاغذات کی ایک بے ترتیب دنیا ہوگی جس میں کسی اہتمام کے بغیر ایک شخص اس طرح کھڑا یا بیٹھا ہوا نظر آئے گا بھیسے وہ کوئی مجسمہ ہے جو کسی اسکیم کے بغیر اس ڈھیر میں لاکر ڈال دیا گیا ہے۔ مشہور سائنس داں ایڈمنڈ ہیلی (Edmund Halley) جس کے نام پر ایک دم دار ستارہ کا ہیلی کامٹ (Halley Comet) کہا جاتا ہے۔ اس نے یہ دم دار ستارہ معلوم تو کر لیا تھا مگر اس کے مدار کا حساب لگانے میں وہ کوشش کے باوجود ناکام رہا۔ اس سلسلے میں مدد لینے کے لئے وہ نیوٹن کے پاس گیا۔ وہاں یہ سن کر اسے سخت حیرت ہوئی کہ الجھے ہوئے بالوں والا یہ آدمی اس کو پہلے ہی حل کر چکا ہے۔ اس نے اس کا حساب دیکھنا چاہا۔ مگر یہ نیوٹن کا کمرہ تھا۔ کوشش کے باوجود بکھرے ہوئے بے ترتیب انبار میں متعلقہ کاغذ برآمد نہ ہو سکا۔ نیوٹن نے فوراً ہی ایک سادہ کاغذ لیا اور اس انتہائی پیچیدہ ریاضیاتی سوال کو دوبارہ حل کر کے اسی وقت ہیلی کے سامنے رکھ دیا۔ ہیلی اس واقعہ سے بہت متاثر ہوا جب اسے معلوم ہوا کہ نیوٹن کی تصنیف Principia ابھی تک اس کے ڈسک کے ایک خانہ میں ردی کاغذات کی طرح بھری ہوئی رکھی ہے، تو اس نے کہا کہ ایسے قیمتی دماغ کے افکار اس طرح پڑے رہنے کے لئے نہیں ہیں۔ چنانچہ اس نے اپنے خرچ سے اس کو چھپوانے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح نیوٹن کی یہ کتاب پہلی بار دنیا کے سامنے آئی۔
نیوٹن صرف مادی دنیا کے کچھ حقائق جاننا چاہتا تھا، اس کے لئے اُسے اس طرح مستغرق ہونا پڑا کہ وہ اپنا کھانا، اپنا سونا، اپنا آرام، اپنا ذوق، اپنی عادتیں، سب بھول گیا۔ تو آپ جی غیر مادی حقائق کا تصور اپنے ذہن میں جمانا چاہتے ہیں، ان کو شدید ذہنی استغراق کے بغیر کس طرح پا سکتے ہیں۔ آسمان پر جو ستارے جگمگاتے ہوئے نظر آتے ہیں ان کی حرکت کے قوانین منضبط کرنے کے لئے نیوٹن کو انکار میں اتنا ڈوبنا پڑا گویا اس نے اپنے آپ کو دنیا سے اٹھا کر اسی خلا میں پہنچا دیا ہے جہاں یہ روشن اجسام حرکت کر رہے ہیں۔ پھر وہ حقیقتیں جو ستاروں سے بھی دور ہیں، جو ٹمٹماتی ہوئی شکل میں بھی آنکھوں کو نظر نہیں آتیں، ان کو بے پناہ ذہنی یکسوئی کے بغیر کیسے گرفت کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ اس طرح خدا کی عبادت کریں گویا کہ آپ اسے دیکھ رہے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ قیامت اور جنت دوزخ کا تصور ہر وقت آپ کی نگاہوں کے سامنے رہے، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ ایسے ہو جائیں کہ آپ جہاں ہوں اور جو کام بھی کر رہے ہوں، ہر حال میں آپ کا سینہ "ذکر کثیر" سے لبریز رہے۔ اگر آپ اپنے اندر
وہ شدید یقینی اور وہ زبردست استحضار دیکھنا چاہتے ہیں جو دل کو پھیلا دے اور آنکھوں کو اشکبار کر دے تو یہی سب کچھ اس کے بغیر یں ہو سکتا کہ آپ حدیث کے الفاظ میں ’’تشقیب ہموم‘‘ کو ختم کر کے اپنی ساری نظریں صرف ایک نقطہ پر لگا دیں ۔ ارجن کے مشہور واقعہ کی طرح آپ کو درخت اور چڑیا اور پتے اور پھل نظر نہ آئیں بلکہ صرف ایک چیز نظر آئے ـــــ ’’شکار کی بائیں آنکھ‘‘ جب آپ یہ ذہنی گم شدگی اور یہ استغراق اپنے اندر پیدا کریں گے تو عادت اور ذوق کے تقاضے آپ کا ساتھ چھوڑنے پر مجبور ہوں گے ، لذتوں اور آسائشوں کا خیال مدہم پڑ جائے گا۔ فکر کی زیادتی جسمانی تقاضوں پر غالب آنے لگے گی۔ آپ کا مہنا اور بولنا کم ہو جائے گا ، تصوراتی دنیا کو پانے کی کوشش میں آپ مادی دنیا سے دور ہوتے ہوئے نظر آئیں گے۔ اس وقت ممکن ہے لوگ کہیں تم پاگل ہو گئے ہو۔ مگر اس سے گھبرائیے نہیں، کیونکہ یہی وہ صحیح ترین خطاب ہے جو کسی بامقصد آدمی کو اہل دنیا کی طرف سے دیا جا سکتا ہے۔
۲- زہد فی الدنیا کے ذریعہ دوسری چیز جو حاصل ہوتی ہے وہ لطافت روح ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مادی دنیا میں آدمی جتنا زیادہ مشغول ہوگا۔ اس کی روح میں اسی قدر کثافت پیدا ہوگی۔ اور جتنا وہ اس سے اپنے آپ کو دور لے جائے گا اسی کے بقدر اس کی روح پاک اور خالص ہوتی چلی جائے گی۔ یہ غلط فہمی نہ ہو کہ میں رہبانیت کی تبلیغ کر رہا ہوں، رہبانیت دنیا سے اپنے آپ کو الگ کر لینے کا نام ہے حتیٰ کہ اس مقصد سے اگر کوئی شخص اپنے آپ کو مار ڈالے تو یہ بھی رہبانی فلسفہ کے مطابق جائز ہوگا۔ اس کے برعکس نہ زہد یہ ہے کہ آدمی مکمل طور پر اسی دنیا مگر اس سے بے رغبت ہو چکا ہو وہ دنیا میں رہتے ہوئے ذہنی حیثیت سے اس سے باہر نکل جائے۔ بھی یقیناً راہب ہوتا ہے۔ مگر اس کی رہبانیت حسی رہبانیت ہے جب کہ دوسرے مذاہب جسمانی رہبانیت میں عقیدہ رکھتے ہیں۔
’’اللہ تعالیٰ نے کسی کے سینے میں دو دل نہیں بنائے‘‘، اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے احساسات کسی ایک ہی چیز کے بارے میں شدید ہو سکتے ہیں۔ وہ دو سمتوں میں حرکت نہیں کر سکتے۔ اگر آپ دنیا اور اس کے ساز و سامان کو اہمیت دینے لگیں تو آخرت کا خیال آپ کے اندر کمزور پڑ جائے گا اور اگر آپ آخرت کی فکر میں مشغول ہوں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ دنیا کے بارے میں آپ پر غفلت طاری ہونے لگے گی۔ جو شخص دنیوی قدروں کو اہمیت دیتا ہے ، اس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ وہ اخروی قدروں کو پامال کر رہا ہے۔ آپ کو ایسے ’’خوش مذاق‘‘ ملیں گے جن کے کھانے کی پلیٹ میں مکھی تیر جائے تو وہ اس کو کھانا پسند نہیں کریں گے۔ دوسری طرف ان کے اسلام میں کتنی ہی مکھیاں پڑی سڑ رہی ہوں گی۔ مگر اس کی عفونت کا انھیں اندازہ نہ ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی طرف رغبت نے آدمی کی حسیات کو دنیا کے بارے میں تو بہت تیز کر دیا، مگر اس کا دوسرا نتیجہ یہ ہوا کہ آخرت کے بارے میں اس کی حسیات کند ہو کر رہ گئیں۔
یہ دنیا جو آپ کے جسم کو موٹا کرتی ہے۔ یہ آپ کی روح کی قاتل ہے۔ اگر آپ اس کے اندر لذت ڈھونڈنے
لگیں، اگر اس کے سطحی اور ظاہری ساز و سامان آپ کو اپنی طرف کھینچ لیں، تو وہ آپ سے آپ کا سب سے بڑا جوہر چھین لیں گے ۔ اس کے بعد آپ کے نازک جذبات مردہ ہو جائیں گے، آپ کے اندر وہ لطیف احساسات ابھر نہیں سکتے جو اعلیٰ ترین حقائق کا ادراک کرتے ہیں۔ جن پر تجلیات الہی کا نزول ہوتا ہے۔ جس کے بعد آدمی تمام حجابات سے بلند ہو کر حقیقت کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے جس کے اندر دنیا سے بے رغبتی پیدا نہیں ہوئی، اس کے اندر گویا وہ صلاحیت ہی پیدا نہیں ہوئی جو کسی حقیقت کو سمجھے اور اسے قبول کر سکے۔ ظاہر ہے کہ ایسے دل میں حکمت کا "انبات" نہیں ہو سکتا۔ جس زمین میں اخذ کی صلاحیت نہ ہو وہ کیسے کسی بیج کو قبول کرے گی اور اس کے اندر ڈالا ہوا دانہ نشوونما پا کر پورا درخت کیسے بن سکتا ہے۔ یاد رکھیے، حقیقت ایک غیر مادی چیز ہے۔ اس لئے وہ روح جو مادی آلائشوں میں پھنسی ہوئی ہو، وہ حقیقت کو بے نقاب حالت میں نہیں دیکھ سکتی۔ اس کا مشاہدہ ہمیشہ دھندلا مشاہدہ ہو گا جس میں حقیقت کے بعض رُخ دکھائی دیں گے اور بعض رخ نظروں سے اوجھل ہو جائیں گے۔ روح کی لطافت اور کثافت کوئی تصوف کا پر اسرار مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ بالکل ایک سادہ سی حقیقت ہے جس کو ہر شخص معمولی غور و فکر سے سمجھ سکتا ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ آپ کا جو حیاتیاتی اور تصوراتی وجود ہے وہ کسی اور کی محبت میں اٹکا ہوا ہے یا اس نے اپنے آپ کو دوسری چیزوں کی گرفت سے بالکل خالی کر دیا ہے تاکہ مالکِ حقیقی کی یاد آپ کی روح کو اپنا مسکن بنا سکے۔ مگر مسھوں میں اگر مسجد میں بجلی کا پنکھا چلا یا جائے اور اس کی ہوا میں نماز ادا کی جائے تو ظاہر ہے کہ کوئی اسے ناجائز نہیں کہہ سکتا۔ لیکن اگر دل اللہ کے ذکر سے خالی ہو تو یہ حال ہوتا ہے کہ مسجدوں میں نماز کے لئے آنے والے پنکھے کے نیچے جگہ حاصل کرنے کے لئے مسابقت کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ نماز کے دوران میں اگر کرنٹ رکنے کی وجہ سے پنکھا بند ہو جائے تو سلام پھیرتے ہی ہر شخص کی نظریں اوپر اٹھ جاتی ہیں اور نماز کے بعد یا درسیلانی کے انتظام کی خرابی وہ اہم ترین موضوع ہوتا ہے جس پر لوگ اپنے جذبات اور اپنی معلومات کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کی آرام طلبی نے آپ کی روح کو گندہ کر دیا۔ اس میں گرمی اور سردی کے مسائل نے اپنے آشیانے بنا لئے۔ ظاہر ہے کہ ایسا آدمی وہ نماز نہیں پڑھ سکتا جو ساری لذتوں سے بڑھ کر لذیذ ہے۔ جس میں مشغول ہو کر آدمی گرد و پیش سے بے خبر ہو جاتا ہے، جب ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ اپنی دنیا سے نکل کر خدا کی دنیا میں پہنچ گیا ہے۔
مجھ کو بار بار اس کا تجربہ ہوا کہ ایک شخص اپنے ذوق اور اپنی عادتوں کے معاملے میں نہایت حساس ہے۔ اپنے طبعی تقاضوں میں کمی کو وہ کسی حال میں برداشت نہیں کرتا۔ مگر ایسے معاملات جو خدا اور آخرت سے تعلق رکھتے ہیں۔ جو اس کی دوامی زندگی کو بہتر یا بدتر بنانے والے ہیں ان میں وہ اکثر نہایت سنگین حقیقتوں کو اس طرح نظر انداز کر دیتا ہے گو یا ان کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ اس کے سامنے آپ قرآن و حدیث کے صریح ارشادات پیش کیجئے، مگر وہ ایسے سرسری جوابات دے کر بات کو ٹال دے گا کہ آپ حیرت میں یہ سوچتے رہ جائیں گے کہ ’’دوبارہ ان کا کوئی جواب بھی دوں یا نہیں‘‘ اس کی وجہ یہی ہے کہ آدمی اپنے آپ کو دنیا سے اوپر اٹھا نہیں سکا۔ اس کے ایمان بالآخرہ نے
اس کی روح کو ابھی تک دنیا کی کثافتوں سے پاک نہیں کیا۔ ظاہر ہے کہ ایسے شخص کی حسیات انہیں معاملات میں زیادہ کام کریں گی جہاں وہ عملاً پڑا ہوا ہے۔ مگر جس دنیا سے وہ دور ہے جہاں اس نے ابھی تک اپنے آپ کو پہنچایا نہیں اس کی حقیقتوں کو وہ کیسے گرفت کر سکتا ہے اور ان کے ذکر سے کس طرح اس کے اندر پل چل پا ہو سکتی ہے ۔ شخصیت پرستی کسی کے ذہن کی تمام کھڑکیاں بند کر دے تو حق کی روشنی اس کے اندر کس راہ سے داخل ہوگی۔ اگر آپ چند آدمیوں کے ساتھ بیٹھے ہوں اور یکایک تار آئے کہ آپ کے اکلوتے لڑکے کا انتقال ہو گیا، تو دوسرے لوگ جیسے پہلے تھے ویسے اب بھی رہیں گے مگر آپ تڑپ اٹھیں گے۔ آپ کی حالت بالکل بدل جائے گی۔ کی وجہ یہی ہے کہ جس شخص کے متعلق خبر آئی ہے اس کی خبر سننے کے لئے پہلے سے آپ کے دل کے تمام گوشے خالی تھے اس لئے وہ سیدھی آپ کے دل میں گھس گئی۔ اس کے برعکس بقیہ لوگوں کے دل میں اس نے جانے کا راستہ نہیں پایا کیوں کہ ان کے دل کچھ دوسرے لوگوں کی محبت سے بھرے ہوئے تھے۔ ٹھیک اسی طرح جب قرآن کی ’’تلاوت‘‘ ہو رہی ہو۔ جب کلمات حکمت سنائے جا رہے ہوں، جب کوئی منادی کرنے والا ایمان کی منادی کر رہا ہو، تو اس کی آواز انہیں لوگوں کے دل سے ٹکرائے گی جنہوں نے اپنا سینہ اس کے لئے کھلا رکھا ہو۔ اور جس نے اپنے اندرون کو دوسری پرستشوں کا گودام بنا رکھا ہے اس پر کوئی آواز اثر نہیں کر سکتی، وہ تو اسی وقت سنے گا جب صاعقہ عظیم اس کے کان کے پردے پھاڑ دے۔
زہد کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ وہ آپ کے لوازم زندگی میں کمی کر دیتا ہے ۔ ہر با مقصد آدمی فطرتاً ایک تضاد میں مبتلا کیا گیا ہے۔ ایک طرف اس کے جسم کے تقاضے ہیں جن کی فہرست کا کوئی شمار نہیں۔ اور دوسری طرف اس کا مقصد ہے جو تقاضا کرتا ہے کہ ساری توجہ اسی کی طرف لگادی جائے۔ اس تضاد کو ہم بالکل ختم نہیں کر سکتے ہماری بہترین عقل مندی یہ ہے کہ ہم اس میں کمی کی کوشش کریں۔ دنیا کے تمام وہ لوگ جنہوں نے کوئی بڑا کام انجام دیا ہے، وہ اپنے مشن کی تکمیل کے لئے مجبور تھے کہ اپنے لوازم حیات میں ہر ممکن حد تک کمی کریں۔ آپ کے سامنے بھی ایک عظیم مشن ــــــــ دنیا کے سامنے حق کی گواہی دینے کا مشن، ہے۔ اس لئے اگر آپ اسے تکمیل تک پہنچانا چاہتے ہیں تو آپ کو بھی اسی اصول پر عمل کرنا ہوگا۔ البتہ اس میں اسلام کے اپنے نظریہ زندگی کا لحاظ ضروری ہے۔ میں ہرگز یہ نہیں کہوں گا کہ آپ نیوٹن کی طرح شادی نہ کریں۔ مگر میں یہ ضرور کہوں گا کہ آپ نیوٹن کی طرح سگریٹ نہ پییں۔ کیوں کہ شادی ایک حقیقی ضرورت ہے جب کہ تمباکو، انسان کی فطری ضرورتوں پر ایک مصنوعی ضرورت کا اضافہ ہے۔ لوازم حیات میں کمی کا یہ پہلو تو بالکل واضح ہے کہ وہ آپ کو اپنے مقصد میں زیادہ حصہ لینے کے قابل بناتا ہے۔ ظاہر ہے کہ آپ کی دیگر ضروریات کی فہرست جتنی مختصر ہوگی، اسی کے بقدر آپ اپنے مقصد کے کاموں کے لئے زیادہ فارغ ہوں گے۔ خلا کا ایک مسافر راکٹ میں بیٹھ کر تین سومیل فی منٹ کی رفتار سے اُڑتا ہے۔ مگر اس سفر میں بھی بھاری ملبوسات اور مختلف قسم کے آلات سے وہ لیس ہوتا ہے، ان کو اپنے جسم پر لادے ہوئے زمین پر پیدل چلنا ہو تو وہ چند میل بھی مشکل سے اپنے آپ کو گھسیٹ کر لے جاسکے گا۔ اسی طرح اگر آپ نے اپنی زندگی کو حقیقی ضروریات
کے ماسوا اور بہت سی ضرورتوں کا عادی بنا لیا ہے تو ان کو لینے، موئے آپ زمین پر نہیں چل سکتے۔ جب تک یہ لوازم آپ کے گرد مہیا ہوں آپ متحرک نظر آئیں گے۔ مگر جہاں یہ لوازم رخصت ہوئے، آپ اسی طرح اپنے آپ کو بے بس پائیں گے جیسے مغلیہ سلطنت کے آخری شہزادے پالکی کی سواری کا عادی ہونے کی وجہ سے فدر کے وقت بھاگ نہیں سکے اور ان کے دشمنوں نے محل میں گھس کر ان کے بستروں پر انہیں قتل کیا۔
مگر لوازم حیات کو مختصر کرنے کا ایک اور فائوہ ہے جو اسلامی اعتبار سے اس سے زیادہ قیمتی ہے۔ وہ یہ کہ اس طرح کے لوازم میں جتنی کمی ہوگی اسی کے بقدر آپ کے اندر زیادہ سونا درا اخلاص پیدا ہوگا۔ اگر آپ کو ایک ہزار میل دور سے اگر یہاں تقریر کرنی ہے تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ میرے لئے اسپیشل سیلون میں سفر کرنا ضروری ہے تاکہ جب میں اسٹیشن پر اتروں تو بالکل تازہ دم رہوں اور جلسہ گاہ پہنچ کر اپنے موضوع پر اچھی طرح بول سکوں، بیشک آپ کے لئے ایسا کرنا جائز ہے۔ کسی کو جرات نہیں کہ اس کے خلاف فتویٰ دے سکے۔ بلکہ بہت سے ظاہرا بینوں کو آپ کا زور خطابت اس دلیل کی مقبولیت ماننے پر یہاں تک مجبور کر سکتا ہے کہ وہ آپ کے لئے مخصوص سیلون میں سفر کرنا ہی افضل لگیں کیونکہ اس کے بغیر اتنی شان دار تقریر وجود میں نہیں آسکتی تھی ۔ مگر میں کہوں گا کہ خدا کو شان دار تقریر مطلوب اس کو تو آپ کے دل کے ٹکڑے درکار ہیں۔ اور وہ تقریر جس میں آپ کے دل کے ٹکڑے الفاظ بن کر نکلیں، جو دوسروں کو متاثر کرنے سے پہلے خود آپ کو رلا دے، جو تقریر نہ ہو بلکہ درد اور تڑپ کا ایک مجسم اظہار ہو دہ تو اسی وقت ہوتا ہے جب کہ آپ بے آرامی سے سفر کر کے یہاں پہنچے ہوں جس میں یہاں تک اپنے آپ کو لانے میں اپنے مشقت اٹھائی ہے جو آپ کے لئے محض سفر نہ ہو بلکہ خدا کی طرف بڑھنے کا ایک مجاہدہ ہو۔ ایسی ہی ایک زبان سے کلمات درد نکل سکتے درد مند کلام، خدا کا ایک الہام ہے جو براہ راست عالم الغیب والشہادہ کی طرف سے آپ کے اوپر القا کیا جاتا اور قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کا الہام ایک ”قولِ ثقیل “ ہے جو کسی ایسے قلب ہی پر اتر سکتا ہے جو ” وطا شديد“ کے مرحلے سے گزر چکا ہو (سورہ مزمل)
امام احمد اور امام ترمذی کی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بار اپنے رسول کو سونے کی عظیم ترین کان دینے کی پیش کش کی، رسولؐ نے جواب دیا، خدایا نہیں، بلکہ مجھے اس طرح رکھئے کہ کسی روز کھاؤں اور کسی روز بھوکا رہوں تاکہ جب میں کھاؤں تو آپ کا شکر ادا کروں اور جب بھوک ستائے تو آپ کے سامنے گریہ و زاری کروں۔ معلوم ہوا کہ آدمی حالات کے بغیر اپنے اندر کیفیات پیدا نہیں کر سکتا۔ جو حالات سے خالی ہو جائے وہ کیفیات سے بھی خالی ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ سختی اور مشقت کے لمحات اپنے اندر دو طرفہ فائدہ رکھتے ہیں۔ ایک طرف ان سے وہ ” درد “ حاصل ہوتا ہے جو دل کی زندگی ہے، جو آپ کو احساس حیات سے آشنا کرتا ہے ۔ جو انسان کی اندرونی صلاحیتوں کو بیدار کرنے والا ہے۔ دوسری طرف مشقت کے لمحات ہی آپ کی راحت کے لمحات کو اسلامی رنگ دیتے ہیں۔ وہ آدمی کو اس قابل بناتے ہیں کہ جب وہ ایسی کوئی چیز دیکھے تو اس کا دل شکر کے جذبے سے لبریز ہو جائے ۔ جو درد سے خالی ہے وہ زندگی سے خالی ہے، اور جو زندگی سے محروم ہو وہ کیسے کوئی بات سنے گا اور کیسے کوئی بات قبول کرے گا۔
- زہدِ الدنیا کا ایک اور پہلو ہے۔ وہ یہ کہ ایسا آدمی حرام اور مشتبہ چیزوں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ ناجائز چیزوں کے ارتکاب سے وہی شخص بچ سکتا ہے جو جائز حدود میں بھی بچ کر چلتا ہے۔ "جائز" چیزوں کو اپنا ضروری سمجھے، ایسے آدمی کے لئے ہر وقت خطرہ ہے کہ وہ کسی حرام کام میں پڑ جائے۔ الفاظ میں، ہر بادشاہ کی ایک ممنوعہ چراگاہ ہوتی ہے اور خدا کی چراگاہ وہ چیزیں ہیں جن کو اس نے حرام قرار دیا ہے۔ سرحد تک اپنے مویشی چرا تا ہوا پہنچ جائے اس کے لئے ہر آن یہ خطرہ ہے کہ مویشی کہیں چرا گاہ کے اندر نہ گھس جائیں۔ عورتوں کے لئے زیب وزینت بالکل جائز ہے۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ ہر وہ گھر جس نے اس جواز کو اپنے لئے کھلا دروازہ سمجھ لیا ہے، آج اس کے یہاں غیر ساتر ملبوسات اس طرح استعمال ہونے لگے ہیں کہ اب لوگوں کو شاید ان کے ممنوع ہونے کا بھی احساس نہیں رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کل کے بے دین گھرانے اور اسلام پسند گھرانے میں بس اتناہی فرق رہ گیا ہے کہ ہمارے گھروں کی عورتیں اور لڑکیاں خاندان اور رشتہ کے لوگوں اور دوسرے ملنے والوں کے سامنے اپنی غیر شرعی پوشاک کا مظاہرہ کرتی ہیں اور دوسرے گھرانوں کی عورتیں اپنے اس فتنہ کو لئے ہوئے بازاروں اور سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔ اسی طرح سرکاری ملازمتوں میں جو لوگ ترقی کرتے ہیں یا بڑے عہدے حاصل کرتے ہیں وہ ضمیر کی قربانی دے کر ہی ان مناصب تک پہنچتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں کسی اونچی کرسی کو اپنی نشست گاہ بنانے کے لئے جو لیاقت درکار ہے اس میں سے ایک ضروری چیز یہ بھی ہے کہ دین کو آپ اپنے اندر سے کھرچ کر نکال دیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بادشاہوں سے تعلق رکھنے والوں کے بارے میں کہا تھا "اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، تم ان کی دنیا میں سے جتنا پاؤ گے اس سے زیادہ وہ تمھارے دین میں سے لے لیں گے، یہ بات جدید بادشاہت کے بارے میں بھی اسی طرح صحیح ہے جیسے وہ قدیم بادشاہت کے بارے میں صحیح تھی۔ اس فرق کے ساتھ کہ پہلے وہ دین کا زیادہ حصہ لیتے تھے اور اب وہ آپ کا کل دین لے لیتے ہیں۔
ایک بڑے تاجر نے ایک مرتبہ کہا کہ موجودہ زمانے میں بالکل جائز طریقہ پر کوئی بڑا کاروبار نہیں کیا جا سکتا۔ آپ کی آمدنی ایک خاص حد سے آگے بڑھی، بے شمار قوانین آپ کو چاروں طرف سے گھیر لیتے ہیں۔ آپ مجبور ہوتے ہیں کہ غلط طریقے سے کام کریں۔ ورنہ آپ کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکتے۔ اتنے بڑے کاروبار کا آپ کو مکلف کس نے کیا ہے؟ جواب دینے والے نے جواب دیا۔ مگر موجودہ انسان کو اس قسم کے جوابات سے کوئی دل چسپی نہیں۔ اس نے تو یہ طے کر رکھا ہے کہ وہ اپنے امکان بھر ان تمام نعمتوں کو حاصل کرے گا جو خدا نے زمین پر پیدا کی ہیں۔ اس لئے یہ بھی ضروری ہوگیا ہے کہ وہ ان تمام چیزوں کو اپنے لئے حلال کر لے جس کو خدا نے حرام ٹھیرا یا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ترقی کا ہر واقعہ جو آپ کو اپنے گرد و پیش نظر آتا ہے، وہ صرف حکمت نہ حد سے محرومی کا ثبوت بلکہ اس سے بڑھ کر وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی بڑھتے بڑھتے خدا کی حرام کی ہوئی چرا گاہ میں گھس اس کے بغیر وہ اتنی غیر معمولی فربہی حاصل نہیں کر سکتا تھا۔
ممکن ہے یہ باتیں سن کر آپ کہیں کہ اسلام کا مطلب اگر یہی ہے تو اس کا پانا بہت مشکل ہے۔ بیشک اسلام کا
پانا بہت مشکل ہے مگر وہ خدا کی مدد سے آسان ہو سکتا ہے۔ حضرت مسیح نے جب روحِ دین کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے نکل جانا اس سے آسان ہے کہ دولت مند خدا کی بادشاہی میں داخل ہو ، تو ان کے شاگرد یہ سن کر بہت اچنبھے میں پڑا گئے اور کہنے لگے کہ پھر کون نجات پا سکتا ہے ۔ آپ نے ان کی طرف دیکھ کر فرمایا ۔ " یہ آدمیوں سے تو نہیں ہو سکتا لیکن خدا سے سب کچھ ہو سکتا ہے " اگر آپ اسلام کو اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتے ہیں ، اگر آپ وہ حیاتِ طیبہ حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں جو اللہ تعالی کو مطلوب ہے تو اس کو پانے کی صورت یہی ہے کہ آپ اسے خدا سے مانگیں۔ دوسری تمام چیزوں کی طرح یہ سب سے قیمتی چیز بھی آپ کو خدا ہی سے ملے گی کہیں اور سے آپ اسے حاصل نہیں کر سکتے ۔ مگر یاد رکھئے خدا سے مانگنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ دعا کے کچھ مقرر الفاظ یاد کر لیں اور اسے اپنی زبان سے دہرادیا کریں ایک عیسائی عالم کے الفاظ میں :۔ God is not a Cosmic bell-boy for whom we can press a button to get things. خدا سے مانگنے کی اصل زبان وہ نہیں جو لفظوں کی صورت میں اپنے مطالبات کا اظہار کرتی ہے ، اس سے مانگنے کی زبان آپ کا قلب ہے۔ آپ اپنی حقیقی زندگی سے جو کچھ چاہ رہے ہیں وہی دراصل آپ اپنے رب سے مانگتے ہیں۔ خدا آپ کے لفظوں کو نہیں دیکھتا وہ خود آپ کو دیکھتا ہے ۔ آپ اپنے اصل وجود میں جس چیز کے لئے بے قرار ہوں اپنے رب سے آپ اسی چیز کے طلب گار ہیں۔
ایک بچہ اپنی ماں سے روٹی مانگے تو یہ ممکن نہیں ہے کہ ماں اس کے ہاتھ میں انگارہ رکھ دے۔ خدا اپنے بندوں پر اس سے زیادہ مہربان ہے۔ یہ ہرگز ممکن نہیں ہے کہ آپ خدا سے خشیت مانگیں اور وہ آپ کو قساوت دیدے۔ آپ خدا کی یاد مانگیں اور وہ آپ کو نسیان میں مبتلا کردے ۔ آپ آخرت کی تڑپ مانگیں اور وہ آپ کو دنیا کی محبت میں ڈال دے، آپ کیفیت سے بھری ہوئی دینداری مانگیں اور وہ آپ کو بے روح دینداری میں پڑ رہنے دے۔ آپ حق پرستی مانگیں اور وہ آپ کو شخصیت پرستی کی تاریک کوٹھری میں بند کر دے ۔ آپ کی زندگی میں آپ کی مطلوب چیز کا نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ نے ابھی تک اس کو مانگا ہی نہیں۔ اگر آپ کو دودھ خریدنا ہو اور آپ تھیلی لے کر بازار جائیں تو ظاہر ہے کہ پیسے خرچ کرنے کے باوجود آپ خالی ہاتھ واپس لوٹیں گے ۔ اسی طرح اگر زبان سے آپ دعا کے کلمات دہرارہے ہوں مگر آپ کی اصل ہستی کسی اور طرف متوجہ ہو تو میں کہوں گا کہ نہ آپ نے مانگا تھا اور نہ آپ کو ملا ۔ جو مانگے وہ کبھی محروم نہیں رہ سکتا ۔ یاد رکھئے، ، یہ مالک کائنات کی غیرت کے خلاف ہے کہ وہ کسی بندے کو اس حال میں رہنے دے کہ قیامت میں جب خدا سے اس کا سامنا ہو تو وہ اپنے رب کو حسرت کی نظر سے دیکھے ۔ وہ کہے کہ خدایا میں نے تجھ سے ایک چیز مانگی تھی مگر تو نے مجھے نہ دی۔ بخدا یہ ناممکن ہے، یہ ناممکن ہے ، یہ ناممکن ہے۔ کائنات کا مالک تو ہر صبح و شام اپنے سائے خزانے کے ساتھ آپ کے قریب ترین آکر آواز دیتا ہے۔ " کون ہے جو مجھ سے مانگے تا کہ میں اسے دوں " مگر جنہیں لینا ہے وہ سوئے ہوں تو اس میں دینے والے کا کیا قصور ۔
تقریر حلقہ وار اجتماع جماعت اسلامی ہند بمقام جون پور ۔ ۱۲ نومبر ۱۹۶۱ء