توحید کی عملی اہمیت
Al-Risala, April 1979, pp. 10–14
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام میں توحید کا عقیدہ ہیگل کے فلسفہ کی طرح محض ایک مجرد تصور (Abstract Idea) کی حیثیت انسان کی زندگی سے اس کا نہایت گہرا عملی تعلق ہے۔ اسلام کے نزدیک وہی شخص موحد ہے وجود وحدت فکر کے ساتھ وحدت کردار کا بھی حامل بن جائے۔ اسلامی توحید کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کائنات کا خالق ایک ہے اسی طرح اس کا مالک بھی ایک ہے۔ اور ٹھیک اسی طرح وہ ہستی بھی وہی ایک ہے جس کے آگے انسان جواب دہ ہے اور اپنے عمل کے مطابق جس کے یہاں سزا یا جزا پانے والا ہے۔ اس طرح آخرت کا عقیدہ بھی، بالواسطہ طور پر، عقیدہ توحید ہی کا ایک جزو بن جاتا ہے۔ خدا کے تخلیقی ظہور کو مانے بغیر جس طرح خدا کا عقیدہ بے معنی ہے، اسی طرح خدا کے محاسب اور مجازی ہونے کی حیثیت کو جب تک تسلیم نہ کیا جائے ، خدا کی یکتائی کا عقیدہ مکمل نہیں ہوتا۔ موجودہ کائنات اپنی اتھاہ حکمتوں کے ساتھ خدائے وحدہ لاشریک کی قدرت کاملہ کا ایک ظہور ہے۔ آخرت کا عالم اسی ظہورِ خدا وندی کی تکمیل ہے۔ موجودہ دنیا وحدت الہی کا غیبی ظہور ہے، آخرت کی دنیا وحدت الہی کا مشاہداتی موجودہ عالم میں توحید ایک غور و فکر کا موضوع نظر آتی ہے، آخرت کی دنیا وہ دنیا ہوگی جہاں توحید ایک ایسا قائم شدہ واقعہ بن جائے گا جس کو ماننا اسی طرح ہر ایک کے لئے ضروری ہو گا جس طرح آج سورج کو ماننا۔ اگر کوئی شخص خدا کو ایک مانے مگر خدا کی یکتائی کے اس ظہور کو تسلیم نہ کرے جو آخرت کی صورت میں سامنے آنے والا ہے تو اس کا عقیدہ توحید ناقص ہے۔ وہ ایک فلسفی موحد ہو سکتا ہے مگر اس کو اسلامی موحد کہنا کسی طرح درست نہ ہوگا۔
" خدا ایک ہے " یہ صرف ایک گنتی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ تمام معلوم اور نا معلوم حقائق کی تشریح کا معاملہ مادی دنیا ہو یا روحانی دنیا، حال کا معاملہ ہو یا مستقبل کا معاملہ، دنیا کے مسائل ہوں یا آخرت کے مسائل، تمام چیزیں اس وقت تک ناقابل فہم ہیں جب تک ان کو ایک فکری وحدت کی حیثیت نہ دے دی جائے، جب تک وحدتِ خداوندی کے ساتھ ان کی نسبت کو معلوم نہ کر لیا جائے۔ خدا کی یکتائی کی دریافت تمام حقائق کی مرکزی وحدت کی وہی توحید توحید ہے جو ہمارے اوپر حقائق کی ابدی معنویت کو واضح کر دے۔ جو نظریہ حقائق کی معنویت کو بحیثیت ایک کل کے واضح نہ کرے وہ خواہ اور جو کچھ ہو مگر اسلامی نقطہ نظر سے اس کو توحید نہیں کہا جا سکتا۔ وحدت کو پانا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ اسی کے ساتھ انسان اور کائنات کی وحدت کو پانے کے ہم معنی بن جائے، وہ ایک ایسے فکر کا درجہ حاصل کرلے جہاں تمام تضادات ختم ہو جائیں اور صرف وحدت ہی آخری حقیقت کے طور پر باقی رہ جائے۔ ڈارون نے خالق (Creator) کا جو تسلیم کیا ہے۔ مگر وہ یہ دریافت نہ کر سکا کہ خالق ہے تو اس کے اور انسان کے درمیان نسبت کیا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ڈارون کے نظریہ کے بطن سے تاریخ کا سب سے زیادہ شدید
الحاد برآمد ہوا۔ توحید کے عقیدہ کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ ضروری ہے کہ توحید کا مطالعہ اس طرح کیا جائے کہ وہ ہم کو توحید اور انسان کے درمیان نسبت کی دریافت تک پہنچا سکے۔ اس کے بغیر نہ صرف یہ کہ یہ مطالعہ ادھورا رہیگا بلکہ یہ بھی اندیشہ ہے کہ وہ سچائی کے مسافر کو الٹی سمت میں کسی مقام پر پہنچانے والا بن جائے۔ توحید کا عقیدہ اور انسان کائنات جس طرح مکمل طور پر اپنے خالق اور مالک کے تابع ہے، وہی انسان سے بھی مطلوب ہے جو کائنات کا صرف ایک حقیر حصہ ہے۔ انسان کے لئے درست طرزِ عمل یہ ہے کہ وہ اس حقیقت واقعہ کو تسلیم کرے اور خدا کی اطاعت کو قبول کر کے بقیہ کائنات کا ہم سفر بن جائے۔ خدا جس طرح ساری کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے اسی طرح انسان کے معاملات بھی اسی وقت سدھر سکتے ہیں جب کہ وہ اپنے آپ کو خدائی کنٹرول میں دے چکا ہو۔ کائنات کی صحت کارکردگی کا سبب یہ ہے کہ اس نے اپنے آپ کو خدائی اخلاقیات کے رنگ میں رنگ لیا ہے۔ زندگی کی درستگی کا راز بھی یہی ہے کہ وہ خدائی اخلاقیات میں اپنے آپ کو رنگنے کی کوشش کرے۔ توحید تمام بھلائیوں کا سر چشمہ ہے۔ اور ہر قسم کی خرابیوں کی جڑ یہ ہے کہ توحید دنیا میں قائم نہ ہو۔ توحید کیا ہے ۔ اس حقیقت واقعہ کا تحقق کہ اس کائنات کا پیدا کرنے والا، اس کو سنبھالنے والا اور ہر قسم کی قوتوں کا واحد مالک صرف ایک اللہ ہے۔ اس کے سوا کسی کو اس کائنات میں کسی قسم کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ ذرہ سے لے کر کہکشانی نظاموں تک سارا عالم اس حقیقت توحید کی براہ راست گرفت میں ہے۔ وہ مکمل طور پر ایک مالک الملک کے زیر انتظام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پورا عالم اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ ٹھیک ویسا ہی ہے جیسا کہ فی الواقع اس کو اس کی کارگزاری میں آج تک کسی ادنیٰ نقص کا مشاہدہ نہ کیا جا سکا۔ وہ اتنی کامل صحت کے ساتھ چل رہا ہے کہ کھرب ہا کھرب سال کے اندر بھی اس کی رفتار میں ایک سیکنڈ کا فرق نہیں پڑتا۔ موجودہ زمانہ میں خدا کے وجود کے خلاف جو دلیلیں پیش کی گئی ہیں، ان میں سب سے اہم وہ ہے جس کو نقص کا مسئلہ (Problem of Evil) کہا جاتا ہے۔ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کائنات میں ایسے نقائص ہیں جن کی موجودگی میں یقین نہیں کیا جا سکتا کہ اس کو کسی حکمت والے خدا نے بنایا ہے۔ اس سلسلے میں ایک شخص نے یہ مثال دی ہے کہ زمین کی قوت کشش (Force of Gravity) اس سے بہت زیادہ ہے جتنا کہ اس کو ہونا چاہئے۔ چند میٹر کی بلندی سے گرنے میں آدمی کا پاؤں ٹوٹ جاتا ہے۔ اگر قوت کشش کم ہوتی تو ایسا نہ ہوتا۔ مگر اس قسم کی بات صرف کمتر غور و فکر کا نتیجہ ہے۔ کہنے والا یہ بھول گیا کہ گرنا تو ایک حادثہ ہے جو معمول کے خلاف بھی پیش آتا ہے۔ لیکن اگر زمین کی قوت کشش کم ہوتی تو اس پر معمول کی زندگی ہی درہم برہم ہو جاتی ــــ انسان مضبوطی کے ساتھ زمین پر قائم نہ رہ سکتا، ہماری ریلیں پٹریوں پر نہ دوڑ سکتیں، ہمارے مکانات اور کارخانے اکھڑ جاتے، پانی زمین پر نہ ٹھیر سکتا، وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ چیز جس کو بعض لوگوں نے نظامِ فطرت کا نقص سمجھا ہے وہ نظام فطرت میں اعتدال و توازن کا ثبوت ہے۔ قرآن کے یہ الفاظ ناقابل چیلنج حد تک صحیح ہیں "اللہ نے بنائے سات آسمان
- تم اللہ کے اس بنانے میں کوئی فرق نہ دیکھو گے۔ تم پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لو - کیا تم کو کوئی خلل دکھائی دیتا ہے۔ بار بار نگاہ ڈال کر دیکھو۔ تمھاری نگاہ عاجز ہو کر اور تھکی ہوئی تمھاری طرف لوٹ آئے گی (ملک) کائنات کا اس طرح بے عیب اور خالی از نقص ہونا اس لیے ہے کہ وہ براہ راست خدا کے کنٹرول میں ہے۔ کی صفات کا مادی ظہور ہے۔ مگر انسانی دنیا کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اینٹن چیخوف نے صحیح کہا ہے کہ "یہ دنیا بے حسینن ہے۔ اس میں صرف ایک ہی چیز ہے جو حسی نہیں، اور وہ انسان ہے" انسان ساری معلوم کائنات میں واحد مخلوق ہے جو اپنے ہم جنسوں کے ساتھ عداوت کرتا ہے (بقرہ ۳۶) وہ زمین پر اصلاح کے بجائے فساد بر پا کرتا ہے (اعراف ۵۶) وہ ایسی کارروائیاں کرتا ہے جس کے نتیجہ میں کھیتیاں اور نسلیں برباد ہوں (بقرہ ۲۰۵) - دو دنیاؤں میں یہ فرق کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بقیہ کائنات براہ راست اللہ کے حکم کے تحت چل رہی ہے۔ وہ ویسی ہی رہنے کے لیے مجبور ہے جیسی کہ خدا چاہتا ہے کہ وہ رہے۔ مگر انسان کو اللہ طرف سے آزادی ملی ہوئی ہے۔ وہ اپنے ارادہ کے تحت صحیح یا غلط راستہ پر چلنے کا اختیار رکھتا ہے۔ انسانی دنیا میں بگاڑ کی وجہ تمام تر یہی ہے۔ بقیہ دنیا خدا کی مرضی کی پابند ہے، اس لئے وہ مکمل طور پر درست ہے۔ اس کے برعکس انسان اپنی خواہشوں کی پیروی کرتا ہے، اس لئے اس کے سارے معاملات میں فساد اور بگاڑ برپا رہتا ہے۔ برائی جو زمین پر پائی جاتی ہے وہ انسانی آزادی کا غلط استعمال ہے۔ انسان نے فرشتوں کے اس اندیشہ کوساری تاریخ میں درست ثابت کیا ہے جو انھوں نے اس کی پیدائش کے وقت خدا کے سامنے ظاہر کیا تھا: "کیا تو ایسے لوگوں کو زمین میں اختیار دے رہا ہے جو وہاں فساد کرے اور خون بہائے (بقرہ ۳۰)
یہ آزادی جو انسان کو حاصل ہے، یہ مطلق آزادی نہیں ہے۔ یہ صرف وقتی آزادی ہے اور خاص منصوبہ کے تحت دی گئی ہے۔ یہ دراصل امتحان کی آزادی ہے (ملک ۲) کائنات کا مالک یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ ان میں سے کون ہے جو آزادی پا کر بھی آزادی کا غلط استعمال نہیں کرتا ۔ تاکہ وہ ایسے لوگوں کو اپنے انعامات سے نوازے۔ اور ان لوگوں کو تباہی کے گڑھے میں ڈال دے جو آزادی پا کر بگڑ گئے (انفال ۷۳) دنیا کا موجودہ نظام صرف اس وقت تک ہے جب تک جانچ کا یہ عمل پورا نہیں ہو جاتا۔ اس مدت کے پورا ہونے کے بعد زمین کا مالک زمین کا انتظام بھی براہ راست اپنے ہاتھ میں لے لے گا جس طرح وہ بقیہ کائنات کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہے۔ (مریم ۴۰) اس وقت اچھے اور برے ایک دوسرے سے الگ کر دیئے جائیں گے (آل عمران ۱۷۹) اچھے لوگوں کو ابدی طور پر جنتی زندگی حاصل ہوگی اور برے لوگ ابدی طور پر جہنمی حالات میں دھکیل دیئے جائیں گے۔ لفظوں میں یہ کہ موجودہ دنیا وہ مقام ہے جہاں آنے والی خدائی دنیا کے شہری چنے جا رہے ہیں۔ جو لوگ آزاد ہونے کے بعد بھی اپنے آپ کو اللہ کا حکم بردار بنائیں گے، جو مجبور نہ ہوتے ہوئے بھی اللہ کی مرضی کو اپنے اوپر طاری کریں گے، وہی اللہ کے نزدیک اس قابل ٹھیریں گے کہ وہ اللہ کی دنیا کے شہری بن سکیں۔ آج امتحان کے وقفہ میں ہر طرح کے لوگ زمین پر بسے ہوئے ہیں۔ مگر امتحان کی مدت ختم ہونے کے بعد صرف صالح لوگ خدا کی اس ہری بھری دنیا کے وارث
قرار پائیں گے (انبیاء ۱۰۵) اور بقیہ لوگوں کو اس سے بے دخل کر کے دور پھینک دیا جائے گا۔ قرآن اور کائنات آنے والی جنتی دنیا کا شہری بننے کے لئے کس قسم کی صلاحیتیں درکار ہیں، اس کے جواب کو خدا نے مبہم نہیں رکھا بلکہ اس کو انتہائی واضح طور پر بتا دیا ہے۔ بولنے والی زبان میں یہ جواب قرآن میں موجود ہے اور خاموش زبان میں وہ کائنات میں ہر طرف پھیلا ہوا ہے۔ توحید کو انسانی زندگی میں قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان بھی اسی آفاقی دین کو اپنا لے جس کو ہمارے گرد و پیش کی ساری کائنات اپنائے ہوئے ہے ۔ کیا وہ خدا کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں۔ حالاں کہ اسی کے حکم میں ہے جو کوئی آسمان اور زمین میں ہے، خوشی سے یا ناخوشی سے۔ اللہ ہی کی طرف پھیرے جائیں گے “، آل عمران ۸۳ قرآن کے اس بیان کے مطابق کائنات بالفعل اس دین توحید کو اپنائے ہوئے ہے جس کو اپنانے کا مطالبہ انسان سے کیا جارہا ہے۔ کائنات دین توحید کا عملی نمونہ ہے۔ میں ہم اس دین کو دیکھ سکتے ہیں جس کو ہم خدا کی کتاب میں ”پڑھ “ رہے ہیں۔ توحید کے دین کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں کائنات کا جو نقشہ بنتا ہے اس کے بعض پہلوؤں کو ہم یہاں مختصراً بیان کریں گے۔ کامل سپردگی ۔ کائنات کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی مکمل اطاعت کر رہی ہے (فصلت ۱۲) زمین، سورج اور تمام ستارے نہایت تیز رفتاری کے ساتھ وسیع خلا میں گھوم رہے ہیں۔ مگر کھرب ہا کھرب سال کے اندر بھی ان کی گردش میں ایک سیکنڈ کا فرق نہیں آتا۔ ہر چیز کا جو وظیفہ مقرر ہے، انتہائی صحت کے ساتھ وہ اس کی ادائیگی میں مصروف ہے۔ انسان کو بھی اپنی زندگی میں اسی کامل سپردگی کا مظاہرہ کرنا ہے۔ اس سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے ذاتی ارادہ کو مکمل طور پر خدا کے تابع کر دے۔ وہ وہی کرے جو اس کا مالک اس سے چاہتا ہے۔ اس کے ہاتھ اور پاؤں، اس کی آنکھ اور زبان، اس کا دل اور دماغ سب اللہ کے آگے اس طرح جھکے ہوئے ہوں کہ خدا کی مرضی کے خلاف کوئی فعل ان سے سرزد نہ ہو۔
عبادت الہی ـــــ قرآن بتاتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز خدا کی عبادت اور تسبیح کر رہی ہے (نور ۴۱) چڑیاں جب درخت کی ہری بھری شاخوں پر بیٹھ کر چہچہاتی ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے خالق اور رب کی تعریف کے نغمے گارہی ہیں۔ کھڑا ہوا درخت جب اپنا سایہ زمین پر ڈالتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے سجدہ میں گر گیا ہے۔ رات کی تاریکی کے بعد صبح کو جب سورج اپنی حسین کرنیں زمین پر پھیلاتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے گویا وہ زبان حال سے کہہ رہا ہو: ”پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں تمام روشنیوں کا عین سورج ہے۔ اگر وہ اس عین سورج کو بند کر دے تو ساری کائنات میں اندھیرے کے سوا کچھ بھی باقی نہ رہے “۔ اسی عبادت کا مطالبہ انسان سے اس کو بھی یہی کرنا ہے کہ اپنے رب کی حمد و تسبیح کرے، اس کی خوبیوں اور کمالات کے احساس سے اس کا دل سرشار رہے، اس کی یاد اس کی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ بن جائے، اس کی عبادت گزاری کو وہ اپنی زندگی کا مستقل مشغلہ بنالے۔
قابل پیشین گوئی کردار ــــ کائنات کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ اتنی صحت کے ساتھ حرکت کرتی ہے کہ مستقبل کے واقعات کا پیشگی اندازہ کیا جا سکتا ہے (یونس ۵) وہ مکمل طور پر قابل پیشین گوئی (Predictable) یہی چیز انسان سے بھی اس کی زندگی میں مطلوب ہے۔ انسان کو اتنا پابند اور اتنا ذمہ دار ہونا چاہئے کہ پیشگی طور پر یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ کس موقع پر اس کی طرف سے کس قسم کا رد عمل ظاہر ہو گا۔ کوئی معاملہ کرتے وقت پہلے سے یقین کیا جا سکے کہ کون سا رویہ اس کی طرف سے سامنے آئے گا۔ اس کے قول پر اسی طرح بھروسہ کیا جا سکے جس طرح اپنی گھڑیوں کو درست کرنے کے لئے ہم سورج کی رفتار پر بھروسہ کرتے ہیں۔
توافق ــــ کائنات کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کے تمام اجزاء، حد درجہ توافق (Harmony) کے ساتھ عمل کرتے ہیں (دیٹس ۴۰) سورج اور چاند کبھی ایک دوسرے کے حریف یں بنتے۔ ستاروں اور ستاروں میں کبھی ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ ہوا اور پانی اور دھوپ اور مٹی سب آپس میں کامل ہم آہنگ ہو کر کام کرتے ہیں۔ ایک سو عناصر اور ان سے بنے ہوئے بے شمار مادی مجموعے اس قدر متوافق طور پر اپنے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں کہ ان میں کبھی باہمی آویزش کا مشاہدہ نہیں کیا گیا۔ اب انسان کو بھی یہی کرنا ہے کہ وہ باہمی کش مکش سے مکمل طور پر بچتے ہوئے اپنے اپنے حصہ کا کام انجام دے۔ ہر انسان دوسرے انسان سے ٹکرائے بغیر اپنا فریضہ حیات پورا کرے۔ نتیجہ پسندی ــــ کائنات کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کی سرگرمیاں ہمیشہ ایک مفید انجام کی طرف جاتی ہیں (رعد (۱۷) زمین کی گردش، رات دن کا آنا جانا، بارش کا برسنا اور موسموں کا بدلنا، اور دوسری تمام سرگرمیاں نتیجہ پسند (Result Oriented) ہیں۔ سب کی سب نتیجہ خیز رخ پر سفر کرتی ہیں۔ فطرت کو آنادانہ طور پر کام کرنے کا موقع نہ دیا جائے تو وہ کبھی کسی غیر مفید انجام پر ختم نہیں ہوتی۔ یہی اصول انسان کو بھی اپنی زندگی میں اختیار اس کی سرگرمیوں کو ہمیشہ نتیجہ رخی، بالفاظ دیگر مفید انجام کا حامل ہونا چاہئے۔ ہر ایسی سرگرمی سے اس کو مکمل طور پر دور رہنا چاہئے جو عملاً بے نتیجہ ہو کر رہ جائے یا کوئی ناپسندیدہ نتیجہ برآمد کرنے والی ہو۔ ارتقائی طریقہ ــــ کائنات کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ چھلانگوں میں سفر نہیں کرتی بلکہ ارتقائی انداز میں واقعات کو ظہور میں لاتی ہے (ابراہیم (۲۷) درخت اچانک طلسماتی طور پر زمین کے اوپر کھڑا نہیں ہو جاتا بلکہ طویل مدت کے اندر تدریجی طور پر وجود میں آتا ہے۔ یہی تمام چیزوں کا حال ہے۔ انسان کو بھی اسی طریقہ کی پیروی کرنی ہے۔ اس کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ تدریجی اور ارتقائی طور پر نتائج حاصل کرنے کا منصوبہ بنائے نہ کہ چھلانگ لگا کر منزل تک پہنچنے کی کوشش کرے۔
کائناتی چیزوں میں ظاہر و باطن کا کوئی فرق نہیں۔ وہ اندر اور باہر یکساں ہیں۔ اپنی ذات میں جیسا ہے، ٹھیک اسی شکل میں وہ دوسروں کے سامنے بھی طلوع ہوتا ہے۔ یہی بات انسان سے قول و عمل کی یکسانی کی صورت میں مطلوب ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ جو اس کے دل میں ہے وہی وہ زبان پر لائے۔ جیسا کچھ وہ عمل میں ہے ویسا ہی لفظوں میں بھی اپنے کو ظاہر کرے۔ اس سے کسی کو منافقت یا دوعملی کا تجربہ ہر گز نہ ہو۔