فطرت سے بغاوت کے بعد
Al-Risala, January 1979, pp. 16–19
By Maulana Wahiduddin Khan
۲۵ سال پہلے ایک شخص نے امریکہ میں اپنی جنس تبدیل کرائی تھی یعنی ایک مرد آپریشن کے ذریعہ عورت آج کل امریکہ میں سالانہ ایک سو کی تعداد میں جنسی تبدیلی کے آپریشن ہورہے ہیں۔ جرمنی میں اس وقت ایسے لوگوں کی تعداد تین ہزار ہے جنہوں نے اپنی جنس تبدیل کرائی ہے۔ ان میں زیادہ تر مرد ہیں۔ مگر اس تفریح‘‘ نے مغربی سماج میں نئے نئے مسائل پیدا کر دیئے ہیں۔ ڈاکٹر گرناٹ ہاف من (جرمنی) ایک اس نے آپریشن کے ذریعہ عورت کی جنس حاصل مگر قانون ابھی اس کو عورت تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ قانونی طور پر اب بھی اس کے لئے ضروری ہے کہ بطور مرد ڈاکٹر کے کام کرے اور مرد ڈاکٹروں کا سا اس قسم کے بہت سے قانونی مسائل ہیں جن کو حل کرنے کے لئے نیا قانون بنایا جارہا ہے۔ شبہ کر رہے ہیں کہ محض قانون سازی اس نئی نوع کے مسائل کو حل کر دے گی ۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ تبدیلی جنس کے کچھ عرصہ بعد ایسے لوگ انتشار ذہنی کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ تبدیل کرنے والوں (Transsexuals) میں خودکشی کی شرح دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ پائی گئی ہے ۔
یوہی دعا یہ ہے کہ دعا کرنے والا دوسرے انسانوں کے ساتھ وہی مہربانی کرنے لگے جس مہربانی کو وہ اپنے رب سے خود اپنے لئے مانگ رہا ہے۔
قرآن میں مختلف مقامات پر دعا کی حقیقت بتائی گئی ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہوا ہے :
ادعوا ربکم تضرعا و خفیۃ انہ لا یحب پکارو اپنے رب کو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے۔
المعتدین ولا تفسد وا فی الارض بعد یقیناً وہ پسند نہیں کرتا حد سے نکل جانے والوں کو۔ اصلاحھا و ادعوہ خوفا و طمعا ان رحمت مت خرابی مچاؤ زمین میں اس کی درستی کے بعد۔ اللہ قریب من المحسنین اس کو ڈرتے ہوئے اور امید رکھتے ہوئے۔ (اعراف کی رحمت قریب ہے نیکی کرنے والوں سے۔
اس موقع پر احسان کا مطلب ہے دعا کے موافق عمل کرنا۔ دوسری جگہ یہی بات ان لفظوں میں کہی گئی ہے : ومن احسن قولا ممن دعا الى اللہ و عمل صالحا اور کون شخص ہے بہتر بات میں اس شخص سے کہ پکارے وقال انننی مسلمین حم سجدہ ۳۳ اللہ کی طرف اور صالح عمل کرے اور کہے کہ میں حکم بردار ہوں دعا کیا ہے ۔ بندے کا اعتراف عجز اپنے رب کے سامنے۔ جب ایک شخص اللہ پر اس حد تک یقین اور بھروسہ کر لیتا ہے کہ اس کی ساری امیدیں بس ایک اللہ سے وابستہ ہو جاتی ہیں ، اللہ کے سوا کسی اور سے نہ اس کو پانے کی امید ہوتی ہے اور نہ چھننے کا اندیشہ۔ اس وقت اس کی زبان سے جو بیتابانہ کلمات نکل پڑتے ہیں ، اسی کا نام دعا ہے بندہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اپنے آپ کو اللہ کی سپردگی میں دے دیتا ہے اور کہہ اٹھتا ہے کہ میرے رب ! رحمتوں کے سائے میں لے لے۔ تیرے سوا کوئی کسی کو بچا نہیں سکتا۔ تیرے سوا کوئی کسی کو سایہ نہیں دے سکتا۔ دعا کے یہ الفاظ اللہ کی نظر میں اسی وقت دعا ہیں جب کہ عمل صالح (دعا کے موافق عمل) سے اس کی تصدیق ہو رہی ہو۔ آدمی اپنے رب سے اپنے لئے جس رحمت اور عفو و درگزر کا طالب ہے۔ دوسرے انسانوں کے ساتھ رحمت اور عفو و درگزر کا ہی طریقہ اختیار کرنا زمین کی اصلاح ہے۔ اور جب ایسا ہو کہ آدمی اپنے لئے تو رحمت اور عفو و درگزر کا امیدوار ہو اور خود دوسرے انسانوں کے ساتھ سرکشی اور بے پروائی کا طریقہ اختیار کرے تو اس کا نام زمین میں فساد برپا کرنا اللہ کے سامنے حد بندی میں ہونے کا اقرار کرنا اور دنیا کی زندگی میں جب دوسرے انسانوں سے عملی سابقہ پیش آئے تو حد بندی سے نکل جانا ایسا تضاد ہے جو ایک طرف زمین کو فساد سے بھر دیتا ہے اور دوسری طرف آدمی کی دعا کو اللہ کی نظر میں بالکل بے معنی بنا دیتا ہے۔ آدمی اپنی دعا کو اللہ کے سامنے پیش کرتا ہے۔ مگر اس بات کا ثبوت اس کو انسانی تعلقات ہی میں دینا ہے کہ وہ اپنی دعا میں محسن ہے یا نہیں۔ جو شخص انسانی تعلقات میں اپنی دعائیہ حیثیت کو بھول جائے اس کی مثال ایسے آدمی کی ہے جس نے زبان سے بڑے بڑے دعوے کئے مگر جب اس کا امتحان لیا گیا تو وہ صفر سے زیادہ نمبر حاصل نہ کر سکا۔
آپ اپنے رب سے امید وار ہیں کہ وہ آپ کی کو تاہیوں کو نہ دیکھے بلکہ اپنی شان کریمی کے تحت آپ سے معاملہ فرمائے، اگر آپ فی الواقع اس پکار میں سچے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوںنا چاہئے کہ دنیا کی زندگی میں جب آپ کا معاملہ ایسے شخص سے پڑے جس کے اوپر آپ قابو یافتہ ہوں تو آپ کو اللہ کے مقابلہ میں اپنی بے بسی یاد آ جائے اور آپ اس کی کو تاہیوں سے درگزر کریں۔ آپ کو اللہ کے عذاب کا ڈر ہے۔ آپ اس کی پکڑ سے بچنے کے لئے اس سے دعاکرتے رہے۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ جب کوئی انسان آپ کی گرفت میں آ جائے تو آپ اس کے ساتھ غصہ اور انتقام کے تحت کارروائی نہ کریں بلکہ فیاضی اور حسن سلوک کے ساتھ معاملہ کر کے اللہ سے کہیں کہ خدایا تو بھی مجھ سے فیاضی کا معاملہ فرما۔ آپ اللہ کی بڑائی کے مقابلہ میں اپنی عاجزی کا اعتراف کر رہے ہیں، اس اعتراف میں آپ اس وقت سنجیوہ ہیں جب کہ آپ کا یہ حال ہو کہ آپ ایک انسان پر قدرت پالیں اور اس پر اپنی کبریائی کا مظاہرہ کر سکتے ہوں مگر اس وقت آپ کو اللہ کے مقابلہ میں اپنی عاجزانہ حیثیت یاد آ جائے اور آپ اپنے رب سے یہ کہتے ہوئے اس شخص کو چھوڑ دیں کہ خدایا میں نے اس سے درگزر کیا تو بھی مجھ سے درگزر فرما۔ اس کے برعکس اگر آپ کا حال یہ ہو کہ آپ اللہ کے سامنے عاجزی کے کلمات دہرائیں اور اس کے بعد بندوں کے ساتھ گھمنڈ اور سرکشی کا طریقہ اختیار کریں۔ اللہ سے اپنی خطاؤں کی معافی مانگیں اور اپنے بھائی کی خطائیں معاف کرنے کے لئے تیار نہ ہوں۔ اللہ سے امید وار ہوں کہ وہ آپ کی حاجتیں پوری کرے اور آپ کا سابقہ جب کسی دوسرے محتاج انسان سے پڑے تو اس کی حاجت پوری کرنے کا کوئی جذبہ آپ کے اندر نہ ابھرے ۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ دعا کے ساتھ عمل صالح (دعا کے موافق عمل ) نہیں کر رہے ہیں۔ آپ اپنی دعا میں محسن نہیں ہیں۔ ایسی دعا کی اللہ کے نزدیک کوئی قیمت نہیں۔ ایسی دعا حقیقتاً دعا نہیں بلکہ سوا نگ ہے اور سوا نگ کسی شخص کو سزا کا مستحق بناتا ہے نہ کہ انعام کا۔
دعا کا مطلب یہ نہیں کہ کچھ برکت والے الفاظ ہیں ، ان کو رٹ کر صحت ادا کے ساتھ دہرادو اور پھر ان کے جادوئی اثرات ظاہر ہونے لگیں گے۔ خدا اور بندے کا معاملہ اس قسم کا مشینی معاملہ نہیں ہے۔ خدا الفاظ کو نہیں خود آپ کی ہستی کو دیکھتا ہے۔ خدا کو وہ کلمات درکار ہیں جو آدمی کی اپنی پکار بن کر نکلے ہوں۔ جو اس واقعہ کا ایک فطری اظہار ہو کہ بندہ صرف ایک اللہ سے ڈرتا ہے اور صرف اسی سے امید رکھتا ہے۔ اس کے احساسات اپنے رب سے اس طرح وابستہ ہو گئے ہیں کہ ہر آن وہ اس سے مصروفِ کلام رہتا ہے، کبھی دل سے اور کبھی زبان سے۔ دعا دراصل پگھلے ہوئے دل کا بیتابانہ طور پر باہر نکل آنا ہے۔ جب کوئی بندہ اس معنی میں دعا کرنے والا بن جائے تو اس کا پورا وجود دعامیں ڈھل جاتا ہے۔ دعا کے الفاظ اور اس کی ہستی الگ الگ نہیں رہتے۔ وہ اندر سے بھی وہی ہوتا ہے جو بظاہر دعا میں دکھائی اس کی دعا جس طرح خدا کے سامنے اس کے سوال کا مظہر ہوتی ہے اسی طرح دہ بندوں کے مقابلہ میں اس کے کردار کو بتاتی ہے۔ یہ ایک ہی حقیقت ہے جو خدا کے سامنے تضرع کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے اور بندوں کے مقابلہ میں تواضع اور عدم استکبار کی صورت میں۔
اس قسم کی باتیں خواہ مسخرہ پن کے طور پر کہی گئی ہوں یا سنجیدگی سے، ہر حال میں وہ ہماری ذمہ داری کو بڑھاتی ہیں۔ کہنے والے نے یہ بات اگر سنجیدگی سے کہی ہو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ابھی اپنی پڑوسی قوموں کو اسلام سے آگاہ نہیں کیا۔ اور اگر انھوں نے تمسخر کے طور پر یہ بات کہی ہو تو تب بھی ہم ہی اس کے ذمہ دار ہیں۔ کیوں کہ اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ اہل اسلام کی عظمت لوگوں کے دلوں پر قائم نہیں۔ اگر ہم اپنے حالات اور اپنی زندگیوں سے اپنی عظمت لوگوں کے اوپر قائم کر چکے ہوں تو کسی کو جرات نہیں ہوگی کہ ہمارے دین کے بارے میں اس قسم کے الفاظ اپنی زبان سے نکالے پچھلے ہزار سال کی تاریخ اس کی گواہی دینے کے لئے کافی ہے۔