خدائی اخلاقیات کا ظہور کائنات میں
Al-Risala, April 1979, pp. 15–17
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقت یہ ہے کہ حکمت ومعنویت کا جو واقعہ وسیع تر کائنات میں خدا اپنے براہ راست کنٹرول کے تحت ظہور میں لارہا ہے وہی واقعہ انسان کو اپنی زندگی میں ذاتی کنٹرول کے تحت وجود میں لانا ہے۔ جو واقعہ خدا نے اپنی کائنات میں مادی سطح پر قائم کر رکھا ہے وہی انسان کو اپنی زندگی میں اخلاقی اعتبار سے بروئے کار لانا ہے۔ سطح پر جو چیز حدید (لوہا) کی شکل میں پائی جاتی ہے، وہ انسانی سطح پر پختہ کرداری کی صورت میں مطلوب ہے۔ سطح پر جو چیز پتھر ملی زمین سے چشمہ کی صورت میں بہہ نکلتی ہے، وہ انسان سے نرم مزاجی کی صورت میں مطلوب ہے۔ سطح پر جو چیز اٹل قوانین کی صورت میں پائی جاتی ہے، وہ انسانی سطح پر ایفائے عہد کی صورت میں مطلوب ہے۔ سطح پر جو چیز مہک اور لذت اور رنگ کی صورت میں پائی جاتی ہے وہ انسانی سطح پر خوش معاملگی کی صورت میں مطلوب کائناتی سطح پر کھربوں ستاروں کی یک کہکشاں مسلسل حرکت کرتی ہے۔ مگر اس کے ستاروں میں کوئی ٹکر اؤ نہیں حتی کہ ایک کہکشانی جھرمٹ حرکت کرتا دوسرے کہکشانی جھرمٹ میں داخل ہوتا ہے اور نہایت تیز سفر کرتا ہوا باہر نکل جاتا ہے۔ مگر دونوں جھرمٹوں میں کوئی تصادم نہیں ہوتا۔ یہی واقعہ انسانی زندگی میں اس طرح مطلوب ہے کہ انسانی مجموعے اپنی اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہوں۔ مگر ان میں کبھی ایک دوسرے سے نزاع اور ٹکراؤ کی نوبت نہ آئے۔ درخت حساب ہو ا(کار بن) کو لے لیتا ہے اور اس کے بدلے اچھی ہوا (آکسیجن) ہماری طرف لوٹا دیتا ہے۔ انسانی سطح پر اس اصول کی صورت میں مطلوب ہے کہ جو تمہارے ساتھ برا سلوک کرے تم اس کے ساتھ اچھا کائنات میں کوئی چیز کسی کی کاٹ میں لگی ہوئی نہیں ہے۔ ہر ایک پوری ایک سوئی کے ساتھ صرف اپنا اپنا حصہ ادا کرنے میں مصروف ہے۔ یہی چیز انسانی سطح پر اس شکل میں مطلوب ہے کہ وہ ہمیشہ مثبت جدوجہد کرے، منفی کا رروائیاں کرنے سے مکمل طور پر پر ہیز کرے۔ کائنات میں دوبارہ گردش (Recycle) کا اصول کار فرما پتی درخت سے گر کر ضائع نہیں ہوتی بلکہ کھاد بن جاتی ہے۔ فضلات دوبارہ استعمال ہونے کے لیے گیس میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ پانی بھاپ بن کر اڑتا ہے اور اس کے بعد پھر سمندر میں واپس آجاتا ہے۔ یہی چیز انسانی زندگی میں اس طرح مطلوب ہے کہ انسان کا خرچ کیا ہوا پیسہ دوبارہ انسان کے لیے مفید بنے۔ ایک انسان کی چیڑی ہوئی جدوجہد دوسرے انسانوں کو اچھے ثمرات کا تحفہ دے۔ میدانی علاقوں میں پانی زمین کے نیچے ملتا ہے اس لیے میدانی درخت نیچے گہرائی میں اپنی جڑیں لے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس پہاڑی ڈھلوانوں پر پانی صرف اوپری سطح پر ملتا ہے، اس لیے پہاڑی درخت اپنی جڑیں اوپر اوپر پھیلاتے ہیں۔ یہی چیز انسانی زندگی میں اس طرح مطلوب ہے کہ وہ اپنی جدوجہد میں حالات سے مطابقت (Adjustment) کا طریقہ اختیار کرے نہ کہ حالات سے لڑنے کا ۔ کائنات ذرہ سے لے کر ستاروں تک بے حد تیز سفر میں مصروف ہے۔ وہ ہر آن ایک بہت بڑے کارخانہ کی طرح کام کر رہی ہے۔ مگر اس میں کہیں بھی شور سنائی نہیں دیتا۔ یہی چیز انسانی زندگی میں اس طرح مطلوب ہے کہ وہ خاموش جد و جہد کا طریقہ اپنائے ، شور وغل کی سیاست چلانے سے مکمل پر ہیز کرے ۔ کائنات میں عظیم الشان سطح پر بے شمار
کام ہو رہے ہیں۔ ہر جز انتہائی صحت اور پابندی کے ساتھ اپنی ڈیوٹی کی انجام دہی میں لگا ہوا ہے۔ م کسی کو یہاں کوئی ظاہری بدلہ نہیں ملتا۔ یہی چیز انسان سے بھی مطلوب ہے کہ وہ مکمل طور پر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں لگا رہے، بغیر اس کے کہ اس دنیا میں اس کو اس کے عمل کا کوئی معاوضہ ملنے والا ہو۔ اونچا پہاڑ اور تمام کھڑی ہوئی چیزیں اپنا سایہ زمین پر ڈال دیتی ہیں۔ یہی چیز انسانی زندگی میں اس طرح مطلوب ہے کہ ہر آدمی تواضع اختیار کرے، کوئی کسی کے اوپر فخر نہ کرے، کوئی دوسرے کے مقابلہ میں اپنے کو بڑا نہ سمجھے۔ نماز اسی قسم کی زندگی کی ایک علامتی تصویر ہے جو روزانہ پانچ وقت خدا کے وفادار بندوں پر فرض کی گئی ہے۔
کائنات میں ہر آن جو سرگرمیاں جاری ہیں وہ خاموش زبان میں پکار رہی ہیں کہ خدا کی دنیا میں کون قیمت والا ہے اور کون بے قیمت ہے۔ وہ لوگ جن کو صرف ظاہری مفاد متحرک کر سکتا ہو (خواہ وہ روپیہ پیسہ کا مفاد ہو یا عزت و شہرت کا مفاد) وہ اس غیر معاوضہ طلب دنیا میں بالکل بے قیمت ہیں۔ کائنات میں ظاہر کی ہوئی خدائی اخلاقیات کے معیار پر وہ پورے نہیں اترتے۔ خدا کی دنیا میں وہی لوگ قیمت رکھتے ہیں جو خالص صداقت کی خاطر متحرک ہوئے ہوں۔ ذات سے اوپر اٹھ کر عمل کا ثبوت دینے والے ہوں۔ جو ہر قسم کی نفسیاتی، پیچیدگیوں سے آزاد ہو کر کام کریں۔ آنے والے جنتی دور میں وہ تمام لوگ خدا کی دنیا سے باہر دھکیل دیئے جائیں گے جنہوں نے قریبی مفاد (عاجلہ) کے لئے سرگرمیاں دکھائی تھیں۔ اور خدا کی حسین اور خوشیوں سے بھری ہوئی دنیا ہمیشہ کے لئے صرف ان لوگوں کی دستاں میں دے دی جائے گی جو دیر میں آنے والے فائدہ (آخرت) کے لئے سرگرم عمل رہے تھے۔ جو سامنے کی چیزوں سے اوپر اٹھ کر ’’غیب‘‘ کی طرف اپنی توجہ لگائے ہوئے تھے :
”اور انہوں نے قدر نہ پہچانی اللہ کی جیسی کہ قدر ہے اس کی۔ حالاں کہ قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوں گے۔ وہ پاک ہے اور بہت اوپر ہے ان کے شرک سے۔ اور اس روز پھونک ماری جائے گی صور میں۔ پھر تمام آسمان اور زمین والے بے ہوش ہو کر گر پڑیں گے۔ بچے گا جس کو خدا چاہے۔ پھر دوبارہ پھونکا جائے گا تو اچانک وہ کھڑے ہو جائیں گے اور دیکھنے لگیں گے۔ اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی اور سب کے اعمال نامے سامنے رکھ دیئے جائیں گے اور پیغمبر اور گواہ حاضر کئے جائیں گے اور ٹھیک ٹھیک سب کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔ کسی کے اوپر کوئی ظلم نہ ہو گا ۔ ہر شخص کو پورا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کیا تھا۔ اور اللہ کو خوب خبر ہے جو وہ کرتے ہیں۔ اور انکار کرنے والے گر گروہ در گروہ جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے۔ جب وہ اس کے پاس پہنچیں گے تو جہنم کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور اس کے چوکیدار ان سے کہیں گے : کیا تمھارے پاس تم ہی لوگوں میں سے پیغام پہنچانے والے نہ آئے تھے جو تم کو خدا کی باتیں سناتے تھے اور تم کو اس دن کے پیش آنے سے ڈراتے تھے۔ وہ جواب دیں گے ہاں۔ مگر عذاب کا وعدہ منکروں کے اوپر پورا ہو کر رہا۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ اور ہمیشہ اس میں پڑے رہو۔ کیسا برا ٹھکانا ہے تکبر کرنے والوں کا۔ اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے تھے وہ گروہ در گروہ جنت کی طرف روانہ
کیے جائیں گے۔ جب وہ وہاں پہنچیں گے اور جنت کے دروازے کھولے جائیں گے تو جنت کے فرشتے کہیں گے، سلامتی ہو تم پر۔ جنت میں ہمیشہ رہنے کے لئے داخل ہو جاؤ۔ اہل جنت کہیں گے۔ شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے اپنے وعدہ کو سچا کر دیا اور ہم کو اس زمین کا وارث بنا دیا کہ ہم جنت میں جہاں چاہیں مقام کریں۔ کیا خوب بدلہ ہے عمل کرنے والوں کا۔ اور تو دیکھے گا فرشتوں کو کہ گھیرے رہے ہوں گے عرش کے گرد پاکی بولتے ہوئے اپنے رب کی اور تمام بندوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دیا جائے گا۔ اور یہی بات ہوگی کہ سب خوبی اللہ کے لئے ہے مالک ہے سارے جہان کا“ (زمر۔
کائنات میں انتہائی وسیع پیمانہ پر ہر آن یہ دکھایا جا رہا ہے کہ آئندہ بننے والی معیاری دنیا(جنت) میں بسانے کے لئے خدا کو کس قسم کے شہری درکار ہیں۔ اس کو وہ انسان درکار ہیں جو کائناتی اخلاقیات کے معیار پر پورے اتریں ۔ وہ اس دین کو اختیار کریں جو اس نے لفظی طور پر اپنی کتاب میں اور عملی طور پر اپنی کائنات میں ظاہر کیا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ اس سے سبق نہ لیں اور خود اپنے گھڑے ہوئے راستوں پر چلتے رہیں، وہ خدا کی نظر میں بدترین مجرم ہیں۔ خدا کے بتائے ہوئے ”دین“ کے سوا جو دین بھی وہ اختیار کریں گے وہ آخرت میں بالکل بے قیمت ہوگا۔ کیوں کہ انھوں نے خدا کی نشانیوں کا انکار کیا (کہف (۱۰۵) جو لوگ آنکھ رکھتے ہوئے خدا کی نشانیوں کو نہ دیکھیں اور کان رکھتے ہوئے خدا کی آوازوں کو نہ سنیں، وہ خدا کے نزدیک جانور سے بھی زیادہ بدتر ہیں (انفال (۲۲) آئندہ بننے والی دنیا میں ان کا جو انجام ہوگا اس کا اعلان خدا کی کتاب میں ان لفظوں میں کر دیا گیا ہے : ومن اعرض عن ذكرى فان له معيشة ضنكا و نحشره يوم القيامة اعمى۔ رب لم حشرتنى أعمى وقد كنت بصيرا ۔
قال كذ لك اتتك آيتنا فنسيتها وكذلك اليوم تنسى - وكذلك نجزی من اسرف ولم يؤمن بايات ربه ولعذاب الآخرة اشد و ابقى ( طه - ۱۲۴ )
اور جس نے منہ پھیرا میری نصیحت سے تو اس کے لئے (آخرت میں) تنگی کا جینا ہوگا۔ اور قیامت کے روز ہم اس کو اندھا کر کے اٹھائیں گے۔ وہ کہے گا میرے رب ! تو نے مجھ کو اندھا کیوں اٹھایا۔ میں تو دنیا میں آنکھوں ارشاد ہوگا کہ اسی طرح آئی تھیں تیرے پاس ہماری نشانیاں ۔ پس تو نے ان کو بھلا دیا تو اسی طرح آج تم کو بھلا دیا جائے گا ۔ اس طرح ہم بدلہ دیں گے ہر اس شخص کو جو جو حد سے نکل گیا اور یقین نہ لایا اپنے رب کی نشانیوں پر ۔ اور یقیناً آخرت کا عذاب بڑا
نوٹ : یہ مقالہ سیمینار منعقدہ تعلق آباد سی دہلی (۸جنوری ۱۹۷۹) میں پڑھاگیا۔ سیمینار کا عنوان تھا: خدا کی وحدانیت کے تصورات (Concepts of the Unity of God) ھنائی و دھتائیپ کے سپورٹ (ص ۳۸۶)